Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43
صبح روحان کی آنکھ کھلی تو ہمیشہ کی حورم کو پرسکون اپنی بانہوں میں سوتے
ہوئے پایا
ہنی ۔۔۔۔ روحان نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے پیار سے اسے
پکارا
ہممم۔۔۔۔۔ حورم بولی
اٹھ جاو نہیں تو نماز رہ جائے گی ۔۔۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔۔ حورم نے بند آنکھوں سے کہتے ہوئے اسکے سینے سے اپنا سر اٹھایا اور اپنا سر تکیے پر رکھ کر لیٹ گئی
روحان اسے دیکھ کر مسکرا دیا میں نے اٹھنے کا بولا ہے ہنی دوبارہ سونے کا
نہیں روحان اس کی طرف جھکتے ہوئے بولا
اچھا ۔۔۔۔۔ تم جاو پہلے میں اٹھ جاؤں گی حورم نے آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا
حورم کی آنکھوں میں نیند کا خمار ابھی بھی موجود تھا
روحان نے اسکی دونوں آنکھوں کو چوم لیا جس سے حورم ہوش میں آئی اور اسکی نیند رفو چکر ہو گئی
نئی زندگی کی پہلی صبح بہت بہت مبارک ہو ہنی ۔۔۔۔۔ روحان نے اسکے کان میں سرگوشی کی اور اسکے کان کی لو چومی
تمھیں بھی مبارک ہو حانی ۔۔۔۔ حورم نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے
روحان کی قربت اسکے دل کی دھڑکن کو تیز کر گئی تھی
اور گزری ہوئی رات جو اس نے روحان کی قربت میں گزاری تھی اسکا سوچ
کر حورم سرخ پڑ گئی تھی
یہ اڑی اڑی رنگت یہ بکھری بکھری زلفیں
تیری صبح کہہ رہی ہے بیتی رات کا فسانہ
روحان نے اسکے سرخ پڑتے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے شعر پڑھا
جس سے حورم کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی اسکی نظریں روحان کی طرف اٹھ نہیں پا رہی تھیں اور نا ہی آج اسکی زبان اسکا ساتھ دے رہی تھی وہ اپنے لب کچلنے لگی
انہیں کیوں تکلیف دے رہی ہو روحان نے اسکے ہونٹوں کو اپنے لبوں سے چھوا
روحان مسکراتے ہوئے اسکی پیشانی چومتے ہوئے بیڈ سے اٹھ گیا
وہ حورم کی جان کو اور مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا
اور واشروم میں گھس گیا
اس کے جاتے حورم نے لمبا سانس لیا اور خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی
بیتی ہوئی رات کا سوچ کر اس کے ہونٹوں پر شرمیلی مسکراہٹ نے گھر کر لیا وہ خوش تھی بہت خوش تھی
روحان کے واشروم سے باہر آتے ہی وہ واشروم میں گھس گئی
ان دونوں نے مل کے فجر کی نماز ادا کی
روحان نماز پڑھنے کے بعد بیڈ پر بیٹھ گیا اور حورم اپنے گیلے بال سلجھانے
لگی
روحان یک ٹک اسے ہی دیکھ رہا تھا جو نکھری نکھری سی لگ رہی تھی
روحان اٹھ کر اسکے پاس گیا اور پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا اور اسکی گردن پر موجود تل کو چوما
حورم کو اپنے پورے جسم میں کرنٹ دوڑتا ہوا محسوس ہوا
بہت پیاری لگ رہی ہو ہنی میری نظریں تم سے ہٹنے کو انکاری ہو گئی ہیں ہنی تم خوش تو ہو نا ۔۔۔۔ روحان نے آئینے میں نظر آتے اس کے عکس کو
دیکھتے ہوئے پوچھا اور لمبا سانس لیتے ہوئے اسکے نم بالوں کی خوشبو کو اپنے اندر اتارا
ہاں ۔۔۔۔۔ حورم روحان کے عکس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
روحان نے اسکا رخ اپنی طرف کیا اور اسکی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اس کے گرد حصار بنا لیا
حورم نے اپنی دونوں بانہیں روحان کے گلے میں ڈال دیں
میں بھی بہت خوش ہوں تھینکس ہنی مجھے مکمل کرنے کے لیے میں تمھارے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں آئی لو یو ہنی ۔۔۔۔۔
روحان لو دیتے لہجے میں مسکراتے ہوئے بولا جس سے اسکا ڈمپل عود آیا
آئی لو یو ٹو حانی ۔۔۔۔۔
حورم نے اسکے ڈمپل پر اپنے لب رکھ دیئے
حورم کے اظہار محبت پر روحان نے اسے زور سے خود میں بھینچ لیا اور حورم نے اپنی آنکھیں موند لیں
اسلام علیکم ۔۔۔۔ روحان اور حورم نے ناشتے کی ٹیبل پر سب کو سلام کیا
اور ان کے سب کے ساتھ بیٹھ گئے
سب نے ان کے سلام کا جواب دیا
میرے پاس آپ سب کے لیے ایک خوش خبری ہے ۔۔۔۔۔ حرا بیگم مسکراتے ہوئے بولیں
کون سی خوشخبری آنٹی ۔۔۔۔۔ حورم نے استفسار کیا
مشعل اور اسکے ماما پاپا کو سے بات کی تھی معاذ کے رشتے کے بارے میں
ان سب کو اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے اور اگلے ماہ مشعل کے ماما پاپا پاکستان آ رہے ہیں پھر شادی کی ڈیٹ فکس کریں گے
اور مشعل کی شادی بھی ۔۔۔۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے ان سب کو خوشخبری سے آگاہ کیا
بہت بہت مبارک ہو مشعل حورم نے اسے گلے لگاتے ہوئے مبارک باد دی
تھینکس حورم ۔۔۔۔ مشعل مسکراتے ہوئے بولی
سب نے مشعل کو مبارک باد دی
ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے کاموں پر چلے گئے
حورم اور روحان کمرے میں آ گئے
حانی میں پولیس اسٹیشن جا رہی ہوں پہلے ہی چھٹیاں ہو گئی ہیں
حورم تیار ہوتی ہوئی اس سے بولی
ٹھیک ہے جاو پر ایک ماہ کی چھٹیاں لے کر آنا ۔۔۔۔۔ روحان کے بولنے
پر حیرانگی سے روحان کی طرف دیکھا
ایک ماہ کی چھٹیاں کس لیے حانی ۔۔۔۔
اس لیے کیونکہ ہم ایک ماہ کے کل دوپہر کی فلائٹ سے لندن جا رہے ہیں
ہنی مون کے لیے میں نے ٹکٹ بک کروا لی ہیں ۔۔۔۔ روحان اسکی نرف دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولا
حورم نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور اسے اللہ حافظ کہتی ہوئی پولیس اسٹیشن
چلی گئی
اور روحان آفس چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی صبح جانے سے پہلے ہم تمھارے ماما اور پاپا سے ملنے جائیں گے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے تم نے انکل آنٹی کو آگاہ کر دیا ہے ہمارے جانے کے بارے
میں ۔۔۔۔ حورم نے اس سے استفسار کیا
ہاں میں نے ان کو بتا دیا ہے تم بتاو چھٹیاں مل گئی تمھیں ۔۔۔۔۔
ہاں مل گئی ہیں حانی ۔۔۔۔ حورم نے جواب دیا
رات کا وقت تھا اور سب کے ساتھ ڈنر کرنے کے بعد وہ اپنے روم میں موجود تھے
ہنی ایک بات مانو گئی ۔۔۔۔ روحان لو دیتے لہجے میں اس سے مخاطب ہوا
کون سی بات حانی ۔۔۔۔۔
ایک منٹ ابھی آیا روحان اس سے کہتا ہوا ڈریسنگ روم میں گیا جب واپس
آیا تو اسکے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا
اس نے وہ بیگ حورم کی طرف بڑھایا
حورم نے اسکے ہاتھ سے شاپنگ بیگ لے لیا اور کھولا تو اس میں سے بلیک
کلر کی نائٹی نکلی
نائٹی کو دیکھ کر حورم سرخ پڑ گئی تھی
میں چاہتا ہوں کہ تم یہ پہنا کرو ۔۔۔۔ محبت سے فرمائش کی گئی
حورم بنا کچھ کہے سر ہلاتی ہوئی ڈریسنگ روم میں چلی گئی
وہ روحان کی کسی بھی بات کو منا نہیں کر سکتی تھی وہ اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر چکی تھی تو اس کی یہ خواہش پوری کرنے میں اسے کوئی آر نہیں تھی
نائٹی ریب تن کرنے کے بعد اس نے خود کو ڈریسنگ روم میں گلے آئینے میں دیکھا تو اسے ٹوٹ کر شرم آئی
میں کیسے جاؤں گی حانی کے سامنے اس حالت میں ۔۔۔۔ حورم نے خود
کو دیکھتے ہوئے سوچا
ڈوپٹا اوڑھ لیتی ہوں یہ ٹھیک رہے گا ۔۔۔۔ وہ اپنے آپ کو ڈوپٹے سے
کور کرتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی اس نے لمبا سا سانس اندر کھینچا اور اپنی پوری ہمت جمع کرتی ہوئی ڈریسنگ روم سے باہر آئی
تو روحان کو اپنی طرف ہی متوجہ پایا اس نے اپنا چہرہ جھکا لیا
روحان جو کب سے صوفے پر بیٹھا اسکا ویٹ کر رہا تھا دروازہ کھلنے کی آواز
پر اسکی طرف متوجہ ہوا
اسے دیکھ کر روحان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی جو اپنے گرد ڈوپٹے کو لپیٹے سر جکائے کھڑی تھی
وہ اٹھ کر اسکے پاس آیا
ڈوپٹا کیوں لیا ہوا ہے ہنی ۔۔۔۔ روحان نے کہتے ساتھ ہی اسکا ڈوپٹا اتار کر بیڈ پر اچھال دیا
اور وہ ہونقوں کی طرح روحان کو تک رہی تھی کہ یہ اس نے کیا کیا ہے
روحان نے اس کا سر سے پیر تک اسکا جائزہ لیا تو اسے اپنے ہواس گم ہوتے ہوئے معلوم ہوئے
اسکے ہوش ربا حسن کو دیکھ کر روحان کا خود پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا
دوسری طرف حورم اسکو اپنی طرف دیکھتا پا کر اپنا سرخ پڑتا چہرہ جھکا گئی اسکی نظروں کی تپش سے موم کی طرح پگھل رہی تھی اسکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا
روحان نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو خود سے قریب کیا
اور دوسرے ہاتھ سے اسکی تھوڑی پکڑ کر اسکا چہرہ اونچا کیا
ہنی میری طرف دیکھو ۔۔۔۔۔ روحان کے کہنے پر حورم نے اسکی طرف دیکھا
تھینکس ہنی میری بات ماننے کے لیے ۔۔۔۔روحان اسکی شہد رنگ آنکھوں
میں دیکھتے ہوئے خمار آلود لہجے میں اس سے مخاطب ہوا
حورم نے اسکی آنکھوں میں موجود جذبات کی تاب نا لاتے ہوئے اپنی نظریں جھکا لیں
ہو دسمبر کی شام اور میں
تیرا روم روم سلگا دوں
روحان نے اسکے کان میں سرگوشی کی اور اسکے کان کی لو چوم لی
حورم کا چہرہ اس حد تک سرخ ہو گیا کہ لگتا تھا کہ ابھی اس کے چہرے سے خون جھلکنے لگے گا
روحان نے اسکے لبوں پر اپنے لب رکھ دیئے اور اسے بیڈ تک لے آیا
اسے بیڈ پر لیٹا کر وہ اس پر جھکتا چلا گیا
__________
کیسا لگا تمھیں لندن ہنی ۔۔۔۔ روحان نے اس سے پوچھا
ان دونوں کو لندن آئے ہوئے کافی دن ہو گئے تھے روحان نے اسے بہت سی جہگیں گھومائی تھیں اسکو اپنی یونی گھمائی اسکو اپنے دوستوں سے ملوایا
اور اسکو وہ ہر جگہ دیکھائی جہاں روحان نے اپنی زندگی کے کئی سال گزارے تھے
اب بھی وہ ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کے لیے موجود تھے
بہت اچھا لگا حانی ۔۔۔۔ حورم مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولی
آج میں تمھیں اس سیلون لے کر جاوں گا جہاں سے میں نے
میک اپ کرنا سیکھا تھا روحان نے اسے آگاہ کیا
ٹھیک ہے ۔۔۔۔ حورم نے خوشی کا اظہار کیا
پھر روحان اسے اس سیلون میں لے آیا
ارے روحان تم یہاں کیسے ہو ۔۔۔۔ سیلون کی مالک تانیہ جو کہ روحان کی کلاس فیلو بھی رہ چکی تھی اس نے خوشی سے اس سے استفسار کیا
میں ہنی کو تم سےملوانے اور تمھارا سیلون دکھانے آیا تھا روحان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
ہنی یہ تانیہ اس پارلر کی مالک اور تانیہ یہ ہنی میری وائف روحان نے ان دونوں کا تعارف کروایا
ہیلو ۔۔۔۔ تانیہ نے حورم کی طرف ہاتھ بڑھایا
ہیلو ۔۔۔۔حورم نے گرم جوشی سے مسکراتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا
تو یہ ہے تمھاری ہنی بہت خوبصورت ہے تمھاری ہنی روحان واقعے میں یہ اس
قابل ہے کہ تم جیسے ہینڈسم شخص جس پر یونی کی ساری لڑکیاں مرتی تھیں
نے پارلر کا کام تک سیکھا جب بھی میں تمھیں اسکا ذکر کرتے سنا
تھا تمھاری آنکھوں اور تمھارے لہجے سے اس کے لیے پیار جھلکتا تھا
تم دونوں ایک ساتھ بہت پیارے لگ رہے ہو
تانیہ حورم اور روحان کو دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے ان دونوں سے مخاطب ہوئی
حورم ریڈ کلر کا گھٹنوں تک آتا فراک اس کے اوپر وائٹ کلر کا کوٹ ، وائٹ کلر کا ٹائٹس اور ریڈ کلر کا حجاب لیے جنت کی حور لگ رہی تھی
روحان نے وائٹ کلر کی پینٹ وائٹ کلر کا کوٹ اور ریڈ شرٹ پہنی ہوئی تھی
تھینکس تانیہ ۔۔۔ روحان نے اسکا شکریہ ادا کیا
چلو روحان تمھاری ہنی کو سارا سیلون دکھاتے ہیں تانیہ نے حورم کو سارا سیلون دیکھایا
کافی وقت تانیہ کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ ہوٹل آ گئے جہاں انہوں نے
رہنے کے لیے روم لیا ہوا تھا
ہنی ۔۔۔۔۔ روحان نے پیچھے مڑتے ہوئے اسے پکارا پر وہ وہاں نہیں تھی
ہنی ۔۔۔۔ روحان نے پریشانی سے پھر اسے پکارا
وہ دونوں شاپنگ مال میں آئے ہوئے تھے اور شاپنگ ہی کر رہے تھے روحان ہاتھوں میں شاپنگ بیگ لیے آگے چل رہا تھا اور حورم اسکے پیچھے پیچھے
کچھ دور جا کر روحان نے اسے پکارا تو وہ اسکے ساتھ نہیں تھی
ہنی ۔۔۔۔ روحان پاگلوں کی طرح اسکو پکار رہا تھا اور اسے پورے مال میں دھونڈ رہا تھا
سب کو اسکی تصویر دکھا کر اسکا پوچھ رہا تھا پر وہ اسے کہیں بھی نہیں مل رہی تھی
ہنی کہاں ہو واپس آجاو پلیز ۔۔۔۔ روحان دیوانوں کی طرح اسے پکار رہا تھا
حورم ایک شاپ پر رک گئی تھی کچھ دیر کے بعد اس نے دیکھا تو روحان اسکے پاس نہیں تھا
حانی ۔۔۔۔ حورم نے اسے پکارا پر وہ وہاں ہوتا تو اس کو جواب دیتا
حانی کدھر ہو پلیز آ جاؤ ۔۔۔۔ حورم کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے
وہ مال میں اسے ڈھونڈنے لگی
ایک جگہ اسے روحان نظر آیا جو دیوانوں کی طرح اسے پکار رہا تھا اور اسے ڈھونڈ
رہا تھا
حانی ۔۔۔۔ حورم نے اونچی آواز میں اسے پکارا
ہنی ۔۔۔۔ روحان نے آواز کی سمت میں دیکھا تو حورم کو اپنی طرف دیکھتے
ہوئے پایا
حورم بھاگتی ہوئی اسکے پاس گئی اور اسکے گلے لگ گئی روحان نے زور سے
اسے خود میں بھینچ لیا
کچھ دیر کے بعد خود سے الگ کرنے کے بعد روحان نے اسے خود سے الگ
کیا اور اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر کے اسکے چہرے کا ایک ایک نقش اپنے لبوں سے چھونے لگا
سب لوگ رشک سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے
کہاں چلی گئی تھی ہنی پتا ہے تمھیں اپنے ساتھ نا پا کر میرا کیا حال ہوا تھا
پاگلوں کی طرح تمھیں پورے مال میں دھونڈ رہا تھا
روحان نے اسکا چہرہ اپنا ماتھا اس کے ماتھے پر ٹکاتے ہوئے اس سے شکوہ کیا
سوری حانی میں ایک شاپ پر رکھ گئی تھی مجھے تمھارے ساتھ ہی رہنا چاہیئے
تھا ۔۔۔۔۔ حورم اپنی سانس کو بھال کرتے ہوئے بولی
آئیندہ دھیان رکھنا ہنی ۔۔۔۔۔ روحان اس سے دور ہوا اور اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ
میں لے لیا
حانی ۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہنی ۔۔۔۔
حانی وہ جو سامنے لڑکی ہے نا مجھے لگتا ہے اس نے ہماری وڈیو بنائی ہے
حورم نے سامنے کی اشارہ کیا جہاں ایک لڑکی کھڑی تھی اور اسکے ہاتھ میں موبائیل تھا
میں پتا کرتا ہوں تم یہیں رکو روحان اس سے کہتا ہوا اس لڑکی کے پاس گیا
کچھ دیر کے بعد روحان اس کے پاس آیا
کیا ہوا حانی ۔۔۔۔ حورم نے استفسار کیا
اس نے واقعی میں ہی وڈیو بنائی ہے ۔۔۔۔ روحان نے اسکی بات کی تصدیق کی
پھر ۔۔۔۔ حورم نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
پھر کیا میں نے اس لڑکی سے بولا کے مجھے بھی وڈیو شئیر کر دے پھر اس لڑکی نے مجھ سے میرا فیس بک کا اکائونٹ مانگا میں نے اپنا اکائونٹ نیم اسے بتا دیا
کچھ دیر تک وہ ویڈیو مجھے مل جائے گی ۔۔۔۔ روحان بولا
تم نے وڈیو ڈلیٹ کیوں نہیں کی حانی ۔۔۔۔ حورم نے خفگی کا اظہار کیا
کیونکہ کہ میں چاہتا ہوں کہ ساری دنیا ہماری محبت ہماری دیوانگی کو دیکھے.
جاری ہے
