259K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 18

آیت نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ارمان سے ہوٹل کے کسی روم میں لے کے آئے گا۔۔۔۔

اب وہ اس کے ساتھ آنے پر پچھتا رہی تھی ۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ یہاں سے کیسے جائے ۔۔۔۔۔۔۔

ارمان میں نے کہا مجھے گھر جانا ہےپلیز مجھے گھر چھوڑ دیں آیت نے پھر اپنی بات دہرائی جو نہ جانے کتنی دیر سے کہہ چکی تھی لیکن ارمان کے کانوں پے جوں تک نہ رینگی

ڈارلنگ کیا ہوگیا ہم تھوڑی دیر وقت ساتھ گزاریں گے اور پھر تمہیں گھر چھوڑ آؤں گا ۔۔۔۔

ارمان کی بے باک نظریں آیت کے جسم سے آرپار ہو رہی تھی

ارمان آپ مجھے گھر چھوڑ کے آ رہے ہیں یا میں خود چلی جاؤں دروازے کی طرف بڑھی جو لوک تھا

آیت ہماری شادی ہونے والی ہے میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو تھوڑی دیر وقت ساتھ گزارنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ارمان اس کی طرف بڑھا

بھابھی ٹھیک کہتی تھی اسے ارمان کے ساتھ گاڑی میں نہیں بیٹھنا چاہیے تھا

اب سوائے اپنی غلطی پر پچھتانے کے وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی

ارمان پلیز دروازہ کھولیں مجھے گھر جانا ہے وہ باقاعدہ رونے لگی

نو ڈارلنگ اب دروازہ تب تک نہیں کھلے گا جب تک تم میری خواہش کو پورا نہیں کروں گی یہ کہہ کر ارمان نے اسے اپنی طرف کھینچنا شروع کردیا

ارمان پلیز چھوڑے مجھے۔ مجھے گھر جانا ہے

میں نے کہا نہ تم تب تک نہیں جا سکتی جب تک میں تمہیں نہیں جانے دوں گا ہماری شادی ہونے والی ہے تھوڑا سا وقت میرے ساتھ گزار لوں گی تو کیا ہو جائے گا جس دن سے تمہیں دیکھا ہے مدہوش کر رکھا ہے تم نے

اور شادی سے پہلے ایک بار کیا فرق پڑ جائے گا تمہیں ہاں وہ اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولا

ارمان کاش مجھے اندازہ ہوتا کہ تم اتنے گھٹیا اور ذلیل انسان ہو میں کہتی ہوں دروازہ کھولو آیت غصے سے چلائی

تو نے مجھے گالی دی اوقات کیا ہے تیری اگر میں یہ دروازہ نہ کھولو کبھی زندگی میں یہاں سے باہر نہیں جا پائے گی خیر جو بھی ہے اس وقت میرا موڈ خراب کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے

ارمان نے ایک بار پھر سے برے طریقے سے اپنے طرف کرنے کی کوشش کی جس پر آیت نے ہاتھ بے اختیار اس پر اٹھا جو اس کا گال لال کرگیا

تیری اتنی ہمت تو نے مجھ پہ ہاتھ اٹھایا ارمان نے آیت کو بالوں سے پکڑ کر کھینچا

سمجھ گیا تھا تو سیدھے طریقے سے نہیں مانے گی اس لیے تو یہ شادی کا ڈرامہ کیا سوچا تھا تھوڑا سا وقت تیرے ساتھ گزار کے شادی سے انکار کر دوں گا لیکن نہیں اب میں شادی ضرور کروں گا تو نے مجھے تھپڑ مارا میں اس تھپڑ کا بدلہ ضرور لونگا

میں تجھے ایک رات کی دلہن بناؤں گا اور پھر اگلے ہی دن تجھے طلاق دے کر واپس تیرے بھائی کے گھر بھیج دونگا تو نے ابھی مجھے جانا نہیں بہت بڑا پنگا لیا ہے یہ تھپڑ تجھے بہت بھاری پڑے گا

ارمان پلیز مجھے گھر جانے دیجیے آپ کو خدا کا واسطہ آیت روتے ہوئے اس کے پیروں میں گر گئی

نو ڈارلنگ نہ آج تو۔ تو میری پیاس

بجھجائے گی اس کے بعد ہی تجھے گھر جانے دوں گا

میرے پاس مت آنا ورنہ

ورنہ کیا کرے گی اس نے آیت کا دوپٹہ کھینچ کر ایک طرف پھینکا اور کھینچ کر اسے بیڈ پر پٹکا

آیت اپنا آپ بچانے کے لیے ہاتھ پیر چلانے لگی اس کے کرتے کے بازو پھٹ چکے تھے لیکن ارمان کے تھپڑ نے اسے جیسے بے جان کر دیا آیت بے تحاشا رونے اور چلانے لگی لیکن اس کی مدد کو کوئی نہیں آرہا تھا بس وہ اللہ سے دعا کر سکتی تھی

جب باہر سے دروازہ زور زور سے بجنے کی آواز آنے لگی

اب کون آگیا موڈ کی ماں بہن کرنے گندی گالی دے کر ارمان دروازے کی طرف بڑھا دروازے پر کھڑا کسی سے بحث کرنے لگا آیت نے اپنے بدحواس ہوش کو سنبھالتے ہوئے اپنی چادر اٹھائی دروازے سے باہر نکلنے لگی

لیکن دروازے کے قریب پہنچ کر وہ اپنی ہی نظروں میں گری باہرکھڑا جو انسان ارمان سے اس کمرے کے لیے لڑ رہا تھا کہ وہ کمرہ اس کا ہے ہوٹل مینجمنٹ میں غلطی ہوئی ہے وہ کوئی اور نہیں مہراج شاہ تھا

آیت اس سے نظریں ملائے بغیر ہوٹل سے باہر بھاگ گئ

ارمان اس کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کتنے مان سے اس کی بھابھی نےارمان کے نام کے انگوٹھی اس کے ہاتھ میں بھی پہنائی تھی

اور وہ شخص اتنا گرا ہوا تھا کہ صرف اس کے جسم کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے اس سے شادی کررہا تھا

نہیں میں ایسے آدمی سے شادی نہیں کروں گی میں آج ہی جاکر بھائی کو سب کچھ بتا دوں گی میں بھائی کو بتاؤں گی کے ارمان کتنا گھٹیا اور گرا ہوا انسان ہے لیکن کیا بھائی میرا یقین کریں گے

کیا بھابھی میری بات ماننے گی کیا ان کا بھائی اتنا ذلیل انسان ہے

اپنی سوچوں میں گم ہو چلتے چلتے اپنے گھر کے قریب آکر گیٹ کے پاس روکی جب کسی نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنی طرف کھینچا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارمان گھٹیا انسان چھوڑو مجھے آیت نے ارمان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی

ہاں تا کہ تو اپنے بھائی کو سب کچھ بتادے ایک بات کان کھول کر سن لے آیت

اگر تونے اپنے بھائی یا میری بہن کو کچھ بھی بتانے کی کوشش کی تو میں کہوں گا کہ جو کرنے کی میں کوشش کر رہا تھا وہ میں کر چکا ہوں پھر

آج ہی تیرا بھائی تیرا نکاح میرے ساتھ کروانے گا

یہ مت بھول کالج سے میرے ساتھ اپنی مرضی سے گئی تھی تو اگر مجھے اپنے بھائی کی نظروں میں گرانے کی کوشش کی تو عزت سے تو بھی جی نہیں پائے گی ۔۔۔اور ایک رات کی دلہن تو میں تجھے بنا کر رہوں گا

آیت ہوس کے پپوجاری انسان کو دیکھ رہی تھی یہ لوگ بھی عام انسانوں کے روپ میں چھپے ہوتے ہیں دنیا کی نظروں میں اتنا محترم انسان تھا ارمان اور اصل حقیقت کیا تھی کتنے مان سے اس کی بھابھی کہتی تھی کہ ارمان اس کے دونوں بھائیوں سے الگ ہے وہ مطلبی اور خود پرست نہیں ہیں

لیکن اس کی معصوم بھابھی کیا جانے کہ یہ شخص ہوس کا پوجاری ہے جو اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے کسی بھی معصوم لڑکی کی زندگی تباہ کرنے کے لئے تیار ہے

چل ڈارلنگ اندر چلتے ہیں آیت کا ہاتھ بےدردی سے پکڑتے ہوئے اندر لے کے جا رہا تھا جب اس کی نظر اس کے منہ پر پڑی ارمان کے ہونٹے سے خون نکل رہا تھا اور آنکھ کے قریب جگہ نیلی پڑی تھی

آیت نے چارداچھے سے اپنے آپ پر پھیلائیں تاکہ اس کے پھٹے کپڑے کسی کو نظر نہ آئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کو اندر آتے دیکھ کر منت فورا اس کی طرف لپکی کہاں تھی تم دو بار حاشر تیرے کالج میں تیرا پتا کرکے آئےہیں وقت دیکھا ہے تم نے ساڑھے چار بج رہے ہیں آیت

اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے منت نے اسکا چہرادیکھا حددرجہ سرخ تھا رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں پوری طرح سوجی ہوئی تھی

منت کو لگا جیسے اپنا آپ چھپانے کی کوشش کر رہی ہو

آیت تو ٹھیک ہے نا اس سے پہلے منت کچھ اور کہتی آیت روتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی منت اس کے رونے کی وجہ سمجھ نہیں پا رہی تھی جب دروازے سے ارمان اندر آیا

منت آیت میرے ساتھ تھی ہم لنچ کرنے گئے تھے بیچاری راستے میں ڈر گئی

ارمان نے بات بنانے کی کوشش کی

ڈرگئی ایسا کیا ہوا کہ یہ ڈر گئی منت نے کچھ جانچتے ہوئے بھائی کی طرف دیکھا

وہ راستے میں ایک ایکسیڈنٹ ہوا تھا وہی دیکھ کر بچاری ڈر گئی

ارمان نے بات بنائی تھی لیکن اسکے بعد آیت کا ایک سیکنڈ بھی وہاں رکنا مشکل ہو چکا تھا وہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں جانے لگی جب راستے میں حاشر سے پوری طرح ٹکرائی

کیا ہوا آیت تو ٹھیک ہے نہ اس کی حالت دیکھ کر حاشرپریشان ہوا

لیکن آیت بنا کچھ بولے کمرے میں بھاگ گئی

۔آیت کواب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کے بھائی حاشر نے اسے ارمان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی

آج اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اسے اس میں حاشر کی غلطی نظر آرہی تھی

حاشر اسے اجازت نہیں دیتا تو وہ کبھی اس کے کالج میں آنے کی ہمت نہ کرتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارمان بھائی آپ کے چہرے پہ کیا ہوا منت نے ارمان سے پوچھا

وہ ہوٹل میں ایک لڑائی ہوگئی عجیب آدمی تھا بے وجہ مجھے مارنے لگا ارمان نے بتایا

مجھے تو بالکل پاگل لگ رہا تھا

شکر ہے ہوٹل والوں نے اسے پکڑ لیا ورنہ تو آج میری جان نکال دیتاارمان نے سو چا۔۔۔

ایسے ہی بے وجہ لڑنے لگا مجھ سے اگر ہوٹل میں زیادہ لوگ نہ ہوتے تو میں اسے بتاتا کہ ارمان کیا چیز ہے

اب اسے کیا بتاتا مہراج نے جب آیت کو کمرے میں اس حالت سے نکلتے ہوئے دیکھا تب وہ اپنے آپے سے باہر ہوگیا اور برے طریقے سے ارمان کو پیٹنے لگا اگر ہوٹل کے مینجمنٹ آکےا سے نہیں روکتی تو وہ ضرور اسے مار دیتا

اور ارمان کو لگ رہا تھا کہ وہ اس روم کی وجہ سے لڑ رہا ہے

اس کے بعد ارمان نے آیت کو ڈھونڈنا شروع کیا جب اسے کہیں نہیں ملی تو وہ گاڑی سیدھے اس کے گھر کے قریب لے گیا آیت کو گھر ہی واپس آنا تھا

اس لیے وہ آیت کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی یہاں پہنچااور آیت کو ڈرا دھمکا کرمنہ بند رکھنے کے لئے کہہ دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاشر کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آیت اس کی اجازت کے بغیر چھپ کر ارمان سے ملے گی یہ بات تو تب کھلی جب ارمان اپنی بھابھیوں اور بھائیوں کو ساتھ لے کر آیا ارمان کام کے سلسلے میں ملک سے باہر جانے والا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ وہ اس سے شادی کرکے جائے گا

جلدی تو خیرا سے شروع سے ہی بچا رکھی تھی لیکن آج جو بات حاشرکے سامنے کی تھی اس پر حاشر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب کیا کرے

حاشر بھائی وہ لڑکی ہے وہ صاف لفظوں میں آپ سے کہ نہیں سکتی

آیت بھی جلدی شادی کرنا چاہتی ہے پر آپ کیوں فکر کر رہے ہیں میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آیت کی پڑھائی کا پورا دھیان رکھوں گا جتنا چاہے پڑھ سکتی ہے میں اسے پڑھائی کے معاملے میں کبھی نہیں روکوں گا

اب مزید چھپ چھپ کر میں نہیں مل سکتا اس لئے میں عزت سے آیت کو اپنے گھر لے جانا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں کے اسی جمعے کو آپ میرا اور آیت کا نکاح کردے ہنگاموں والی شادی میں ویسے بھی نہیں کرنا چاہتا سادگی سے شادی کر لیتے ہیں اور ولیمہ میرے آنے کے بعد دھوم دھام سے کرلیں گے اور آیت بھی اس بات کے لئے تیار ہے آج خود اس نے مجھ سے یہ سب کچھ کہا ہے

آیت کی شادی اسی ہفتے میں طے ہوچکی تھی حاشر کو ہر معاملے میں آیت کی خوشی چاہیے تھی وہ ارمان کو پسند کرتی ہے اس سے شادی کرنا چاہتی ہے تو وہ کیوں اپنی بہن کی خوشی میں رکاوٹ بنتا اسے ہرگز پسند نہیں تھا کہ اس کی بہن اس طرح سے ارمان سے باہر ملے اور جو کہانی ارمان نے حاشر کے سامنے بنائی تھی کہ وہ نجانے کتنی بار باہر کالج کے وقت میں اس سے مل چکا ہے حاشر کو اس بات پر یقین نہیں تھا لیکن آج جب وہ اسی کے ساتھ گھر واپس آئی وہ بھی شام ساڑھے چار بجے تو اسی یقین کرنا پڑا

اس طرح سے ان دونوں کی شادی طے ہوگئی جس پر آیت ایک دم خاموش ہو چکی تھی نہ اپنی پسندگی کا اظہار کیا اور نہ ہی ناراضگی کا لیکن جب اسے پتہ چلا کہ ارمان نے یہ کہانی بنا کے اس کے بھائی کے سامنے پیش کی ہے تو اسے ارمان پر بہت غصہ آیا اس کا بھائی اس کی خوشی چاہتا تھا اور اس کی خوشی کیلۓ ارمان سے اس کی شادی کروا رہا تھا لیکن جب اسے پتہ چلے گا کہ ارمان کتنا بڑا پلان بنا رہا ہے صرف اپنے ہوس کو پورا کرنے کے لئے اسے صرف ایک رات کی دلہن بنا کے اپنے ساتھ لے کے جا رہا ہے اگلے دن ہی وہ اسے طلاق دے دے گا اس کے بھائی کو کتنی تکلیف ہوگی لیکن یہ سب کچھ ہو اپنے بھائی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی ورنہ وہ اسکو اس کے بھائی کی نظروں میں گرا دے گا

وہ کیا کرے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا

کل حاشر نے اسے کالج سے چھٹیاں لینے کے لیے کہا تھا اب وہ کالج جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی جب اسے مہراج یاد آیا کس طرح نظر ملائی کی وہ شخص سے

کتنے مان سے اس نے کہا تھا ارمان ہر لحاظ سے مہراج سے بہتر ہے

،مہراج اسے تنگ ضرورکرتا ہے لیکن کبھی گندی نظر سے اس کی طرف نہ دیکھا تھااب آیت سوچ رہی تھی کیا وہ اس شخص سے نظر ملا پائے گی جس کے سامنے وہ ایک غیرشخص کے ساتھ ایک ہوٹل کے کمرے سے نکلی تھی

__________

آج نازیہ نہیں آئی تھی اس لئے اسے اکیلے ہی کالج جانا پڑ رہا تھا ابھی وہ کالج سے تھوڑی سی دور تھی جب اچانک اس کے سامنے گاڑی آکر روکی اسے امید نہیں تھی کل کے بعد ارمان اس کا سامنا کرے گا

وہ گاڑی سے اترا اس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا آج بھی اس کا منہ سوجا ہوا تھا

شاید مہراج کے ہاتھوں پرنےوالی مارنے اس پر بہت اثر کیا تھا

آیت بہت ترس آرہا ہے تم پر دیکھو نا ایک ہی دن میں تم نے اپنی کیا سے کیا حالت بنا لی ہے کوئی بات نہیں ابھی بھی تمہارے پاس موقع ہے وہ بالکل آیت کے قریب کھڑا تھا اس کے منہ سے بہت گندی بدبو آرہی تھی یقینا اس نے شراب پی رکھی تھی

اب بھی تم مجھ سے معافی مانگ لو اور تھوڑا سا وقت میرے ساتھ گزار لو نہ صرف میں تمہاری شادی لیٹ کروا دوں گا بلکہ تمہں زندگی بر رانی بنا کے رکھوں گا

ارمان کی گھٹیا باتوں پر آیت کے ہاتھ پیر کانپنے لگے تھے اسے ابھی تک کل والی ارمان کی حرکت نہ بھولی تھی کے ارمان پھر سے اپنا آپ دکھا نے اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو چکا تھا

ذرا سوچو آیت منت میری بہن ہے کبھی تم پر یقین نہیں کرے گی کیونکہ نند کتنی بھی اچھی ہو بھائی بھائی ہوتا ہے

اور تمہارا بھائی زرا سوچو جب تم اسے یہ بتاؤ گی کہ میں نے تمہارے ساتھ کیا کرنے کی کوشش کی تو سوچو اس کی کیا حالت ہوگی

یہ سوچ ک کے کتنا بھی بےبس بھائی ہے وہ اپنی بہن کو بچا نہیں سکا یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی جیب سے اپنا فون باہر نکالا

اور اس کے سامنے ایک ویڈیو چلائی جس میں CCTV کیمرے میں اس کمرے کی فوٹیج تھی جس میں آیت اپنا آپ ارمان سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی

جانتی ہو آیت اگر تمہارے بھائی نے یہ ویڈیو دیکھ لی تو میں تو اس کی نظروں میں گر جاؤں گا لیکن وہ ساری زندگی اپنی آپ سے نظریں کیسے ملائے گا کیونکہ اگر میں ویڈیو بنوا سکتا ہوں تو یہ بھی ثابت کرسکتا ہوں کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکا تھا

ارمان کی باتیں سنتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ رونے لگی تھی

سوچو آیت کیاگزرے گی تمہارے بھائی پر یہ سوچ کے کہ وہ تمہاری عزت بچا نہیں پایا

کیسے جیے کا غیرت مند انسان جو سر اٹھا کر چلتا ہے ارمان اپنی ایک ایک بات کسی کانٹے کی طرح آیت کے جسم میں چھوبو رہا تھا

اور آیت کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے قدموں سے زمین نکل چکی ہے تو کیا اسے اپنے بھائی کی غرور کو بچانے کے لئے اپنی عزت گنوانی پڑے گی آیت کا اس کے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ہو چکا تھا جب ارمان کی نظرسامنے گی جہاں مہراج اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا

اس سے دیکھتے ہی آرمان کے کانون میں مہراج کے کل والے الفاظ گنوجے

اگر آج کے بعد تم نے مجھے اپنی شکل بھی دکھائی تو میں تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دوں گا

مہراج اسے غصے سے گھور رہا تھا اب آیت کے سامنے تماشہ نہیں بنا سکتا تھا اسی لیے یہاں سے جانے میں ہی اپنی بہتری جانی

ٹھیک ہے جان اگلی ملاقات پھر میری بتائی ہوئی جگہ پر ہوگی

یہ کہہ کر ارمان اپنی گاڑی میں بیٹھ کر نکل گیا جبکہ مہراج پر نظر پڑتے ہی آیت جیسے پتھر کی ہوچکی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سڑک بالکل سنسان تھی یہاں دور دور تک کوئی نہیں تھا

صرف آیت مہراج اور گاڑی میں بیٹھا تیسرا وجود شاہد سالار تھا

ہمیشہ سے صرف اپنے دوست کی خوشی سے مطلب تھا

یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اس شخص سے نظریں کیسے ملاہیں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ یہاں سنسان سڑک پر سے ملنے آجائےگاوہ اتنی دیر سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا یقینا نہیں چاہتا تھا کہ آیت پر کوئی بھی الزام لگے اس لیے وہ ان کے قریب نہیں آیا جبکہ آیت کے اتنے قریب کھڑے ارمان کو دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا تھا

قدم در قدم وہ آیت کے قریب آکر کھڑا ہو گیا

دیکھو آیت میں تمہیں کوئی طعنہ مارنے یا کوئی تکلیف پہنچانے نہیں آیا

اگر تم نے ایک اچھے اور نیک انسان سے شادی کرنی ہے تو ٹھیک ہے

لیکن اگر تم نے ارمان جیسے لوگ گھٹیا ذلیل بے غیرت اور نشائی آدمی سے شادی کرنی ہے تو مجھ میں کیا برائی ہے

یہ ساری خوبی تو مجھ میں بھی ہیں

کیا تمہیں لگتا ہے کہ یہ آدمی مجھ سے بہتر ہے کیا تمہیں لگتا ہے کہ یہ آدمی تمہارے قابل ہے مجھے نہیں لگتا کہ یہ آدمی تمہارے قابل ہے آیت یہ انسان کے روپ میں چھپا بیھڑیا ہے جو تمہیں برباد کر دے گا کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا وہ صرف تمہارا استعمال کرنا چاہتا ہے مہراج نے بے بسی سے سمجھانے کی کوشش کی

اب وہ مہراج کو کیا بتاتی کہ یہ بات تو وہ بھی جانتی ہے کے ارمان اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ا سے نہیں بتا سکتی تھی کہ یہ آدمی نہ صرف اس کو اس کے اپنوں کی نظروں میں گر آئے گا بلکہ ان کے سامنے اسے زندہ درگور کر دے گا

اس کے پاس وہ ویڈیو تھی اس کا بھائی وہ ویڈیو جس میں کسی غیر کی نہیں بلکہ اس کی اپنی بہن کی عزت کو تار تار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

کیا جاتا ارمان کا ….یہ سب کچھ کر کے بھی کچھ بھی نہیں وہ تو ویسے بھی کچھ دن میں اس ملک کو چھوڑ کر جانے والا تھا لیکن ایت وہ برباد ہو جاتی اس کا بھائی کبھی سر اٹھا کے جی نہیں پائے گا ساری زندگی اپنی آپ سے نفرت کرے گا وہ انسان جو اپنی بہنوں کی ایک خواہش پہ اپنا آپ تک بیچنے کے لئے تیار تھا کیا اس کی بہن کیسے اس طرح سے رسوا کر سکتی تھی لیکن یہ باتیں وہ مہراج کو کیوں بتاتی کیا لگتا تھا وہ اس کا

مسیحا ۔۔۔ہاں مسیحا تھا کل اسی نے تو آکر اس کی عزت بچائی تھی

وہ مہراج کو بتانا چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا گیا ہے لیکن کس منہ سے بتاتی ابھی کل ہی تو اس کی محبت کو اس کے منہ پر مار کے آئی تھی وہ اس کے بعد خود سے نظریں ملانے کے قابل نہ رہی تھی

مہراج میرا راستہ چھوڑیں مجھے کالج جانا ہے آیت نے بےبسی سے مہراج کی طرف دیکھا جب کسی نے پیچھے سے آ سکے منہ پر رومال رکھا اور جیسے جیسے اس رومال کی مہک اس نے اپنے سانسوں میں اترتی محسوس کی وہ ہوش ہواس سے بھگا نہ ہوگی.