Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 (Ik Lafz Ishq) Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 11
شاہ غصے سے اس کی طرف بڑھا
میں اس سے زیادہ زور سے مار سکتی تھی لیکن آپ کے برے ہونے کا لحاظ کر گی اسے جلدی ہی احساس ہوگیا کہ اس کا طماچہ اتنا بھی زور دار نہ تھا
جس پر غصے سے آگے بڑتے شاہ نے بے اختیار قہقہہ لگایا
میری جان تمہارا اتنا ہی احسان کافی ہے کہ تم نے خود مجھے چھوا ہے
ہاں لیکن اگر تم مجھے اس سے زیادہ زور سے مارنا چاہتی ہو تو اپنے ہاتھوں کو تکلیف دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
شاہ فروٹس کی ٹوکری میں رکھی گئی چھری کو اٹھا کر لایا
اور اس کا ہاتھ تھام کر اس کے ہاتھ میں چھری رکھ دیں
اب اگر تمہارا مجھے مارنے کا دل کرے تو اپنے ہاتھوں کو تکلیف مت دینا
اس نے چھری مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھام لی
میں… س..چ میں ..مارد وں.. گی وہ لڑکھڑاتی آواز میں بولی
ہاں تمہاری ہمت سے باخوبی واقف ہوں میں
میں,, سچ ….کہہ رہی ہوں ..میں مار,, دوں گی وہ پھر سے اسے یقین دلانے کے لئے بولی
یہ آدمی پہلے ہی تمہارے پیار میں مارا پڑا ہے اور کتنی بار ماروں گی
شاہ یہ کہہ کر موڑا اور اپنے موبائل پر آنے والی کال سننے لگا
جب شاہ کو اپنے کندھے پر کوئی چیز چپکتی ہوئی محسوس ہوئی
یہ وہی چھری تھی جو یقینا آدھی شاہ کے کندھے کے اندر جا چکی تھی
شاہ بے یقینی سے اسے دیکھا جو سسکیاں روکے رونے میں مصروف تھی
خون دیکھ کر اس کے رونے میں مزید شدت آئی
ایم سوری میں یہ نہیں چاہتی تھی وہ بے اختیار معافی مانگنے لگی
معاف کر دیجئے وہ ایک ایک قدم پیچھے بڑھانے لگی
میں نے کہا تھا میں مار دوں گی آپ نہیں مانے وہ رندی ہوئی آواز میں بولی
دیکھا اب لگی نہ وہ یہ سب کہتے شاہ کو معصومیت کی ایک تصویر لگ رہی تھی
معاف کر دیجئے مجھے میں آپ کو مارنا نہیں چاہتی تھی لیکن آپ مجھے جانے نہیں دے رہے
شا ہ کے چار نوکر کمرے کے باہر شاہ کا انتظار کر رہے تھے اسے اس حالت میں دیکھ کر اندر آ گئے
شاہ سائیں آپ کو کیا ہوگیا مزمل فورن شاہ کی طرف بڑا جبکہ سب لوگوں کو اس کی طرف متوجہ دیکھ کر وہ کمرے سے باہر نکلے لگی
اگلے ہی پل چاروں میں سے کسی ایک نے اس کا ہاتھ تھام لیا
لیکن شاہ کی بگڑتی حالت دیکھ کر ہاتھ چھوڑ کروہ بھی شا ہ کی طرف متوجہ ہوا
اپنے آپ کو آزاد پا کر وہ کمرے سے باہر بھاگ گئی
سب کا دھیان شا ہ کی طرف لگ گیا
طارق نےشاہ کو تھامنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے شاہ نے اس کا بازو دبوچ لیا تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے چھونے کی ہاتھ کیسے لگایا تم نے اس سے شاہ نے غصے سے کہا
شاہ سائیں وہ بھاگ رہی تھی طارق سمجھ چکا تھا کہ شاہ کس لیے غصہ کر رہا ہے
طارق کچھ اور کہتا کہ شاہ نے اپنے کندھے سے چھری نکالی اوربے دردی سے طارق کی کلائی پر چار پانچ بار چلا دی
طارق درد سے چلا اٹھا
اگر تم میرے وفادار ملازم نہ ہوتے طارق تو میں تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا
شاہ اسے دور پھینک کر کمرے سے باہر نکلا
شاہ کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ
اس کے کندھے پر چوٹ لگی ہے اور اس کے سارے کپڑے خون سے لت پت ہیں
مزمل شاہ کے پیچھےدوڑا لیکن اس سے پہلے شاہ گاڑی لے گیا
وہ بارش میں وہ بھاگ رہی تھی
وہ پوری طرح بھیگ چکی تھی اسے کسی بھی حالت میں شاہ کی پہنچ سے دور نکلنا تھااس کی سانس بری طرح سے پھول چکی تھی
بھاگتے بھاگتے اس کے قریب سے تیز رفتار سے ایک گاڑی نکلی اور اس کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی
فرنٹ ڈور کھول کر شاہ گاڑی سے باہر نکلا
اور اس کے قریب آ کر اس کا بازو پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے اسے گاڑی میں بٹھایا
اب بھاگنا بند کرو آنا تو آخر تمہیں میرے پاس ہی ہے
گاڑی کا دروازہ بند کرکے شاہ اپنی طرف آیا اور فل سپیڈ میں گاڑی آگے برادی
پلیز مجھے جانے دیں مجھے میرے گھر جانا ہے میرے گھر والے مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے وہ مسلسل مزاحمت کر رہی تھی
لیکن کون تھا وہاں جو اس کے رونے کی پرواہ کرتا
اس سے اس کے اپنوں سے ملا تا
شاہ تو چپ چاپ بے حس بنا اپنی گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا
تین دن کے بعد آج وہ پھر وہیں پر تھی جہاں سے تین دن پہلے رات کے اندھیرے میں وہ بھاگی تھی گاڑی ورک گئ
وہ اس کا ہاتھ تھام کر گھسیٹتے ہوئے حویلی کے اندر لے گیا
پر لا کر اسے بیڈ پر پٹکا
بہت شوق ہے تمیں بھاگنے کا بس بھاگ لیا جتنا بھاگ سکتی تھی تم
اب تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی کیونکہ اب شاہ تمہں یہاں سے کہیں جانے ہی نہیں دے گا
ایک بات کان کھول کر سن لو اور سمجھ لو
اب سے تم صرف شاہ کو سوچوں گی صرف شاہ کو چاہوں گی ائی بات سمجھ میں
کہ اب سے تم صرف شاہ کی ملکیت ہو
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے سے وارن کرتا ہوے بیڈ پر پٹک کر کمرے سے باہر نکل گیا
ایک بار پھر سے رونا اس کا مقدر بن گیا
شاہ سائیں یہ ڈاکٹر صاحب ہیں آپ کے علاج کیلئے آئے ہیں یہاں مزمل نے بتایا
شاہ مزمل کی طرف بڑھا اور اس سے فرسٹ ایڈ باکس لیا
اور پھر اسی کمرے میں آگیا
اسے پھر سے اس کمرے میں دیکھ کر وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی
بیٹھی رہو میری جان تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس نے اس کا ہاتھ تھام کے بٹھایا
ابھی کچھ دیر پہلے جو شاہ کمرے سے غصے سے باہر نکلا تھا
یہ آدمی اس آدمی سے بالکل الگ تھا شاہ نے اسے محبت سے بیڈ پر بٹھایا
اور خود زمین پر بیٹھ کے اس کے پیر کا زخم دیکھنے لگا
جو شاید بھاگنے کی وجہ سے اسے لگا تھا
لیکن وہ سمجھ نہیں پائی کہ اتنے غصے میں وہ اسے وہاں سے یہاں حویلی میں لے کر آیا تھا.
یہ زخم آخر اس نے کب اس کے پیر پے دیکھا تھا
جبکہ جو زخم اس نے شاہ کے کندھے پر دیا تھا وہ اس کے زخم سے کہیں زیادہ گہرا تھا
لیکن شاہ کو اس زخم کی پرواہ نہ تھی
اس نے کن آنکھوں سے اس کے کندھے کی طرف دیکھا جہاں سے شاید ابھی بھی خون بہہ رہا تھا
کیونکہ شاہ کا کرتا پوری طرح سے خون میں لت پت ہو چکا تھا
شاہ بہت احتیاط سے اس کے پیر پر پٹی بندھی اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا
اب تم آرام کرو اور اب رونا مت
یہ کہہ کر اس کا گال تھپتھپا کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا
جبکہ ایک بار پھر سے وہ اپنی بے بسی پر رونے لگی
آج شام سے ہی بارش ہورہی تھی اور منت بارش کی دیوانی تھی
اسے بارش میں بھیگنے کا حد سے زیادہ شوق تھا
پہلے تو حاشر بھی اس کا یہ شوق پورا کرنے میں اس کا خوب ساتھ دیتا
لیکن جب حاشر کا لہجہ سخت ہوا تو منت نے اس سے اپنی باتیں کہنا چھوڑ دیا
نہ تو وہ فرمائشیں کرتی تھی اور نہ ہی وہ ضدی تھی
وہ حاشر سے بے انتہا محبت کرتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی کوئی بھی بات کبھی بھی حاشر کو تکلیف دے
وہ حاشر کی خوشی میں خوش رہتی تھی
منت جب سارا کام ختم کر کے کمرے میں آئی تو
حاشر گھوڑے بیچے سو رہا تھا
منت منہ بسور کر رہ گئی
کیونکہ بارش منت کی کمزوری تھی اور
اکیلے اس وقت چھت پہ جانے سے اسے ڈر لگ رہا تھا
اورسیرت بھی صبح صبح ہی سو گئی تھی
کیوںکہ آج حنا کا نکاح ہوا تھا
جس وجہ سے وہ سارا دن حنا کے گھر پر رہیں اور کافی تھک گی اس لیے منت نے اسے ڈسٹرب نہیں کیا اور
ویسے بھی وہ بارش اور بجلی چمکنے سے ڈرتی تھی
اس نے دو تین بار حاشر کو آواز دی
لیکن کیوٸی جواب نه ملا سو وه بھی لیٹ گٸی اس پیارے سے موسم میں نیند تو آنی نهیں تھی
رات ایک بج گیا منت کو نیند نه آٸی
حاشر ایک اور کوشش حاشر نے شاید نه اٹھنے کی قسم کھا رکھی تھی حاشر_ اس بار بہت لاڈ سے اس کے کندھے پر سر رکھ کر بولی
جی میری جان حاشر سیدھا ہوا اور محبت سے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا
وہ ابھی تک نیند میں تھا حاشر کی یہ عادت بہت پرانی تھی وہ نیند میں بھی منت کو بہت محبت سے پکارتا تھا
حاشر اٹھ جائے نہ پلیز
منت نے حاشرکی شرٹ کو مٹھی میں لیتے ہوئے هلکا ساجھنجوڑا
جی جان اٹھ گیا اس نے محبت سے اس کی طرف دیکھتے ہوگا
صبح ہوگی کیا ہاشر نے باہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
نہیں منت نے مسکراتے ہوئے بتایا
پھر کیوں جگایاطبیعت ٹھیک ہے نہ تمہاری حاشر کو اس کی فکر لگ گئی
ہاں میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے منت نے مسکراتے ہوئے بتایا
تو پھر ہاشر نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
حاشر باہر بارش ہو رہی ہے منت ایکسائٹمنٹ میں بولی
پہلی بار ہو رہی ہے حاشر اسی کے انداز میں بولا
نہیں پہلی بار تو نہیں ہو رہی لیکن بہت دنوں کے بعد ہو رہی ہے اور وہ بھی رات کواسی لیے میں نے آپ کو جگایا
منت سو جاؤ _ حاشر نے منت کی بات کاٹتے ہوئے نرمی سے اس کا گال تھپتھپایا حاشر صرف آدھا گھنٹہ ہم جلدی واپس آجائیں گے پھر میں آپ کو بالکل ڈسٹرب نہیں کروں گی منت سو جاؤ شاباش ہاشر نے پھر اس کی بات کاٹی اس کے بعد منت کچھ نہیں بولی بس منہ بسور کر دوسری طرف منہ کیےلیٹ گئی منت کبھی بھی ہاشر سے روٹھتی نہیں تھی اور نہ ہی دوسری طرف کروٹ لے کے سوتی تھی حاشر کو لگا کہ شاید آج ہو اس سے ناراض ہو گئی ہے اسی سوچ کو لے کر حاشر کو عجیب سی بے چینی محسوس ہوئی منت حاشر نے پکارا
سو جائے حاشراب میں آپکو ڈسٹرب نہیں کروں گی
منت نے اسی طرح لیٹے لیٹے جواب دیا
صرف 20 منٹ منت اس سے اوپر ایک سیکنڈ بھی نہیں یہ کہ کر وہ رکا نہیں بلکہ کمرے سے باہر نکل گیا
منت فورا بستر سے نکلی اور حاشر کے پیچھے باگی کہیں وہ اپنا ارادہ بدل ہی دے
اس چھت پہ صرف ایک ہی کمرہ تھا
حاشر وہی کمرے کی ایک کرسی پر بیٹھ گیا جب کہ منت بارش میں چلی گئی
اور اس کچھ ہی سیکنڈ میں بارش منت کو پوری طرح بھیگا گٸی
حاشر خمارآلود منت کے بیھگے وجود کو دیکھنے لگا
وہ بارش میں کھیلتی کوئی ننھی سی بچی لگ رہی تھی
جب حاشر کے ساتھ اس کی شادی ہوئی تب اس کی عمر کھیلنے کودنے والی ہی تھی
پر حاشر کو یہی لگتا تھا کہ اسکے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے پہلے اس کو پالنا پڑے گا
لیکن پھر حاشر کو بہت جلدی احساس ہوگیا کہ وہ کوئی نہ سمجھ نہیں بچی جیسی نہیں ہے
بلکہ وہ ایک مکمل شریک حیات ہے جس کے ساتھ حاشراپنی ہر بات شیئر کر سکتا ہے
بھگتے ہوئے منت کو احساس ہی نہ ہوا کہ کب حاشر اس کے پاس آیا اسے کھینچ کے اپنے مزید قریب کر لیا
مجھے دیوانہ کرنے لائی ہوں اپنے ساتھ حاشر نے منت کےکان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے کہا
میں تو خود بارش کی دیوانی ہو ں آپ کو کیا دیوانا کروں گی
منت سیدھا ہو کے اس کے کاندھوں پہ اپنے ہاتھ رکھے
اچھا تو تم بارش کی دیوانی ہوں اور مجھے لگا کہ تم میری دیوانی ہو
حاشر نے شرارت سے کہتے ہوئے شہادت کی انگلی سے اسکی تھوڑی کو اونچا کیا
اور اس کے نازک پنکھڑیوں جیسے لبوں پر اپنےلب رکھے خود کو سیراب کیا
اس کی گردن کے حسین تل کو اپنے لبوں سے چھوا
اور اس کے حسین سراپے میں کھونے لگا
اچانک بادل گرجے اور زور دار چیخ کی آواز سنائی دی
وہ ہوش کی دنیا میں آئے
” سیرت “
دونوں بےساختہ بولے
اور نیچے کی طرف بھاگے
دونوں بھاگتے ہوئے سیرت کے کمرے میں آئے سیرت کسی معصوم سے چھوٹے بچے کی طرح اپنی الماری کے پیچھے بنی تھوڑی سی جگہ پر ڈر کے بیٹھی تھی
سیرت میری جان کیا ہوا حاشر دوڑتے ہوئے اس کے قریب آیا
بھائی مجھے آگ لگ جائے گی بجلی کڑک رہی ہے وہ ڈری ہوئی تھی
میں جل جاؤں گی آگ لگ جائے گی
نہیں میرا بچہ کوئی آگ نہیں لگی
کچھ نہیں ہوگا میں ہوں نہ ہ تمہارے ساتھ حاشر نے اسے اپنے سینے سے لگایا
بھائی بارش بجلی آگ
میں جل جاؤنگی میں مر جاؤں گی_
وہ روۓ جا رہی تھی__
کچھ نہیں ہوگا میرا بچہ میں ہوں نہ تمہارے ساتھ
بہادر بنو میری جان منت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
بھائی مجھے آپ دونوں کے ساتھ سونا ہے
سیرت روتے ہوئے حاشر کے گلے لگ گئی
ہاں میرا بچہ کیوں نہیں تم دونوں میں یہاں پہ سو جاؤ
حاشر نے محبت سے اس کے آنسو صاف کیے
کچھ نہیں ہوگا میری جان یہ تو قدرت کا ایک نظام ہے جو چلتا رہتا ہے اس سے رونے والی کونسی بات ہے
منت اسے سمجھاتے ہوئے بیڈ پر لے کے آئی
بھابھی آپ کے کپڑے کیوں بیگھے ہیں اور بھائی کے بھی اس کا ڈر کم هوا تو دھیان ان کے کپڑوں پر چلا گیا
منت حاشر کو دیکھنے لگی جیسے پوچھ رہی ہو کے اب کیا جواب دوں
اس کےکپڑے چھت پے رہ گئے تھے حاشر نے بات بنائی
تو آپ نے وہی بھیگے کپڑے پہن لیے سیرت نے معصومیت سے کہا
میں نے کپڑے سکھانے کے لئے چھت پر ڈالے تھے جو میں بھول گئی
ان کو اتارنے کے لئے گئی تھی اس لئے کپڑے بھیگ گئے میرے حاشر نے منت کی جھوٹ پر اس کو داد دی
اور آپ سیرت نے حاشر سے پوچھا
میں بارش میں بھیگنے گیا تھاحاشر نے سچ بولا
اس سے پہلے سیرت کچھ بولتی
حاشر نےسیرت کا ہاتھ پکڑا اور اب تمہیں بھی لے کے جا رہا ہوں اور گھسیتے ہوئے چھت پے لے آیا
نہیں بھائی بارش میں بھیگ جاؤ گی بجلی کر کے بھی تم مجھے ڈر لگے گا سیرت نے پھر سے رونا شروع کردیا
کچھ نہیں ہوگا تمیں تمہارا بھائی تمہارے ساتھ ہے اس نے بھائی والامان دیا
پھر وہ تینوں بارش میں خوب بھیگے جو20 منٹ کا وقت حاشر نےمنت کو دیا تھا وہ نجانے کب کا پورا ہو چکا تھا
کبھی بجلی کڑکتی کی تو سیرت حاشر کے سینے میں اپنا سر چھپا لیتی
جہاں بجلی کا ڈر ختم ہو جاتا
سیر ت نے بہت عرصے بعد اس طرح سے بارش کو انجوائے کیا تھا
کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ دسمبر کی بارشوں کے اس سردی میں وہ تینوں چھت پر اس طرح سے بھیگ رہے ہیں
یہ حسین اور مکمل منظر تھا یا شاید مکمل نہ تھا کوئی کمی تو تھی.
