Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 (Ik Lafz Ishq) Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 10
سیرت نہ جانے کتنی ہی دیر سالار کے بارے میں سوچتی رہی وہ سب کچھ حنا کو بتانا چاہتی تھی لیکن آج نہیں
وہ جانتی تھی یہ سب کچھ سن کر حنا پریشان ہو جائے گی اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ حناآج پریشان ہو
اسی لیے وہ فی الحال حنا کو کچھ بھی بتانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی
لیکن پھر وہ سوچنے لگی کہ اس آدمی نے اسے یہ ساری باتیں کیوں کہیں ہو سکتا ہے یہ اس کو کوئی غلط فہمی ہو
یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ کسی اور کو سمجھ کر اس سے یہ ساری باتیں کہہ گیا ہو
سیرت نے تو آج سے پہلے اس آدمی کو دیکھا تک نہیں تھا اگر دیکھا بھی تھا تو اسے یاد نہیں تھا
لیکن پھر اس کی نظر انگوٹھی پر پڑی جس کو نہ جانے کتنی ہی باراترنے کی کوشش کر چکی تھی
لیکن یہ انگوٹھی بھی شاید اس شخص کی طرح بہت ڈھیٹ تھی
جو اترنے کا نام نہیں لے رہی تھی
اسے بار بار شک ہورہا تھا کہ کوئی اس پر نظر رکھے ہوئے ہے
لیکن بہت ڈھونڈنے کے بعد بھی اسے کوئی نہ ملا
نہ جانے کیوں اس سے اس شخص سے ڈر لگنے لگا
اور اسی ڈر کی وجہ سے اسے رونا آ رہا تھا
اپنی ہی سوچ میں وہ پریشان کھڑی تھی جب مہراج نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
اس نے مڑ کر مہراج کو دیکھا تو نظر اس کی گردن پر گئی جہاں پر بینڈیج ہوا تھا
آپ کو پتہ ہے بھائی آج آپ بہت ہینڈسم لگ رہے ہیں اسی لئے آپ کو کسی کی نظر لگ گئی ہے آپ کو سفید کپڑے نہیں پہننا چاہیے تھے
سیرت نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ حاشر کے علاوہ کسی اور کو اس طرح سے مخاطب کرکے بلائے گئی
اس کے بات پر مہراج نےقہقہہ لگایا تم ٹھیک کہہ رہی ہو تمہاری بھابھی نے بھی مجھے منع کیا تھا لیکن میں نے نہیں مانا
اسی لئے تو کہتے ہیں کہ بیویوں کی ساری باتیں ماننی چاہیے اس نے مسکراتے ہوئے کہا
مہراج سے باتوں میں لگ کر وہ تھوڑی دیر پہلے والے اس شخص کو مکمل بھول چکی تھی
لیکن کوئی تھا جو اسے مہراج کے ساتھ اس طرح سے باتوں میں لگے بہت غور سے دیکھ رہا تھا
لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ مہراج کو اتنے اچھے طریقے سے جانتی کیسے ہے
کیا ہوا بیٹا آپ اس طرح سے یہاں کیوں بیٹھی ہو اور اس طرح سے رو کیوں رہی ہو
شاکر صاحب پریشانی سے اپنی اکلوتی بیٹی کو دیکھنے لگے
بابا وہ کہتا ہے وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے کبھی شادی نہیں کرے گا
دریا روتے ہوئے باپ کے گلے لگی
بیٹا یہ آپ کیا کہہ رہی ہو کیا ہوا یه سب سالار نے آپ سے کہا ہے
بابا وه کہتا ہے کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کرے گا وہ مجھ سے پیار نہیں کرتا وہ کسی اور کو چاہتا ہے
بیٹا اتنی سی بات پہ آپ نے رو رو کے اپنا حال بگاڑ رکھا ہے
بیٹا آپ کو تو پتہ ہی ہے نہ وہ آپ کو تنگ کرنے کے لیے ایسا بولتا رہتا ہے
لیکن سچ تو یہ ہے کہ وہ آپ هی سے شادی کرے گا
یہ فیصلہ اس کے محرمه ما کر کر گئی ہے
لیکن بابا وہ کہتا ہے کہ وہ کسی اور لڑکی کو چاہتا ہے
کیا ہوگیا ہے بیٹا آپ کو اس طرح سے رونا بند کریں میں نے کہہ دیا نہ
آپ کو اپنے بابا پہ یقین ہونا چاہیے شادی سے پہلے سارے لڑکے کے غیرذمہ دار ہوتے ہیں وہ شادی کے بعد وہ بھی آپ سے محبت کرنے لگے گا
اور جہاں تک بات ہے کسی اور سے شادی کرنے کی
آپ کے بابا ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے اٹھے اور بھائی کی منگنی انجوائے کریں وعدہ کریں بابا آپ میری شادی سالار سے کروائیں گے دریا روئے جارہی تھی
جی میرا بچہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ سالار کی شادی صرف آپ سے ہوگی ہم کسی اور کے ساتھ اس کی شادی ہونے ہی نہیں دیں گے
اٹھے اور اٹھ کر بھائی کی منگنی انجوائے کریں دیکھیں کیا حالت بنا رکھی ہے آپ نے اور آپ کا بھائی آپ کو ہر طرف ڈھونڈ رہا ہے
دریا خوش هو گٸی
آپ چلیں میں فریش ہو کر آتی ہوں ٹھیک ہے بیٹا آپ جلدی آجائیں
سیرت نے حنا کو تھام کرزاویار کے ساتھ بٹھایا
زاویار بنا پلکیں جھپکائے اس حسیں نازک سے پری کو دیکھتا رہ گیا
حنا نے اسے اس طرح سے دیکھنے پر نظریں جھکا لیں
زاویار بیٹھے بیٹھے ہی اس کی طرف جھکا
اپنی سہیلی کے لئے آپ جنگ لڑنے آئی تھی میں نے سوچا کیوں نہ یه جنگ ساری زندگی کے لیے چلائی جائے
آپ نے سوچا مطلب آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ اپنی پسند سے مجھ سے شادی کر رہے ہیں
یعنی کے محبت کی شادی لو میرج
حنا جانتی تھی کہ ان کی شادی زاویار کی پسند سے کی جاتی ہے لیکن پھر بھی انجان بنی
جی بالکل یہ ہماری لومیرج ہے
میں نے جب آپ کو پہلی بار دیکھا آپ مجھے بہت اچھی لگی تو میں نے آپ کے گھر رشته بھیج دیا زاویار نے کها
یہ کیسی لومیریج هےجہاں آپ نے مجھے اپنی محبت کا اظہار کیا اور نہ ہی یقین دلایا
یہ تو بالکل ارینج میرج جیسی ہے بلکہ ارینج ہی ہے
حنا نے ادا سے کہا
حنا آپ مجھے پسند ہیں میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو یہ لومیرج ہوئی نہ
جی نہیں آپ نے مجھے اپنی محبت کا احساس نہیں دلایا
میں کیسے کہوں کہ یہ لومیریج ہے ایسی تو ارینج میرج ہوتی ہے
لومیرج تو وہ ہوتی ہے جس میں لڑکا اپنی محبت کا اقرار سب کے سامنے کرے لڑکی کو اپنی محبت کا یقین دلایا
پھر فیصلہ لڑکی پہ چھوڑ دے کہ وہ اس کی محبت کو قبول کرتی ہے یا نہیں وہ ہوتی ہے لومیرج
ااااووووو تو آپ چاهتی ہیں کہ میں آپ سے اپنی محبت کا اقرار کرو
زاویار نے اپنی لو دیتی نظریں اسکی کانچ سی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے کہا
اب کیا فائدہ آج منگنی ہو جائے گی تو پھر چاہوں یا نہ چاہوں شادی تو مجھے آپ سے کرنی پڑے گی
حنانے منہ بسورتے ہوئے کہا جس پے زاؤ یار مسکرایا
منگنی ہونے والی ہے فیوچر مسیزز او یار ابھی تک ہوئی نہیں
یہ کہتے ہی وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا
حنا اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی اب یه کیا کرنے والا ہے وہ سوچ کر رہ گی
اتنے میں زاویار نیچے دریا کے پاس آیا اور اس سے انگوٹھی لی
پھر واپس سٹیج پے آیا اور حنا کا هاتھ تھام کر اس کوکھڑا کیا اور خود
گھٹنے کے سهارے زمین پر بٹھ گیا
حنا جیسا که آپ جانتی ہیں که آپ کے پاس اب انکار کا آپشن تو نہیں ہے
آپ کے والد نے آپ کا فیصلہ مکمل طور پر ہمیں دے دیا ہے
لیکن پھر بھی میں آپ کو اس بات کا احساس دلانا چاہتا ہوں کہ میں آپ سے بے انتہا محبت کرتا ہوں
جب سے میں نے آپ کو دیکھا ہے آپ کی آنکھوں نے مجھے اپنا قیدی بنا لیا ہے
میرا دل بغاوت کر بیٹھا ہے کہ اس کو حنا چاهے میں اپنے باغی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے میں آپ کو اپنی محبت کا احساس دلانا چاہتا ہوں
حنا میں یہ نہیں کہتا کہ میں ہمیشہ آپ کو خوش رکھوں گا کبھی آپکی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دونگا ها ں لیکن
آپ کے ہر دکھ میں آپ کا مکمل ساتھ نبھاؤں گا
حنا حیرانگی سے اس آدمی کو دیکھ رہی تھی جو نہ اسکی چھوٹی سی خواہش پوری کرنے کے لیے سب کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا تھا
جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں کے آپ کے پاس انکارکا آپشن تو نہیں ہے ہاں مگر ایک آپشن ہے
یا تو آپ مجھ سے شادی کرلیں نہیں تو میں آپ سے کر لوں گا
اس کے آخری بات پر سب مہمانوں نے تالیاں بجایئں
جبکہ انقلاب تو یہ ہوا ان سب کی موجودگی میں وه شرما گئی
نظریں نیچے کئے وہ کن آنکھوں سے حنا سیرت کی طرف دیکھ رہی تھی
جو اچھل اچھل کر کہہ رہی تھی کہ حنا ہاں کر دو
زاویار نجانے کتنی ہی دیر وہیں بیٹھا رہا
حنا نے ذرا سے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا جو امید بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
حنامنه سے کچھ نہیں بولی لیکن اس کی مسکراتی نظریں بہت کچھ بول رہی تھی
جس پر زاویار نے مسکراتے ہوئے اس کی خوبصورت انگلی پر اپنے نام کی انگوٹھی پہنائی
اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے چھوا
زاویار اٹھ کر کھڑا ہوااور اس کے کانوں کے قریب سرگوشی کی
فی الحال لفظی اظہار محبت سے کام چلا لو
شادی کے بعد عملی محبت کر کے بتاؤں گا
زاویار کی بات پرحنا کی کانوں کی لو تک سرخ ہو گئی
زاویار کو انگوٹھی پہناتے هوٸے حال میں تالیوں کی آواز گونجنے لگی
سیرت نے حنا کو گلے لگایا جواس طرح سے حوش ہو رہی تھی جیسے حنا کی نہیں بلکہ اس کی اپنی منگنی ہو رہی ہو
اس بات سے بے خبر که کوٸی اس کی مسکراهٹ کے ڈمپلز میں اپنا دل ڈوبتا محسوس کر رها هے
میری جان کبھی کھلکھلاتی هنسی صرف میرے نام ہوگی
اب اور انتظار نہیں ہوتا
بس میں ترکی سے واپس آ جاؤں پھر میں تمہیں ہمیشہ کے لئے اپنے پاس رکھ لوں گا
صرف اپنا بنا کر پھر تم صرف میرے لئے ہنسوں کی میرے لئے کی کھلکھلاو گٸی
تم پر صرف میرا حق ہوگا
صرف سالار کا اپنی ہی سوچ میں ہوں وہ خود ہی مسکرایا
آج شاکر نے سلمان سے بات کی تھی
سلمان بھاٸی یہ وقت مناسب تو نہیں ان سب باتوں کے لئے لیکن میں پھر بھی آپ سے یہ بات کرنا چاہتا تھا
اچھا تو نہیں لگتا کہ ایک بیٹی کا باپ اس طرح سے خود اپنی بیٹی کے لیے بات کرے لیکن میں مجبور ہوں
مجھے لگتا ہے کہ اب ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ دریا کے فیوچر کا سوال ہے
سلمان صاحب بات کو اچھے طریقے سے سمجھ چکے تھے که شاکر کیا کہنا چاہتے ہیں
لیکن سالار صاف لفظوں میں اس شادی کے لیے انکار کر چکا تھا
سلمان صاحب کی پہلی شادی شاکر صاحب کی بہن عائشہ کے ساتھ ہوئی تھی
جبکہ سلمان صاحب کی بہن کی شادی شاکر صاحب سے ہوئی تھی
وہ دونوں آپس میں کزن تھی اور بہت اچھی سہیلیاں تھیں اسی کی بنا پر ان دونوں نے سالارکی شادی دریا اور زاویار کے شادی اعنایه سے طے کی تھی
اعنایا اب اس دنیا میں تھی بھی کہ نہیں کوئی نہیں جانتا تھا لیکن
سالار اور دریا کی شادی بچپن سے ہی طے تھی
جسے هوش سنبھالنے کے بعد سالار نے ماننے سےانکار کردیا تھا بهت سمجھانے کے بعد بھی سالار نے سلمان صاحب کی بات نہیں مانی
سالار نے ہمیشہ سے سب کو یہی بتایا تھا کہ وہ شادی اپنی مرضی سے کرے گا
اور دریا جیسی لڑکی کبھی اس کی پسند نہیں ہوسکتی کیونکہ
دریا جیسی بے باک اور بے پردہ لڑکیاں سالار کے آگے پیچھے گھومتی ہیں
سلمان شاکر کو اس بارے میں صاف انکار کر دینا چاہتے تھے
لیکن سارا بیگم نے انہیں روک دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ایسے فیصلے یوں کیے جائیں
اسی لئے انہوں نے سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاکر صاحب کو طریقے سے انکار کرنے کے بارے میں سوچا تھا
مہراج واپس آیا تو وہ بیڈپےسعد کو سلا رہی تھی
سو گیا میرا شہزادہ مہراج نے آتے ہی سعد کو پیار کیا
اور بے ساختہ سعد کے دونوں گال چومے
جی بڑی مشکل سے سویا ہے لیکن آپ کا یہ جارہانہ پیار جاری رہا تو پھر سے جاگ جائے گا
بالکل نہیں جاگے گا اپنی ماں پہ گیا ہے
اب دیکھو نا جب تم سو رہی ہوتی ہو میں تم سے خوب پیار کرتا ہوں مجال ہے تو تمہاری آنکھ کھلی جائے
مہرآج نے شرارت سے کہتے ہوئے اسے اپنے قریب کھینچا
اور اس پر جھکنے لگا جب اس کی نظر اس کی گردن پر پڑی
یہ کیا ہوا مہرآج آپ کو چھوٹ لگی ہے وہ فکرمند ہوئی
ارے ہاں یار یہ تو میں تمہیں بتانا ہی بھول گیا آج منگنی میں مجھے ایک لڑکی ملی جو بہت پیاری تھی اسے دیکھ کر مجھے سمجھ میں آیا کہ اللہ نے مجھے بہن کیوں نہیں دی ماشاءاللہ بہت پیاری لڑکی تھی اس کی طرح اس کا نام بھی بہت پیارا تھا لیکن مجھے یاد نہیں رہا مہراج نے اپنے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے یاد کرنے کی کوشش کی خیرزاویار کی منگیتر کی بیسٹ فرینڈ هے شادی بھی آئیں گی میں ضرور ملآؤں گا وہ آ رہی تھی جب اس کا ہاتھ میرے کرتے میں اٹک گیا اس کے بریسلیٹ کی نوک میری گردن میں چھب گٸی وہی ہوا یہ زخم بھی اور تمہیں پتا ہے یہ ذرا سا زخم دیکھ کر وہ معصوم سے لڑکی رونے لگی
مہراج سیرت کو یاد کرکے بےساختہ مسکرایا
پہلی بار آیت نے سالار کے علاوہ مہراج کے منہ سے کسی اور کی تعریف سنی تھی
وہ کہہ رہی تھی کہ میں اتنا اچھا لگ رہا ہوں کہ مجھے نظر لگی ہےمہراج نےشرارت سے آیت کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر آیت بھی مسکرائے
ویسے وہاں ایک سے ایک حسین لڑکی تھی لیکن ”لیکن کسی ایک نے بھی آپ کو منہ نہیں لگایا”
اس سے پہلے کے مہراج اپنی تعریف میں کچھ کہتا آیت کوبولنا پڑا
جس پر مہر آج نے بے اختیار شیشے کی طرف دیکھا پھر مسکرایا اسے
دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو کہ میں اتنا بھی گیا ہوں ذرا نہیں
کمرے میں قدم رکھتے شاہ نے یہ ساری باتیں سن لی تھی
شاہ کو دیکھ کر وہ عورت کھڑی ہوگی
شاہ سائیں میں بی بی جی کو کھلانے کے لیے آئی تھی اس نے فروٹس کی ٹوکری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ہاں ٹھیک ہے تم جاؤ یہاں سے
شاہ نے کہا وہ عورت باہر نکل گئی
تو کیا کہہ رہی تھی تم میں کوئی جن ہوں دیو ہو جو تمہیں اٹھا لایا ہوں
آب شاہ اس کی طرف بڑھنے لگا
شاہ کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ چارپائی سے اٹھ گئی
اگر میں جن یا دیو ہوں پھر تو کوئی شہزادہ بھی ضرور آئے گا اس پری کو اپنے ساتھ لے کے جانے کے لیے افسوس شاہ کوئی شہزادہ آنے ہی نہیں دے گا
اگر کوئی آہی گیا تو اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے وہ حویلی کے کتوں کے آگے پھینکے گا
کیونکہ اس کہانی کا شہزادہ شاہ خود بننا چاہتا ہےجو تم سے بے انتہا محبت کرتا ہے
نہیں عشق جنوں دیوانگی یا شاید اس سے بھی اوپر شاہ تمہیں لے کر بہت آگے بڑھ چکا ہے
اب اگر کوئی تمہیں شاہ سے دور کرے گا تو شاہ اس کو ریزہ ریزہ کردے گا
شاہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہا تھا جب کہ وہ لڑکی بس روئے جارہی تھی
شاہ نے بے اختیار اسے چھونے کی کوشش کی
وہ پیچھے ہٹی
کیونکہ تم کوئی عام لڑکی نہیں ہو بلکہ شاہ کی محبت ہو
مجھے جانے دیں میں قسم کھاتی ہوں میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی شاہ کی بات کو مکمل اگنور کرکے پھر بولی
آپ مجھے گھر چھوڑ آئے ہم پولیس کے پاس بھی نہیں جائیں گے اسے لگا تھا شاید شاہ پولیس کے نام سے ڈر جائے گا لیکن پولیس کی بات پہ شاہ نے بے اختیار قہہقہ لگایا
میری جان یہاں کی پولیس بھی شاہ کے ٹکروں پہ ناچتی ہے
سو پولیس والوں کو تم ایک سائیڈ پر رکھ کر صرف اپنی اور میری بات کرو
میرے گھر والے مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے پلیز مجھے جانے دیں یہاں سے وہ پھر سے رونے لگی
جبکہ شاہ کی نظریں اس کے چہرے کا طواف کررہی تھی
اتنے دنوں سے میں تمہارا چہرہ دیکھ رہا ہوں لیکن آج تک مجھے تمہارا یہ
خوصورت تل نظر کیوں نہیں آیا
شاہ نے اس کے اوپری ہونٹ پہ نکتہ نما تل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
اب سمجھ میں آیا تم اتنی خوبصورت ہو یہ تل تمہاری حفاظت کے لئے لگایا گیا ہے تاکہ تمہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے
شاہ نے اپنے پاس سے ہی اپنی بات کی وضاحت کی
شاہ نے اپنے انگوٹھے کی مدد سے اس تل کو چھونا چاہا اس سے پہلے اسکا ہاتھ اس کے چہرے کی طرف جاتا اسکا زوردار طماچہ شاہ کے گال پڑا
جو اس نے اپنی ساری قوت جمع کر کے مارا تھا.
