Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45
ہم کل دوسرے ڈاکڑ کے پاس جائیں گے دیکھنا تم بلکل ٹھیک ہو ڈاکڑ یہی بولے گا تمھارا چیک اپ
کرنے کے بعد ۔۔۔ حورم اسکا چہرہ صاف کرتے ہوئے اس سے گویا ہوئی
روحان نے صرف ہاں میں سر ہلایا
چلو تم واشروم میں جاو منہ ہاتھ دھو پھر سب کے ساتھ ڈنر کرنے کے لیے
نیچے چلتے ہیں ۔۔۔۔ حورم اس سے بولی
روحان سر ہلاتے ہوئے واشروم میں چلا گیا
دونوں نیچے گئے اور سب کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد اپنے روم میں واپس آ گئے
ان دنوں نے سب کے سامنے خود کو نارمل ہی ظاہر کیا انہوں نے سب کو روحان کی ریپورٹس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا وہ سب کو پریشان
نہیں کرنا چاہتے تھے
روحان روم میں آنے کے بعد صوفے پر بیٹھ گیا
حانی ۔۔۔۔ سونا نہیں کیا آج حورم نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے اس سے استفسار کیا
تم سو جاو ہنی مجھے نیند نہیں آ رہی ۔۔۔۔ روحان عام سے لہجے میں بولا
تمھیں پتا ہے نا حانی مجھے تمھارے بنا نیند نہیں آتی پھر بھی کہہ رہے ہو کی جا کر سو جاو حورم نے خفگی کا اظہار کیا
جانتا ہوں ہنی اسی لیے تو کہہ رہا ہوں کہ سو جاو تمھیں میرے بغیر سونے کی عادت ڈالنی پڑے گی میرے بعد کیا کرو گی پھر کس کے سینے پر
سر رکھ کر سو گی
تمھیں میرے بغیر سونا سیکھنا ہو گا یہ تب ہی ممکن ہو گا جب میں ابھی سے تمھیں خود سے دور کرنا شروع کروں گا ورنہ بعد میں تمھارا میرے بنا رہنا مشکل ہو جائے گا
جاتنا ہوں تمھیں میرے اگنور کرنے پر تکلیف ہو گی پر یہ تمھارے لیے ضروری ہے تمھیں اس قابل بنانے کے لیے کہ تم میری دوری سہہ پاو خود کو سمیٹ پاو میرے جانے کے بعد ۔۔۔۔ روحان دل میں اس سے مخاطب ہوا
حانی کیا سوچ رہے ہوں حورم نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا جس سے وہ اپنے خیالوں سے باہر آیا
تم سو جاو مجھے نیند نہیں آ رہی ۔۔۔۔ روحان اس بار سخت لہجے میں بولا
حورم بنا اس کے لہجے کا برا مانے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ روحان اسے خود سے دور کرنے کے لیے یہ اس لہجے میں بات کر رہا ہے
روحان اٹھ کھڑا ہوا وہ اوپر اوپر سے سخت بن رہا تھا پر اس کا دل حورم سے دور رہنے پر آمادہ نہیں تھا
حور اسے بیڈ تک لے آئی اور خود بیڈ کروان سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور اسکا
سر اپنی گود میں رکھ لیا
روحان نے بھی کوئی مزاہمت نا کی اور سکون سے اسکی گود میں سر رکھے لیٹ گیا
حورم نے اسکے بالوں میں ہاتھ چلانا شروع کر دیا روحان کو سکون مل رہا تھا
جلد ہی وہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا
حانی ۔۔۔۔ حورم نے اسے پکارا پر وہ سو چکا تھا
حورم نے اسکی پیشانی چومی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھ لیا
حانی میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دوں گی چاہے مجھے اسکے لیے اپنی جان کیوں نا دینی پڑے ۔۔۔۔حورم دل میں اس سے مخاطب ہوئی
حورم بھی بیڈ کروان سے ٹیک لگائے سو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانی میں چار دن سے تمھارا یہ رویہ برداشت کر رہی ہوں تم نا تو مجھ سے بات کر رہے ہو اور نا ہی میری کسی بات کا جواب دیتے ہو
میری کال بھی اٹینڈ نہیں کرتے
میرے ساتھ لنچ کرنے بھی نہیں آتے اور تم میرے ساتھ کسی ڈاکڑ کے پاس بھی نہیں جا رہے
روز رات کو دیر سے آتے ہو نا خود میرے پاس آتے ہو اور نا ہی مجھے اپنے پاس آنے دیتے ہو
تین راتیں ہو گئیں ہیں ہم دونوں سوئے نہیں تم میڈیسن بھی نہیں لے رہے ہو جو ڈاکڑ نے دی ہے تھیں
کیوں کر رہے ہو مجھے اگنور کیا چاہتے ہو تم سے پہلے میں اس دنیا سے چلی جاوں ۔۔۔۔
حورم جو کافی دنوں سے اسکا یہ رویہ برداشت کر رہی تھی
آج اس پر برس پڑی تھی
روحان نے اسکی بات کا کوئی جواب نا دیا اور باہر جانے لگا تھا کہ حورم نے اسکا راستہ روک لیا
میں کچھ بکواس کر رہی ہوں حانی ۔۔۔۔ حورم کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے
مجھے باہر جانا ہے ۔۔۔۔ روحان نے اسے سائیڈ پر کرنا چاہا لیکن حورم اپنی جگہ سے ہلی تک نا
حورم روحان سے لپٹ گئی روحان نے اسے خود سے دور کیا لیکن وہ پھر سے
اسکے گلے لگ گئی کئی بار ایسا ہی ہوا حورم اسکے گلے لگ جاتی اور روحان اسے خود سے دور کر دیتا
آخر کار روحان کو ہی ہار ماننا پڑی اس نے اب کی بار حورم کو خود سے الگ نا کیا وہ بھی اس سے دور رہتے رہتے تھک گیا تھا
حانی ۔۔۔۔ نا کرو میرے ساتھ ایسا میں تمھارے بغیر
تم سے دور نہیں رہ سکتی تو کیوں تڑپاتے ہو پھر
کیوں میری ہمت کا
میرے صبر کا امتحان لیتے ہو ۔۔۔۔ حورم روتے ہوئے بولی
روحان نے اسے ٹوٹتا ہوا دیکھ کر خود میں بھینچ لیا
__________________________
روحان حورم ہم سب تم دونوں کو کئی دنوں سے نوٹ کر رہے ہیں تم دونوں
چپ چپ رہنے لگے ہو کسی سے کوئی بات نہیں کرتے اور نا ہی ٹھیک سے کھانا کھاتے ہو کیا بات ہے جو تم دونوں ایسا بی ہیو کر رہے ہو
اگلے دن شام کے ٹائم وہ سب ڈرائینگ روم میں موجود تھے
جب فیضان صاحب سے ان دونوں سے پوچھا
مجھے آپ سب کو ایک بات بتانی ہے روحان سب سے مخاطب ہوا
کون سی بات ۔۔۔۔ حرا بیگم نے استفسار کیا
پلیز آپ سب حوصلے سے میری بات سنے گا ۔۔۔
کیوں پریشان کر رہے ہو روحان سیدھی طرح بات کیا ہے ۔۔۔۔ فیضان بولے
حورم خود پر ضبط کیے بیٹھی تھی جبکہ ہادیہ خاموشی سے سب کو دیکھ رہی تھی
مجھے برین ٹیومر ہے روحان نے ان کے سر پر بم پھوڑا
کیا کہا تم نے ابھی ۔۔۔۔ فیضان صاحب بولے انہیں لگا انہیں غلطی لگی ہے سننے میں اس لیے انہوں نے دوبارہ سے روحان سے پوچھا
مجھے برین ٹیومر ہے روحان نے اپنی بات دہرائی
یہ کیسے ہو سکتا ہے حرا بیگم روتے ہوئے بولیں انہیں یقین نہیں آرہا تھا
ہادیہ بھی منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی حورم اپنا چہرہ جھکائے خود کو رونے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہی تھی
ہم تمھارا علاج کروائیں گے چاہیئے دنیا کے کسی بھی کونے میں جانا پڑے تمھیں کچھ نہیں ہو گا فیضان صاحب نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے روحان کو تسلی دی
روحان نے حرا بیگم اور فیضان صاحب کو اپنے ساتھ لگایا
وہ دونوں رو رہے تھے وہ کیسے اپنے بیٹے کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ سکتے تھے
حورم نے ہادیہ کو گلے سے لگایا اور اسے تسلی دی جو ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی
روحان اور حورم ان سب کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کر رہے تھے وہ ان سب کے سامنے رونا نہیں چاہتے تھے
پھر روحان کی بیماری کی بات جیسے ہی سب کو پتا چلی سب فورا ہی ان کے گھر آ گئے
فاطمہ بیگم نے حورم کو گلے لگایا
وہ رو رہی تھیں
اللہ میری بیٹی نے پہلے ہی بہت دکھ جھیلے ہیں اسکے ساتھ اب اور ایسا نا کریں اسکے سوہاگ کو ٹھیک کر دیں
فاطمہ بیگم حورم کو گلے لگائے دل میں اللہ سے فریاد کر رہی تھیں
علی صاحب نے بھی اپنی بیٹی کو گلے لگا کر اللہ سے اسکی خوشی اور روحان کی صحت یابی کی دعا کی
ہادیہ اور حرا بیگم کا رو رو کر برا حال ہو گیا تھا سب ان کو تسلی دے رہے
تھے کہ انشااللہ روحان ٹھیک ہو جائے گا
سب کی آنکھیں نم تھیں سوائے روحان اور حورم کے وہ خود پر ضبط کیے بیٹھے تھے وہ سب کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتے تھے
حورم ۔۔۔ روحان بھائی ٹھیک ہو جائیں گے تم ٹینشن نا لو ۔۔۔۔ نور نے اسے تسلی دی
حورم نے صرف ہاں میں ہی سر ہلانے پر اکتفا کیا اسکی آنکھیں خشک تھیں
پر اسکا چہرہ اسکا دکھ سب کے سامنے ظاہر کر رہا تھا
سب نے اسے اور روحان کو تسلی دی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا
روحان سب سے ایکسکوز کرتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا اسکا اب اور سب کے ساتھ بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا اسکا ضبط جواب دے گیا تھا
روحان کو جاتا دیکھ حورم بھی نور لوگوں سے ایکسکوز کرتی ہوئی روحان کے پیچھے
چلی گئی
اللہ پلیز ہماری دوست کو یہ دکھ نا دینا روحان بھائی کو ٹھیک کر دیں پلیز ۔۔۔
دعا نے اس کے جانے کے بعد دعا کی
سب نے اسکی دعا پر آمین کہا
سب نے روحان کی صحت یابی کی دعا کی اور فیضان صاحب ہادیہ اور حرا بیگم کو تسلی دی
کمرے میں آتے ہی روحان کی ہمت جواب دے گئی وہ ٹوٹ رہا تھا رو رہا تھا
حورم جیسے ہی روم میں داخل ہوئے روحان کو روتے ہوئے پایا
وہ دوڑی ہوئی اسکے پاس آئی اور اسکے گلے لگ گئی
حانی نا رو پلیز تمھارے آنسو مجھے تکلیف دے رہے ۔۔۔ حورم کی کپکپاتی آواز اسکے رونے کی گواہی دے رہی تھی
حورم اس سے الگ ہوئی اور اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا
حانی ایک بار مسکرا دو پلیز میں نے تمھارا ڈمپل دیکھنا ہے ۔۔۔۔ حورم نے نم آنکھوں سے اس سے فرمائش کی
روحان مسکرا نہیں پا رہا تھا پر وہ کیسے اپنی ہنی کو نا کہہ سکتا تھا اس لیے وہ
مسکرایا جس سے اسکا ڈمپل عود آیا
حورم نے اسکے ڈمپل کو چوم لیا روحان نے اپنے چہرے کے گرد اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے چوم لیے
حانی تمھیں میری قسم ہے کل تم میرے ساتھ ڈاکڑ کے پاس جا رہے ہو
اگر تم میری بات نا مانوں تو اللہ کرے تم صبح میرا مری ہوئی کا چہرہ دیکھو
حورم نے اسے دھمکی دی
اللہ نا کرے تم کچھ ہو ہنی ٹھیک ہے میں جاوں گا تمھارے ساتھ کل ڈاکڑ کے پاس روحان بولا
ٹھیک ہے اب تم اور نہیں رو گے وعدہ کرو مجھ سے ۔۔۔۔حورم نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا
وعدہ روحان نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اسکی پیشانی چومی
اب ہمیں سونا چاہیئے کافی رات ہو گئی ہے حورم کے کہنے پر وہ حورم کے ساتھ بیڈ تک آیا اور لیٹ گیا
اور حورم نے ہمیشہ کی طرح اسکے سینے پر اپنا سر ٹکا دیا اور روحان نے اسکے
گرد اپنے بازوں کا حصار بنا لیا
جلد ہی ان پر نیند کی دیوی مہربان ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو صرف زیادہ ٹینشن کی وجہ سے سر میں درد ہوتا ہے جو ریپورٹس آپ نے مجھے دیکھائی ہیں وہ غلط ہیں آپ کو برین ٹیومر نہیں ہے ۔۔۔
ڈاکڑ کی بات نے ان دونوں کے اندر نئی زندگی کی روح پھونک دی
کیا کہا آپ نے ڈاکڑ ۔۔۔۔ حورم نے دوبارہ سے ڈاکڑ سے پوچھا
مسٹر روحان کو برین ٹیومر نہیں ہے ۔۔۔۔ڈاکڑ نے مسکراتے ہوئے اپنی بات دہرائی
دیکھا حانی میں کہتی تھی نا وہ ریپورٹس جھوٹی ہیں ۔۔۔۔ حورم خوشی سے تمتماتے چہرے کے ساتھ اس سے مخاطب ہوئی
روحان بھی مسکرا رہا تھا وہ بہت خوش تھا کہ اسے اپنی ہنی کو چھوڑ کر جانا
پڑے گا
روحان نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا
تھینکس ڈاکڑ آپ نے ہمیں بہت بڑی خوشخبری دی ہے ۔۔۔ روحان نے ڈاکڑ کا شکریہ ادا کیا
اس میں شکریے کی کوئی بات نہیں ہے میں نے تو صرف آپ کو سچ سے
آگاہ کیا ہے ۔۔۔۔ ڈاکڑ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
پھر بھی ڈاکڑ صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ ۔۔۔ حورم نے بھی ڈاکڑ کا شکریہ ادا کیا
ڈاکڑ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا
وہ دونوں ڈاکڑ کو اللہ حافظ کہتے ہوئے ڈاکڑ کے روم سے باہر آگئے
ڈاکڑ کے روم سے باہر آتے ہی حورم روحان کے گلے لگ گئی روحان نے بھی اسکے گرد اپنے بازوں کا حصار بنا لیا
وہاں موجود سب لوگ ان دونوں کو مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے
ہنی لوگ دیکھ رہے ہیں آج لوگوں کی پرواہ نہیں ہے تمھیں کیا ۔۔۔ روحان
شوخ لہجے میں اس سے مخاطب ہوا
لوگ دیکھتے ہیں تو دیکھیں مجھے کوئی پرواہ نہیں ویسے بھی تم میرے شوہر ہو
اور تمھارے ساتھ رہتے رہتے میں بھی تمھاری جیسی ہو گئی ہوں بے شرم
حورم اس سے الگ ہوتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولی
میں بہت بہت خوش ہوں حانی ۔۔۔ حورم کی خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی
میں بھی بہت خوش ہوں ہنی ۔۔۔۔ روحان نے بھی خوشی کا اظہار کیا
چلو چلتے ہیں روحان اسے اپنے ساتھ لیے گاڑی تک لیے آیا
حانی پہلے تو مجھے اس ڈاکڑ کے پاس لے کر جاو جس کی وجہ سے ہم نے اتنے دن روتے ہوئے اور تڑپتے ہوئے گزارے ہیں ۔۔ گاڑی میں بیٹھتے
ہی حورم اس سے مخاطب ہوئی
ہنی جانے دو جو ہونا تھا ہو گیا ۔۔۔۔ روحان نے اسے سمجھانا چاہا
نہیں ایسے کیسے جانے دوں تم مجھے لے کر چلو اس ڈاکڑ کے پاس آج میں اسکی اچھے سے خبر لیتی ہوں ۔۔۔۔ حورم اٹل لہجے میں بولی
اوکے ۔۔۔۔ روحان نے گاڑی سٹارٹ کی اور وہ دونوں ہوسپٹل کی طرف روانہ ہوگئے
آپ نے کیا کہا تھا کہ حانی کو برین ٹیومر ہے ۔۔۔۔ حورم غصے سے ڈاکڑ
کے روم میں ڈاکڑ کے سر پر کھڑی دھاڑی
جی ریپورٹس کے مطابق ان کو ٹیومر ہے ڈاکڑ منمنایا کیونکہ کہ وہ حورم کو جانتا تھا اور اس کے غصے سے بھی واقف تھا
تو پھر یہ کیا حورم نے دوسرے ڈاکڑ کے کروائے گئے ٹیٹس کی ریپورٹس ڈاکڑ کے سامنے ٹیبل پر پھینکی
ڈاکڑ نے ریپورٹس دیکھیں جس میں لکھا تھا کہ روحان کو ٹیومر نہیں تھا ویسے
ٹینشن اور زیادہ کام کی وجہ سے سر میں درد کی شکایات تھی
ڈاکڑ کے ماتھے پر ڈر کے مارے پسینے کے قطرے نمودار ہوئے کہ پتا نہیں حورم اس کے ساتھ اب کیا کرے گی
ان کے مطابق تو ان کو ٹیومر نہیں ہے ڈاکڑ ڈرتے ہوئے بولا
تو پھر آپ کے مطابق حانی کو ٹیومر کیسے ہو گیا یہ بتانا پسند کریں گے
حورم نے غصے سے اسے گھورا
میں ابھی پتا کرتا ہوں غلطی کہاں ہوئی ہے ۔۔۔۔ ڈاکڑ بولا اور روم سے باہر چلا گیا
روحان جو کب سے اپنے قہقہوں پے قابو کیے بیٹھا تھا ڈاکڑ کے روم سے جاتے ہی قہقہے لگانے لگا
حورم بھی اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی جس
نے اسکا روحان اسے لوٹا دیا تھا
توبہ ہنی تم کیا چیز ہو بے چارے ڈاکڑ کی جان نکال دی تھی تم نے اب بھی پتا نہیں اسکا کیا حال ہو گا ۔۔۔ روحان ہنستے ہوئے بولا
ابھی تو دیکھتے جاو میں اسکا کیا حال کرتی ہوں ۔۔۔۔ حورم نے مسکراتے
ہوئے جواب دیا
اتنے میں ڈاکڑ ایک شخص کے ساتھ واپس روم میں آیا تو حورم اور روحان سیریس ہو گئے
اسلام علیکم میں اس ہوسپٹل کا مالک ہوں
سوری غلطی سے کسی اور پیشنٹ کی ریپورٹس آپ کے ہزبینڈ کی ریپورٹس کے ساتھ بدل گئی تھی ہم اس کے لیے معازعت خواہ ہیں آپ سے ہماری وجہ سے آپ کو اتنی تکلیف اٹھانی پڑی ۔۔۔۔ ہوسپٹل کا مالک حورم
سے مخاطب ہوا
آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ آپ غلطی کی وجہ سے ہمیں کتنی ٹینشن کا سامنا کرنا پڑا
حورم غصے سے بولی
ایم سوری اگین میم ۔۔۔۔۔ ہاسپٹل کے مالک نے پھر سے معافی مانگی
اٹس اوکے کوئی بات نہیں ۔۔۔۔ حورم کے کچھ کہنے سے پہلے روحان بول پڑا
تھینکس سر ۔۔۔۔۔ اس نے روحان کا شکریہ ادا کیا
ٹھیک ہے اس بار میں نے آپ کو معاف کیا اگر آئیند آپ کے ہوسپٹل کی مجھے شکایت کسی سے بھی ملی تو پھر آپ کی خیر نہیں حورم ان کو دھمکی
دیتی ہوئی روحان کے ساتھ وہاں سے چلی گئی
گاڑی میں بیٹھتے ہی حورم پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی اور روحان بھی ہنس
رہا تھا اور آنکھوں میں پیار سموئے اسے تک رہا تھا
مزا آ گیا ۔۔۔۔ حورم ہنستے ہوئے بولی
روحان نے اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنے طرف کھینچا حورم کا سر اسکے کندھے سے ٹکرا گیا
میرا سر توڑ دیا ہے حانی تم نے حورم اپنا ماتھا مسلتی ہوئی روحان کو گھور رہی تھی
روحان نے اسکی اپنے طریقے سے نظر اتاری کچھ دیر کے بعد روحان نے اسے
آزاد کیا تو حورم اس سے دور ہوتی ہوئی اپنا سانس بحال کرنے لگی
روحان مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا
اب کہاں جانا ہے ہنی ۔۔۔۔ روحان اس سے مخاطب ہوا
گھر چلتے ہیں پر ہم کسی پر شو نہیں کریں گے کہ ہم خوش ہیں
اور تمھیں برین ٹیومر نہیں ہے نور کے گھر سب نے ڈنر کے لئے جمع ہونا ہے وہاں سب کو سرپرائز دیں گے اور آج ہم وہ ڈریسز پہنے گے جو ہم نے ایک دوسرے کو اپنی اینورسری پر گفٹ کیے تھے اور تم مجھے تیار بھی
کرو گے ۔۔۔
حورم نے خود کو نارمل کرتے ہوئے سارا پلین اسے بتایا
اوکے جیسے میری ہنی کا حکم ہو گا ویسا ہی ہوگا روحان اسکی طرف جھکتے ہوئے بولا
گاڑی چلاو اب حورم نے اسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے دور کیا
روحان نے مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اور گاڑی گھر کر راستے پر رواں دواں ہو گئی
سب لوگ رضا کے گھر جمع تھے ڈنر کے لیے جب حورم سب سے مخاطب ہوئی
مجھے آپ سب کو ایک بات بتانی ہے ۔۔۔۔ سب حورم کی طرف متوجہ ہوگئے
کون سی بات ۔۔۔۔ حرا بیگم نے استفسار کیا سب کے دل کو دھڑکا لگا ہوا
تھا کہ پتا نہیں اب حورم کون سی بات بتانے والی ہے
اسکے چہرے سے کوئی بھی اندازہ نہیں لگا پا رہا تھا کہ وہ کیسی بات کرنے والی ہے وہ اس وقت سنجیدہ دیکھائی دے رہی تھی
حانی کو برین ٹیومر نہیں ہے وہ ریپورٹس غلط تھیں ہمیں آج ہی پتا چلا ہے
حورم نے مسکراتے ہوئے سب کو خوشخبری سے آگاہ کیا
جاری ہے
