Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22

اس بچی کے دادا کو دیکھانے کے لئے تاکہ ان کو پتا چل جائے کہ ان کی پوتی کے قاتل کے ساتھ کیا ہوا
اس بچی کے ماں باپ کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ اور اسکے دادا ہی اس دنیا میں ایک دوسرے کا سہارا تھے
اور جہاں تک پکڑے جانے کا سوال ہے تو اس کا چانس نا ہونے کے برابر ہے کیونکہ اس بات کا اس بچی کے دادا کمال اور جمال بھائی مجھے اور آپ لوگوں کو پتا ہے اب ان سب میں سے تو کوئی نہیں بتائے گا
اور کسی اور کو پتا چل بھی جاتا ہے تو میں سب کے سامنے یہ پروف کر دوں گی اس وڈیو میں نہیں ہوں بلکہ کسی نے ماسک پہن کر میری ممیکری کی ہے حور نے جواب دیا اسکی بات کا
تم تو بہت ہی چالاک ہو ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا تھا شیری بولا
بس ہم نے کبھی غور نہیں کیا حور نے اپنے کالر اچکائے
اچھا اب میں چلتی ہوں کافی دیر ہو گئی ہے حور نے ان سے اجازت چاہی
اور ہاں بھائی نور لوگ ابھی تک نہیں آئے صبح کے گئے ہوئے ہیں ان کو فون کر کے پتا کریں وہ لوگ کافی دیر سے ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر ہیں حور نے ان کو مطلع کیا
ایک منٹ حور تو کیا تم نے دعا اور عائزہ کے ساتھ ساتھ نور اور ہانیہ کے موبائیل میں بھی چپ لگائی ہوئی ہے ۔۔۔۔ حسن نے شک کا اظہار کیا
جی بلکل ۔۔۔۔ حور نے آرام سے جواب دیا
حور تم بھی نا تم سے تو اب اللہ ہی بچائے تم بہت خطرناک ہو گئی ہو حسن نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی
ہاہاہاہا بھائی میں بھلا اپنوں کو کچھ کہہ سکتی ہوں میں ان کے لئے پرانے والی حور ہی ہوں۔۔۔۔ حور نے ہنستے ہوئے جواب دیا
یہ آپ لوگ کون سی چپ کی بات کر رہے ہیں کوئی ہمیں بھی تو بتا دے
زاوی نے پوچھا
حور نے دعا ، عائزہ ، نور ، ہانیہ کے موبائیل میں ٹریسنگ چپ لگوائی ہوئی ہے
تاکہ حور کو ان سب کی لوکیشن کا پتا رہے اور یہ کام حور نے تب کیا جب وہ چودہ سال کی تھی ۔۔۔۔ جواب رضا کی طرف سے آیا
حور ۔۔۔۔۔ شیری چیخا
جی ۔۔۔۔ حور نے معصوم سا منہ بنایا
تم نا بہت بری ہو پتا ہے تمھیں شیری نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا
جی جانتی ہوں میں بہت بری ہوں حور نے اعتراف کیا
اور روحان کب سے حور کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ میری ہنی کیا سے کیا بن گئی میرے جانے کے بعد
اب جس ملزم کے پکڑے جانے پر تم اتنا خوش ہو رہی ہو یہ کس کیس کے سلسے میں پکڑا ہے ۔۔۔۔ زاوی نے د ریافت کیا
ایک لڑکی کے ریپ کیس کے سلسلے میں حور نے جواب دیا
اور اسکے ساتھ تم کیا کرو گی روحان نے اس سے پوچھا جو کہ کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا
سوری میں یہ ابھی نہیں بتا سکتی اوکے اللہ حافظ میں جا رہی ہوں
اب پہلے ہی آپ سب کو قصہ سناتے سناتے دیر ہو گئی وہاں سب میرا
ویٹ کر رہے ہوں گے حور سب سے کہتی ہوئی وہاں سے جانے لگی
تم اب ایسا ویسا کچھ نہیں کرو گی تمھاری جان کو بھی خطرا ہو سکتا ہے
روحان نے یہ کہتےہوئے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا
تم سے مطلب میں جو بھی کروں تم کون ہوتے ہو مجھ پر حکم چلانے والے اور میں نے کتنی دفعہ تم سے کہا ہے کہ مجھ سے دور ہی رہا کرو
حور اسکی طرف مڑتے ہوئے بدتمیزی سے بولی اور اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کیا
حور ۔۔۔ بڑا ہے وہ تم سے کیسے بات کر رہی ہو تم روحان کے ساتھ حسن نے اسے ڈانٹا
پلیز بھائی آپ درمیان میں نا آئیں اور مجھے سب پتا ہے میں کیا کر رہی ہوں
حسن سے کہتی ہوئی وہ روحان کی طرف مڑی
اور تم اب مجھ سے دور ہی رہنا اور جو میں چاہتی ہوں چپ چاپ وہ بات مان لو اور جاو یہاں سے ۔۔۔۔ حور نے اسے غصے سے گھورا
جو تم چاہتی ہو نا میں وہ مر کر بھی نا کروں اس لئے یہ بات تو تم اپنے دماغ سے نکال دو سمجھیں روحا ن یہ کہتا ہوا وہاں سے اپنے گھر چلا گیا
اور اسکے جانے کے بعد حور پولیس اسٹیشن چلی گئی
حور نے روحان کے ساتھ اتنی بد تمیزی سے بات کیوں کی اور کون سی بات ہے جو حور روحان سے منوانا چاہتی ہے اور روحان پوری نہیں کر رہا
حور اور روحان کے جانے کے بعد زاوی سب سے بولا
پتا نہیں کیا بات ہے اور تم لوگوں نے دیکھا روحان نے ابھی حور کے لئے کتنی پوزیسونس شو کی ہے چلو ہماری بات تو اور ہے ہم سب تو بچپن سے حور کے ساتھ ہیں لیکن وہ تو ابھی ہی آیا ہے ہم سب کے د رمیان وہ کیوں حور کے لئے اتنا پوزیسو ہے ۔۔۔۔ رضا نے اپنا پوائنٹ آف ویو ان کے سامنے پیش کیا
پتا نہیں ہم کیا کہہ سکتے ہیں ۔۔۔۔ حسن بولا
چلو میں باسل لوگوں کا پتا کرتا ہوں رضا ان سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے
نور اور باسل ہنی مون پر پیرس چلے گئے اور حور اپنے کیس میں بزی ہو گئی
فاطمہ بیگم گھر پر اکیلی تھیں
اور گھر کی صفائی کروا رہی تھیں
جب گھر کے لینڈ لائن نمبر پر کال آئی
ہاں فضل حسین میں حور کی ماما ہی بول رہی ہوں دوسری طرف سے پوچھے جانے پر انہوں نے جواب دیا
دوسری طرف سے جو کہا گیا اسے سن کر فاطمہ بیگم کے ہاتھ سے فون گر گیا
بیگم صاحبہ کیا ہوا جی ۔۔۔۔۔ نوکرانی نے انہیں ہلایا جو سکتے کی کیفیت میں کھڑی تھیں
نوکرانی کے ہلانے پر ان کو ہوش آیا
ڈ رائیور سے کہو گاڑی نکالے جلدی ۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولیں
وہ جی بیگم صاحبہ کہتی ہوئی چلی گئی
انہوں نے علی صاحب کو فون کیا
کیا ہوا تم رو رہی کیوں رہی ہو کال اٹینڈ کرنے کے بعد فاطمہ بیگم کے رونے کی آواز سن کر علی صاحب نے پریشانی سے پوچھا
وہ۔۔۔ وہ علی حور کو گولی لگ گئی ہے اور وہ اس وقت ہوسپٹل ہے فاطمہ بیگم نے روتے ہوئے بتایا
________
وہ۔۔۔ وہ علی حور کو گولی لگ گئی ہے اور وہ اس وقت ہوسپٹل ہے فاطمہ بیگم نے روتے ہوئے بتایا
تم ہوسپٹل پہنچو میں بھی آفس سے ہوسپٹل پہنچتا ہوں علی صاحب نے ہوسپٹل کا ایڈریس پوچھ کر فون بند کر دیا
میں ہوسپٹل جا رہی ہوں تم عائشہ لوگوں کو بتا دینا وہ نوکرانی کو سب کو بتانے کا کہہ کر ہوسپٹل چلیں گئیں
جب علی صاحب ہوسپٹل پہنچے تو حور آپریشن تھیڑ میں تھی
کیسے لگی گولی حور کو علی صاحب نے کمال سے پوچھا
وہ جی ہم ایک ملزم کو عدالت میں لے کر جا رہے تھے راستے میں اس ملزم کے ساتھیوں نے حملہ کر دیا جس کی وجہ سے ہمیں بھی جوابی کاروائی کرنی پڑی حور میم کی گولی لگنے کی وجہ سے وہ ملزم تو موقعے پر ہی مر گیا
اور پھر اس ملزم کے ساتھی نے وہاں سے بھاگنے سےپہلے میم پر گولی چلا دی جو ان کے بازو میں لگی اور ہم میم کو فورا ہی لے کر ہوسپٹل آ گئے کمال نے ساری بات بتائی
ٹھیک ہے اب آپ لوگ جاؤ ہم یہاں ہیں ان کی کہنے پر کمال وہاں سے چلا گیا
اتنے میں فاطمہ بیگم بھی آ گئیں
کیا ہوا علی حور کیسی ہے ۔۔۔۔۔ رونے کی وجہ سے ان سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا
وہ ابھی آپریشن تھیڑ میں ہے ۔۔۔۔تم دعا کرو سب ٹھیک ہو جائے گا
علی صاحب نے ان کو ساتھ لگا کر تسلی دی
اتنے میں وہاں پر سب آ گئے
کیا ہوا انکل کیا ہوا ہے ہنی کو وہ ٹھیک تو ہے نا کیسے ہوا یہ سب ۔۔۔۔
روحان نے پریشانی اور بے صبری علی صاحب سے استفسار کیا
ابھی تو اسکا آپریشن ہو رہا ہے دعا کرو اللہ سے ہماری حور کو کچھ نہیں ہو گا
انہوں نے روحان کو تسلی دی جس کی حالت دیوانوں سی ہو گئی تھی
پھر علی صاحب نے سب کو ساری بات بتائی کہ حور کو کیسے گولی لگی
کچھ دیر میں ڈاکڑ آپریشن تھیڑ سے باہر آیا
روحان سب سے پہلے ڈاکڑ کے پاس گیا
کیسی ہے وہ ۔۔۔۔ روحان نے ڈاکڑ سے پوچھا
وہ بلکل ٹھیک ہیں ان کے بازو میں گولی لگی تھی وہ ہم نے نکال دی ہے
ہم انہیں روم میں شفیٹ کر رہے ہیں پھر آسب اس سے مل سکتے ہیں
یہ کہہ کر ڈاکڑ وہاں سے چلا گیا
سب نے اللہ کا شکر ادا کیا
روحان مسجد چلا گیا تاکہ اللہ کا شکریہ ادا کر سکے جس نے اسکی حور کی حفاظت کی
سب باری باری حور سے ملے اور حور نے سب کو گھر بھیج دیا یہ کہہ کر کہ میں بلکل ٹھیک ہوں آپ سب میری وجہ سے اپنا اپنا کام چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کوئی بھی جانے کو تیار نہیں تھا
حور نے بڑی مشکل نے ان کو یہ کہہ کر بھیجا کہ میں نے شام تک آ جانا ہے گھر آپ لوگ پریشان نا ہوں
مسجد سے واپس آنے کے بعد جب روحان جب حور سے ملنے کمرے میں داخل ہوا تو وہ دعا ، مشال اور عائزہ سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی
روحان کر آتا دیکھ کر وہ ہنسنا چھوڑ کر سنجیدہ ہو گئی
اس بات کو روحان کو بڑا دکھ ہوا
کیسی ہو ہنی ۔۔۔۔
روحان نے حور کے رویے کی کا برا مانے بغیر اس کی طبیعت د ریافت کی
ٹھیک ۔۔۔۔ حور نے مارے بندھے جواب دیا اور اپنا رخ دوسری طرف کر لیا
میری طرف دیکھنا بھی اب تمھیں گورا نہیں کیا ۔۔۔۔ روحان نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا جس پر ڈ رپ لگی ہوئی تھی
حور نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور نا ہی اسکی طرف دیکھا
اور دعا لوگ ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں جو اس بات کو بھول چکے تھے کہ ان کے علاوہ بھی کوئی اور اس کمرے میں موجود ہے
روحان کچھ دیر اس کو دیکھتا رہا
اپنا خیال رکھنا ۔۔۔۔ اس سے کہتا ہوا وہ وہاں سے چلا گیا
دعا لوگوں نے حور سے روحان کے بارے میں کوئی بات نہیں کی اور اسکا دھیان اپنی باتوں میں لگا لیا
لیکن ان سب کو % 90 یقین ہو چکا تھا کہ ان کا اندازہ روحان اور حور کے بارے میں د رست ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سب حور کے گھر ڈنر کے لئے موجود تھے باسل اور نور بھی واپس آ چکے تھے
کھانا کھانے کے بعد سب بڑے ایک سائیڈ پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے اور بچے ایک جگہ بیٹھے اپنے کھلونوں سے کھیل رہے تھے
اور ساری ینگ پارٹی مووی دیکھ رہی تھی
حور آج سارا دن چپ چپ ہی رہی سب نے اس وجہ بھی پوچھی لیکن اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اسکے سر میں
درد ہے اس لئے وہ کسی سے بات نہیں کر رہی
اب بھی وہ چپ چاپ بیٹھی تھی باقی سب مووی پر کوئی نا کوئی کمینٹ پاس کر رہے تھے
مووی میں ایک سین آیا جس میں ویلن ہیرون کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا جسے دیکھ کر حور نفی میں سر ہلا رہی تھی
روحان فورا اس کے پاس آیا کیونکہ مووی دیکھنے کے دوران اسکا دھیان حور کی ہی طرف تھا
وہ اسکے سامنے آکر اس طرح بیٹھ گیا کہ روحان کے علاوہ کوئی بھی حور کو نہیں دیکھ پا رہا تھا
ہنی کیا ہوا ۔۔۔۔۔ روحان نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما
حور نے کوئی جواب نہیں دیا وہ منہ نیچے کیے ابھی بھی نفی میں سر ہلا رہی تھی
اتنے میں سب ان دونوں کی طرف متوجہ ہو گئے
کیا ہوا حور کو سب نے روحان سے پوچھا لیکن وہ اس وقت اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ کسی کی بھی بات کا جواب دیتا اسکی ساری کی ساری توجہ حور کی طرف تھا
میری طرف دیکھو ہنی ۔۔۔۔
روحان نے اسکے چہرے کو اپنے سامنے کیا روحان نے ابھی بھی حور کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا
حور خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی
حانی ۔۔۔۔۔۔۔ حور نے اسے پکار
روحان کو ساری بات سمجھ میں آ گئی اس نے اپنا ہاتھ حور کے منہ پر رکھ کر اسے کچھ بھی کہنے سے روکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحان نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا حور نے اپنا سر اسکے سینے سے ٹکا دیا
آج کے دن ہی حور کےساتھ وہ سانحہ ہوا تھا جس نے حور کو ایک زندہ لاش بنا دیا تھا
آنٹی۔۔۔۔ روحان نے فاطمہ بیگم کو پکارا جو ان کے پاس ہی کھڑی حور کی حالت دیکھ کر رو رہی تھیں
میں حور کو اس کے کمرے میں لے کر جا رہا ہوں آپ ڈاکڑ کو کال کر کے بلا لیں
وہ ان سے کہتا ہوا بنا کسی کی پرواہ کیے حور کو اپنے بازوں میں بھر کے اسکے کمرے میں لے گیا
روحان نے اسکے کمرے میں آ کر اسے بیڈ پر لیٹا دیا اور اس پر کمبل ڈال دیا
اور حور کا ہاتھ پکڑ کر اسکے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا
اتنے میں باقی سب بھی کمرے میں آ گئے
ہنی ۔۔۔۔ روحان نے اسے پکارا اور اپنا ایک ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا
حور کی ماما حور کی دوسری طرف آ کر بیٹھ گئیں اور کچھ پڑھ کر اس پر پھونک مارنے لگیں
حور کی آنکھیں بند تھیں پتا نہیں وہ سو چکی تھی یا بے ہوش تھی
وہ کسی کی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی
ایک دم ہی حور کا سانس اکھڑنے لگا
ہنی ۔۔۔۔ ہنی ۔۔۔ روحان اسے پکارنے لگا وہ سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی
اسے ہوسپٹل لے کر چلتے ہیں اسکی طبیعت تو اور خراب ہو گئی ہے ۔۔
فاطمہ بیگم روتے ہوئے بولیں
اسکو CPR دینا پڑے گا ہوسپٹل جاتے ہوئے تو بہت وقت لگ جائے گا
آپ سب پلیز باہر جائیں ہری اپ ۔۔۔۔۔ روحان چیخا
علی صاحب سب کو لے کر کمرے سے باہر آ گئے
ان سب کے جاتے ہی روحان نے حور کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اور اسکو مصنوئی سانس دینے لگا
اپنی سانسیں اپنی ہنی کو دینے لگا حورم کو مصنوئی
سانس دینے کے دوران روحان کی آنکھوں سے آنسو روا تھے وہ اپنی ہنی کی ایسی حالت دیکھ کر رو
رہا تھا
کچھ دیر بعد روحان حور سے دور ہوا اب حور کا سانس نارمل ہو گیا تھا
ہنی ۔۔۔ روحان نے پھر سے اسے پکارا
لیکن اس نے کوئی جواب نا دیا
اتنے میں علی صاحب ڈاکڑ اور فاطمہ بیگم کے ساتھ نوک کرتے ہوئے
روم میں داخل ہوئے
ڈاکڑ نے حور کا چیک اپ کیا اور میڈیسن دے کر چلا گیا
ڈاکڑ کے جانے کے بعد علی صاحب اور فاطمہ بیگم
سب کے پاس آئے سب ان کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے
کیا ہوا حور کو سب سے پہلے دعا نے ان سے پوچھا
ڈاکڑ نے کہا ہے کہ حور نے کسی بات کا سڑیس لیا ہے علی صاحب نے جواب دیا
کس بات کا سڑیس لیا ہے حور نے ۔۔۔۔ عائشہ بیگم نے پوچھا
حور اب ہوش میں ہے میں نے اس سے پوچھا تھا کہ
کس بات کو اس نے اپنے اوپر سوار کر لیا ہے جس سے اسکی یہ حالت ہو گئی ہے
تو اس نے بتایا کہ آج کل اسکے پاس ایک بچی کا کیس آیا ہے
جسے کچھ لوگوں نے اجتمائی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے
اس بچی کی حالت بہت بری ہے آج حور اس بچی کو دیکھ کر آئی ہے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *