Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25
وہ جب روحان کے کمرے میں داخل ہوئی تو روحان صوفے سے ٹیک لگائے
آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا
جیسے ہی حورم اسکے پاس پہنچی اسکے لب مسکرانے لگے
روحان نے آنکھیں کھولیں تو حورم اسے غصے سے گھور رہی تھی
””’ ایسے نا مجھے تم دیکھو سینے سے لگا لوں
تم کو میں چرا لوں گا تم سے دل میں چھپالوں گا ””
روحان مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے گنگنایا
پتا ہے میرا دل اس وقت یہی دعا کر رہا تھا کہ تم کہیں سے آ جاو میرے پاس ۔۔۔۔۔ روحان اس کے سامنے کھڑا ہو گیا جو ابھی تک اسے ہی گھور رہی تھی
اور گھٹیا انسان میرا دل کر رہا ہے کہ تمھارے ایک لگاو یہ کون سا طریقہ ہے
اپنی بات منوانے کا حورم نے غصے سے اسکے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا
جس میں خون نکلنا بند ہو کر جم گیا تھا
روحان نے کوئی جواب نا دیا بس اسے دیکھ کر مسکراتا ہی رہا
یہ مسکرانا بند کرو اور بتاو فرسٹ ایڈ باکس کدھر ہے حور نے پوچھا
ڈ ریسنگ روم میں موجود الماری میں ہے روحان نے جواب دیا
حورم باکس لے کر صوفے پر بیٹھ گئی اور اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا
روحان بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا
ہاتھ کرو آگے ۔۔۔
روحان نے اپنا ہاتھ اس کے آگے کر دیا اور حورم پوری توجہ سے اسکا زخم صاف کرتے ہوئے پٹی کرنے لگی
روحان ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا
لو ہو گئی پٹی ۔۔۔۔ اور آئیندہ ایسا کچھ نا کرنا جو آج کیا ہے سمجھے حور نے اسے وان کیا
روحان نے اسکی بات پر ہاں میں سر ہلایا
اچھا اب میں چلتی ہوں
ہنی ۔۔۔۔ روحان نے جاتی ہوئی حورم کو پکارا
اس نے مڑ کر روحان کی طرف دیکھا
ایک بات پوچھوں تم سے ۔۔۔۔۔ روحان اسکے پاس آیا
کون سی بات ۔۔۔۔ حورم نے پوچھا
کیا میں تمھیں چھو سکتا ہوں میرا چھونا تمھیں برا تو نہیں لگتا ۔۔۔۔۔۔؟ یہ کہہ کر روحان خاموش ہو گیا
تمھیں ہر حق ہے مجھ پے حانی سوائے اس ایک حق کے میں تمھارا وہ حق ادا نہیں کر پاوں گی اس سے آگے وہ کچھ کہہ نا پائی آنسو کا پھندا
اسکے گلے میں پھس گیا
میں تم سے اپنا وہ حق کبھی نہیں مانگو گا مجھے تو بس تمھارا ساتھ چاہیئے ہنی روحان نے اسے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا
کافی دیر وہ ایک دوسرے کے گلے لگے روتے رہے
پھر روحان نے بڑی نرمی سے اسے خود سے الگ کیا اسکے گال پر موجود تل
کو چوما
آئی لو جو سو مچ ہنی ۔۔۔۔۔ میں بارہ سال تمھارے بغیر کیسے گزارے ہیں یہ میں اور میرا اللہ ہی کو پتا ہے اسکا چہرہ اپنے دوںوں ہاتھوں میں تھامے وہ بول رہا تھا
اور ساتھ ساتھ اس کے آنسو صاف کر رہا تھا
حورم خاموش تھی وہ اس وقت کچھ نہیں بولنا چاہتی تھی وہ صرف اس وقت روحان کو محسوس کرنا چاہتی تھی
روحان نے اسے پھر سے گلے لگا لیا
ویسے تم نے میرے ساتھ بہت برا کرتی رہی ہو جب سے میں واپس آیا ہوں
روحان نے اسے گلے لگائے اس سے شکوہ کیا
میں تو اس لئے کرتی تھی ایسا کہ تم مجھ سے دور ہی رہو لیکن میری اتنی کوششوں کے بعد بھی تم نے اپنی بات منوا کے ہی دم لیا ہے
تو اور کیا تمھیں وہ بیوقوفی کرنے دیتا جو تم کر رہی تھی جس سے نا میں خوش رہ پاتا اور نا تم ۔۔۔۔
ویسے تم نا میرے بعد بہت بہاد ر ہو گئی ہو میں نے تمھاری یونی کی وڈیوز دیکھی ہیں اور پھر اس دن جو تم نے دیکھائی تھی
اور تمھیں ایک اور بات بتاؤں کہ جب تم نے نیوائیر نائٹ کو بائیک ریس جیتی تھی میں بھی وہاں تھا میں سیکنڈ پوزیشن پر تھا تم نے تو مجھے بھی ہرا دیا
روحان مسکراتے ہوئے بولا
تم وہاں تھےاس لئے مجھے اس رات ایسا لگ رہا تھا کہ تم میرے آس پاس ہی ہو اور اس سے پہلے جب میں ایک دن د ربار گئی تھی تب بھی مجھے ایسا ہی محسوس ہوا تھا
حورم اس سے الگ ہوتی ہوئی بولی
میں اس دن د ربار پر ہی تھا اور میں نے تمھیں پہلی دفعہ د ربار پے ہی دیکھا تھا روحان نے مسکراتے ہوئے اسکی بات کے صحیح ہونے کی تصدیق کی
اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ تک لے آیا اور اسے بیڈ پر بیٹھا کر خود بھی اسکے سامنے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بیٹھ گیا
اور پھر میں تم سے یونی میں ملا
جب بھی میں تمھیں دیکھتا تھا میری نظریں خود با خود تمھارے چہرے کا طواف کرنے لگتیں اور پلٹنے کا نام نہیں لیتی تھیں
پھر نور کی مہندی پر جب مجھے پتا چلا کہ تم ہی میری ہنی ہو تو
پھر مجھے سمجھ میں آیا کہ کیوں تمھیں دیکھتے ہی میں رک جاتا تھا کیوں میرا
دل تمھیں دیکھنے سے بھرتا ہی نہیں تھا روحان نے اپنی روداد سنائی
اور جب تم مجھے گھورتے رہتے تھے تو میرا دل کرتا تھا کہ تمھارا منہ ہی توڑ دوں
پھر یہ سوچ کر کچھ نہیں کرتی تھی کہ تم ہمارے سر ہو ورنہ تمھارا پتا نہیں کیا ہوتا ۔۔۔۔۔ حورم اپنی بات مکمل کر کے ہنسنے لگی
تم اگر میرے ساتھ لڑتی تو میں تمھارا مقابلہ کرتا کیوںکہ میں نے بھی فائیٹنگ کورس کیا ہوا اس لئے مجھے کبھی بھی ہلکا نا لینا ۔۔۔۔روحان نے مسکراتے ہوئے اس پر رعب جمایا
یہ تو اچھی بات ہے ۔۔۔۔ حورم مسکراتے ہوئے بولی
تھینکس ۔۔۔۔ روحان نے اس کا شکریہ ادا کیا
کس بات کا ۔۔۔۔ حورم نے اپنے ابرو اچکائے
میری ہر بات ماننے کا ۔۔۔۔
کون کون سی بات آپ روشنی ڈالنا پسند کریں گے ۔۔۔۔
میرے کہنے پر فائیٹنگ کورس کرنے کے لئے ، کھانا بنانا سیکھنے کے لئے ، رخصتی کے لئے ماننے کے لئے روحان نے اسے باتیں گنوائیں
میں نے یہ سب تمھارے کہنے پر تو نہیں کیا حورم نے اسکی بات سے انکار کیا لیکن روحان اسکی آنکھوں میں واضع شرارت دیکھ سکتا تھا
چلو جیسے تمھاری مرضی نا مانو اور تم وائلن بھی بہت اچھا بجا لیتی ہو۔۔۔۔
ایک بات تو بتاو ۔۔۔۔ دعا بتا رہی تھی کہ ان سب نے بارہ سال تک تمھیں
کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا کیا یہ سچ ہے تم اتنے سال روئی ہی نہیں
اور اس دن تم میرے گلے لگ کر توبے تحاشا رو رہی تھی
روحان نے پوچھا
ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ میں روتی نہیں ہوں بس سب کے سامنے نہیں روتی میں ہر رات اللہ کے سامنے روتی ہوں میں آج تک تمھارے اور اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں روئی سب کے سامنے میں نے ہمیشہ خود کو مضبوط ہی ظاہر کیا ہے جب تم سامنے آتے ہو پتا نہیں میرا کیوں میرا دل کرتا ہے کہ تمھارے گلے لگ کر جی بھر کر روؤں ۔۔۔۔ حورم یہ کہتے ہی رونے لگی
روحان نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا
میری بانہیں ہر وقت تمھارے لئے کھلی ہیں جب چاہوں تم میرے پاس
آسکتی ہو تمھیں مجھ پر ہر حق حاصل ہے میری جان روحان اسے گلے لگائے بولا
کافی دیر وہ اسکے گلے لگ کر روتی رہی پھر روحان نے اسے آہستگی سے
خود سے الگ کیا اور اس کے آنسو اپنے لبوں سے چن لئے
بس ہنی آج کے بعد تم اور نہیں رو گی روحان نے اسکی پیشانی چومی
ٹھیک ہے ۔۔۔ روحان نے اسکی تھوڑی پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر کیا
حورم نے ہاں میں سر ہلایا
اسی اثنا میں د روزے پر نوک ہوا
روحان دروازہ تک گیا اور د روازہ کھولا وہاں ہادیہ موجود تھی
ہاں ہادیہ بولو کیا بات ہے
بھائی وہ ماما اور پاپا ہمیں بھابھی کے گھر بلا رہے ہیں
ٹھیک ہے تم نیچے ہمارا ویٹ کرو میں ہنی کو لے کر آتا ہوں
وہ جی بھائی کہتی ہوئی چلی گئی
چلو ہنی اپنا منہ دھو کر آو پھر ہمیں تمھارے گھر جانا ہے سب ہمارا ویٹ کر رہے ہوں گے
اسکے منہ دھو کر آنے کے بعد وہ ہادیہ اور حورم کو لے کر حورم کے گھر آ گیا
جہاں سب ان کا کھانے پر ویٹ کر رہے تھے
سب نے ان دونوں کو شادی کی ڈیٹ فکس ہونے کی مبارک باد دی اور اچھے ماحول میں کھانا کھایا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی بھلا یار آج تو لگاوا لو ۔۔۔۔ عائزہ نے حورم کو سمجھایا
میں نے نہیں لگوانی ۔۔۔۔ وہ بھی اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی
آج حور کی مہندی کا دن تھا اس وقت دعا ، عائزہ ، اور مشال اس کے کمرے میں موجود تھیں
وہ سب اسکی منتیں کر کر کے تھک گئیں تھیں کہ مہندی لگوا لو لیکن وہ تھی کہ مان ہی نہیں رہی تھی
چلو عائزہ اور مشال ہم ان کو بلا کر لاتے ہیں جو اسے ہنی کہتے ہیں وہ ہی اسے منایں گے اور پیار سے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے کہ
”” ہنی میرے لیے مہندی لگوا لو میں تمھارے ہاتھوں پر اپنے نام کی مہندی
دیکھنا چاہتا ہوں ””
دعا نے سارا نقشہ کھینچا
میں نے تمھارا قتل کر دینا ہے اگر تم اسکے پاس گئی تو ۔۔۔۔ حورم نے اسے
دھمکی دی
نا میں تو جا رہی ہوں تم جو مرضی کر لو وہ حور کے منع کرنے کے باوجود بھی
عائزہ اور مشال کو لے کر روحان کے گھر کی طرف روانہ ہو گئی
پیچھے سے وہ دعا کو کوس رہی تھی
روحان بھائی اپنی ہنی کو منائیں جا کر وہ مہندی لگوانے کے لئے نہیں مان
رہی دعا نے آتے ہی روحان سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا
روحان انہیں لان میں ہی مل گیا تھا
کیوں نہیں مان رہی میری ہنی ۔۔۔ روحان نے مسکراتے ہوئے اس سے
استفسار کیا
پتا نہیں اسے چڑ ہے مہندی سے اس نے آج تک مہندی نہیں لگوائی
ہم سب کی شادی پر بھی ہم نے اسکی اتنی منتیں کر ڈالیں لیکن وہ نا مانی
جواب عائزہ کی طرف سے آیا
اگر آپ اسے منا لیں تو ہم آپ کو مان جائیں گے مشال نے اسے چیلنج کیا
میں تو پہلے ہی اس سے ملنے کا بہانا ڈھونڈ رہا تھا تم لوگوں کا بہت بہت
شکریہ وہ موقع تم لوگوں نے مجھے دے دیا اور جہاں تک اس کو منانے کی بات ہے میں اسے منا ہی لوں گا
روحان حورم سے ملنے کی خوشی میں بہت خوش تھا کیونکہ دو دن گزر گئے تھے
کوئی اسے ملنے نہیں دے رہا تھا
ایک منٹ میں ہنی کا مہندی اور شادی کا جوڑا لے آوں میں خود اسے اپنے ہاتھوں سے دینا چاہتا ہوں
ان سے کہتا ہوا وہ اپنے کمرے میں چلا گیا
چلو چلتے ہیں روحان ہاتھ میں شاپنگ بیگ لئے ان کے پاس آیا
چلیں ۔۔۔۔۔ وہ سب حورم کے گھر کی طرف چل پڑے
_________
یہ میں کیا سن رہا ہوں کہ تم مہندی نہیں لگوا رہی ہو
روحان نے کمرے میں آتے ہی اس سے استفسار کیا
بس میں نے نہیں لگوانی ۔۔۔۔ حورم بچوں کی طرح ضد کی
روحان کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا اور اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
”’ ہنی میرے لئے مہندی لگوا لو میں تمھارے ہاتھوں پر اپنے نام کی مہندی
دیکھنا چاہتا ہوں ”’
بہت پیار سے فرمائش کی گئی
روحان کا اتنا کہنا تھا کہ وہ اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کروا کے کھڑی ہوتے ہوئے بے تحاشا ہنسنے لگی
اور روحان سوچ رہا تھا یا تو میں نے کچھ غلط کہہ دیا ہے یا ہنی پاگل ہو گئی ہے جو پاگلوں کی طرح ہنس رہی ہے
کیا ہوا ہنی تم اس طرح ہنس کیوں رہی ہو
میں اس لئے ہنس رہی ہوں کہ ابھی جو سب کچھ تم نے مجھ سے کہا
تھوڑی دیر پہلے دعا یہ ساری پیشن گوئی کر کے گئی ہے
کہ تم میرا ہاتھ پکڑو گے اور جو تم نے کہا وہ سب مجھ سے کہو گے
میں تو یہ سوچ سوچ کر ہنس رہیں ہوں کہ دعا کا اندازہ کتنا د رست تھا
حورم ہنستے ہوئے بولی
تم ہنستی ہوئی بہت اچھی لگ رہی ہو ایسے ہی ہنستی رہا کرو روحان اسکے پاس
آیا اور اسکے دونوں ہاتھ پکڑ لیے
حورم ہنسنا چھوڑ روحان کو دیکنھے لگی جو آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کیے
اسے دیکھ رہا تھا
لگواو گی نا مہندی ۔۔۔۔۔
حورم نے ہاں میں سر ہلایا
ہاتھوں کے ساتھ ساتھ پیروں پر بھی لگوانا ایک اور فرمائش کی گئی
اور کوئی حکم میرے آقا ۔۔۔
نہیں کچھ نہیں بس جب میں دوبارہ رات کو مہندی کے فنگشن میں آوں تو تمھارے ہاتھوں پر مہندی لگی ہو
روحان نے اسکی پیشانی چومتے ہوئے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا
اور ہاں میں تمھیں تمھارا مہندی اور بارات کا جوڑا دینا بھول ہی گیا بیڈ پر پڑے ہیں میں نے اپنی پسند سے لیے ہیں دیکھ لینا ابھی میں جاتا ہوں
تمھاری چڑیلیں پتا نہیں کس طرح صبر کر کہ بیٹھی ہوں گی اب میں باہر نا گیا تو انہوں نے آجانا ہے اندر
روحان نے اسے خود سے الگ کر اسے شاپنگ بیگ دئیے اور وہاں سے چلا گیا
شکر بھائی کو جانے کے یاد آ گیا نہیں تو ہمیں لگ رہا تھا وہ آج تمھیں چھوڑ کر نہیں جانے والے ۔۔۔۔ مشال نے اندر آتے ہی حورم کو چھیڑا
تم لوگوں کو کیا تکلیف ہے اسکے وہاں رہنے سے ۔۔۔ حورم نے انگلی اٹھا کر مسکراتے ہوئے ان کو گھورا
ہاں ہاں اب ہم تو تمھارے کچھ لگتے ہی نہیں شادی جو ہونے والی ہے میڈم کی ہم بھلا کیوں یاد رہیں گے اسے دعا منہ موڑ کر کھڑی ہو گئی
اچھا ۔۔۔ اچھا اب یہ ڈرامے بند کرو نہیں تو میں اپنی مہندی اور شادی کا
جوڑا تمھیں نہیں دیکھانا
حورم کا اتنا کہنا تھا کہ دعا فورا اس کے سامنے آ کر بیٹھ گئی جبکہ عائزہ ، مشال اور حورم اسکی کی جلد بازی پر مسکرا دیں
چلو اپنے ہاتھوں سے نکالو ڈ ریس بوکس سے عائزہ نے شاپنگ بیگ اس کی طرف کیے
عائزہ اور مشال بھی حورم کے ساتھ بیڈ پر آ کر بیٹھ گئیں
حورم نے مہندی کا جوڑا بوکس سے نکالا
واووووو۔۔۔۔۔ بیوٹیفل ۔۔۔۔ وہ تینوں بولیں جبکہ حورم ڈریس دیکھ کر دل ہی
دل میں روحان کی چوائس کو داد دے رہی تھی
بہت ہی پیارا ہے کہیں یہ روحان بھائی کی تو پسند نہیں ۔۔۔۔
مشال نے اندازہ لگایا
ہاں روحان نے اپنی پسند کے ہی لئے ہیں
تینوں دن کے
ڈریس حورم نے مسکراتے ہوئے اسکی بات کے تصدیق کی
ہاؤ رومینٹک ۔۔۔۔ دعا حورم کے بتانے پر بولی
بہت ہی پیارا ہے حورم تم پر بہت سوٹ کرے گا عائزہ نے
تعر یف کی
بلو کلر کی کرتی جس پر گولڈن کلر کو کام کیا گیا تھا ، سکن ڈوپٹا جس کے بارڈ ر پر بلو اور گولڈن کلر کا کام تھا اور سکن لہنگا جس پر گولڈن اور بلو کلر ہی کام تھا حورم کا مہندی کا ڈ ریس تھا
اور ساتھ میں لال گلاب ، سفید کلیوں اور پیلے موتیے کے پھولوں کا زیور تھا
چلو بارات کا ڈ ریس بھی دیکھا دو اب ۔۔۔ دعا کو زیادہ ہی جلدی تھی اسکا جوڑا
دیکھنے کی
بیوٹیفل ۔۔۔۔۔حورم نے جیسے ہی ڈریس بوکس سے نکالا
ڈریس کو دیکھ کر
چاروں ایک ساتھ بولیں
یہ تو پہلے والے سے بھی پیارا ہے ۔۔ دعا نے تعر یف کی
روحان بھائی کی چوائس بہت ہی اچھی ہے ۔۔۔ مشال نے روحان کی چوائس کو داد دی
واقعی میں بہت پیارا ہے ڈ ریس اور روحان بھائی کی چوائس واقعی میں بہت اچھی ہے ان کی چوائس کا اندازہ اس بات سے لگا لو کہ انہوں نے
ہماری حورم کو پسند کیا ۔۔۔۔ عائزہ بولی
بلڈ ریڈ کلر کا لہنگا کرتی اور ڈوپٹا جن پر سلور کلر کا بہت ہی ہیوی کام کیا گیا تھا حورم کی بارات کا ڈ ریس تھا اور ساتھ میں میچنگ کا سارا زیور بھی تھا
تمھیں کیسے لگے اپنے دونوں ڈ ریس ۔۔۔۔ مشال نے حورم سے اسکی رائے جانی
بہت ہی اچھے ہیں دونوں ڈ ریس اگر میں خود بھی ڈریس لیتی تو ایسے ہی لیتی
یہ تو روحان کی ضد تھی کہ وہ ہی میرے سارے ڈ ریس خود لے گا
حورم نے پسندیدگی کا اظہار کیا
یہ تو اچھی بات ہوئی کہ تمھاری اور روحان بھائی کی چوائس ایک جیسی ہے
عائزہ بولی
ہاں یہ تو ہے ۔۔۔۔ حورم بولی
اب مہندی لگوانی ہے کہ نہیں حورم سے یہ پوچھتے ہوئے دعا کی آنکھوں میں
شرارت واضع طور پر موجود تھی
حورم اس کی آنکھوں میں موجود شرارت کو دیکھ چکی تھی لیکن اسے کون سا
فرق پڑنے والا تھا
اس نے مسکراتے ہوئے ہاں میں جواب دیا
اب کیوں مان گئی ۔۔۔۔ عائزہ مسکراتے ہوئے اس سے استفسار کیا
تم لوگ سفارش ہی بہت بڑی لے کر آئی تھیں میں نے تو ماننا ہی تھا
حورم نے مسکراتے ہوئے اسکی بات کا جواب دیا
ہماری تو یہ حسرت ہی رہ جانی ہےکہ ہم تمھیں روحان بھائی کا نام لے کر چھیڑ یں اور شرما کے سر جھکا لو پر ہم جو بھی کہہ لیں تم بنا شرمائے مسکراتے ہوئے جواب دیتی ہو ہماری ہر بات کا
مشال نے اپنا رونا رویا
اسکی یہ بات سن کر حورم نے قہقہا لگایا
ہاہاہاہا ۔۔۔ تم لوگوں کی حسرت ہی رہ جانی ہے کیونکہ میں نہیں شرمانے والی
حورم نے ان کو اور چڑایا
چلو کوئی نہیں اب تم ہو ہی بے شرم تو ہم کیا کر سکتے ہیں اور اوپر سے وہ تمھارے انگریز مسڑ جو سب کے سامنے بھی تم کو ہنی کہنے سے باز نہیں
آتے ۔۔۔۔ وہ کہاوت تم پر اور روحان بھائی پر بلکل صحیح فٹ آتی ہے
””جیسے کو تیسا ”” دعا چڑتے ہوئے بولی
ہاہاہا ۔۔۔۔ بس کرو تم لوگ اب بہت ہو گئیں باتیں جا کر کوئی کام بھی کر لو نکمیوں اور مہندی لگانے والی کو اندر بھیجو ۔۔۔ حورم نے ہنستے ہوئے ان
کو اور چڑایا
تمھیں تو ہم آ کر بتائیں گی ۔۔۔۔ اسکو دھمکی دیتں اور منہ بناتے ہوئے وہ
اس کے روم سے چلی گئیں
کچھ دیر میں مہندی لگانے والی آ گئی اور اس نے حورم کو مہندی لگانا شروع کیا.
جاری ہے
