259K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 20

رات تقریبا ساڑھے گیارہ بجے فکیشن ختم ہوا تو اپنے کمرے میں آئی جہاں اس کا فون مسلسل بج رہا تھا
ارمان کا نمبر دیکھ
کر اس نے فوراً ہی فون اٹھا لیا
میں نے تمہیں کہا تھا یہ آیت بی بی وقت رہتے میرے پاس آ جاؤ لیکن تم نے میری بات نہیں مانی اب اس کا انجام تو میں وہ بھگتنا ہوگا ارمان کی دھمکی سے وہ اندر تک کانپ گی تھی
وہ جانتی تھی کہ ارمان اپنی بےعزتی کا بدلہ ضرور لے گا لیکن اب وقت آیت کا ڈرنے کا نہیں بلکہ اس کو اپنا فیصلہ سنانے کا تھا
نہیں ارمان تم میرے ساتھ کچھ غلط نہیں کر پاؤ گے اس کی بات پر ارمان قہقہہ لگا کر ہنسا
اچھا ایسا کیا کروں گی تم شاید تم بھول گئی ہوایت بی بی کی ویڈیو اب بھی میرے پاس ہے جو تمہاری عزت کے چھتہرے اڑا دے گی
خوش فہمیوں کے سمندر سے باہر نکلو ارمان صاحب کیونکہ اب تم میرا کچھ نہیں بگاڑ پاؤ گے
کیونکہ اب میرا بھائی ساری زندگی مجھ سے نفرت ہی کیوں نہ کرے لیکن اس سے اس کی نظروں میں کبھی گرنے نہیں دوں گی اسے ساری زندگی اس پچھتاوے میں نہیں رہنے دوں گی کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کی زندگی برباد کر دی
ہاہاہاہاہا ایسا کیا کروں گی تم ارمان نے قہقہ لگا کر پوچھا
یہ تمہیں کل تک پتہ چل جائے گا یہ کہہ کر آیت نے فون کاٹ دیا
تھوڑی دے دیر بعد وہ کمرے سے باہر آگئی اس کا گھر میں مہمانوں سے بھرا ہوا تھا تقریبا سب لوگ سو چکے تھے وہ سیدھی حاشر کے کمرے میں گئی
اس نے حاشر کے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ سو رہا تھا
وہ اس کے پاس آئی زمین پر اس کے پیروں کے قریب بیٹھ گئی
بھائی میں جانتی ہوں جو قدم اٹھانے جا رہی ہو اس کے بعد آپ کبھی مجھے معاف نہیں کروگے لیکن میں آج مجبوری کی انتہا پہ ہوں نا تو میں اس گھٹیا انسان سے اپنی عزت کا سودا کر سکتی ہو اور نہ ہی آپ کو زندگی پچھتاوے کی نظر کر سکتی ہو ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجئے گا کبھی آپ سے نظریں نہ ملا پاؤں گئی
اس نے احتیاط سے حاشر کی پیروں پہ ہاتھ لگا کر معافی مانگی پیار سے منت کے ہاتھ کو چوما
آپ جیسی بھابھی اس دنیا میں کسی کو نہیں ملے گی بھابھی آپ میری ماں ہو اور ہمیشہ رہو گی میں جانتی ہوں کہ کل آپ نے ایک ہی قیامت کو سہنا ہے مجھے یقین ہے آپ بھائی اور سیرت کو سنبھال لو گی وہ روتے ہوئے کمرے سے باہر چلی آئی
سیرت مہمانوں کے کمرے میں حنا کے ساتھ سو رہی تھی مہمانوں بچ سے نکل کرکے اس کے قریب آئی
جو میں کر رہی ہو تم کبھی مت کرنا سیرت ورنہ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی بھابھی اور بھائی کا خیال تمہیں رکھنا ہوگا وہ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن اب یہ خوام تو پورا کرو گی
اس نے سیرت کی پیشانی چومی ایسے سوتا چھوڑ کر اپنے کمرے میں آگئی
اپنے کمرے میں آکر کھڑکی پہ دیکھا مہراج وہاں کہیں نہ تھا
یااللہ ابھی تھوڑی دیر پہلے یہی کھڑا تھا تو اب کہاں چلا گیایہ سوچتے ہوئےاسے مہراج کا نمبر ڈائل کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت بار فون کرنے کے بعد بھی آگے سے کوئی جواب نہ ملا تو آئے مایوس ہوگئی
تو کیا مہراج اس سے نا امید ہو کر واپس چلا گیا اسی چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے
نہیں یہ نہیں ہو سکتا اس مصیبت سے مجھے صرف مہرا ج ہی نکال سکتا ہے
یہ سوچتے ہوئے اسے پھر سے مہراج کا نمبر ڈائل کرنا شروع کردیا
مہراج کے فون پر پتا نہیں کتنی دیر سے فون آرہا تھا لیکن سالار کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ آیت کا فون اٹھائے ہے نہ اٹھائے
کیونکہ اس کا چہیتا دوست شراب پی پی اور رو رو کے مکمل مدہوش ہو چکا تھا
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب یہ آیت اسے فون کیوں کررہی ہے جبکہ اسکی محبت کو ٹکرا چکی ہے
غصہ تومہراج پر بھی آ رہا تھا جس پے نہ جانے کتنی لڑکیاں مرتی تھی اور یہ ایک لڑکی پیچھے پاگل ہوا جارہا تھا نا چاہتے ہوئے بھی اس نے فون اٹھا ہی لیا
اب کیا تکلیف ہے تمہیں اب کیوں بار بار فون کر رہی ہوں وہ فون اٹھاتے ہی شروع ہوگیا
لیکن فلحال شاہد آیت اس کی باتیں سننے کے لیے تیار نہیں تھی
مہراج کو فون دیں مجھے ان سے بہت ضروری بات کرنی ہے آیت بولی
جو بھی بات کرنی ہے مجھ سے کرو مہراج اب تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا سالار غصّے میں بولا
ٹھیک ہے آپ ان سے کہیں کہ تھوڑی دیر میں مجھے گھر سے باہر آ کر لے جائے
آیت بھی شاید سالار سے بات کرنے میں بالکل انٹریسٹیڈ نہ تھی
کیا کہا تم نے ایک بار پھر سے کہنا سالارنے پھرپوچھا
میں نے کہا مہراج سے کہیں آکر مجھے لے جائے یہ کہ کر فون کاٹ دیا یہ سوچے بغیر کہ اس کا میسیج کر مہرآج تک پہنچائے گا بھی کے نہیں
مہراج اٹھ جایا رایت کا فون آرہا ہے سالار نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا
آیت کا فون مہراج نے بس اتنا ہی پوچھا شراب کی نشے میں مکمل طور ڈوبا ہوا تھا
وہ وہاں سے نہیں آنا چاہتا تھا لیکن سالار اسے زبردستی اپنی قسم دے کر اسے بلایا تھا
ہاں جگر آیت کا فون آیا ہے وہ تیرے ساتھ آنا چاہتی ہے
سالارتجھے پتا ہے میں ساری رات وہاں بارش میں کھڑا رہا صرف ایک جملہ سننے کو ادھر آؤ پاگل بھگ جاؤ گے لیکن آیت کو مجھ پے ترس نہیں آیا
مہراج کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اسے مجھ پر ترس نہیں آیا سالاروہ مجھ سے پیار نہیں کرتی میں قابل ہی نہیں ہوں کسی کے پیار کے میرے ماما بابا بھی اسی لئے مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور اب یہ آیت یہ بھی میری زندگی میں مجھے چھوڑنے کے لئے آئی تھی اسے مجھ پے ترس نہیں آتا سالار مہراج روتے روتے سالار کے گلے لگ گیا
مہرا ج آیتکو تجھ پہ ترس ائے نہ آئے تیرے خدا کو تجھ پہ ترس آگیا ہے چلو سے لے آتے ہیں
لیکن لے کے تو سے وہ تب آتے جب مہراج ہوش میں ہوتا وہ نجانے کون سی دنیا میں تھا
اب سب کچھ سالار کو ہی سنبھالنا تھا
سواسنے مہراج کو اٹھایا اور لاکر گاڑی میں پٹکا
مجھے کہاں لے کے جا رہا ہے مہراج نشے میں مدہوش بیٹھا پوچھ رہا تھا
جہنم میں سالار چلایا
ہاں مجھے پتا تو جہنم میں ہی جائے گا مہراج کی باتوں پر غور کیے بغیر وہ گاڑی بھگا کے لے گیا
راستے میں اس نے اپنے ایک دوست کو فون کیا
جس کو کچھ گواہ اور مولوی صاحب کا انتظام کرنے کے لئے کہا
مہراج بتا مجھے آیت کا گھر کس طرف ہے
بتا کون سی گلی میں جاؤ سالار نے ایک جگہ گاڑی روک کر مہراج سے پوچھنے لگا
مجھے نہیں پتا مجھے کچھ بھی نہیں پتا ایت کو مجھ پے ترس نہیں آیا مہراج ابھی تک اسی بات کو لے کے بیٹھا تھا اور سالار کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کونسی چیز اس کے سر پر دے مارے جس سے وہ ہوش کی دنیا میں لوٹ آئے
لیکن اسے ایسا کرنے کی ضرورت نہ پڑی کچھ دور اسے ایک کالی چادر میں لپٹی لڑکی نظر آئی یقیناً وہ آیت ہی تھی اس نے دور سے ہی پہچان لیا
آیت کے قریب جاکے گاڑی روکی تو وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی کیوںکہ آگے مہراج بیٹھا تھا
سالارچاہتا تھا کہ مہراج کا آیت پر کوئی برا امپریشن نہ پڑے مگر مہراج نے اپنا امپریشن خود ہی خراب کر دیا تھا
آیت یہ روز نہیں پیتا بس کبھی کبھی جب بہت اداس ہو تو سالار نے اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہی
اور مہراج کے حالت دیکھ کر آیت کو ڈر لگنے لگا نجانے سالار اسے کہاں لے کے جانے والا تھا کیونکہ جس کے بھروسے وہ گھر سے باہر نکلی تھی وہ تو مکمل شراب میں ڈوبا ہوا تھا


گاڑی آکر ایک چھوٹے سے گھر کے باہر رکی تھی اس وقت آیت کو بہت ڈر لگ رہا تھا نجانے وہ لوگ کہاں آئے تھے
سالار کالج میں جس قسم کا آدمی تھا اسے تو اسکی نیت پر بھی شک تھا اور جس کے سہارے وہ اپنا گھر چھوڑ کے آئی تھی اسے دنیا جہان کا کوئی ہوش ہی نہ تھا
ایک گھنٹے کے اس سفر میں اس نے کوئی سو بار کہا تھا کہ آیت کومجھ پر ترس نہیں آیا
اور آیت کو تقریبا سو بار لگا تھا کہ اس نے اس کے س تھ آکر غلطی کی ہے
آیت تم اندر چلو میں اسے لے کے آتا ہوں سالام نےگاڑی روکتے ہوئے کہا
آیت نے گھر کا دروازہ کھولا اور اندر آگئی
اندر 4’5 لڑکوں کو دیکھ کر آیت کے صحیح معنوں میں رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے
آگے دلہا اور دلہن مولوی صاحب نے آ کر پوچھا
جی مولوی سب آگئے آیت کے پیچھے سے سالار نے جواب دیا
آپ بس نکاح شروع کریں
چلو آیت تمہارا اور مہراج کا نکاح ابھی ہوگا میں جانتا ہوں کہ اس وقت سب سے ضروری تم دونوں کا نکاح ہے اور تم بھی یہی چاہتی ہو ہیں نا سالار نے پوچھا
ہاں آیت نے مختصر جواب دیا
اندر آجاؤ سالارنے کہا
مہراج نشے میں ہیں تو کیا یہ نکاح جائز ہے آیت نے سالار سے پوچھا
نکاح ہر حالت میں جائز ہے لیکن اگر تمہیں نہیں لگتا تو اس کے ہوش میں آنے کے بعد دوبارہ سے کرلینا سالار بات کو مذاق کا رخ دیتے ہوئے مہراج کو اندر لے جانے لگا
تھوڑی ہی دیر میں آیت قریشی آیت مہراج شاہ بن گئی
اور مہرا ج سے تین قبول ہے قبول ہے قبول ہے کروانے کے لیے سالارکو ایڑی چوٹی کا دم لگانا پڑا
اس کے بعد وہ ان دونوں کو مہراج کے گھر لے کے آیا
آیت یہ ہے تمہارا نیا گھر جو تم نے سنبھالنا ہے اور یہ تمہارا شوہر ہے اسکو بھی تمہیں نے سنبھالا ہے شکر ہے میری جان چھوٹی سالار نے ہاتھ جھڑہے
یہ مہراج کا کمرہ ہے اس نے مہراج کو بیڈ پے لٹاتے ہوئے بتایا تم چاہو تو کمرہ لاک کر سکتی ہو لیکن میں یہاں باہر ہی رہوں گا
وہ کیا ہے کہ مہرا ج زیادہ پتا نہیں آج اسنے ضرورت سے زیادہ پی لی ہے تو اسے کبھی بھی میری ضرورت پڑ سکتی ہے
پی تو سالار نے بھی بہت رکھی تھی لیکن اسے پینے کے بعد سنبھلنا آتا تھا
ٹھیک ہے میں باہر ہی ہوں سالار یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا
اور آیت وہی اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ شوہر کو دیکھنے لگی اس سے پہلے شاید ہی مہراج کبھی سے اتنا اچھا لگا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاشر کے گھر میں طوفان مچ چکا تھا لڑکی شادی سے ایک دن پہلے بھاگ گئی
آیت کہاں گئی حاشر نے کوئی جگہ نہیں چھوڑی سے ڈھونڈنے میں پھر تھک ہار کے گھر واپس آیا
آیت کہاں گئی اس کے ساتھ کچھ غلط ہوگیا ہے
جانا کہاں ہے بھاگ گئی منہ کالا کرکے محلے کے عورت بولی
چپ رہیں آپ میری بہن ایسی نہیں ہے وہ کبھی اپنی بھائی کی پرورش پر داغ لگا کے کہیں بھاگ نہیں سکتی خدا نہ خاستہ اس کے ساتھ کچھ برا ہوگیا ہو
پولیس والے کہہ رہے ہیں جب تک 24گھنٹے نہیں ہو جاتے تب تک وہ رپورٹ درج نہیں کر سکتے حاشر نے منت کو بتایا
تو پھر کیسے ڈھونڈے گے اس کو منت بھی پریشان تھی
ڈھونڈوں گا میں پھر جاتا ہوں ہوسکتا ہے وہ کسی مصیبت میں ہوتم فکر مت کرو منت آیت مل جائے گی منت کو حوصلہ دیتے ہوئے پھر اٹھ کر باہر جانے لگا کوئی جگہ نہ چھوڑی ہر جگہ تلاش کرلیا مگر آیت کہیں نہ ملی
منت آیت کے کمرے میں آئی تو اسے اس کے میز پر ایک خط ملا
جس پر لکھا تھا ۔
“”۔۔مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کیجئے گامیں جس سے محبت کرتی ہوں اس کے ساتھ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر جا رہی ہوں ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجئے گا “”” ۔۔۔۔۔۔
اور یہ خط حاشر کو توڑنے کے لئے کافی تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہراج کو جب ہوش آیا تو آیت اس کے ساتھ بستر پر بیٹھی سو رہی تھی
اسے دیکھ کر مہراج نےاپنا خیال سمجھ کر جھٹلادیا
مہراج اٹھنے لگا تو آیت کی آنکھ کھل گئی
مہراج آیت نے پکارا تو مہرا ج کو جھٹکا لگا
تم یہاں تم سچ میں یہاں ہو مہرا ج نے بے یقینی سے پوچھا
آیت کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ رات کی ہر بات بھول چکا ہے پھر تو ان کا نکاح تک بھول گیا ہوگا
ہاں تو آپ مجھے یہاں لے آئے ہیں تومیں کہاں جاؤں آیت نے معصومیت سے پوچھا
می تمہیں یہاں لایا مہراج اب بھی حیران تھا
ہاں تو آپ کے گھر میں آپ کے کمرے میں مجھے اور کون لائے گا
آیت میں تمہیں یہاں لے کے آیا ہوں۔۔۔؟ مہراج اٹھ کر کھڑا ہوگیا
جی ہاں آپ مجھے لائے ہیں یہاں آیت بھی اس کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی
آیت ۔۔۔ مہراج نے اسے چھونے کی کوشش کی مگر پیچھے ہٹ گیا آیت نے اس کی یہ حرکت لوٹ کی تھی
مہراج ہمارا نکاح ہوا ہے کل رات سالار بھائی نے ہمارا نکاح کروایا اور اپنی مرضی سے یہاں آئی ہوں آیت نے اسے بتایا تو مہراج کے چہرے پہ بے یقینی بے یقینی تھی
میں آپ کی بیوی ہوں مہراج آیت نے مہراج کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھے
جبکہ مہراج کسی اور ہی سوچ میں تھا
کیا سوچ رہے ہیں مہراج آیت نے پوچھا
یہی کی اللہ کو میری کونسی نیکی اتنی پسند آگئی جس کے بدلے تم مل گئی
پسندگی کا تو پتہ نہیں ہاں مگر اللہ کو شراب پینے والے لوگ بالکل پسند نہیں ہیں آیت نے مسکراتے ہوئے کہا
نہیں پیوں گا کبھی نہیں پیوں گا میرے اللہ نے مجھے تمہیں دیا ہے تو پھر میں اب بھی اس کو ناراض کرنے والے کام کبھی نہیں کروں گا
اس نے آیت کو اپنی باہوں میں بھج لیا بلکہ آیت کو پانے کی خواہش کو ادھورا چھوڑ کے وہ واپس آیا تھا لیکن اللہ نے اس کی یہ خواہش پوری کردے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نکاح کے کچھ دن بعد ہی آیت اور مہراج نے دوبارہ نکاح کیا کیونکہ مہراج اپنی اس خوشی کو اپنے ہوش و حواس میں جینا چاہتا تھا
پھر ان دونوں کی نئی زندگی شروع ہوگی جس میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں مہراج آیت کی ہر بات ایسے مانتا جیسے پتھر پر کوئی لکیر ہووہ کبھی اس کی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا
آیت کبھی کبھی اپنی زندگی کو پچھتاوے کی نظر کر دیتی
وہ ہمت کررہی تھی کہ کسی طریقے سے اپنے بھائی کو سب کچھ بتائیں اور اس سے معافی مانگے لیکن اس میں اتنی ہمت پیدا ہی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ اپنے بھائی سے نظریں ملائی
مہرا ج نے بھی ا سے کہیں بار کہا کہ وہ خود ان سے معافی مانگنے جائے گا لیکن آیت نے سے نہیں جانے دیا
پھر ان کی خوشیوں میں حصہ دار بن سعد ۔۔۔۔سعد نے ان کی چھوٹی سی زندگی کو مکمل کردیا
مہراج پہلے بھی آیت کی ہر بات مانتا تھا لیکن جب سے سعد پیدا ہوا تھا آیت اسے اور بھی زیادہ قیمتی ہو گئی تھی آیت کو گھر میں ملازمہ کا کام پسند نہ تھا اس لیے اس نے سارے ملازموں کو نکال دیا اس بات پر بہت اعتراض کیا لیکن آیت نہیں مانی
سالار سے جوڑوں کا غلام کہتا تھا اس کی باتوں پر ہمیشہ مسکراتا وہ سالار کو کہتا تھا کہ وہ اس کا احسان مند ہے جس نے اتنے برے وقت میں اس کا ساتھ دیا
اگر سالار نہیں ہوتا تو شاید انکی کبھی شادی نہ ہوتی اور اس بات کو سالار بھی بڑے آکڑ سے آیت کے سامنے قبول کرتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایسی زیادہ پسند نہیں کرتی اور آیت کو تنگ کرنے کے لیے وہ چھوٹی موٹی حرکتیں کرتا رہتا
ان کی شادی کو تین سال گزر چکے تھے اور اگر ان تین سالوں میں کوئی چیز نہیں بدلی تھی تو وہ تھی آیت کی شرم و حیا جس نے مہراج کو پہلے دن سے ہی اس کا دیوانہ کر رکھا تھا ۔


اسے یہاں رہتے ایک ہفتے سے اوپر ہو چکا تھا آجکل وہ اس سے کمرے میں تھی جہاں اس سے پہلے دن لایا گیا تھا اس دن کے بادشاہ سے اس کا سامنا نہ ہوا
اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ یہاں پاگل ہو رہی ہے
ملازمہ آتی اسے کھانا دے کر چلی جاتی ملازمہ کو اس سے بات کرنے کی اجازت نہ تھی
سچ تو تھی یہ تھا کہ اسے بھی کسی سے بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہ تھی
سیرت نماز بقاعدگی سے ادا کرتے تھے جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے شاہ کے لائے ہوئے کپڑے استعمال کرنے پڑے
میں اس وقت مکمل طور پر شاہ کے رحم وکرم پر تھیی
اس کے بعد سیرت نے بھاگنے کی کوشش بھی نہ کی کیونکہ بھاگنے کا انجام کو پہلے بھی دیکھ چکی تھی
لیکن پھر بھی وہ ایک بار اپنے بھائی سے ملنا چاہتے تھے اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ گھر سے نہیں بھاگے کہ اس نے آیت کی طرح اپنے بھائی کو دھوکا نہیں دیا ہے وہ تین سال سے آیت سے نفرت کرتی آرہی تھی جس کی وجہ سے اس کا بھائی بدل گیا تھا
تین سال پہلے ایک قیامت ان کے گھر پہ آ کے گزری تھی یہ سوچ کا ہی سیرت کا دل دھک جاتا کہ اس کے گھر سے جانے کی خبر سن کر اس کے بھائی پر کیا بیتی ہو گی
اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ یہاں سے بھاگے گی نہیں بلکہ یہی سے کسی کی مدد لے کر وہ اپنے بھائی کے پاس واپس جائے گی لیکن کون کر سکتا تھا اس کی مدد ۔۔۔۔
بہت سوچنے کے بعد بھی اس سے کوئی بھی انسان اتنا قابل اعتبار نہ لگا کیوں کہ یہاں پر سب صرف اور صرف شاہ کے وفادار تھے
جس دن سے شاہ اس سے واپسی آہا ہوئے نے لے کے آیا تھا اس دن سے اس کے کمرے کا دروازہ لاک نہیں تھا وہ چاہتی تو باہر جا سکتی تھی
لیکن اس میں خود اتنی ہمت پیدا نہ ہوئی کہ وہ اٹھ کر باہر جائے اس لیے اس میں آپ کو اسی کمرے کی حد تک محدود کرلیا.