745.5K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 13

بی بی کچھ کھا لو آپ نے کل سے کچھ نہیں کھایا
اس طرح سے بھوکے رہ کر تو آپ بیمار پڑ جاؤ گی
اچھا ہے…. مارجاؤں گی جان چھوٹ جائے گی تمہارے شاہ سائیں سے مجھے کچھ نہیں کھانا آپ پلیز کھانا یہاں سے لے جائے
نہ بی بی جی کچھ کھا لیں آپ کمزور جان کب تک بھوکی بیٹھی رہیں گی
جب تک تمہارے شاہ سائیں سے میری جان نہیں چھوٹ جاتی تب تک
شاہ کو پتہ چل چکا تھا کہ وہ کل سے کچھ نہیں کھا رہی اس لیے وہ اس کے کمرے میں آیا
اور دروازے پر کھڑا اس کی ساری باتیں سن چکا تھا
وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ عورت اٹھ کر کھڑی ہوگئی جبکہ اس نے منہ پھیر لیا
تم جاؤ یہاں سے شاہ عورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
عورت کمرے سے باہر نکل گئی
ہاں تو کیا کہہ رہی تھی تم مجھ سے جان چھڑانا چاہتی ہوں
نہیں چھڑا پاؤ گی کبھی بھی نہیں
اسی لیے یہ نخرے بند کرو اور چپ چاپ کھانا کھاؤ شاہ نے سخت لہجے میں کہا
مجھے کچھ نہیں کھانا پلیز آپ یہ یہاں سے لے جائیں
وہ دھیمی آواز میں منمنائی جو شاہ نے سن لی
ٹھیک ہے میری جان اگر تم نے کھانا نہیں کھانا تو میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کروں گا لیکن
جب تک تم کھانا نہیں کھاؤں گی اس حویلی کے کسی نوکر کو کھانے کا ایک لقمہ بھی نہیں دیا جائے گا
وہ بے بسی سی شاہ کو دیکھنے لگی ہہ انسان کتنا گر سکتا ہے
مجھے پتا ہے تمہیں میرے بار بار کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ہاں لیکن اس حویلی کے نوکر بھوکے مر جائیں اس بات سے تو فرق پڑے گا
بیچارے غریبوں نے کل سے ایک نوالہ تک نہیں کھایا
بھوکی رہ کرنہ صرف تمہاری جان چھوٹے گی بلکہ
اس حویلی سے اور بھی بہت ساری لاشیں اٹھیں گی
ہاں کیا نام ہے قمر اس کا بیٹا چھوٹا سات سال کا ہے کل سے بھوکھا بیٹھا ہے بیچارہ
تمہیں کیا تم نے تو بس اپنی جان چھڑانی ہے
شاہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا
آپ پلیز ان سب کو کھانا دے دیجئے میں کھانا کھاؤ ں گی
ہاں میری جان کیوں نہیں پہلے تم کھانا کھاؤ جتنا تم کھاؤ گی اسی حساب سے ان کو بھی دیا جائے گا
میرا مطلب ہے اگر تم ایک دونوالے لوگی تو اسی حساب سے ہرایک کوایک دونوالے دے دیے جائیں گے
لیکن اگر تم پیٹ بھر کر کھانا کھاؤ گی تو اسی حساب سے اس گھر کے سارے لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا دیا جائے گا
شاہ واقعہ ہی ایک سخت دل بے رحم اور بے حس شخص ثابت ہوا تھا


سالار کو سب کچھ پتہ چل چکا تھا مہراج نےاسے فون پر سیرت کے بارے میں بتا دیا تھا
سالارغصے سے آگ بگولہ ہو رہا تھا اس کے ماں باپ اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں
خیرماں تو پھر سوتیلی تھی باپ تو اس کا اپنا تھا اس کا سگا تھا
اتنی آسانی سے وہ اس کی خوشیوں کا جنازہ نکال رہا تھا اور وہ بھی اسے خبر تک نہ ہونے دی
آج شام 4 بجے سیرت کا نکاح تھا
لیکن اس نکاح کی خبر سنتے ہی سالاربارہ بجے کی فلائٹ سے پاکستان واپس آ چکا تھا
سالار مجھے لگتا ہے کہ ہمیں سیرت کے بھائی سے اس بارے میں بات کرنی چاہئے
ہم ایک بار پھر سیرت کا ہاتھ مانگنے جاتے ہیں
مہراج کو سالار کا غصہ دیکھ کر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
وہ میری ہے مہراج اور شاہ اپنی چیزیں کسی سے نہیں مانگتا
سالار غصے سے دھاڑا
آخر کہنا کیا چاہتے ہو تم مہراج نے کہا
نہیں اب میرے کہنے کو کچھ باقی رہا ہے اور نہ ہی تمہارے سننے کو مہراج
اب تجھے وہ کرنا ہوگا جو میں نے تیرے لئے کیا تھا
لیکن سالار اس سب میں آیت کی مرضی شامل تھی لیکن سیرت اس بارے میں کچھ نہیں جانتی
وہ جانتی ہے میں اسے بتا چکا ہوں کہ میں اسے چاہتا ہوں یہاں تک کہ اس کے ہاتھ میں میرے نام کے انگوٹھی بھی ہے
وہ میری ہے میں اسے کسی اور کا نہیں ہونے دے سکتا
تو یہ بتا کے تو میرا ساتھ دے گا یا نہیں
سالارنے غصے سے کہا
جس کا جواب دینے کی بجائے مہراج نظریں نیچے کر لی
جس کا مطلب سالار فورن سمجھ چکا تھا
تجھ پر اپنا احسان نہیں جتاوں گا مگر تیرے راستہ بدلنے سے تکلیف ہوئی
یہ کہ کر سالار مہراج کے گھر سے باہر نکل آیا
مہراج نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی
کیونکہ وہ اس کی ضدی طبیت غصے سے اچھی طرح سے واقف تھا


گھر جانے کے بجائے اس نےاپنے وفادار نوکر اور بچپن کے دوست کو فون کیا
السلام علیکم سائیں آپ کو آج میری یاد کیسے آگئی مزمل نے ہمیشہ کی طرح ادب سے کہا
صرف یاد نہیں تمہاری ضرورت بھی ہے شہر آجاؤ سالارنے کہا
جی سائیں میں ابھی شہر کے لئے نکلتا ہوں
مزمل نے ہمیشہ کی طرح شاہ کے حکم کی تکمیل کی
اسے مہراج پہ بہت یقین تھا وہ کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑے گا
سالار نے ہر برے وقت میں مہراج کا ساتھ دیا تھا
اور وہ مہراج سے بھی ایسی ہی امید رکھتا تھا
مگر اس کے لیے مہراج کا یہی احسان کافی تھا کہ اس نے سیرت کے نکاح سے پہلے اس سے باخبر کردیا


حاشر آج بہت خوش تھا
نکاح کے سارے انتظامات اس نے خود اپنی نگرانی میں کروائے تھے
وہ کسی کام میں ہی لگاتھا کہ منت اس کے سر پہ آ کر کھڑی ہو گئی
بنی سنوری منت آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی
بس میں یہ سارا کام ختم کروا کے آ رہا ہوں اس کے خوبصورت سراپے پر نظر ڈال کر مسکراتے ہوئے جواب دیا
یہ سب کچھ ہوتا رہے گا حاشر پہلے آپ چلیے تیار ہوجائے ابھی حارث اوراس کے والدین آرہے ہوں گے
تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں تیار ہوکرآتاہوں
آج حاشر منت کی ہر بات مان رہا تھا
آج تو حاشر کی ہر بات ہی نرالی تھی
پہلے میں ایک بارسیرت کو دیکھ کے آتا ہوں اس نے مسکراتے ہوئے کہا
شاید بہن کو دلہن بنے دیکھنے کی خواہش اس کے دل میں تھی
کمرے میں دستک دے کر وہ کمرے کے اندر آیا تو سیرت شیشے کے سامنےکھڑ ی تھی
اور حنا اس کا دوپٹہ سیٹ کر رہی تھی
اسے آتے دیکھ کرسیرت مسکرائی
کیسی لگ رہی ہوں میں بھائی سیرت نےاس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
بہت خوبصورت حاشر نے بھاری آواز میں جواب دیا
نجانے کیوں سیرت کو لگا کےحاشرآنسو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے
سیرت بنا کچھ بولے حاشر کے سینے سے آ لگی
حاشر نے بھی اپنے سینےسے لگایا
پلیز.. پلیز.. پلیز.. پلیز.. اب اس وقت نہ ایموشنل سین مت سٹارٹ کیجئے گا
کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ آپ لوگوں کے اس سین میں بیس ہزار کا میک اپ ضائع ہوجائے
حنا کی بات پہ حاشر اور سیرت دونوں مسکرا کے الگ ہوئے
خوش ہو سیرت حاشرنے یہ سوال نجانےکل سے کتنی بار کیا تھا
بہت ….سیرت نے ہر بار والا جواب دیا
سیرت اگرنکاح سے ایک سیکنڈ پہلے بھی تیرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ حارث تجھے خوش نہیں رکھ سکتا تو
تو مجھے بتائے گی تیرا بھائی تب بھی تیری مرضی کے خلاف فیصلہ نہیں سنائے گا
نہیں بھائی میں بہت خوش ہوں آپ میری بالکل فکر نہ کریں سیرت نےکہا
آپ یہ کیا ماسی بن کی گھوم رہے ہو
سیرت نے کپڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اس نے ٹروزر کے اوپر لمبا سا کرتا پہن رکھا تھا
بھائی یہ آپ نے کیا نیا فیشن بنا رکھا ہے حنانے بات میں حصہ لیا
لگتا ہے ابھی تک آپ کی نظر منت بھابھی پر نہیں پڑی
ہاں منت بھابھی کتنی پیاری لگ رہی ہیں نہ آج بھائی آپ نے انہیں دیکھا
سیرت نےخوش ہو کر کہا
حاشر کے ذہن میں منت کا حسین سراپا آیا
آج وہ واقعہ ہی غضب ڈھا رہی تھی
اور بھائی آج آپ ان کے ساتھ اس طرح سے کھڑے بالکل اچھے نہیں لگیں گے
بالکل کام والی ماسی لگ رہے ہیں حنانے دل کھول کھول کر تعریف کی
تم ٹھیک کہہ رہی ہو حنا ایسے تو میں اس کے ساتھ اچھا نہیں لگوں لیکن وہ کیا ہے نہ کہ وہ میری پرسنل پراپرٹی ہے
کھڑا تو اسے میرے ساتھ ہی ہونا پڑے گا میں کیسا بھی کیوں نہ دیکھوں
ہاں لیکن پھر بھی میں اس حلیے کو درست ضرور کروں گا تاکہ
میں اس کے ساتھ کھڑا قابل قبول لگوں
حاشر مسکراتا ہوا کمرے سے نکلا اور اپنے کمرے میں تیارہونے چلا گیا۔


جلدی سے میری اچھی اچھی کچھ تصویریں بناؤ_
سیرت نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھتے ہوئے حنا سے کہا
حنا سیرت کی تصویریں بنا رہی تھی جب سیرت کو اچانک خیال آیا
یار تمہارے پمپل کو دیکھ کرجیجو بھائی نے کیا کہا
سیرت کی بات سن کرحنا شرمائی
وہ کہتے ہیں کہ پمپل سے کچھ نہیں ہوتا بندہ دل سے خوبصورت ہونا چاہیے اور ان کی نظر میں ” میں سب سے زیادہ خوبصورت ہوں
حنا کے انداز میں زاویار کا بخشا غرور تھا
اس کا مطلب اگر تمہارا پمپل کبھی نہ جائیے تو ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا سیرت نےحیرت سے پوچھا
زاویار کوکوئی فرق نہیں پڑتا مگر یہ پمپل ضرور جائےگا حنا نے بے ساختہ کہا
ہاں ہاں ضرور جائے گا پہلے یہ تو بتاؤ کہ جیجو بھائی آئین گے نہ میرے نکاح پر
انہوں نے کہا تھا کہ وہ نکاح سے پہلے پہنچ جائیں گے اب تک تو باہر ابھی گئے ہوں گےحنا نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا یہ بتانا کہ کل جیجو بھائی نے تجھے منہ دکھائی میں کیا دیا
کب سے بتا تو رہی ہوں حنا کا ہاتھ بار بار گردن پہ کیوں جا رہا تھا پہلے تو سیرت سمجھی ہی نہیں
کتنی پیاری چین ہے خود منہ سے نہیں بتا سکتی تھی سیرت نے غصے سے گھورا
یار مجھے شرم آرہی تھی نہ حنا نے شرماتے ہوئے کہا
مجھے پتا تھا جیجو بھائی تجھ سے بہت پیار کریں گے
کالج میں بھی لگتا تھا کہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے
مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ تیری شادی ان کے ساتھ ہوگی اگر پتہ ہوتا تو میں تیرے بارے میں بھی سب کچھ بتا دیتی
سیرت اپنی باتوں میں یہ بھول چکی تھی کہ آج کی دلہن سیرت ہے
اچھا کیا تم نے نہیں بتایااب مجھے جاننے کی اور بھی زیادہ کوشش کریں گے
حنا کی شرمیلی مسکراہٹ سے سیرت اسکی خوشی کا اندازہ باآسانی لگا سکتی تھی حناسیرت تیار ہوگئی تو پلیز تھوڑی سی مدد کرا دو میری
منت نے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہوتے ہوئے کہا
جی بھابھی یہ تیار ہوگی ہے
بھابی میں کیا یہاں اکیلی کمرے میں بیٹھی رہوں سیرت نے منہ بنایا
ہاں میں نے کہا تھا کہ پورے پاکستان میں صرف ایک لڑکی دوست بناؤ منت اسی کے انداز میں بولی
پلیز اسے مت لے کے جائے نہ سیرت نےحنا کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
سیرت 5 منٹ میں باہر نکاح شروع ہونے والا ہے بہت سارے کام ہیں
تھوڑی دیر میں مرد حضرات کے ساتھ مولوی صاحب کمرے میں آئیں گے
اس لیے مجھےحنا کی مدد کی ضرورت ہے
اب تم اس کا ہاتھ چھوڑو منت نے حنا کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ باہر لے کے جانے لگی
پتا نہیں مجھے اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے آج
سیرت نے دل ہی دل میں سوچا


سیرت اپنے کمرے میں بیٹھی تھی باہر شور مچا ہوا تھا
چھوٹے چھوٹے بچے اس کے کمرے تک آتے دلہن یکھ کر واپس بھاگ جاتے
کیسی دلہن ہوں میں جو اپنے کمرے میں بالکل اکیلی بیٹھی ہوں
سیرت دل ہی دل میں سوچ رہی تھی
پھر اچانک باہر حاموشی چھا گئی
اور کسی کی نہیں بس مولوی صاحب کی آواز آرہی تھی
شاید نکاح شروع ہو چکا تھا
اج میں ساری زندگی کے لیے کسی کے نام لکھ دی جاؤں گی
یہی سوچتے ہوئے اسے پیچھے سے اچانک کسی چیز کی آواز آئی
جیسے اسکے کمرے کی کھڑکی سے کوئی اندر آیا ہو
اس نے مڑ کر دیکھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی
کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھا اور وہ اپنے ہوش سے بیگانہ ہو گی
بے ہوش ہونے سے پہلے اگر اسے کچھ یاد تھا تو بس یہ کہ کوئی اسے اپنی باہوں میں اٹھا کر اسی کھڑکی سے باہر لے گیا ہے


سالار شاہ جیت چکا تھا ہمیشہ کی طرح
وہ جس چیز کو چاہتا اسے حاصل کرلیتا آج بھی یہی ہوا تھا
آج وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش کو حاصل کر لایا تھا
ہوش حواس سے بیگانہ وجود اب تک اس کی باہوں میں تھا
تقریب شروع ہوتے ہی سب لوگ نکاح کی طرف متوجہ ہوگئے
سالار کی نظر ایک ایک لمحے پر تھی
سالار نے سب سوچ کر رکھا تھا کہ اب وہ کیا کرنے والا ہے
وہ سیرت کو بے ہوش نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ اس سے اپنی محبت کا اظہار کرکے لانا چاہتا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ سیرت اس وقت یہ نہیں چاہے گی
اس لیے اس نے اظہارمحبت بعد پررکھ دیا
اس سب کے دوران سالار اگر کچھ نہیں بھولا تھا تو وہ تھی سیرت کی کالی چادر
جو اس کے بیڈ پر پڑی تھی اور یہی وہ چادر تھی جس میں سالار نےپہلی بار سیرت کو دیکھا تھا
سالار اسے گھرلے جانے کے بجائے حویلی کی طرف لے کے آیا تھا
اب اپنی خوشیوں میں اپنے ماں باپ کو بھی شامل نہیں کرنا چاہتا تھا
خیر سارہ سے تو اسے ویسے بھی کوئی محبت نہ تھی
لیکن اس کے باپ نے بھی اس کو دھوکہ دیا تھا
اس لیے اب سالارکی نظروں میں اس کے باپ کو اس کی خوشیوں میں شامل ہونے کا کوئی حق نہ تھا
لیکن وہ دوست جس سے وہ اپنی زندگی کی ہر خوشی شیئر کرتا تھا
ساتھ تو اس نےبھی نہ دیا تھا اس کا
جو بھی ہو سالار اس سے ناراض نہیں تھا اس لیے فون نکالا اور اسے فون کرنے لگا
مہراج نے جب سالار کی طرف سے آنے والی کال کو دیکھا تو پریشان ہو گیا
اب تک تو سیرت کا نکاح ہو چکا ہوگا تو سالار بہت زیادہ پریشان ہو گا یہی سوچتے ہوئے اس نے کال اٹینڈ کرلی
ہیلو سالار تو ٹھیک ہے نا فون اٹھاتے ہی مہراج نے بے چینی سے پوچھا
جس پر سالار نےزور دار قہقہ لگایا
مجھے کیا ہوگا جگر میں تو بالکل ٹھیک ہوں سالار بہت خوش لگ رہا تھا
مہراج کو کچھ عجیب لگا سالار تو ٹھیک ہے نا اس نے پھر سے پوچھا
جس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوجائے مہراج شاہ وہ خوش ہی ہوتا ہے
سالار کے خوشی سے دہکتے انداز پر مہراج کو کچھ گڑ بڑ لگی
سالار تونے کیا کیا ہے مہراج نے غصے سے پوچھا
یعنی کے میرے جگر کو پتہ ہے کہ میں نے کچھ کر دیا ہے سالار کی آواز میں اب بھی خوشی مہک رہی تھی
سالار تو میں سیرت کے ساتھ کچھ گڑ بڑ تو نہیں کی مہراج نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے غصے سے پوچھا
گڑ بڑ سےکیامرادہے تیری سالار مہراج کی بات کو سمجھتے ہوئے غصے سے بولا
سالاروہ معصوم ہےبے قصور ہےچھوڑ دے اسے
مہراج کو زندگی میں پہلی بار سالار پہ اتنا غصہ آ رہا تھا
ہاہاہاہا کوئی چانس نہیں ہے جگر اس کو چھوڑنے کا یہ تو میری زندگی ہے ہمیشہ میرے ساتھ رہے
سالار تو اس وقت کہاں ہے مہراج نے غصے سے پوچھا
تجھے تو نہیں بتاؤں گا سالارنے اسی کے انداز میں جواب دیا
اس سے پہلے مہراج کچھ اور کہتا اس نے فون بند کر دیا
دیکھو جاناں کیسا بھائی ہے تمہارا ذرا خوشی نہیں ہوتی اسے میری خوشی میں
اس نے سیرت کے بےہوش وجود کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا.