Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03

اچھا حور۔۔۔۔۔ آج میری شادی کی خوشی میں کچھ اچھا سا وائلن پر پلے ہی کر دو زاوی نے اس سے فرمائش کی
حور ، دعا ، عائزہ نے میڑک کے بعد انگلش لینگوئچ کورس کیا تھا
حور نے لینگوئچ کورس کے ساتھ ایونئیگ کلاسسز میں وائلن بجنا بھی سیکھا تھا
اور وہ بہت اچھا وائلن بجاتی تھی
اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔ حور نے کہتے ہوئے اپنا وائلن نکالا جو ہر وقت اس کے پاس ہوتا تھا
اور صنم رے گانے کی دھن بجانے لگی
بھیگی بھیگی سڑکوں پے میں
تیرا انتظار کروں
دھیرے دھیرے دل کی زمین کو
تیرے ہی نام کروں
خود کومیں یوں کھو دوں
کہ پھر نا کبھی پاؤں
ہولے ہولے زندگی کو
اب تیرے ہی حوالے کروں
صنم رے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صنم رے
تو میرا صنم ہوا رے ۔
کرم رے ۔۔۔۔۔ کرم رے ۔
تیرا مجھ پے کرم ہوا رے
بادلوں ہی کی طرح تو نے مجھ پے سایہ کیا ہے ۔
بارشوں کی طرح ہی تو نے خوشیوں سے بھگایا ہے ۔۔۔
آندھیوں کی طرح ہی تو تونے ہوش کو اڑایا ہے
میرا مقدر سوارا ہے یوں ۔۔
نیا سویرا جو لایا ہے تو۔۔
تیرے سنگ ہی بیتانے ہیں مجھ کو ۔
میرے سارے جنم رے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم رے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صنم رے
تو میرا صنم ہوا رے ۔۔
واہ واہ ۔۔۔
سب نے اسے تالیاں بجا کے داد دی
تھینکس ۔۔۔۔۔۔۔۔ حور نے سب کا شکریہ ادا کیا
تھینکس ۔۔۔۔۔ بہنا میرے لئے اتنی اچھی دھن پلے کرنے کے لئے ۔۔۔
میں نے ریکورڈ کر لی ہے زویا کو سینڈ کروں گا تم نے میری شادی پر بھی کچھ ضرور پلے کرنا
نو تھینکس بھائی ۔۔۔۔۔اور شادی پر بھی ضرور پلے کروں گی
پر میری ایک شرط ہے ۔۔۔۔۔۔ حور بولی
کیا ۔۔۔۔۔۔ زاوی نے پوچھا
آپ اور بھابھی کو ڈانس کرنا پڑے گا اور میں آپ کے ولیمے پر پلے کروں گی اوکے
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔زاوی نے حامی بھر لی
کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد سب ہنستے مسکراتے ہوئے اپنے اپنے گھر روانہ ہو گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور ، دعا ، عائزہ نے کوکئینگ کورس کے لئے اڈمیشن لے لیا اور حور نے فائٹنگ کورس کے لئے بھی اڈمیشن لےلیا
دن ایسے ہی گزرتے رہے حور ، عائزہ اور دعا کے ساتھ
صبح کوکئینگ کلاسسز کے لئے جاتی اور شام کو اکیلی فائیٹنگ کلاسسز
کے لئے
نور اور باسل انگلش لینگوئچ کورس کرنے میں ۔۔۔۔۔۔رضا اور حسن بھائی یونیورسٹی میں ۔۔۔۔۔۔۔آیان اور شایان اپنے سکول میں مصروف تھے
ساتھ ساتھ زاوی بھائی کی شادی کی شاپنگ بھی جاری تھی کیونکہ ان کی شادی بھی سر پر آ گئی تھی
حور آ جاؤ ہمیں دیر ہو رہی ہے مہندی کا فنگشن سٹارٹ ہونے والا ہے ۔۔۔۔
فاطمہ بیگم اسے آوازیں دے رہیں تھیں آج زاوی کی مہندی تھی
کچھ دیر کے بعد فاطمہ بیگم کو حورآتی ہوئی نظر آئی انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے اس کی نظر اتاری ۔۔۔۔۔۔۔
اور اس کا ماتھا چوما بہت پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی ۔۔
چلو چلو سب دیر ہو رہی ہے علی صاحب ان سب سے بولے
علی ، احمد ، مصطفی صاحب اور تینوں کے فیملی ممبرز سب ایک ساتھ روانہ ہوئے عامر صاحب کے گھر کیونکہ مہندی کا فنگشن ان کے گھر پر ہی تھا
جب وہ لوگ زاوی کے گھر پہنچے تو زاوی غصے سے گیٹ کے پاس ہی ٹہل رہا تھا
ان سب کو دیکھ کر ان کی طرف آ گیا
زاوی نے سب بڑوں کو سلام کیا اور وہ اندر چلے گئے جہاں اس کے ماما پاپا موجود تھے باقی ینگ پارٹی زاوی کے پاس ہی کھڑی تھی اور وہ ان سب کو غصے سے گھور رہا تھا
بھائی ہمارا کوئی قصور نہیں یہ آپ کی لاڈلی ہی سب سے لیٹ تیار
ہوئی تھی اس کی وجہ سے ہم بھی لیٹ ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن حور کی طرف اشارہ کیا
اب زوای کا رخ حور کی طرف تھا
ویسے تو میری شادی کا شوق سب سے زیادہ بھی تم کو ہی تھا اور اب سب سے لیٹ بھی تم ہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زاوی بھائی بات یہ ہے کہ میرے بھائی کی شادی ہے اس لئے میں اچھے سے تیار ہوئی ہوں کیونکہ مجھے اپنے بھائی کی شادی پر سب سے اچھا لگنا تھا اور اچھے سے تیار ہونے میں وقت تو لگتا ہے نا ۔۔۔
حور نے معصوم سا منہ بنایا
اچھا اب اپنا موڈ ٹھیک کر لیں نہیں تو میں نے سٹیج پر جا کے اناؤنس کر دینا ہے کہ دولہا میاں اس شادی سے خوش نہیں ہیں اور وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر آپ خود ہی سوچ لیں زویا بھابھی آپ کا کیا کرتی ہیں اور پھر انہوں نے آپ سے شادی بھی نہیں کرنی ۔۔۔۔۔۔
حور نے زاوی کو دھمکی دی
اے خبردار لڑکی اگر تم نے کوئی فساد کھڑا کیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا کچھ ہو گیا
تو میرا کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم پھپھے کٹنی سے اللہ ہی بچائے
زاوی کی بات سن کے سب کی ہنسی نکل گئی
ہائے اللہ کیا زمانہ آگیا ہے ابھی شادی بھی نہیں ہوئیاور میں ان کو پھپھے
کٹنی لگنے لگی ہوں ۔۔۔۔۔ابھی بتاتی ہوں آپ کو کہ میں میں کیا ہوں
حور نے اسے دھمکی دیتے ہوئے سٹیج کی طرف چل پڑی
اے اے۔۔۔۔۔رک جا میری ماں تم تو بہت اچھی ہو مجھے معاف کر دو جو کچھ میں نے تمھیں کہا ہے زاوی نے اسکا راستہ روکا
ان دونوں کی باتوں کو سب اینجوائے کر رہے تھے
اچھا جائیں معاف کیا آپ کو کیا یاد کریں گےحور ایک ادا سے بولی
توبہ توبہ کیا زمانہ آ گیا ہے غلطی بھی لوگ خود کرتے ہیں اور پھر الزام بھی دوسروں پر لگا دیتے ہیں یہ تو وہی بات ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زاوی نے حور کو تنگ کیا
زاوی بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حور نے زاوی کو گھورا
جب کہ باقی سب ہنس رہے تھے
اچھا چلو میری گڑیا چلیں نہیں تو اگر ہم سب ادھر کھڑے رہے تو تمھاری بھابھی نے خود آ جانا ہے ہمیں لینے کے لئے ۔۔
زاوی مزاحیہ انداز میں بولا
پھر سب لان کی طرف چلے گئے جہاں مہندی کا فنگشن ارینج کیا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہندی کا فنگشن کمبائن ہی تھا لان کو بہت اچھی طرح سجایا گیا تھا ہر طرف رنگ برنگی لائٹس جگمگا رہی تھیں ہلکی ہلکی آواز میں گانے چل رہے تھے جو ماحول کو رومینٹک بنا رہے تھے
کچھ دیر کے بعد زویا کو زاوی کے ساتھ لا کے بیٹھا گیا زاوی یک ٹک زویا کو دیکھے جا رہا تھا وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی
زویا نے یلو کرتی گرین لہنگا جس پر پینک اور یلو کلر کا کام کیا گیا تھا اور پینک ڈوپٹا پہنا ہوا تھا جبکہ زاوی نے خود سفید قمیض شلوار کے ساتھ گلے میں یلو اور گرین کلر کا ڈوپٹہ گلے میں ڈالا ہوا تھا
زاوی بھائی ۔۔۔۔۔۔۔ کنٹرول کر لیں آج کی رات بھابھی آپ ہی کی ہیں کل کو انہوں نے آپ کے پاس ہی آنا ہے
حور نے زاوی کو چھیڑا جو ان کے پیچھے کھڑی تھی
زاوی اس کی بات سن کے جھنیپ گئی جبکہ زاوی اسکی بات پر مسکرا دیا
مہندی کی رسم کرنے کے بعد سب سٹیج سے نیچے آگئے
دعا ، حور اور عائزہ ایک جگہ کھڑی باتیں کر رہیں تھیں جب حور نے عائزہ اور کو دعا کو متوجہ کیا تھا
وہ دیکھو حسن بھائی اور رضا بھائی ادھر ہی دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔
ان دونوں نے بھی دیکھا واقعی وہ دونوں انہیں ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ ۔۔۔ دعا اور عائزہ ایک ساتھ بولیں اور اپنا رخ دوسری طرف کر لیا
جبکہ حور ان کو دیکھ کہ ہنس رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔
تم دونوں تیار ہو جاؤ ایک دوسرے کی بھابھی اور نند بننے کے لئے ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔حور کا ہنس ہنس کے برا حال تھا
حور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دونوں ایک ساتھ چیخیں تھیں
ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔یار میرا کیا قصور ہے بات ہی ایسی ہے ۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔دونوں بھائی بہت سریس ہیں تم لوگوں کی خیر نہیں
دعا نے یلو رنگ کی کرتی ، گرین شرارہ ، یلو اور گرین رنگ کا ڈوپٹہ پہنا ہوا تھا جو اس کے نازک سراپے پر بہت اچھا لگ رہا تھا
جبکہ عائزہ نے پرپل رنگ کی کرتی، یلو اور گرین رنگ کا شرارہ اور ان تینوں رنگوں کا ڈوپٹہ پہنا ہوا تھا جو اس کے اوپر بہت سوٹ کر رہا تھا
حور کی بچی یہاں ہم پے کیا گزر رہی ہے اور تمھیں مزاق لگ رہا ہے
دعا نے اسے گھورا
پر حور پے اس کی بات کا کوئی اثر نا ہوا وہ اب بھی اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی
حور کو باز نا آتا دیکھ کر وہ دونوں غصے سے اس کی طرف بڑھی تھیں
ان کو اپنی طرف آتا دیکھ حور بھاگنے لگی اور وہ دونوں اس کے پیچھے پیچھے تھیں
حور بھاگتے بھاگتے فاطمہ ، حنا ، صبا ، اور عائشہ بیگم کے پاس آگئی
اور حنا بیگم کے پیچھے چپ گئی ۔۔
آنٹی دیکھیں یہ دونوں مجھے مار رہی ہیں حور نے حنا بیگم سے دعا اور عائزہ کی شکایت لگائی
کیوں بھئی۔۔۔۔۔۔ تم لوگ میری بیٹی کو تنگ کر رہی ہو حنا بیگم نے ان دونوں سے پوچھا
نانا۔۔۔۔۔۔۔۔آنٹی ہم نے تو اسے کچھ نہیں کہا عائزہ فورا بولی
حور نے ان کو زبان دکھائی ۔۔۔۔۔ جبکہ دعا نے اسے آنکھیں دکھائیں
اچھا آپ لوگ سٹیج پر جاؤ زاوی بیٹا آپ تینوں کا پوچھ رہا تھا صبا بیگم نے ان کو مطلع کیا
اچھا آنٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا بولی اور وہ تینوں سٹیج کی طرف چل دیں
جی بھائی آپ نے بلایا تھا حور نے زاوی سے پوچھا
ہاں چلو پکس بناتے ہیں زاوی نے ان سے کہا پھر ساری ینگ پارٹی نے خوب ساری پکس لیں
اچھا آپ سب میری ایک خواہش پوری کریں گے پلیز حور سب سے بولی
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رضا نے پوچھا
ایک گروپ فوٹو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی میری مرضی کی ۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔ حسن نے حامی بھری
اچھا آیان تم زاوی بھائی کے ساتھ صوفے پر بیٹھو اور آپ سب پیچھے کھڑے ہوں حور اس سے مخاطب ہوئی
ایسے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حور ان سب کو کھڑا ہوتا دیکھ کے بولی
شایان تم اور ہانیہ ۔۔۔۔۔رضا بھائی آپ اور دعا ۔۔۔۔۔حسن بھائی آپ اور عائزہ ۔۔۔۔۔باسل تم اور نور۔۔۔۔۔۔۔
سب نے اس کی بات پر اس کوگھورا ۔۔۔۔۔۔
پلیز ۔۔۔۔مان جائیں نا ۔۔۔۔۔۔۔
حور منت بھرے لہجے میں بولی
چلو جیسے کہہ رہی ہے ہو جاؤ کھڑے زاوی نے سب سے بولا
سب حور کی بتائی گئی پوزیشن پر کھڑے ہو گئے حور نے سب کو ایک ساتھ دیکھ کردل میں ماشااللہ بولا
سب بہت پیارے لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
ہانیہ نے دعا جیسا اور نور نے عائزہ جیسا ڈریس سیم ڈیزان اور سیم کلر کا پہنا ہوا تھا
جبکہ سب لڑکوں نے سفید قمیض شلوار اور گرین ، پلو کلر کے ڈوپٹے گلے میں ڈالے ہوئے تھے
اور خود زویا کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی فوٹوگرافر نے ان کی گروپ فوٹو لی
اب تم ہم سب کی بھی بات مانو ۔۔۔۔۔۔نور بولی
کیا ۔۔۔۔ ؟ حور نے اس سے پوچھا
گانا سناؤ کوئی ۔۔۔۔۔۔۔ نور نے فرمائش کی
ہاں ہاں سنا دو گانا سب بھی بولے
اوکے ٹھیک ہے حورم نے حامی بھر لی
Attention ladies and gentle men
حور ہم سب کو اپنی خوبصورت سی آواز میں گانا سنانے لگی ہیں
زاوی نے یہ کہتے ہوئے مائک حور کے ہاتھ میں دے دیا
I don’t need a lot of thing
I can get by with nothing
Of all the blessings
Life can bring
I’ve always needed something
But I’ve got all I want
When it comes to loving you
You are my only reason
You are my only truth
I need you like water
Like breath, like rain
I need you like mercy
From heaven’s gate
وہ پنک کلر کا شرارہ ، یلو کرتی اور گرین کلر کا حجاب لئے اور اپنی بڑی بڑی شہد رنگ آنکھیں بند کیے گا رہی تھی
وہ اپنی دودھیا رنگت اور اپنے باریک کھڑے ستواں ناک میں ڈائمنڈ کی نوز پن پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
There’s a freedom
In your arms
That carries me through
I need you
I need you
گانا ختم ہوتے ہی وہاں موجود سب لوگوں نے اسے تالیاں بجا کر داد دی اور حور نے اپنے سر کو خم دے کر سب کا شکریہ ادا کیا
واوووو۔۔۔۔۔ حور آج تو محفل لوٹ لی
شایان ، آیان اور نور ایک ساتھ بولے
( حور نے سب چھوٹوں سے کہا ہوا تھا کہ کوئی بھی اسے ، عائزہ اور دعا کو آپی نہیں کہے گا )
واقعی میں گڑیا تم نے بہت اچھا گایا ہے زاوی نے بھی اسے داد دی
حسن ، رضا اور باسل نے بھی اس کو سراہا تھا ۔۔۔۔
حور تمھاری آواز بہت اچھی ہے ہانیہ نے تعر یف کی
واہ آج تو کسی نے سب پر اپنا جادو کر دیا ہے ۔۔۔۔۔۔عائزہ اور دعا اسے چھیڑتے ہوئے بولیں
Thanks a lot all of you ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حور نے سب کا شکریہ ادا کیا
اور تم دونوں کو تو میں بعد میں پوچھوں گی حور نے عائزہ اور دعا کو گھورا
اس طرح ہنستے مسکراتے ہوئے تقریب کا اختتام ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج زاوی کی شادی کا دن تھا زاوی کے ساتھ حور لوگ بھی بارات لے کر میرج ہال آئے جہاں ان سب کا بہت اچھے سے استقبال کیا گیا
کچھ دیر کے بعد نکاح کی رسم ادا کی گئی اور زویا کو زاوی کے ساتھ لا کر سٹیج پر بیٹھایا گیا اور زاوی نے زویا کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ریڈ کلر کا لہنگا اور گولڈن کلر کی کرتی پہنے سر پر ریڈ کلر کا ڈوپٹا اچھے سے سیٹ کیے اور خوبصورتی سے کیے گئےمیک اپ میں اسپرا لگ رہی تھی اور خود زاوی نے بلیک شیروانی پہنی ہوئی تھی
جب وہ سٹیج تک پہنچی تو زاوی نے اپنا ہاتھ اس کے آگے کیا
جب زویا نے اس کے میں ہاتھ اپنا ہاتھ دیا تو ہر طرف سے ہوٹینگ کی آوازیں آنے لگیں جس سے زویا جھنیپ گی جب کہ زاوی نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا تھا
وہ چاند اور سورج کی جوڑی لگ رہے تھے
زاوی بھائی بس کریں اب بھابھی آپ کی ہی ہیں گھر جا کر جتنا مرضی دیکھ لیجیے گاحور نے زوای کو زویا کو دیکھنے سے باز نا آتا دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھیڑا
زوای نے حور کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
جو پرپل کرتی ، سکین کلر کا لہنگا جس پر پرپل کام تھا سکین کلر کا حجاب لئے واقعی میں جنت کی حور لگ رہی تھی
وہ اسے بہت عزیز تھی زاوی اسے اپنی چھوٹی بہن ہی سمجھتا تھا
تمھیں کیا ہے میری بیوی ہے ۔۔۔۔۔۔۔زوای اسے تنگ کرتا ہوا بولا
حق ہا ۔۔۔۔۔بیوی کیا آئی لوگ بہن کو بھول گئے حور نے اپنے مصنوئی آنسوں صاف کیے
اچھا میری ماں معاف کر دے ۔۔۔۔
زاوی نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے جب کہ زویا ان دونوں کو دیکھ کر ہنس رہی تھی ۔۔۔۔
جائیں معاف کیا زویا بھابھی کا خیال کر کے آپ کو تو میں پھر کبھی پوچھوں گی
بہت بہت مہربانی ۔۔۔۔۔۔زاوی مظلوم بنتے حور سے بولا ۔۔۔۔۔۔
اچھا آپ لوگ کریں باتیں میں باقی سب کے پاس جا رہی ہوں ۔
پھر کچھ رسمیں ادا کی گئیں اور پھر زویا سب کی دعاؤں کے سائے میں رخصت ہو کر زاوی کے گھر آگئی جہاں اس کا بہت اچھے سے استقبال کیا گیا
زویا کو حور ، نور ، ہانیہ ، عائزہ اور دعا کمرے میں چھوڑ کر خود باہر آ گئیں اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کر زاوی کا انتظار کرنے لگیں ۔۔۔۔۔
کچھ دیر کے بعد زاوی آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں بھئی تم لوگوں نے آج میرے کمرے کر باہر پہراہ دینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
زاوی نے ان سب سے پوچھا
نہیں تو آپ ہمیں پیسے دیں اور اپنے کمرے میں چلے جائیں حور اس سے بولی
کیوں تم کو پیسے کیوں دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے نا دیں آج پھر ہم بھی جہاں ہیں اور آپ بھی فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے سوچ لیں کیا کرنا ہے حورم نے اسے دھمکی دی
یار کیا زبردستی ہے میرا کمرہ اور میں ہی نہیں جا سکتا ۔۔۔
زاوی نے احتجاج کیا
جب کے باقی سب زاوی کی اور حور کی تکرار سن کر ہنس رہی تھیں
حور نے آگے سے کوئی جواب نا دیا خاموش ہی رہی
اچھا یہ لو۔۔۔۔زاوی نے کئی نوٹ اپنی جیب سے نکال کر حور کو دئیے
زاوی بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کتنے اچھے ہیں اب آپ جائیں بھابھی انتظار کر رہیں ہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ حور نے خوشی سے بولی
مہربانی ہے آپ کی ۔۔۔۔۔۔زوای کہتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا
اور وہ سب نیچے باقی سب کے پاس چلی گئیں
جب زاوی کمرے میں داخل ہوا تو زویا گھونگھٹ نکالے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی زاوی جا کر اس کے پاس بیڈ پر ہی بیٹھ گیا
زاوی نے جب اس کا گھونگھٹ اُٹھایا تو اسے دیکھتے ہی ماشااللہ بولا
( کیونکہ وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی )
جس سے زویا نے اپنا سر اور جھکا لیا ۔۔۔۔۔ زاوی نے اس کو تھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اونچا کیا
زویا میری طرف دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔زویا نے آہستہ سے اپنی پلکیں اوپر اُٹھائیں اور زاوی کو دیکھا جس کی آنکھوں میں محبت کا ایک جہاں آباد تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ میں تمھیں پا کر آج بہت خوش ہوں ۔۔۔۔۔۔ اتنا خوش ۔۔۔۔ اتنا خوش ۔۔۔۔کہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا میں اوپر والے کا جتنا بھی شکر ادا کروں اتنا ہی کم ہے کہ اس نے میری محبت مجھے دے دی ۔۔۔۔۔۔۔
زوای اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
ڈائمنڈ رنگ زویا کو پہنائی اور اس کے ہاتھ کو چوما۔۔۔
تم خوش ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاوی نے زویا کو پیار سے دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں میں بھی بہت خوش ہوں ۔۔۔۔۔ زویا شرماتے ہوئے بولی
I love you zoya
جواب نہیں دو گی ۔۔۔۔۔۔۔ بہت پیار سے پوچھا گیا
I love you too zawi ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زویا کے اس اظہار پر زاوی نے کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور زویا نے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔
چاند اور تاروں نے ان کے ملن کے گواہ تھے ایک نئی زندگی ان کے لئے اپنی باہنیں پھلائے ہوئے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح جب زاوی کی آنکھ کھلی تو زویا اس کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی
زاوی نے اس کے چہرے سے بال ہٹائے اور اس کی پیشانی کو چوما ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا لمس محسوس کرتے ہوئے زویا نے اپنی آنکھیں کھول دیں
Good morning میری جان ۔۔۔۔ ہماری زندگی کی نئی صبح مبارک ہو آپ کو بھی مبارک ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زویا اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپاتے ہوئے بولی
کیا ارادہ ہے میری جان کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج اُٹھنا ہے کہ نہیں سب ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے پھر آج ہمارا ولیمہ بھی ہےاور تمھیں پارلر بھی جانا ہے ۔۔۔۔۔۔
ویسے اگر تم کہو تو نہیں جاتے آج کمرے سے باہر کیا خیال ہے ۔۔۔۔۔۔۔
زاوی نے اس کے گرد اپنے بازوں کا حصار بنایا
نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔چلیں فریش ہو جائیں پھر نیچے چلتے ہیں
زویا اس کا موڈ بدلتا دیکھ کر بولی
بہت ظالم ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ زوای اس سے کہتا ہوا واشروم میں گھس گیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *