Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 (Ik Lafz Ishq ) Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq ) Episode 15
بس یہی چاہتے تھے نا آپ کے آپ کے خاندان میں میری بےعزتی ہو اسی لیے اپنے ساتھ لے کر گئے تھے نہ مجھے
دیکھ لیا آپ نے آپ کے گھر والوں نے مجھے کس طرح سے نظر انداز کیا ماریہ کو رہ رہ کر اپنے شوہر زمان پر غصہ آ رہا تھا
ماریا کیوں ذرا ذرا سی باتوں کو دل پہ لگا کے بیٹھ جاتی ہو زمان نےماریہ کو سمجھانے کی کوشش کی
زمان اور ماریہ کی شادی کو 14 سال ہونے جا رہے تھے ان کے تین بچے تھے لیکن آج تک زمان کی فیملی نے ماریہ کو قبول نہ کیا تھا کیوں کہ زمان کی شادی اسکی خالہ زاد کے ساتھ ہونے والی تھی لیکن اس نے اس کو ٹھکرا کے اپنے آفس کی لڑ کی سے شادی کرلی جس کی وجہ سے انہوں نے کبھی بھی ماریا کو قبول نہ کیا
مجھے افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ وہ لوگ مجھے نہیں اپنا رہے لیکن ماریا نے اپنے بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو ان کی اولاد ہیں ان کا خون ہیں ان کی طرف تو وہ دیکھتے بھی نہیں ہیں آپ کی اماں آپ کو دیکھتے ہیں آپ سے لپٹ گئی لیکن حاشر بھی تو ان کا بچہ ہے ان کا پوتا ہے آپ نے دیکھا انہوں نے حاشر کی طرف دیکھنا تک گوارا نہ کیا سیرت اور آیت سو چکی تھی جبکہ حاشر جاگ رہا تھا لیکن ماں باپ کی بات کے بیچ میں بولنا گوارا نہ کیا اس لیے آنکھیں بند کر کے سوتا ہوا بن گیا
حاشر پہلے پہلے اس چیز کو بہت نوٹ کرتا تھا کہ بابا کے خاندان والے ان لوگوں سے محبت نہیں کرتے لیکن پھر اسے آہستہ آہستہ سمجھ میں آ گیا کہ اس کی ماں من چاہی ہونے کی سزا بھگت رہی ہے
زمان اور ماریا نے شادی کے بعد اس خاندان کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن ان لوگوں نے یہی شرط رکھی کہ جب تک وہ ماریا کو نہیں طلاق دیتے تب تک وہ انہیں معاف نہیں کریں گے زمان صاحب نے ماریہ کو نہ چھوڑا جس کی وجہ سے ماریا خاندان بھر میں نفرت کا نشانہ بن گئی شادی کے ایک سال بعد انہیں حاشر کے روپ میں خوشیاں نصیب ہوئی لیکن پھر آٹھ سال تک وہ ماں نہ بن پائیں آٹھ سال بعد آیت کی آمد نے ان کی خوشیوں کو دوبالا کیا کچھ ماہ پہلے سیرت نےانکا خاندان مکمل کردیا
ان کی ایک چھوٹی سی فیملی تھی جس کے ساتھ زمان اور ماریا خوش تھے لیکن اس بات سے بے خبر کے ان کی خوشیاں سے چند دن کی ہے اس دن وہ لوگ شادی کی ترکیب سے واپس گھر لوٹ رہے تھے جب ایک تیز تر از گاڑی انکی گاڑی سے ٹکرائی
اس سے پہلے کہ زمان گاڑی سنبھالنے کی کوشش کرتے گاڑی کھائی سے نیچے گرنے لگی جھٹکا اتنا خطرناک تھا کہ کسی کو بھی سنبھلنے کا موقع نہ ملا زمان جتنی گاڑی سنبھالنے کی کوشش کرتے وہ اتنی ہی کھائی کی طرف نکلتی جا رہی تھی گاڑی کی فرنٹ سائیڈ ساری نیچے کی طرف تھی زمان سمجھ چکے تھے کہ اس حادثے میں ان کا بچنا اب ممکن نہیں ہے اس لیے انہوں نے حاشر کو بچانا ضروری سمجھا کیونکہ حاشر کا گاڑی سے نکلنا آسان تھا جبکہ فرنٹ سیٹ پر ہونے کی وجہ سے سلمان اور ماریہ گاڑی سے نیچے نہیں اتر سکے زمان نے سمبھلتے ہوئے حاشر سے نیچے اترنے کے لیے کہا
لیکن وہ نہیں مان رہا تھا حاشر بیٹا میری بات سمجھنے کی کوشش کرو تمہیں نیچے اترنا ہوگا حاشر کو منا کے کسی طرح سے اسے گاڑی سے نیچے اتارا حاشر نے سب سے پہلے سیرت کو گاڑی سے باہر نکالا اور آیت کو نکالنے کی کوشش کرنے لگا جب اس کا دھیان سامنے دوسری گاڑی کی طرف گیا اس سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ دوسری گاڑی میں موجود سب کے سب افراد مر چکے ہیں جبکہ زمان اور اپنی گاڑی کو نہیں سنبھال پائے اور گاڑی کھائی میں جاگری حاشر چاہ کربھی اپنے ماں باپ کو نہیں بچا پایا
حاشر نجانے کتنی ہی دیر اس کھائی میں اپنے ماں باپ کی گاڑی کو دیکھتا رہا یہ تینوں بہن بھائی یتیم ہوگئے لیکن کس کو پرواہ تھی حاشر کو اپنی دادی اور تایا سے کوئی امید نہ تھی اس لیے وہ سمجھ چکا تھا کہ اب اس کی بہنوں کی ذمہ داری اس نے خود ہی اٹھانی ہے
اتنے زور دار جھٹکے سے سلمان صاحب سنبھل نہ پائے جب انھیں ہوش آیا تو انھوں نے سب سے پہلے سالار کی طرف دیکھا جس کا سر شیشے سے بری طرح سے ٹکرا چکا تھا وہ اس زوردار جھٹکے کی وجہ سے پچھلی سیٹ سے آگے آ گیا تھا جبکہ سلمان عائشہ اور ہاجرہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے تھے انہوں نے عنایہ کو ڈھونڈنا چاہا لیکن عنایہ کہیں نہ تھی جب انہوں نے غور کیا تو ایک 13 سالہ لڑکا ان کی چار سالہ بیٹی کا ہاتھ تھام کر لے کے جا رہا تھاانہوں نے اس پکارنے کی کوشش کی لیکن عنایہ نے نہ سنا
کچھ ہی دیر میں اس جگہ بہت سارے لوگ جمع ہوگئے
جنہوں نے سالار اورسلمان کو بروقت ہسپتال پہنچا کر ان کی جان بچائی ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے سالار کےبارے میں پوچھا ڈاکٹر نے بتایا کہ سالار کو ابھی تک ہوش نہ آیا تھا اس حادثے کے بعد سالار تین ماہ تک کوما میں رہا
اور جب اسے ہوش آیا تو اسے اپنے باپ سے نفرت ہوگئی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ اس کے بعد کی شراب پینے کی بری عادت کی وجہ سے اس نے اپنے تایا تائی عنایہ اور ماں کو کھو دیا بہت کوشش کے بعد بھی تو ڈاکٹرز سالار کے دماغ سے کانچ کے ٹکڑے نہ نکال پائے جس کی وجہ سے سالار کو اکثر ہی سر میں درد رہتا سالار جب بھی پریشان ہوتا یا کسی بات کی ٹینشن لیتا تو اس کے سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگتی اسی لئے سلمان کوشش کرنے لگے کہ سالار کو ہر قسم کی پریشانی سے دور رکھا جائے اس کام میں مہراج نےبھی ان کا خوب ساتھ دیا سلمان صاحب مہراج کے ماں باپ کو واپس تو نہ لا
سکے لیکن ایک باپ بن کے اس کے سر پہ ہاتھ ضرور رکھا اور جب مہراج نے ہوش سنبھالا اس کے حصے کی جائیداد تک مہراج کے نام کرد ی سالار کو سنبھالنے کے لیے سلمان نے دوسری شادی کرلی لیکن سارا ایک اچھی ماں ثابت نہ ہوسکی
وہ آئے دن سالار کو مارتی پیٹتی جب بھی سلمان ملک سے باہر ہوتے سالار کے ساتھ بہت برا سلوک کرتی جس کی وجہ سے سالار کو اپنے باپ سے اور بھی زیادہ نفرت محسوس ہونے لگی سالار سلمان صاحب کو بتانے کی کوشش کرتا کہ سارا اچھی نہیں ہے
سلمان صاحب اس کی کوئی بات نہ سنتے جس کی وجہ سے سالار بدتمیز ہونے لگا سالار کی بد تمیزیاں دیکھتے ہوئے سلمان صاحب نے سالار کو خود سے دور کردیا اس دن سے سالار اپنے باپ سے اور بھی زیادہ نفرت کرنے لگا
شادی کے چھ سال بعد بھی سارا کو اولاد نہ ہوئی تب انہیں سالار کا خیال آنے لگا ان کے دل میں ممتا جاگنے لگی تو سالار کے بارے میں سوچنے لگی لیکن تب تک سالار کوئی چھوٹا بچہ نا رہا تھا جوان کی ممتا کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا
سالار نے انکی ممتا کو ایسے ہی ٹکرایا جس طرح سے 6 سال پہلے انہوں نے اسے ٹھکرایا تھا اب سالار کو نہ سارا میں کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی اپنے باپ میں سالار کا بس ایک ہی دوست تھا مہراج جس کے ساتھ وہ اپنے دل کی ہر بات شیئر کر دیتا مہرآج بھی ایسا ہی تھا وہ بھی سالار سے اپنی کوئی بات نہیں چھپاتا تھا وہ دونوں بچپن سے سات تھے
سالار نے وکالت کے پیشہ اختیار کیا لیکن
اس کے دوست علی نے اسے چیلنج کیا کہ وہ کبھی بزنس نہیں سنبھال سکتا سالار کو کوئی چیلنج کرتا اور وہ اس سے پورا نہ کرتا یہ ممکن نہ تھا
سلار بچپن سے ہی بہت ضدی تھا اور اپنی ضد پوری کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد سے گزر جاتا سالار کو ہرانا آسان نہ تھا
کیوں کہ وہ جیتنے کے لیے کچھ بھی کر گزرتا تھا علی نے سلمان کے کہنے پر سالار کو چیلنج کیا تھا کہ وہ بزنس جوائن کرے جس کو سالار نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا تھا اور آج وہ ملک کی مشہور بزنس مین میں سے ایک تھا
حاشر کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے کہاں جائے اپنی بہنوں کو کیا کھلائیے آیت کتنی بار اس سے اس کے بھوکا ہونے کا احساس دلا چکی تھی اور سیرت بیچاری تو اپنی بھوک بیان بھی نہیں کر سکتی تھی کیسے بچے تھے یہ جن کے ماں باپ کی لاشیں ان کے سامنے جل کر راکھ ہوگئی
یہ رات حاشر کی زندگی کی سب سے بھیانک رات تھی جسے وہ اپنی بہنوں کے ساتھ شیئر بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ نہ سمجھ تھی
چلتے چلتے وہ لوگ بازار کی طرف آگئے جہاں کھانے پینے کی بہت ساری دکانیں تھیں حاشر نے آیت کو ایک جگہ بٹھایا اور سیرت کو سنبھالنے کا کہا اور ایک دکان کی طرف آیا جو شاہد پکوڑوں کی دکان تھی اس نے دکاندار سے پکوڑے مانگے دکاندار نے پہلے اس کو غور سے دیکھا یہ شکل سے کافی شریف خاندان کا بچہ لگ رہا تھا تم کہاں سے آئے ہو لڑکے تمہیں پہلے تو کبھی یہاں پے نہیں دیکھا دوکاندار نے کہا انکل جی ہم کراچی کے رہنے والے ہیں یہاں ایک شادی پہ آئے تھے لیکن راستے میں ہمارا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور میرے ماں باپ انتقال کرگئے وہاں میری دو بہنیں ہیں جو دو دن سے بھوکی ہیں اس نے آیت اور سیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دکاندار کو حاشر پر بہت ترس آیا
لیکن بیٹا تمہارے آگے پیچھے کوئی تو ہوگا نہ کوئی تایا چاچا کوئی ماموں خالہ
انکل اگر آپ ہماری مدد کر سکتے ہیں تو پلیز ہمیں ہمارے گھر چھوڑ دیں
وہ لوگ دو دن سے یہاں دھکے کھا رہے تھے جو جانتے بھی نہیں تھے کہ وہ کون سے شہر میں ہیں
ہاں بیٹا میں تم لوگوں کی مدد ضرور کروں گا مجھے بس اپنے گھر کا پتہ بتا دو
اس ہمدرد انسان نے ان لوگوں کی مدد کرنے کے بارے میں سوچ رکھا تھا اس لئے فورا ہی ان کو گھر پہنچانے کے لیے بھی تیار ہوگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آنے کے بعد ان لوگوں کے لیے ایک نیا امتحان شروع ہوچکا تھا حاشر کا تایا ان کے گھر آیا تھا جس نے کہا تھا کہ وہ ان لوگوں کا گھر بیچ کر ان کو اپنے ساتھ اپنے گھر میں رکھے گا جس پر حاشر نے صاف انکار کردیا لیکن حاشر کی بات کو انہوں نے کسی کھاتے میں نہ لیتے ہوئے اس کی کوئی بات نہ مانی حاشر بہت کوشش کے باوجود بھی اپنا گھر نہ بچا سکا اس کے تایا نے اپنی من مانی کرتے ہوئے اس کا گھر تک بیچ دیا اور جب حاشر نے تایا کے گھر جانے سے انکار کردیا تو صاف لفظوں میں کہہ دیا” یہی مرو “
پر بیچے گئے مکان اور باقی چیزوں کی رقم کو اپنے ساتھ لے گیا وہ تینوں یتیم اپنے ہی گھر سے بے گھر ہو گے اور انکے ساتھ ایسا کرنے والا کوئی غیر نہیں ان کا خونی رشتہ تھا حاشر یہی سوچ رہا تھا کہ اگر آج اس کا باپ زندہ ہوتا تو اس کو کتنی تکلیف ہوتی کہ اس کے اپنے بھائی نے اس کی سگی اولاد کے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی میں ایک بہت ہی بڑا پلازہ بنایا جارہا تھا حاشر نے اپنی بہنوں کی بھوک مٹانے کے لیے وہاں پر مزدوری کردی شروع کردیا حاشر پڑھائی میں بہت اچھا تھا لیکن فی الحال اسے اپنی بہنوں کی تربیت کے بارے میں سوچنا تھا اسی لیے سکول چھوڑ کر مزدوری شروع کردی
حاشر سارا دن مزدوری کرتا اور وہی اپنی بہنوں کو بھی اپنے ساتھ ہی رکھتا وہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی آیت اور سیرت کو اپنے آپ سے دور نہیں کرتا کیونکہ اس نے اپنے بابا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی بہنوں کا خیال رکھے گا سارا دن پلازے میں مزدوری کرنے کے بعد حاشر نے پلازے کے مالک سے رات کو وہی رکنے کی اجازت لے لی وہ ساری رات سردی میں کانپتے رہتے ان کے پاس سردی کم کرنے کے لئے چادریں بھی نا تھی جس کی وجہ سے حاشر نے اپنی سونے کی چین بیچ دیں سونے کے اس چین کو کوڑیوں کے دام خرید کر آدمی نے انہیں ہلکی ہلکی تین چادریں پکڑا دیں حاشر اس بات کو لے کر خوش تھا کہ اب اسکی بہنیں سردی میں نہیں سوئنگی حاشر بہت محنتی اور بہت ایمانداری سے اپنا کام کرتا تھا چھوٹا بچہ ہونے کی وجہ سے اس سے بہت مشقت کا کام کرنا مشکل تھا لیکن پھر بھی وہ برے آدمیوں کے مقابلے میں برابر کام کرتا تھا جس کو پلازہ کامالک بہت نوٹ بھی کرتا تھا اور وہ حاشر کے کام سے خوش بھی بہت تھا اسے یہ لڑکا بہت اچھا لگتا جوہر تھوڑی دیر میں اپنی بہنوں کے پاس جاتا حاشر کے ہاتھوں اور پیروں پر نجانے کتنے زخم تھے جو وہ اپنی بہنوں سے چھپا کر رکھتا تھا لیکن یہ زخم پلازہ کے مالک کی نظروں سے نہ چھپتے ایک دن پلازہ کے مالک نے اسے بخشش کے طور پر کچھ رقم دینے کے بارے میں سوچا جسے حاشر نے لینے سے صاف انکار کردیا حاشر نے کہا کہ اس کے بابا کہا کرتے تھے کہ وہ ہمیشہ اپنی اولاد کو حلال کھلانا چاہتے ہیں اور وہ بھی اپنی بہنوں کو اپنے ہاتھوں کی محنت سے کما کر کھلائے گا ۔۔
حاشر خود ایک بچہ تھا لیکن اس برے وقت میں وہ اپنی بہنوں کا باپ بن گیا
ایک رات کچھ شرابی لوگ اس پلازے کے اندر آئے چار سالہ چھوٹی سی معصوم بچی کو غلط نگاہ سے دیکھنے لگے حاشر کو اس وقت بہت غصہ آیا اگر اسے کچھ یاد تھا تو یہ کہ اس کی بہن کے ساتھ کچھ غلط ہونے والا ہے اس کڑے وقت میں اسے وقت سے پہلے بڑا کر دیا تھا حاشر نے کسی بہادر انسان کی طرح ان لوگوں کا مقابلہ کرکے اپنی بہن آیت کو بچایا اور اسی دن فیصلہ کرلیا کہ اب وہاں لوگ اس پلازے میں نہیں رہیں گے صبح اس نے یہ ساری باتیں جب مالک کو بتائیں تو اسے بہت افسوس ہوا اسے حاشر بہت پسند تھا کیونکہ حاشر بہت ایمانداری سے اپنا کام کرتا تھا پلازہ کے مالک نے حاشر کو ایک کمرے کا مکان کرائے پر لے کر دیا اور پھر ایک دن وہ پلازہ مکمل ہوگیا جس کی وجہ سے حاشر کی مزدوری چھوٹ گئی
اور وہ ایک بار پھر سے اپنی بہنوں کے لیے کوئی کام ڈھونڈنے لگا ۔۔
بہت ڈھونڈنے کے بعد بھی حاشر کو دوبارہ کوئی نوکری نہ ملی
اس کا کم عمر ہونے کی وجہ سے کوئی اسے اپنے ساتھ کام پر نہیں رکھ رہا تھا نوکری ڈھونڈتے ہوئے آج اس کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا
لیکن ہر شام وہ مایوس ہی گھر واپس لوٹ رہا تھا
آج راستے میں اسے پلازہ ایک کہ وہی مالک ملے جنہوں نے اسے پہلے کام دیا تھا اس میں ادب سے انہیں سلام کیا
ارے حاشر بیٹا کہاں گم ہوتے ہوئے ایک ہفتے سے تمہاری راہ دیکھ رہا ہوں تم کام پر دوبارہ کیوں نہیں آئے
انکل کام تو ختم ہو گیا تھا پلازہ مکمل ہوچکا تھا اب میں وہاں آکر کیا کرتا حاشر نے حیرت سے پوچھا
اچھا تو تم اتنے دنوں سے کیا کر رہے ہو انکل نے دوبارہ سوال کیا
کوئی اور کام تلاش کر رہا ہوں حاشر نے جواب دیا
کوئی ضرورت نہیں ہے اس طرح سے دھکے کھانے کے لئے میں نے تمہارے لئے کام ڈھونڈ لیا ہے
اور یہ کام تمہارے پہلے کام سے زیادہ آسان اور اور زیادہ تنہا والا ہے
حاشر یہ سن کر بہت خوش ہوگیا اس کا مطلب تھا کہ اب اس سے مزید دھکے کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
انکل بتائے مجھے کیا کام ہے میں کل سے ہی کام پر آجاؤں گا
مشکل کام نہیں ہے بیٹا بہت آسان ہے اور اس کام میں تمہارے لیے کتنا وقت نکل آئے گا کہ تم اپنی پڑھائی بھی دوبارہ سے شروع کر سکو گے اور اپنی بہنوں کا خیال بھی اچھے سے رکھ پاؤ گے بس کراچی میں جو دکاندار ہیں انھیں دن میں چائے اور دوپہر کا کھانا ہوٹل سے لاکر تمہیں دینا ہوگا ہر دکاندار اس کام کا تمہیں الگ سے پیسے دے گا
پلازے میں کل 40 دکانیں ہیں اور ہر دکاندار تو میں دن کا 20 سے 30 روپے دے گا جس سے تمہارا گزرو بسر آسانی سے ہوجائے گا کیا کہتے ہو کروگے نہ یہ کام انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا
ہاں ضرور کروں گا کل میں کل سے ہی آجاؤں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔پھر حاشر نے اسی پلازہ میں کام شروع کردیا وہ ہر روز دن کے وقت سب دکانداروں کے لیے کھانا لاتا
اور شام میں ان کو چائے دیتا اور ہر دکاندار اس سے اسکے پر کم ادا کرتا پلازے کا مالک حاشر کی مدد کرنا چاہتا تھا لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا
کہ آخر وہ حاشر کی مدد کس طرح سے کرے اسی لیے اس نے اپنے پلازے کے دکانداروں سے اس بارے میں بات کی اور
سب کو حاشر کے بارے میں جان کر خوشی ہوئی جو اتنے تنگ حالا ت امیں بھی خیرات لینا پسند نہیں کرتا تھا
حاشر کی ماما ہمیشہ کہتی تھی کہ اللہ فرشتوں کو انسانوں کے روپ میں بھیجتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ پلازہ کاملک حاشر کے لیے فرشتہ ثابت ہوا تھا
حاشردو بارہ سکول تو نہ جا سکا لیکن پلازہ کے مالک نے اسے ایک سکول میں امتحانات دلوائے
حاشر کے بابا کا خواب تھا کہ حاشر ایک ڈاکٹر بنےاور انسانیت کی خدمت کرے لیکن حاشر اپنے بابا کا خواب پورا نہ کر سکا اور اسی لئے حاشر نے یہ خواب آیت کے ذریعے پورا کرنے کے بارے میں سوچا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاشر نےFA پرائیویٹ کیا
تو اسے اسکول میں اچھی جاب مل گئ
جہاں تنخواہ بھی کافی اچھی تھی ساتھ ساتھ حاشر نے اپنی پڑھائی بھی جاری رکھیں کیوں کہ اس کا مقصد ایک سکول میں جاب کرنا ہرگز نہ تھا
وہ اپنی بہنوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا ہمیشہ ان کے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا
اس نے اپنے بابا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی بہنوں کو کسی چیز کے لیے ترسنے نہیں دےگا
اس لئے اسکی بہنیں جس چیز کی خواہش کرتی
وہ کسی بھی حال میں لاکر دیتا
آیت کی زیادہ تر خواہشیں اس کی پڑھائی کے ریلیٹڈ ہوتے
جبکہ سیرت کی خواہشیں بھی اس کی طرح معصوم تھی
حاشر چاہے کتنا بھی تھکا ہوا ہوتا وہ اپنی بہنوں کے ساتھ وقت ضرور گزارتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بہنیں کسی بھی قسم کی احساس کمتری کا شکار ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایم اے کرنے کے بعد حاشر نے بزنس کے چند ایک شارٹ کورسز کیے
جس کے بعد اسے ایک بہت بڑی کمپنی میں اچھی جاب مل گئ
اب وہ اپنی بہنوں کی خواہشیں اور بھی آسانی سے پوری کرسکتا تھا
ان سب چیزوں میں اگر وہ کسی چیز کو نہیں بھولا تو وہ تھا پلازہ کا مالک جس نے اس کے کڑے وقت میں اس کا سب سے زیادہ ساتھ نبھایا تھا
وہ اکثر اس سے ملنے جاتا اور کافی وقت ان کے ساتھ گزارتا
پھر ایک دن پلازہ کا مالک اپنا پلازہ بیچ کر ملتان شفٹ ہوگیا
کیونکہ پلازہ کے مالک کا بیٹا ایک کار ایکسیڈنٹ میں اپنی جان گنوا بیٹھا
اس لیے اب وہ لوگ اس شہر میں نہیں رہنا چاہتے تھے لیکن پھر بھی پلازہ کے مالک نے حاشر سے رابطہ ختم نہ کیا
حاشر میں اسے اپنا بیٹا نظر آتا تھا اور حاشر بھی اس کی بہت عزت کرتا تھا
کمپنی میں جاب کرتے کرتے حاشر نے ایک سستا سا پلاٹ لے کر اپنا گھر بنوایا
اس کی کمپنی کا مالک حاشر کے کام سے بہت خوش تھا حاشر بہت ذہین انسان تھا اور اس کی ذہانت سے اس کی کمپنی بھرپور فائدہ اٹھا رہی تھی کمپنی کا مالک حاشر کو بہت پسند کرتا تھا لیکن وہ اکثر بہت بیمار رہتا تھا حاشر نے اپنی بہنوں کا خیال رکھنے کے لیے گھر میں ایک ماسی کو کام پر رکھا جوان ہی سہی اور غلط کی پہچان سکھائے.
