Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 Ik Lafz Ishq (Episode 42)
No Download Link
Rate this Novel
Ik Lafz Ishq (Episode 42)
مہراج شام سے سالار کو فون کر رہا تھا لیکن وہ نہ جانے کہاں تھا نا وہ فون اٹھا رہا تھا اور نہ ہی اس کے میسج کا کوئی ریپلائی کر رہا تھا.
اس سے ملنے کے لیے وہ گھر چلا گیا
لیکن وہاں جا کر پتہ چلا کہ سالار تو شام سے ہی گھر سے نکل چکا ہے
اس کےپوچھنے پر نوکر نے بتایا کی سیرت کا بھائی آکر اسکو لے گیا.
تب سے شاہ سائیں بہت پریشان تھے اورپھر اٹھ کر کہیں چلے گئے کہ آگے کوئی نہیں جانتا
نوکر کی بات سن کر مہراج پریشان ہوگیا
آخرسالار کہاں گیا اور حاشر نے ان لوگوں سے کیا بات کی
سیرت نے کیا فیصلہ کیا
وہ آیت سے بھی کافی بار بات کر چکا تھا
لیکن فون پر آیت اتنی خوش لگ رہی تھی کہ
سالار اور سیرت کے بارے میں پوچھ ہی نہیں پایا
اب اسے سالار کی ٹینشن ہو رہی تھے
آخر وہ کہاں چلا گیا اور وہ بھی اسے کچھ بھی بتائے بغیر
مہراج سالار کے سبھی قریبی دوستوں سے پوچھ چکا تھا
لیکن سالار کہیں نہیں تھا
پھر وہ کلب کی طرف چلا گیا سالار جب بھی اداس ہوتا تو اسی کلب میں جاتا تھا
شاید آج بھی وہی ہو
……………………………
زاویار کی آنکھ کھلی توحنا بچوں کو سنبھال رہی تھی
ورنہ محسوس انداز میں اس کے قریب آ کر بیٹھا
ارے آپ کیوں اٹھ گئے سب ٹھیک ہے
فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے دونوں بےبی بالکل ٹھیک ہیں میں ان کو بہت اچھی سی سبھال رہی ہوں اور دیکھیں حنا نے خوش ہوکر بتایا
جبکہ اس کی معصومیت پر زاویار مسکرا دیا
کیا بات ہے تمہاری تو ان دونوں سے بہت اچھی دوستی ہو گئی ہے ۔
ہاں میں بھی تو یہی کہہ رہی ہوں اب یہ دونوں میرے پاس بالکل بھی نہیں روتے حنا خوش ہو کر بولیں
جائیں آپ سو جائیں میں انہیں سنبھال لوں گی آپ کو صبح کام پر بھی جانا ہے
حنانے کہا تو زاویار نے اس کی گود سے عبدالرافع کو لے لیا اور اسے سلانے کی کوشش کرنے لگا
زاویار سمجھ سکتا تھا حنا کیلئے ایک وقت پر دو بچوں کو سنبھالنا بہت مشکل ہے لیکن وہ پھر بھی ہمت نہیں ہار رہی تھی
اور ویسے بھی کل سے میڈ نے آجانا تھا
لیکن وہ جانتا تھا میڈ کے باوجود بھی رات کو دونوں کو حنا کوہی سمبھالا ہوگا
اس لیے وہ حنا کی مدد کر رہا تھا
تا کہ آنے والا وقت ان دونوں کے لیے بہت ساری خوشیاں سمیٹ کر لائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے اندازے کے عین مطابق سالار یہیں پر تھا اس نے بے تحاشہ شراب پی رکھی تھی
جب سے سالار نے شادی کی تھی تب سے اس نے شراب کی ایک بوند تک اپنے اندر نہ اتاری تھی
کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ شراب کے نشے میں چور ہوکے وہ سیرت کے ساتھ کوئی زیادتی کر جائے
لیکن آج اسے ایک بار پھر سے شراب پیتے دیکھ کر مہراج کوکو بہت کچھ غلط ہونے کا اندازہ ہو چکا تھا
سر کلب بند ہونے والا ہے ویٹر نے اسے پانچویں بار آکر بتایا
دفع ہو جاؤ یہاں سے … تم نے قلب بند کیاتو
جانتے نہیں ہو مجھے میں کھڑے کھڑے تمہارا یہ کلب خرید سکتا ہوں وہ نشے میں چور بولا
مہراج فورن اس کے قریب آیا
سالار یہ تو کیا کر رہا ہے تو نے کتنی پی رکھی ہے چل گھر چل
مہراج اسے اپنے ساتھ گھسیٹنے لگا
کون سا گھر وہ گھر جس میں میری سیرت مجھے چھوڑ کر چلی گئی ارے پوچھنا تو دور اس نے تو پلٹ کر دیکھنا تک گوارا نہ کیا
وہ چلی گئی مہراج مجھے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اب وہ واپس کبھی نہیں آئے گی
نشے میں چور نجانے کیا کیا بول رہا تھا لیکن مہراج کوایک ہی بات سمجھائی کہ سیرت اسے چھوڑ کر جا چکی ہے کیا سیرت ایسے کیسے جا سکتی ہے سالار تجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی وہ تیری نکاح میں ہے
مہراج نے اس سنبھالتے ہوئے کہا
نہیں وہ چلی گئی ہے مجھے چھوڑ کر اب تو دیکھنا وہ کبھی واپس نہیں آئے گی
میں اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا اور مجھے چھوڑ کر اس نے مجھے ہی سرپرائز کردیا سالار اپنی حالت پر ہنس رہا تھا
سالار تو فکر مت کر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا مہراج نے سمجھانا چاہا
کچھ ٹھیک نہیں ہوگا میرے بھائی سب کچھ ختم ہوگیا وہ چلی گئی ہمیشہ کے لئے اب تو دیکھنا وہ کبھی مڑ کے نہیں دیکھے گی
وہ کہتی تھی کہ وہ ایک پری ہے اک دیو کی قید میں آج پری کو آزادی مل گئی
میری پری مجھے چھوڑ کر چلی گئی
سالار اس کے گلے سے لگا ہوا تھا مہراج نے محسوس کیا کہ اس کا کندھا بھیگ رہا ہے
اس نے آج پہلی بار سالار کو اس طرح سے روتے دیکھا تھا
مہراج مجھے میری پری واپس چاہیے
وہ میری ہے صرف میری میں کسی کو نہیں دوں گا
کسی کو بھی نہیں حاشر کو بھی نہیں
وہ صرف میری ہے میں چھین لوں گا اسے حاشر سے ۔
سالار بولتا نشے میں بولتا مسلسل رو رہا تھا مہراج اسے سنبھالتے ہوئے گھر لے آیا
اور اسے اس کے کمرے کے دروازے تک چھوڑا
اب تو بالکل کچھ بھی نہیں سوچے گا اور آرام سے سو جائے گا
سمجھ رہا ہے نہ تو میری بات کو
ہم حاشر سے اس بارے میں بات کریں گے
وہ یقیناً میری بات کو سمجھ جائے گا اور فکر مت کر میں ہی ہوں اگر رات کو تجھے میری ضرورت پڑی تو مجھےبلا لینا
اور ٹینشن مت لے سیرت تیری ہے اور ہمیشہ تیری ہی رہے گی
اسے کمرے میں بیج کر مہراج وہی باہر لان کے صوفے پر لیٹ گیا
اسے یاد تھا وہ دن جب سالار نے نشے میں اسے اس کی ہر خوشی دے ڈالی تھی
کاش وہ آج اس کے لئے کچھ کر پاتا
……………………………..
کمرے میں بالکل اندھیرا تھا اس طرح سے آج اس کی زندگی میں اندھیرا تھا
نشے میں لڑکھڑا تا ہوا وہ آگے بڑھا اس نے لائٹ جلانے کی زحمت بھی نہ کی
ویسے بھی تو اس کی زندگی کی ہر روشنی اس سے دور جا چکی تھی
تو کمرے میں لائٹ چلا کر کیا کر لیتا
وہ آکر بیڈ پر گرا اتنی آواز اس کے گرنے کی نہیں تھی جتنی کہ کسی کے چیخنے کی
وہ گھبرا کر اٹھا اور پیچھے ہٹا
سالار میرا بازو توڑ دیا آپ نے وہ تقریبا چلاتی ہوئی بولی اور ہاتھ پر آکر لائٹ آن کر دیں
جبکہ سالار یقینی بے یقینی میں اسے ہونے یا نہ ہونے کا یقین کر رہا تھا
ایسے کیا مجھے گھور رہے ہیں پہلی بار دیکھ رہے ہیں کیا ۔
وہ حیرت کی تصویر بنا تھا جب سیرت نے معصومیت سے پوچھا
سالار بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ سیرت ابھی تک اپنا بازو دیکھ رہی تھی جب سالار نے وہی بازو پکڑ کر اسے اپنے قریب کھینچ کر باہو میں بیچ لیا
آئی لو یو سیرت آئی لو یو سو مچ مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے جا بجا اپنے محبت کی مہر ثبت کرتا اسے اپنے پیار کا احساس دلا رہا تھا ۔
جبکہ سیرت اس کی باہوں میں کسی سوکھے پتے کی طرح تھرتھرارہی تھی
سالار یہ آپ کیا کر رہے ہیں چھوڑیں مجھے سیرت اپنی اتھل پتھل سانسیں سنبھالے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
پھر اسے محسوس ہوا جیسے سالار رو رہا ہے سیرت کی ساری مزاحمت دم توڑ گئی ۔
سالار ۔۔سیرت نے دھیرے سے پکارا اس کی پکار سالار کو خوابوں سے حقیقت میں لائی سیرت کی پیشانی سے سر ٹکا کر اسے خود سے قریب کیا ۔
مجھے اتنی زور سے نہیں لگی سالار پلیز آپ مت رویں اپنے چھوٹے چھوٹے نرم و نازک ہاتھوں سے اسے اس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے بولی تو سالار مسکرا دیا ۔
لیکن اگلے ہی لمحے غصے سے اس کا بازو پکڑ کر بولا
کیوں گئی تھی مجھے چھوڑ کر کیوں گئی سالار غصے سے بولا ۔
سوری وہ بھائی کو دیکھ کر میں خوشی میں سب کچھ بھول گئی اور آپ کو پوچھنا بھی
بات کرتے کرتے اینڈ پہ نظریں جھکا کر معصومیت سے بولی جیسے بہت بڑا گناہ کیا ہو ۔
لیکن سالار کی نظروں میں یہ آج واقع ہی بہت بڑا گناہ تھا
اگر اج وہ واپس نہ آتی تو نہ جا نے سالار اپنا کیا سے کیا حال کر لیتا
تمہاری غلطی معاف کرنے والی نہیں ہے سیرت تم نہیں جانتی کہ ان چند لمحوں میں مجھ پر کتنی بڑی قیامت ٹوٹی ہے
اپنی کیفیت کا سوچ کر سالار ایک بار پھر سے ٹوٹنے لگا
سوری سیرت نے پھر سے معصومیت سے کہا
آج آپ کا برتھ ڈے تھا لیکن آپ نے مجھے اتنا بڑا گفٹ دیا اس کے لیے تھینک یو سو مچ
بھیا نے مجھے بتایا کہ آپ نے ان کی جان بچائی اور آپ اتنے عرصے سے ان کے دوست ہیں انھوں نے مجھے بتایا کہ آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن یہ بات تو میں جانتی ہوں نا سیرت نے شرارت سے کہا تو سالار مسکرا دیا
پچھلے کچھ دنوں سے سالار حاشر کو بہت غلط سمجھ رہا تھا وہ کچھ دنوں سے اسکو اپنے محبت کا دشمن بنا بیٹھا تھا وہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ سیرت کا بھائی ضرور ہے لیکن اس کا بھی دوست ہے اور اس کے ہر بےچین لمحے سے با خبر ہے
مجھے سمجھ نہیں آتا سالار میں آپ کا شکریہ ادا کس طرح سے کروں آپ نے میری بہن کی عزت بچائی بھائی کی جان بچائی حق رکھتے ہوئے بھی میرے قریب نہیں آئے
آپ بہت اچھے ہیں سالار سب چیزوں کے لیے تھینک یو سو مچ
آپ آیت آپی کے سگے بھائی ہیں ۔لیکن یہ مت سوچئے گا کہ انہیں میں آپ کو دوں گی وہ میری ہی رہیں گی ہمیشہ ۔سیرت نے معصومیت سے کہا
اچھا اب یہ رونا دھونا بند کرو اور میرا گفٹ کہاں ہے سالار ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کیے
گفت تو میں لاّئی ہی نہیں سیرت جٹ بولیں تو سالار نے گھورا
کوئی بات نہیں میں خود لے لوں گا وہ اس پر جھکا
سیرت نے اپنی چھوٹی سی ناک کو اپنی دو انگلیوں کی مدد سے پکڑ کر اسے خود سے دور کیا آپ کے منہ سے اسمیل آرہی ہے
سیرت نے کہا تو سالار کو شرمندگی ہوئی لیکن اس کی ادا پر وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔شادی کے بعد اس نے پہلی بار شراب پی تھی آج اتنے وقت بعد شراب پینااسے اچھا تو نہیں لگا لیکن سیرت اس کو چھوڑ کر چلی گئی یہ بات اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی
اور وہ معصوم تو جانتی بھی نہیں تھی کہ یہ بدبو کس چیز کی ہے ۔اور نہ ہی وہ اسے بتانے کا ارادہ رکھتا تھا
سیرت تم سو جاؤ اور آئندہ میری اجازت کے بغیر کہیں جانے کے بارے میں مت سوچنا سالار نے وارن کرتے ہوئے کہا اور اٹھ کر اس پر کمبل ڈالنے لگا ۔
اور ہاں اپنا گفٹ تو میں ضرور لوں گا لیکن آج نہیں ۔اس لیے بے فکر ہو کر سو جاؤ ۔
اس کی پیشانی چوم کر وہ کمرے سے باہر نکل گی
……………………….
سالار باہر نکلا تو مہراج کو دیکھا جو چھت کو گھورے جا رہا تھا
اور سمجھ سکتا تھا کہ وہ اس کی پریشان ہے اسی لئے مسکرا کر اس کے قریب آیا اور درم سے اس کی گود میں لیٹ گیا
جگریہ روتی شکل کیوں بناکے رکھی ہے سالار نے مسکرا کر پوچھا تو مہراج حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا ۔
اگر سالار کا کمرہ ساؤنڈ پرو نہ ہوتا تو ابھی تک سیرت کی چیخ سن کر اس کو پتہ چل چکا ہوتا کہ سیرت اندر کمرے میں ہے
سالار تو ٹھیک ہے نہ سالار کو ہنستے مسکراتے دیکھ کر مہراج کو اس کی ذہنی کیفیت پر شک ہوا
ہان میں بالکل ٹھیک ہوں اتنا ٹھیک ہوں کہ تیرے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تیری فیورٹ فلم بھی دیکھ سکتا ہوں ۔
یہ کہہ کر سالار اٹھا اور ٹی وی آن کر کے اس کی فیورٹ فلم پلے کرنے لگا
سالار میرے بھائی مجھے تیری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تو فکر مت کر میں صبح خود حاشر سے بات کروں گا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔
سیرت واپس آجائے گی ۔تو جا جا کے آرام کر تجھے آرام کی ضرورت ہے ۔
مہراج نے اسے بچوں کی طرح بہلاتے ہوئے کہا ۔
سالار کو اس وقت اپنے دوست پر بہت پیار آ رہا تھا جو اس کی پریشانی میں نہ صرف خود پریشان تھا بلکہ اس سے بھی سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا
بے شک اس دنیا میں دوستی سے زیادہ خوبصورت اور کوئی رشتہ ہے
مہراج سیرت گئی کہاں ہے جو واپس آئے گی اور تجھے حاشر سے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
سالار نے اس کا چہرہ تھامتےہوئے کہا
کیا مطلب سالار سیرت حاشر کے ساتھ چلی گئی ہے تجھے یاد نہیں ہے کیا مہراج کو اب اس کی ذہنی کیفیت پر اور زیادہ شک ہونے لگا تھا ۔
بات پر سالار کے کا لگا کر ہنسا
مہراج سیرت واپس آ جا گئی ہے اور میرے کمرے میں ہے ۔
کیا مطلب سیرت گھر پے ہے ۔مہراج کو یقین نہیں آرہا تھا لیکن سالار کا چہکتا کا چہرہ بہت کچھ بتا رہا تھا ۔
ہمممم سالار مسکرا کر بس اتنا ہی کہا ۔جبکہ مہراج اپنی دونوں ٹانگوں سمیٹ سالار کے اوپر چڑھ گیا ۔
جگر کیا کر رہا ہے جان لے گا کیا بچے کی سالار نے دہائی دی ۔
چل تیری خوشی کو سیلیبریٹ کرتے ہیں مہراج نے خوش ہو کر کہا
آئیڈیا تو اچھا ہے لیکن کیسے سالار۔ نے پوچھا
چل کوئی فلم دیکھتے ہیں ۔۔
اس نے سالارکا ہی تھوڑی دیر پہلے دیا ہوا آئیڈیا کیا ۔جس پہ سالار مسکرایا
ٹھیک ہے لیکن کون سی ۔۔
ٹائٹینک دیکھتے ہیں مہراج نے کہا
ٹائٹینک کب سے تیری فیورٹ فلم ہوگی سالار کو پتا تھا مہراج کو رومنٹک مووی کم ہی پسند ہیں
ارے میری نہیں آیت کی فیورٹ اور میں اپنی بیوی کو بہت مس کر رہا ہوں مہراج نے معصومیت سے منہ بسور کر کہا ۔۔
کیسی بے رحم بیوی ہے ایک بار خیال نہیں کیا کہ میں کیسے رہوں گا اُس کے بغیر اور اپنے بھائی کے گھر جا کر رہنے لگی ۔۔
مہراج اپنے دل کا حال بیان کرتے ہوئے بولا ۔
اوئے خبردار جو میری بہن کے خلاف ایک لفظ بھی بولا سالار نے سیدھا اسکا گربان پکڑا ۔۔
او اب سمجھا بہن مل گئی تو بھائی بھول گیا ۔کیسا غدار یار ہے تو ۔مہراج نے افسوس سے کہا ۔
جو بولنا ہے بول لے لیکن میری بہن کے خلاف ایک لفظ مت ہو لیا ۔
سالار نے بھائی چارہ دکھاتے ہوئے کہا ۔
دیکھ لی تیری یاری مہراج نےا سے شرم د لانے کی کوشش کی ۔
چل چل یہ سب باتیں بعد میں کریں گے پہلے مووی لگا
سالار نے اسے موضوع سے ہٹای
……………………….
سیرت کی آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو سالار کی آغوش میں پایا اپنے آپ کو اس طرح سے قید دیکھ کر بخود میں سیمٹی ایک خوبصورت سی مسکراہٹ اس کے لبوں پہ آ گئی
سالار کے سارے بال اس کے ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے سیرت کا دل بے اختیار چاہا کہ اس کے یہ بات ہٹائے
ان دونوں میں یہ خوبصورت احساس سیرت کو اس کے بال سمیٹنے پر مجبور کر گیا
سیرت نے ہاتھ براکر اس کے ماتھے سے بال ہٹائے
اور بہت محبت سے اس کے کان کے پیچھے کرنے لگی
ا اپنے ماتھے پر نرم نازک انگلیوں کا لمس محسوس کرکے وہ مسکرایا ۔
اسے جاگتا پا کر سیرت نے گھبرا کر ہاتھ پیچھے کیا
یہ تو ظلم ہے جان ۔۔
خود سے میرے اتنے پاس آ کیا مجھ سے دور جا رہی ہو ۔
سالار نے آنکھیں کھول کر اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیا ۔
میں کہاں آپ کے پاس آئی آپ ہی نے مجھے پکڑ رکھا ہے سیرت نے فوراً اپنی صفائی پیش کی جس پر سالار کھل کر ہنسا ۔
چلو تمہارا یہ الزام بھی قبول کیا
چلو اب پہلے تم مجھے میرا گفٹ دو ۔۔
کون سا گفٹ ۔۔؟؟سیرت گھبرائی پھر انجان بن گئی
اوتو محترمہ کو یاد بھی نہیں کون سا گفٹ ۔خیر کوئی بات نہیں ہم کس مرض کی دوا ہیں ابھی بتاتے ہیں کون سا گفٹ یہ کہہ کر وہ اس پر جھکا ہی تھا دروازہ زور زور سے بجا
اتنے زور سے دروازہ کون کھٹکھٹا رہا ہے
کیونکہ اس کے کسی نوکر میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ سالار کے دروازے تک بھی آئے ۔
سالار نے گھور کر دروزے کو دیکھا جیسے دروزے کے دوسری طرف کھڑ ے وجودکو قتل کرنے کی خواہش رکھتا ہو
جبکہ سیرت اس کی حالت دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسی
سالار بے مزا ہو کر اٹھا
آج یقیننادستک دینے والے موت لازم تھی.
_________________••
