Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11

احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے خوشخبری سے آگاہ کیا
ان کی بات سن کر دعا اور عائزہ شرما کر وہاں سے چلیں گئیں
سب نے رضا اور حسن کو مبارک باد دی
تھینکس گڑیا ۔۔۔۔۔ رضا اورحسن نے حور کا شکریہ ادا کیا
نو تھینکس بھائی میں نے آپ لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ دونوں کی
خواہش پوری کروں گی اور میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا آپ دونوں کو
بہت بہت مبارک ہو
خیر مبارک گڑیا ۔۔۔۔۔ وہ دونوں بولے
اچھا اب میں آپ دونوں کی ہونے والی بیگمات کے پاس جا رہی ہوں وہ دونوں تو ایسے غائب ہوئیں ہیں جسیے گدھے کے سر سے سینگ
حور ہنستے ہوئے بولی
اور پھر حور دعا اور عائزہ کے پیچھے چلی گئی تاکہ ان کو چھیڑ سکے
اے چڑ یلوں تم لوگ کیوں وہاں سے بھاگ آئیں حور ان دونوں کے سر
پر پہنچ کر بولی
وہ ہمیں شرم آ گئی تھی اس لئے ۔۔۔۔ دعا بولی
اللہ اللہ چڑیلیں بھی شرماتی ہیں مجھے تو آج پتا چلا ہے حور ان کو تنگ کرتے ہوئے بولی
حور تم نا باز آنا ہماری ٹانگ کیھنچنے سے تمھیں تو موقع چاہیئے ہوتا ہے ہمیں تنگ کرنے کا اور ہمیں کیوں نہیں شرم آ سکتی ہم بھی تو آخر لڑکیاں ہی ہیں عائزہ نے اسے گھورا
تم کتنی کمینی ہو حور ہمیں بتایا بھی نہیں کہ سب بڑوں سے کیا بات کرنے جا رہی ہو پتا ہے ہمیں کتنی شرم آ رہی ہے اور شرمندگی ہو رہی ہے
سب ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے دعا بولی
کیا ہوا ۔۔۔۔ حور نے پوچھا
ہونا کیا ہے تمھیں تو پتا ہے کہ ہم دونوں کو کتنا تجسس ہوتا ہے ہر بات
جاننے کا جب تم سب بڑوں کے ساتھ اندر تھی تو ہم بے صبری سے پورے ڈرائینگ روم میں ٹہل رہیں تھیں اور ساتھ تمھیں باتیں بھی سنا رہیں تھیں کہ پتا نہیں کون سی بات کر رہی ہے سب سے اکیلے میں
اب سب کیا سوچتے ہوں گے آج جو فیصلہ ہوا ہے اس کو سننے کے بعد
سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے تم بتا دیتی ہمیں تو ایسا نا ہوتا
عائزہ نے اس ساری بات بتائی
ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔ یہ تو واقعی تم لوگوں کے ساتھ برا ہوا تم لوگوں کو کون کہتا ہے کہ ہر بات میں بے صبری دیکھایا کرو حور ہنستے ہوئے بولی
اچھا تم لوگ خوش تو ہو نا اس رشتے سے حور نے ان دونوں سے پوچھا
ہاں ۔۔۔۔ ان دونوں نے ہاں میں سر ہلایا
بہت بہت مبارک ہو تم دونوں کو اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے حور ان دونوں کو گلے لگایا
دو دن بعد دعا مسسز رضا اور عائزہ مسسز حسن بن گئی
نکاح کے بعد رضا، دعا کو۔۔۔۔اور حسن ، عائزہ کو ڈنر پر لے کر گیا
بہت پیاری لگ رہی ہو رضا نے دعا کی تعریف کی
وہ اس وقت ڈنر کے ہوٹل میں آئے ہوئے تھے
دعا کی تو آج اس کے سامنے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی
یہ ہمارے کے نکاح کا تحفہ میری طرف سے تمھارے لئے رضا اس کے بائیں ہاتھ کی انگلی میں ڈائمنڈ کی انگوٹھی پہناتے ہوئے بولا
تھینکس بھی نہیں کہو گی رضا نے دعا کو چپ دیکھ کر پوچھا
تھینکس ۔۔۔۔ دعا آہستہ سے بولی
آئی لو یو دعا میں تم سے کب محبت ہوئی پتا ہی نہیں چلا میں تم سے بہت بہت محبت کرتا ہوں
دعا نے اسکی بات سن کر مسکراتے ہوئے اپنا چہرہ جھکا لیا
تم خوش ہو نا میرے ساتھ نکاح ہونے پر ۔۔۔۔۔رضا نے اس پوچھا
جی ۔۔۔ دعا نے بنا اس کی طرف دیکھے جواب دیا
تھینکس میری زندگی میں آنے کے لئے رضا اس سے بولا
چلو اب کھانا کھا لو رضا نے اسے نارمل کرنے کے لئے اسکا دھیان کھانے کی طرف کروایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسی ہو ۔۔۔۔ حسن نے عائزہ سے پوچھا
ٹھیک ۔۔۔۔۔۔عائزہ نے آہستہ سے جواب دیا
وہ لوگ بھی ہوٹل میں ڈنر لے لئے موجود تھے
یہ میری طرف سے تمھارے لئے چھوٹا سا تحفہ حسن نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسکو رنگ پہنائی
تھینکس عائزہ نے اسکا شکریہ ادا کیا
آئی لو یو عائزہ تم اس رشتے سے خوش ہو نا ۔۔۔
حسن نے اسکا جھکا ہوا چہرہ اپنے ہاتھ سے اوپر کیا عائزہ کا ایک ہاتھ ابھی تک حسن کے ہاتھ میں ہی تھا
بولو عائزہ جواب دو عائزہ کے کچھ نا کہنے پر حسن نے دوبارہ اسے پکارا
جی خوش ہوں عائزہ نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے
اتنے میں ویٹر کھانا لے کر آ گیا اور حسن اسکا ہاتھ چھوڑ کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
ایک اچھا سا ڈنر کر کے وہ دونوں گھر آگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاوی بھائی آپ ریلیکس رہیں بھابھی اور بچے کو کچھ نہیں ہو گا
اس وقت حور اپنی ماما، زاوی ، اور زاوی کے ماما اور پاپا کے ساتھ ہوسپٹل میں موجود تھی کیونکہ زویا پریگنیٹ تھی اور اس وقت آپریشن تھیٹر میں تھی
بہت بہت مبارک ہو آپ کو اللہ نے آپ کو پیاری سی گڑیا دی ہے
ڈاکٹر نے آپریشن تھیٹر سے باہر آنے کے بعد زاوی کو مبارک باد دی
اور میری وائف ۔۔۔۔ وہ کیسی ہے
وہ بھی ٹھیک ہیں کچھ دیر میں ہم ان کو روم میں شفٹ کر دیں گے پھر آپ ان سے مل سکتے ہیں ڈاکڑ نے جواب دیا
تھینکس ڈاکٹر زاوی نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا
بہت بہت مبارک ہو آپکو بھائی ۔۔۔۔۔ حور نے اسے مبارک باد دی
خیر مبارک گڑیا ۔۔۔۔۔ زاوی بولا
زاوی کے ماما پاپا اور حور کی ماما نے بھی زاوی کو مبارکباد دی
کچھ دیر کے بعد زویا کو روم میں شیفٹ کر دیا گیا سب سے پہلے زاوی
روم میں زویا کے پاس گیا
بہت بہت مبارک ہو زویا ۔۔۔۔ دیکھو کتنی پیاری ہے ہماری بیٹی
آپ کو بھی مبارک ہو ۔۔۔۔۔ ماشااللہ بہت پیاری ہے ہماری بیٹی اللہ اس
کو لمبی زندگی اور صحت دے ۔۔۔۔ زویا بچی کو پیار کیا
آمین زاوی بولا
کیا ہم اندر آ سکتے ہیں حور نے ان دونوں سے پوچھا
حور کے ساتھ اس کی ماما زاوی کے ماما اور پاپا بھی تھے
کیوں نہیں آئیں آئیں ۔۔۔۔ زاوی مسکراتے ہوئے بولا
سب نے زویا کو مبارک باد دی اور بےبی کو پیار کیا
بھائی بےبی تو بہت پیاری ہے ماشااللہ سے ۔۔۔۔۔ حور زاوی کی بیٹی
کو دیکھنے کے بعد بولی
پکڑو گی نہیں بےبی کو ۔۔۔۔ زاوی نے اس سے پوچھا کیوںکہ اس کے علاوہ
وہاں موجود سب نے بےبی کو گود میں کے کر پیار کیا تھا
لیکن اس نے بےبی کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا
سوری بھائی میں نے آج تک کبھی کسی بےبی کو نہیں پکڑا ۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔۔ زاوی نے حیرانگی سے استفسار کیا
پتا نہیں بھائی ہمت ہی نہیں ہوئی کبھی کہ کسی بچے کو پکڑ سکوں
تو کیا اپنے بچوں کو بھی نہیں اٹھایا کرو گی ۔۔۔۔ زاوی نے اس سے
سوال کیا
میں نے شادی ہی نہیں کرنی تو بچے کہاں سے آ جانے ہیں بھائی ۔۔۔
حور بولی
کیا مطلب کبھی شادی نہیں کرو گی ۔۔۔۔
نہیں کبھی بھی نہیں میری زندگی میں کسی بھی مرد کی کوئی گنجائش نہیں
ہے حور کا لہجا اٹل تھا
چلو جیسے تمھاری مرضی ۔۔۔۔ زاوی بولا
پھر سب ہوسپٹل آئے اور زویا اور زاوی کو مبارک باد دی
________
علی مجھے آپ سے بات کرنی ہے فاطمہ بیگم نے انہیں مخاطب کیا
جی ۔۔۔۔ بولیں کیا بات ہے وہ بولے
وہ دونوں اس وقت اپنے کمرے میں موجود تھے
تو فاطمہ بیگم نے جو کچھ حور نے ہوسپٹل میں کہا وہ سب سن کو بتا دیا
اللہ بہتر کرے گا اللہ سے دعا کیا کرو ۔۔۔۔ علی صاحب ان کو تسلی دی
دعا تو میں اللہ سے کرتی ہوں پتا نہیں کب میری بیٹی کو اس دکھ سے نجات
ملے گی فاطمہ بیگم روتے ہوئے بولیں
سنھبالو خود کو ۔۔۔۔ دیکھو حور نے بھی تو خود کو سنھبالا ہو اہے وہ تو تمھارے
طرح نہیں روتی پھر تم بھی صبر کرو اور بس اللہ سے اس کے لئے دعا کیا کرو اگر ہم کمزور بن گئے تو ہماری بیٹی کا کیا ہو گا
علی صاحب ان کو ساتھ لگایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضا بھائی اور حسن بھائی میں نے دعا اور عائزہ کے موبائیل میں ٹر یسنگ چپ لگائی ہوئی ہےہوئی تھی تاکہ مجھے ان کے پل پل کا پتا لگ سکے
اب میں اپنے ساتھ ساتھ ان چپ کا سسٹم آپ دونوں کے موبائیل میں بھی سیٹ کر دیتی ہوں تاکہ میرے ساتھ ساتھ آپ کو بھی ان دونوں
کی لوکیشن کا پتا چلتا رہےحور نے ان دونوں کو مطلع کیا
حور نے ان دونوں کو یہ بات کرنے کے لئے اپنے گھر بلایا ہوا تھا
وہ دونوں منہ کھولے حور کو دیکھ رہے تھے
کیا ہوا آپ لوگ کچھ بول کیوں نہیں رہے حور نے ان دونوں کوخاموش پا کر
ان سے پوچھا
تم چیز کیا ہو آخر ۔۔۔۔ رضا نے اس سے پوچھا
کیا مطلب بھائی ۔۔۔۔حور نے نا سمجھی ان کی طرف دیکھا
اچھا تم بتاؤ تم نے چپ کیوں لگائی ان کے موبائیل میں ۔۔۔۔ حسن نے
اس سے استفسار کیا
آپ کو تو پتا ہے یہ دنیا اور دنیا والے کتنے برے ہیں میں نے تو اس
لئے چپ لگائی تا کہ خدا نا خاستہ اگر کچھ برا ہو جائے ہمیں کچھ تو پتا
ہو ان کے بارے میں ۔۔۔۔۔ حور نے جواب دیا
کتنی سمجھ دار ہو گئے ہے میری بہن ۔۔۔۔۔ حسن مان بھرے لہجے میں بولا
اچھا تم نے چپ کب لگائی ان کے موبائیل میں ۔۔۔۔۔ رضا نے اس
سے پوچھا
جب میں چودہ سال کی تھی تب ہی لگائی تھی ۔۔۔ حور نے جواب دیا
حور ۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں شوک کی کیفیت میں بولے
تم تو ہماری سوچ سے بھی زیادہ عقل مند ہو حور ۔۔۔۔ رضا نے خوشی کا
اظہار کیا
ہمیں فخر ہے ہماری بہن پر ۔۔۔۔۔ حسن بولا
تھینکس بھائی ۔۔۔۔
پھر اس نے دعا کے موبائیل میں موجود چپ کا سسٹم رضا اور عائزہ کے موبائیل میں موجود چپ کا سسٹم حسن کے موبائیل میں سیٹ کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا آخری سال ہے یونی کا تین سال گزر گئے اور پتا بھی نہیں چلا
دعا اداسی سے بولی
اس وقت دعا ، عائزہ ، مشال ،شیری اور حور یونی کے گراونڈ میں بیٹھے
ہوئے تھے
ہاں صیحح کہہ رہی ہو دعا تم عائزہ بولی
اچھا دکھی کیوں ہو رہی ہو تم دونوں ہم سب نے تو ساتھ ہی رہنا ہے یونی کے بعد بھی شیری بولا
کیا بور کر رہے ہو تم لوگ چلو کنٹین چلتے ہیں مجھے بھوک لگی ہے
حور کو اپنی پڑی تھی
توبہ ہے حور تم کتنا کھاتی ہو جاتا کدھر ہے پتا ہی نہیں چلتا
تم پھر بھی پتلی کی پتلی ہی رہتی ہو کم کھایا کرو وہ نا ہو تم موٹی ہو جاؤ
دعا نے اسے ڈرایا
نہیں ہوتی میں موٹی اور ویسے بھی موٹی ہونے کے ڈ ر سے میں کھانا چھوڑ
دوں کیا حور لاپرواہی سے بولی
ٹھیک ہے چلو کنٹین چلتے ہیں اس سے پہلے کہ حور بول بول کے ہمیں پاگل کر دے عائزہ بولی
وہ سب کنٹین کی طرف چل پڑے
ویسے حور تم کافی مشہور ہو گئی ہو تب سے جب تم نے ان لڑکوں کو لائن میں کھڑا کر کےان کی د رگت بنائی تھی عائزہ بولی
اور تم سب کو نور اور باسل کا یونی کا پہلا دن یاد ہے جب نور کو ایک لڑکے نے تنگ کرنے کی کوشش کی تھی مشال بولی
ہاں یاد ہے سب ہنستے ہوئے بولے
جس دن نور کا پہلا دن تھا اس دن نور اور باسل اپنی کلاس کی طرف جا
رہے تھے جب راستے میں کھڑے کچھ لڑکوں کے گروپ میں سے ایک لڑکےنے نور کا راستہ روکا
ہمیں بھی اپنا دوست بنا لو بے بی ہم بھی بہت اچھے ہیں
کیا بدتمیزی ہے یہ راستہ چھوڑ اس کا باسل غصے سے اس لڑکے سے بولا
کیا کر لو گے تم ہاں بولو ۔۔۔۔ تم ایک ہو اور ہم چار ہیں تم ہمارا کچھ نہیں
بگاڑ سکتے سمجھے وہ لڑکا بولا
تمھاری تو ۔۔۔۔ باسل نے اسے تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ کسی نے اس کا ہاتھ ہوا میں ہی روک دیا
تم ٹھہرو میں دیکھتی ہوں اس کو ۔۔۔۔۔۔ وہ حور تھی جس نے اس کا ہاتھ روکا تھا
ہاں اب بولو کیا بات ہے حور نے اس لڑکے سے پوچھا
تم جانتے بھی ہو یہ کون ہے یہ میری بہن ہے جسے تم تنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہو
سوری غلطی ہو گئی اب آئیندہ ایسا نہیں ہو گا پلیز اس دفعہ معاف کر دیں
وہ لڑکا حور کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا
اچھا کیا معاف جاؤ حور اسے ایک تھپڑ لگاتے ہوئے بولی
اب آئیندہ میری بہن کے آس پاس بھی نظر نا آو سمجھے ۔۔۔۔
وہ لڑکا جی ٹھیک ہے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
اب آئیندہ اگر تم لوگوں کو کوئی تنگ کرے تو میرا نام لے لینا وہ تمھیں
کچھ نہیں کہے گا اور تم سے معافی بھی مانگ کے جائے گا
حور ان دونوں سے بولی
واووو ۔۔۔۔۔ حور تمھاری کیا دہشت ہے یار مان گئی آج میں اپنی بہن کو
تم تو بڑی توپ چیز ہو نور خوشی سے بولی اور حور کے گلے لگ گئی
اچھا اب اپنی کلاس میں جاؤ حور کے کہنے پر وہ اپنی کلاس میں چلے گئے
حور بس کرو کتنا کھاؤ گی حور اب تک دو سموسے ، برگر ، ایک پلیٹ چپس
کھا چکی تھی اس کو اتنا کھاتا دیکھ کر شیری نے اسے روکا
نظر تو نا لگاؤ تمھیں کیا ہے میرے پیسے اورمیرا ہی پیٹ ہے حور نے خفگی کا
اظہار کیا
اچھا نیو ائیر نائٹ پر بائیک ریس ہے تم حصہ لو گی اس میں دعا نے اس
سے پوچھا
ہاں میں اور زاوی بھائی نے حصہ لیا ہے حور نے جواب دیا
چلو آل دی بیسٹ ریس کے لئے دعا بولی
اچھا چلو کلاس میں چلتے ہیں لیکچر شروع ہونے والا ہے مشال کے یاد دلانے پر وہ سب کلاس لینے چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت گناہ گار ہوں اللہ میاں پلیز مجھے معاف کر دیں
وہ رو رو کر اللہ سے معافی مانگ رہی تھی
وہ ہر رات اللہ کے آگے سجدے کرتے اور اللہ سے اپنے دل کی باتیں کرتے ہی گزار دیتی تھی
اللہ میاں پلیز اسے میری زندگی میں واپس نا بھجیئے گا میں نہیں چاہتی کہ وہ واپس آئے کیونکہ میں اس کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہوں اور میں کمزور پڑنا نہیں چاہتی پلیز پلیز اللہ میاں میری دعا کو قبول کر لیں
اگر آج بھی اسے مجھ سے محبت ہے تو وہ کبھی میری زندگی میں واپس نا آئے میں اسے کچھ نہیں دے سکتی میں اس کے قابل بلکل بھی نہیں ہوں وہ بہت اچھا ہے اور میں بہت بری ہوں
پلیز اللہ میری مدد کر دیں مجھے ہمت عطا کر دیں پلیز اللہ
اللہ سے باتیں کرتے کرتے اسے رات کے گزرنے کا پتا نہیں چلا تھا
فجر کی اذان ہونے لگی اس نے نماز ادا کی اور اپنے بستر پر آ کر لیٹ گئی
تھوڑی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنا کچھ بدل گیا ہے ۔۔۔۔ اس نے شہر میں تبدیلی کو دیکھ کر سوچا
وہ دس سال بعد پاکستان آیا تھا
پتا نہیں میری ہنی کیسی ہو گی ۔۔۔۔ اس نے دل میں سوچا
وہ ائیر پورٹ سے ٹیکسی لے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا جہاں اس کی ہنی رہتی تھی
گاڑی ایک خوبصورت سے بنگلے کے آگے رکی اس نے ٹیکسی والے کو کرایہ ادا کیا اور گیٹ پر بل دی
بوڑھے چوکیدار نے گیٹ کھولا
جی کس سے ملنا ہے آپ کو ۔۔۔۔ چوکیدار نے پوچھا
ارے خان بابا آپ نے مجھے پہچانا نہیں میں فیضان صاحب کا بیٹا ہوں
اس نے اپنا تعارف کروایا
ارے بیٹا تم ۔۔۔۔ تم کتنے بڑے ہو گئے جب پہلی دفعہ یہاں آئے تھے تو تیرہ سال کے تھے خان بابا بولے
جی بابا ۔۔۔۔
اور بابا سب کیسے ہیں ۔۔۔۔ اس نے پوچھا
پتا نہیں بیٹا ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا ان سب کے بارے میں
کیا مطلب بابا آپ کو کیوں نہیں پتا
کیوں کہ بیٹا وہ لوگ نو سال پہلے ہی یہ گھر اور اس شہر کو چھوڑ کر
چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے
کہاں چلے گئے بابا آپ کو تو پتا ہو گا آپ تو اس وقت بھی یہاں ہی تھے
پتا نہیں بیٹا انہوں نے صرف اتنا ہی بتایا تھا کہ وہ لوگ یہ شہر ہی چھوڑ
کے جا رہے ہیں
ایک بری خبر اور بھی ہے بیٹا
کون سی بری خبر بابا اس نے پوچھا
آپ کے جانے کے چھ ماہ بعد ہماری گڑیا یہ دنیا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے
چھوڑ کر اللہ میاں کے پاس چلی گئی خان بابا روتے ہوئے بولے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *