Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15

مشال کا دل بہت بری طرح سے ڈھرک رہا تھا جب شیری کو کمرے میں داخل ہوا
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔ شیری بولا
وعلیکم اسلام ۔۔۔مشال نے ہلکی سی آواز میں جواب دیا
تم خوش ہو نا مشال اس شادی سے ۔۔۔۔مشال نے صرف ہاں میں ہلایا
یار ریلکس میں کون سا بھوت ہوں جسے دیکھ کر تم اتنا گھبرا رہی ہو
شیری اس کی گھبراہٹ کم کرنے کے لئے مزاحیہ انداز میں بولا
شیری کا اپنے اپ کو بھوت کہنے پر مشال کی ہنسی نکل گئی
شکر ہے تم ہنسی تو۔۔۔۔
یہ تمھاری منہ دکھائی شیری نے اس کے سامنے ڈائمنڈ کا نیکلس کیا
بہت پیارا ہے ۔۔۔۔ مشال نیکلس دیکھ کر بولی
لیکن تم سے کم کیا میں یہ تمھیں پہنا سکتا ہوں
مشال نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اپنا چہرہ جھکا لیا
شیری نے اسے اپنے ہاتھوں سے نیکلس پہنایا
تم جب جب بلش کرتی ہو تو پتا ہے میرا دل کیا کرتا ہے
شیری کے کہنے پر مشال نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا
میرا دل یہ کرتا ہے شیری نے باری باری اس کے دونوں گال چومتے ہوئے
اور اسے اپنے سینے سے لگایا
مشال نے پر سکون ہوتے ہوئے اپنی آنکھیں موند لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی الماری سے اسکی تصویر نکال کر وہ بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی اس نے یہ تصویر سب سے چھپا کر رکھی ہوئی کسی کو بھی اس تصویر کے بارے میں نہیں پتا تھا
پتا نہیں آج تمھاری اتنی یاد کیوں آ رہی ہے اس نے پیار سے تصویر پر ہاتھ پھیرا
پھر وہ دیوانوں کی طرح اس تصویر کو چومنے لگی وہ روتے ہوئے تصویر کو چوم رہی تھی
رات کے اس پہر وہ بری طرح ٹوٹ رہی تھی بکھر رہی تھی رو رہی تھی
بہت بہت محبت کرتی ہوں میں تم سے لیکن میں تمھیں محبت دے نہیں
سکتی یہ میرے بس کی بات نہیں ہے
میں نے کبھی اللہ سے تمھارے واپس لوٹ آنے کی دعا نہیں کی کیونکہ میرے پاس تمھیں دینے کے کچھ بھی نہیں
پھر اس تصویر کو سینے سے لگائے ہی لیٹ گئی اور روتی رہی روتے روتے
پتا نہیں کب وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ا گلی صبح حور نے سب کا ناشتا کو اپنے گھر ناشتے پر بلوایا تھا اس نے اس لئے ایسا کیا تھا کہ دعا ، عائزہ اور مشال تینوں میں سے کوئی اس سے گلہ نا کر سکے کہ وہ ان کی طرف نہیں آئی
ناشتہ کرنے کے بعد حور دعا ، مشال اور عائزہ کو اپنے کمرے میں لے گئی
کیسی گزری رات پھر تم تینوں کی حور شرارت سے ان تینوں سے استفسار
کیا
ان تینوں نے مسکراتے ہوئے اپنا چہرہ جھکا لیا
تم لوگوں کی شکل دیکھ کر ہی لگ رہا ہے کہ بہت اچھی گزری ہے
حور مسکراتے ہوئے بولی
حور نہیں کرو ۔۔۔۔ وہ تینوں بولیں
ہاہاہاہاہا کیوں نا کروں
کیوں کہ ہمیں شرم آ رہی ہے عائزہ سرخ چہرہ لیے بولی
اوکے پھر مجھے بتاؤ کیسی لگی تم لوگوں کو اپنی اپنی منہ دکھائی
بہت اچھی ۔۔۔۔ وہ بولیں
حور تم نے یہ نہیں پوچھا کہ ہمیں منہ دکھائی میں کیا ملا بلکہ یہ پوچھا ہے کہ
کیسی لگی اس کا کیا مطلب ہوا اس بات کا کیا تمھیں پہلے ہی پتا تھا کہ
ہمیں منہ دکھائی میں کیا ملا ہے مشال نے اس سے پوچھا
ہاں مجھے پہلے سے ہی پتا ہے ۔۔۔
وہ کیسے ۔۔۔۔ دعا نے پوچھا
وہ ایسے کہ میں ہی شیری ، رضا بھائی اور حسن بھائی کہ ساتھ جولر پر گئی تھی تم لوگوں کی منہ دکھائی کا گفٹ لینے
اور تم نے ہمیں نہیں بتایا مشال نے خفگی کا اظہار کیا
اگر میں پہلے ہی بتا دیتی تو تم لوگ مجھ سے پوچھتیں کیا لیا ہے اور اگر میں تم کو بتا دیتی کہ کیا لیا ہے تو سرپرائز نا رہتا
ہاں یہ بھی تم نے ٹھیک کہا دعا نے اسکی بات سے اتفاق کیا
چلو اب سب کے پاس چلتے ہیں حور کے کہنے پر وہ سب کے پاس چلی گئی
________
ان سب کے ولیمے کا فنگشن رات کا تھا بہت بڑے ہوٹل میں فنگشن رکھا گیا تھا
دعا اور رضا ، عائزہ اور حسن، مشال اور شیری سٹیج پر موجود تھے
وہ سب ایک ساتھ بہت پیارے لگ رہے تھے
دعا ، عائزہ اور مشال کے ولیمے کے ڈریسسز سیم تھے جو حور نے اپنی پسند سے ان تینوں کے لئے تھے
سکن کلر کی میکسی جس پر گولڈن کلر کا کام کیا گیا تھا اور خوبصورت سے کیے گئے میک اپ میں وہ تینوں بہت پیاری لگ رہیں تھیں
شیری ، رضا اور حسن نے بلیک تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا جس میں وہ تینوں بہت پیارے لگ رہے تھے
حور اپنی فیورٹ دھن ہی پلے کر دو آج ۔۔۔۔ شیری نے اس سے فرمائش کی
ٹھیک ہے ۔۔۔ ابھی کرتی ہوں حور بولی
پھر حور نے اپنی فیورٹ دھن پلے کی سب نے اسے اتنی اچھی دھن بجانے پر داد دی
اسلام علیکم ایوری ون آئی نیڈ یور اٹینشن پلیز
حور کچھ دیر کے بعد مائک لے کر سٹیج پر آ گئی
سب اس کی طرف متوجہ ہو گئے
اتنے میں نور اور باسل کو سٹیج پر لایا گیا اور ان کا نکاح شروع کیا گیا
نور اور باسل ایک دوسرے کے ساتھ بہت پیارے لگ رہے تھے نور نے پرپل کا فراک پہنا ہوا تھا اور باسل نے نیوی بلو تھری پیس وہ دونوں بہت پیارے لگ رہے تھے
سب حیرانگی سے دیکھ رہے تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے
یہ سب کچھ حور کے کہنے پر ہی ہو رہا تھا اس نے اپنے ماما پاپا اور باسل کے ماما پاپا سے بات کی اور ان کو ان دونوں کو نکاح دعا لوگوں کے ولیمے پر کرنے کو راضی کیا وہ لوگ آسانی سے مان گئے انہیں بھلا کیا
اعتراض ہو سکتا تھا گھر کے بچے تھے وہ دوںوں ۔۔۔۔
حور نے باسل اور نور سے بات کی انہیں بھی کوئے اعتراض نہیں تھا اس رشتے سے اور اس لئے آج ان کا نکاح تھا
حور تم نا ہر بار بنا بتائے دھماکہ ہی کرتی ہو کبھی ہمیں بھی بتا دیا کرو
ہم تمھاری کچھ لگتی ہیں کہ نہیں عائزہ نے منہ بنایا
میں تو تم لوگوں کو سرپرائز دینا چاہتی تھی اس لئے نہیں بتایا
اچھا بہت بہت مبارک ہو تم کو تمھاری بہن کا نکاح ہوا ہے آج مشال نے
اسے گلے لگایا
تھینکس مشال ۔۔۔۔۔
حور تم بہت پیاری لگ رہی ہو دیکھو کئی آنٹیاں تمھیں ہی دیکھ رہی ہیں
دعا بولی
حور اس وقت دعا ، عائزہ اور مشال کے ساتھ سٹیج پر موجود تھی اور شیری لوگ
سٹیج پر موجود نہیں تھے
دیکھنے دو میں کیا کر سکتی ہوں اس میں اب ان کو دیکھنے سے تو منع نہیں کر سکتی
حور نے سفید کلر کی فراک اور چوڑی دار پاچامہ پہن رکھا تھا ڈوپٹا کندھے پر اور ہمیشہ کی طرح سر پر حجاب ہی تھا
تم ان باتوں کو چھوڑو اور میری ایک بات کان کھول کر سن لو حور نے اسے
انگلی دیکھا کر وان کیا
کون سی بات دعا نے پوچھا
میرے بھائی کو اپنی حرکتوں اور باتوں سے تنگ نا کرنا سمجھیں
میں نے ان کو کیا تنگ کرنا ہے میری تو ان کے سامنے زبان ہی میرا ساتھ نہیں دیتی دعا نے منہ بناتے ہوئے اپنی حالت بیان کی
پھر اس نے ان تینوں کو شادی کی رات والی بات بتائی کہ کس طرح رضا نے اس سے اظہارِ محبت کروایا
اس کی کہانی سن کر ان تینوں کا ہنس ہنس کے برا حال ہو گیا تھا
تمھارے ساتھ تو اچھا ہوا تمھیں ایسا ہی شوہر ملنا چاہئیے تھا جس کہ سامنے تمھاری زبان نا کھل سکے عائزہ مسکراتے ہوئے بولی
پتا نہیں مجھے کیا ہو جاتا ہے ان کے سامنے زبان میرا ساتھ ہی نہیں دیتی
دعا دکھی ہوتے ہوئے بولی
ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔ تمھارے ساتھ تو واقعی میں برا ہوا اور تم تو جب تک کسی کا سر نا کھاؤ تمھارا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا حور ہنستے ہوئے بولی
تم لوگوں کو اپنے ڈریس کیسے لگے میں نے لئے تھے تم لوگوں کے لئے
حور نے ان سے پوچھا
بہت پیارے ہیں ۔۔۔۔ مشال بولی
ہاں بہت ہی پیارے ہیں ۔۔۔۔ دعا بھی بولی
ہمیں بہت پسند آئے ہیں عائزہ نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی
کچھ دیر کے بعد ویڑ ان کے سامنے کھانا سرور کر کے گیا
اچھا اب کھانا کھا لو باتیں بعد میں کر لینا حور ان سے بولی
سب نے فنگشن کو بہت انجوائے کیا اور فنگشن ختم ہونے کے بعد سب اپنے اپنے گھر چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ ہنی کی تصویر سینے سے لگائے اس دن کو یاد کر رہا تھا جب وہ
اپنی ہنی سے پہلی بار ملا تھا
وہ اپنے ماما اور پاپا کے ساتھ پہلی بار پاکستان آیا تھا اس وقت اس کی عمر تیرہ سال تھی وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا اسکے دادا کی طبیعت خراب تھی اس لئے وہ لوگ پاکستان آئے تھے
اسکے دادا کے گھر کے پاس ایک پارک بھی تھا شام کو وہ پاپا سے پرمیشن لے کر پارک میں گیا
وہ پارک کافی بڑا تھا کچھ دیر پارک میں واک کرنے کے بعد وہ پارک کے ویران حصے میں رکھے ایک بینچ پر بیٹھ گیا
وہاں اسے ایک لڑکی اپنے سے کچھ فاصلے پر گھاس پر بیٹھی نظر آئی
وہ لڑکی عمر سے دس سال کی لگ رہی تھی وہ بہت پیاری تھی پر اداس بیٹھی تھی
________
اس لڑکی کو دیکھ کر اس کا دل کیا کہ جا کر اس لڑکی سے بات کرے اور اس سے پوچھے کہ وہ اتنی اداس کیوں بیٹھی ہے
وہ اس کے پاس گیا اور اسے مخا طب کیا
ہیلو ہنی ۔۔۔۔۔
اس کا دل اسے ہنی بلانے کو چاہا تھا اور اس نے اسے اسی نام سے پکارا تھا
اس لڑکی نے نظر اٹھا کر بھی اسے نہیں دیکھا وہ اور ویسی کی ویسی ہی بیٹھی
رہی
ہنی میں تم سے بات کر رہا ہوں وہ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا
اس لڑکی نے اس کی طرف دیکھ کر اسے ایک گھوری سے نوازہ اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئی اس نے اس لڑکی کو بہت آوازیں دین لیکن وہ نہیں رکی
اس لڑکی کے ساتھ اس نے ایک گارڈ اور عورت کو بھی جاتے دیکھا
اسکے جانے کے بعد وہ بھی گھر آ گیا
وہ اپنے پاپا کے ساتھ ان کے کزن کے گھر گیا
اسکے پاپا کے کزن اس کے دادا کے گھر کے ساتھ ہی رہتے تھے
اس نے ان کے گھر دوبارہ اس لڑکی کو دیکھا وہ اسکے پاپا کے کزن کی بیٹی تھی وہ کچھ دیر سب کے ساتھ بیٹھی اور پھر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی
دوبارہ وہ اسکے سامنے نہیں آئی وہ کافی دیر اس کا انتظار کرتا رہا
لیکن وہ دوبارہ سامنے نہیں آئی
شام کو وہ پھر اس امید پر پارک گیا کہ شاید وہ اسے وہاں مل جائے
اور وہ لڑکی اسے کل کی طرح گھاس پر بیٹھی نظر آئی
وہ اس کے سامنے جا کر بیٹھ گیا
ہیلو ہنی کیسی ہو ۔۔۔۔۔
اس لڑکی نے اس کی طرف دیکھا
میرا نام ہنی نہیں ہے آئیندہ مجھے ہنی نا کہنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو
گا
اوکے اوکے ریلکیس نہیں کہتا میں تمھیں ہنی
تم اتنی اداس کیوں بیٹھی ہو
تمھیں کیوں بتاؤں میں اور تمھیں کیا تکلیف ہے ۔۔۔۔ اس لڑکی نے اسے گھورا
ویسے ہی پوچھا میں نے تو ۔۔۔۔ وہ صفائی دیتے ہوئے بولا
وہ کچھ نہیں بولی اور وہاں سے چلی گئی
ا گلے روز وہ پھر شام کے وقت پارک میں اس لڑکی سے پہلے ہی موجود تھا
وہ لڑکی اس کو دیکھ کر جانے لگی
ہنی پلیز رکو تو کہاں جا رہی ہو
تم کیوں آ جاتے ہو ہر روز یہاں
تم سے ملنے وہ بولا
وہ بنا جواب دیئے وہاں سے چلی گئی
اس کے دادا کی اچانک طبیعت بہت خراب ہو گئی انہیں ہوسپٹل میں
داخل کروانا پڑا
پھر وہ ہو گیا جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے
اس کے دادا کی خواہش پر اس کا نکاح اسکی ہنی سے کروا دیا گیا
پھر اسکے دادا کی طبیعت کافی سنھبل گئی اور وہ گھر واپس آ گئے
وہ روز پارک جاتا تاکہ اپنی ہنی سے مل سکے
اور ہنی ہمیشہ اس سے دور ہی بھاگتی تھی کچھ عرصے بعد ہنی نے اس سے
بات کرنا شروع کر دیا
وہ روز شام کو پارک میں ملتے اور وہ اسکے لئے وائلن پر کوئی نا کوئی دھن پلے
کرتا
تم نے وائلن پلے کرنا کب سیکھا ہنی نے اس سے پوچھا
جب میں دس سال کا تھا تب میں نے سیکھا تھا
مجھے بھی سکھاؤ گے ۔۔۔۔۔ فرمائش کی گئی
کیوں نہیں ضرور سیکھاؤں گا
ہنی تمھارے ساتھ یہ گارڈ اور عورت کیوں ہوتے ہیں
اس نے ہنی کے ساتھ موجود گارڈ اور ایک عورت کو دیکھ کر پوچھا جو ان دونوں سے کچھ فاصلے
پر موجود تھے
اور تھوڑی دیر کے بعد ہنی کو دیکھنے کے لیے آتے تھے
گارڈ اور آیا کو ماما اور پاپا نے میرے کیے رکھا ہے ان
دونوں کے بنا مجھے کہیں بھی اکیلے جانے کی اجازت نہیں ہے
اس لیے یہ ہمیشہ میرے ساتھ ہی ہوتے ہیں
چلو اب چلتے ہیں گھر وہ ہنی سے بولا
وہ سر ہلاتی ہوئی اسکے ساتھ چل دی
ایک دن وہ پارک میں بیٹھا ہنی کا انتظار کر رہا تھا جب وہ بھاگتی ہوئی آئی اور اسکے گلے لگ گئی
کیا ہوا ہنی بھاگ کیوں رہی ہو اس نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے پوچھا
وہ میرے پیچھے کتا لگ گیا تھا وہ ڈ ری ہوئی آواز میں بولی
ہنی ریلکس ۔۔۔۔۔ تمھارے ساتھ گارڈ اور وہ آنٹی بھی ہوتے ہیں وہ کہاں ہیں
وہ میرے ساتھ ہی تھے جب مجھے ایک کتا اپنی طرف آتے ہوئے دیکھائی
دیا ان دونوں نے مجھے بہت آوازیں دیں کہ ہماری طرف آو لیکن پتا
نہیں کیوں میں ان کی بات نہیں مان پائی اور تمھارے پاس آ گئی
میں ہوں نا ہنی کچھ نہیں ہو گا جب تک میں تمھارے ساتھ ہوں تمھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے
تم نا ہنی فائیٹنگ کورس ضرور کرنا تاکہ اگر میں نا ہوں تو تم اپنی حفاظت تو کر سکو
اوکے ٹھیک ہے کر لوں گی اور کوئی حکم جناب کا
ہممممم اور نا تم کھانا بنانا بھی سیکھ لینا تاکہ مجھے مزے مزے کے کھانے بنا کر کھلا سکو
اوکے ٹھیک ہے کھانا بنانا بھی سیکھ لوں گی
اچھا اب تم مجھے اپنی فیورٹ دھن سناؤ ہنی نے فرمائش کی
اس نے ہنی کے لئے اپنی فیورٹ دھن پلے کی
تمھیں یہ گانا اور دھن کیوں پسند ہے ہنی نے دھن سننے کی بعد پوچھا
میں نے جب یہ گانا پہلی بار سنا تو مجھے بہت اچھا لگا اسکی دھن بہت ہی پیاری ہے اس لئے مجھے یہ دھن بہت پسند ہے
تم بہت اچھا وائلن پلے کرتے ہو
تھینکس ہنی تعریف کرنے کے لئے
ان دونوں کا برتھ ڈے ایک ہی تھا اپنے برتھ ڈے پر ان دونوں نے ایک دوسرے کو ٹیڈی بئیر گفٹ کیا
وہ دوںوں روز پارک آتے اور ایک دوسرے کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارتے
ہنی ۔۔۔۔
ہاں کیا ہوا کیا بات ہے۔۔۔۔۔ ہنی نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
وہ دونوں اس وقت پارک میں بیٹھے تھے
وہ درخت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا اور ہنی اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھی تھی
میرے پاس آو گی ۔۔۔۔۔۔ پیار سے کہا گیا
اس نے اپنی ٹانگوں کو پھیلاتے ہوئے ان کے د رمیان ہنی کے بیٹھنے کی جگہ بناتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *