Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29

ان کی ہر چیز سیم کلر اور سیم بر ینڈ کی تھی
سارے گفٹ کھولنے کے بعد روحان نے اسے زور سے اسے خود میں بھینچ لیا
حانی میں تو ابھی تک حیران ہوں کہ ہمارے گفٹ بلکل ایک جیسے ہیں
حورم اسکے سینے سے لگی اپنی حیرت کا اظہار کر رہی تھی
دیکھ لو پھر ہنی ہم بلکل ایک جیسے ہیں اس لئے اللہ نے ہماری جوڑی بنائی
ہے
اور دعا لوگوں کے مطابق بے شرم بھی ۔۔۔۔۔ حورم نے ہنستے ہوئے
اسکو مہندی والی بات کا ذکر کیا جب وہ لوگ ان دونوں کو بے شرم کہہ رہے تھے
ہاں بے شرم بھی ۔۔۔۔۔ روحان نے ہنستے ہوئے اسکی بات اتفاق کیا
سارے گفٹ بہت پیارے ہیں حانی تھینکس آ لوٹ ۔۔۔۔
تمھارے دئیے ہوئے گفٹ بھی مجھے بہت پسند آئے ان سب گفٹز کے لئے تھینکس ہنی ۔۔
چلو ہنی اب اٹھو اور مل کر ان چیزوں کو سمیٹ کر سونا بھی ہے
رات کا ایک بج گیا ہے پھر صبح اٹھنا بھی ہے اگر ہم صبح جلدی نا اٹھے تو
چڑیلوں نے ہمیں اٹھانے آ جانا ہے ۔۔۔۔
روحان نے مصنوئی ڈ رتے ہوئے اسے بھی ڈ رانے کی کوشش کی
ہاہاہاہا ۔۔۔۔ چلو حانی سمیٹتے ہیں سب کچھ ۔۔۔۔۔ حورم ہنستی ہوئی اٹھ کھڑی
ہوئی اور چیزیں اکھٹی کرنے لگی اور روحان بھی اسکی مدد کروانے لگا
ساری چیزیں ڈ رائینگ روم میں رکھ کر وہ بیڈ پر اپنی اپنی جگہ پر لیٹ گئے
ہنی ۔۔۔۔ کچھ دیر کے بعد روحان نے اسے پکارا
ہوں ۔۔۔۔ کیا ہوا حانی
میرے پاس آو گی ۔۔۔۔۔ روحان نے لیٹے ہوئے ہی اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا
وہ اسکے قر یب ہو گئی اور روحان نے اسکا سر اپنے سینے پر رکھ کر اسکے گرد
اپنے بازوں کا حصار بنا لیا
ہنی تمھیں میرا ایسا کرنا برا تو نہیں لگا روحان کا اشارہ اسے اپنے قر یب
کرنے کی طرف تھا
نہیں ۔۔۔۔ حورم نے ہلکی سی آواز میں جواب دیا جو بڑی مشکل سے روحان
کو سنائی دیا تھا
ان دونوں کو ایک دوسرے کی لمس سکون دے رہا تھا کب ان پر نیند کی دیوی مہربان ہوئی ان کو خبر ہی نا ہوئی
________
صبح جب روحان کی آنکھ کھلی تو اسنے حورم کو اپنی بانہوں میں پر سکون سوتا
ہوا پایا
رات کا واقعہ یاد کر کے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
رات کو دو دفعہ حورم نے سوتے ہوئے اسکو پکارا تھا
حانی ۔۔۔ حورم نے اسے ہلایا
ہمممم ۔۔۔۔ کیا ہوا ہنی ۔۔۔۔ روحان نے مندی مندی آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھا
مجھے کروٹ بدلنی ہے میں ایک سائیڈ پر کروٹ لئے تھک گئی ہوں
اسکی بات سن کر وہ مسکرا دیا اور اسے اپنے ساتھ لگائے ہی کروٹ بدل لی
پھر وہ دوبارہ سو گئے
میری ہنی بھی انوکھی ہی ہے اس نے رات والا واقعہ یاد کرتے ہوئے سوچا
حورم کو خود سے الگ کرتے ہوئے اور اسکی پیشانی چومتے ہوئے وہ بیڈ سے اٹھ گیا
ابھی اس نے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا تھا کہ حورم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا
اٹھ کیوں گئے حانی کیا صبح ہو گئی ہے ۔۔۔۔ حورم نے اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے اس سے پوچھا
روحان مسکراتے ہوئے دوبارہ اسکے پاس بیڈ بیٹھ گیا
تم کب جاگیں ابھی تو سو رہی تھی ۔۔۔۔
جب تم نے مجھے خود سے دور کیا تھا میں تب ہی اٹھ گئی تھی
پہلی صبح بہت بہت مبارک ہو ہنی ۔۔۔۔۔
تمھیں بھی مبارک ہو حانی ۔۔۔۔۔۔
اچھا اب اٹھو صبح ہو گئی ہے وضو کرو پھر مل کر نماز پڑھتے ہیں روحان اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے بولا
اچھا پہلے تم فرش ہو جاو ۔۔۔۔ اس وقت میں اپنے ہوش قائم کر لوں کیونکہ
میری آنکھیں ابھی ٹھیک طریقے سے نہیں کھل رہیں وہ مسکراتے ہوئے
بولی
اگر تم کہو تو میں تمھیں لا سکتا ہوں ہوش میں ۔۔۔۔ روحان اسکی طرف جھکتے ہوئے بولا
نہیں تم رہنے دو میں خود ہی اپنے ہوش قائم کر لوں حورم نے اسکا اشارہ سمجھتے ہوئے اسے خود سے دور کیا
اوکے چلو کوئی نہیں ۔۔۔۔ وہ ٹھنڈی آہ بھرتا واشروم میں چلا گیا
پھر ان دونوں نے ایک ساتھ فجر کی نماز ادا کی
نماز پڑھنے کے بعد حورم نے کھڑکیوں سے پردے ہٹائے تو اسے خوبصورت
سا سویمنگ پول نظر آیا
حانی ۔۔۔۔۔۔ حورم نے روحان کو آواز دی جو کہ بیڈ پر بیٹھا
واٹس ایپ گروپ میں دعا کی سینڈ کی گئی اپنی اور حورم اور باقی سب کی تصویریں دیکھ رہا تھا
حورم نے اسے اور ہادیہ کو بھی گروپ میں شامل کر لیا تھا
ہممم ۔۔۔۔ روحان نے پیچھے سے اسے اپنے گھیرے میں لیتے ہوئے اسکی گردن کے پیچھے موجود تل کو چوما اور اپنی تھوڑی اسکے کندھے پر ٹکا دی
حورم کے دل نے ایک بیٹ مس کی
حانی پول بہت پیارا ہے تمھیں تیرنا آتا ہے ۔۔۔۔
ہاں آتا ہے ۔۔۔ روحان نے جواب دیا
مجھے تیرنا سیکھاو گے ۔۔۔۔ حورم نے اسکی گرفت سے آزاد ہوتے ہوئے اسکی
طرف اپنا رخ کیا
جیسے میری ہنی چاہے گی میں ویسا ہی کروں گا روحان نے یہ کہنے کے بعد
اسکے نازک سے ہونٹوں کو چوم لیا
حانی ۔۔۔۔۔ تمھیں تو موقع چاہیئے ہے پھیلنے کا ۔۔۔۔ وہ اسے دور دھکیلتی
ہوئی وہاں سے جا کر صوفے پر بیٹھ گئی
اور روحان مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ آ کر بیٹھ گیا
اچھا چلو ہنی پکس دیکھتے ہیں دعا نے واٹس ایپ کی ہیں ۔۔۔
روحان اور وہ پکس دیکھنے لگے
چلو ہنی بلیک فراک جو میں نے گفٹ کی تھی چینج کر کے آو پھر تیار بھی ہونا ہے ہم ان چڑیلوں کے آنے سے پہلے ہی ان کو ناشتے کے ٹیبل پر
پہنچ جائیں گے
اور حانی تم کیا پہنو گے ۔۔۔۔۔
میں تمھاری گفٹ کی ہوئی بلیک شلوار قمیض پہنو گا آج سے ہم
دونوں میچنگ کے کپڑے پہنا کریں گے ٹھیک ہے ۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے ۔۔۔۔ حورم اس سے کہتی ہوئی چینج کرنے چلی گئی
کچھ دیر کے بعد ڈ رائینگ روم کا دروازہ کھلا اور وہ باہر آئی
روحان نے اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا
اسکا دیا ہوا بلیک فراک پہنے بال کھولے وہ بلکل آسمان سے اتری ہوئی حور ہی لگ رہی تھی
روحان بیڈ پے بیٹھا ہوا تھا وہ اٹھ کر اسکے پاس آیا
بہت پیاری لگ رہی ہو ہنی ۔۔۔۔بلیک کلر تم پر بہت سوٹ کر رہا ہے
روحان نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لئے اور اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ دئیے
چلو اب تمھیں تیار کرتے ہیں ۔۔۔۔ روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے
ڈریسنگ ٹیبل کے سٹول پر بیٹھا دیا
کیا مطلب تیار کرنے کا مجھے ۔۔۔۔۔ حورم نے ناسمجھی سے روحان کی طرف
دیکھا
مطلب یہ ہے کہ ہنی میں نے لندن میں ایک سیلون سے میک اپ کرنا سیکھا تھا تا کہ میں اپنی ہنی کو میں اپنے ہاتھوں سے تیار کر سکوں
روحان نے مسکراتے ہوئے اسکی معلامات میں اضافہ کیا
حانی ۔۔۔۔۔ وہ حیرت سے چیختی ہوئی اسکے گلے لگ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحان نے مسکراتے ہوئے اسکے گرد اپنے بازوں کا حصار بنا لیا
پھر وہ روحان کے گلے میں بانہیں ڈال کر کھڑی ہو گئی اور روحان نے اپنے
دونوں ہاتھ اسکی کمر پر رکھ لئے
کیوں کیا تم نے ایسا ۔۔۔۔ حورم نے روحان کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا
کیونکہ کہ مجھے پتا تھا کہ میری ہنی کو میک اپ کرنا نہیں آتا ہو گا اس لئے میں نے یہ سیکھ لیا اور اب میں ہی تمھیں ہر فنگشن کے لئے تیار کیا کروں گا
روحان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
واقعی میں حانی مجھے میک اپ کرنا نہیں آتا اور نہ ہی میں کبھی میک اپ کرنے کی کوشش کی اور نا ہی کبھی میک اپ کروایا تھا کل میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار میک اپ کروایا تھا
حورم نے اسکی بات کی تصدیق کی
چلو اب بیٹھو میں تمھیں تیار کرتا ہوں پر ایک شرط ہے میری ۔۔۔۔
حورم نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
جب تک میں تمھارا میک اپ مکمل نہیں کر لوں گا تم اپنی آنکھیں بند رکھو گی
ٹھیک ہے حورم اسکی بات مانتی ہوئی اس سے الگ ہو کر ڈ ریسنگ ٹیبل کے سامنے اپنی آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئی
اور روحان نے اس کا میک اپ کرنا شروع کر دیا
روحان کے ہاتھ اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چھو رہے تھے اور حورم کا
دل روحان کے چھونے کی وجہ سے بری طرح دھڑک رہا تھا
چلو اب اپنی آنکھیں کھولو اور خود کو دیکھ کر بتاو کہ میں نے کیسا میک اپ
کیا ہے روحان نے اسکو آنکھیں کھولنے کا بولا
حورم نے خود کو آئینے میں دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی اسکا منہ شاک سے
کھل گیا تھا
روحان نے مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اسکا منہ بند کیا جس سے وہ ہوش
میں آئی
حورم خوشی سے اٹھی اور روحان کا گال چومتے ہوئے اسکے گلے لگ گئی
حانی مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ تم نے اتنا اچھا میک اپ کیا ہے
اسکے لہجے سے خوشی اور حیرانی جھلک رہی تھی
میں نے ہی کیا ہے میری جان ۔۔۔۔ روحان نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے اسے یقین دلایا
روحان نے اسکی آنکھوں کا لائٹ گولڈن اور پنک کلر کا میک اپ کیا تھا
اس کے ہونٹوں پر نیچرل پنک لیپسٹک لگائی تھی
بہت بہت اچھا کیا ہے تم نے حانی مجھے بہت پسند آیا ہے تمھارا کیا ہوا
میک اپ ۔۔۔۔ وہ بہت خوش تھی
چلو اب باقی کی تیاری بھی مکمل کر لیتے ہیں ہنی ۔۔۔۔۔
وہ سر ہلاتی ہوئی دوبارہ ڈ ریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ گئی
روحان نے اسکے بالوں کا خوبصورت سا سٹائل بنا دیا اور اسکے بالوں کی ایک لٹ آگے اسکے چہرے پر ہی رہنے دی
اور اسکے ایک ہاتھ میں اپنی گفٹ کی ہوئی بلیک کانچ چوڑیاں ، دوسرے ہاتھ
میں اپنا دیا ہوا بریسلیٹ اور گلے میں H’’’ ”” والا نیکلس پہنا دیا
نیکلس پہنانے کے بعد روحان نے اپنے ہونٹ اسکی گردن پر موجود تل پر رکھ
دیئے اور حورم کے دل کی اس وقت بہت بری حالت تھی اسکا دل زور سے
دھڑک رہا تھا
اور اسکے کانوں میں اپنے ہی دیئے ہوئے ڈائمنڈ کے ٹوپس پہنا دیئے
پھر اسکا ڈوپٹا اسکے سر پر سیٹ کر دیا
اب وہ مکمل طور پر تیار ہو گئی تھی
بہت ہی پیاری لگ رہی ہو ہنی ۔۔۔۔
یہ کہتے ہی روحان نے اپنے طریقے سے اسکی نظر اتاری
نظر اتارنا ضروری تھا کیا ۔۔۔۔ حورم نے اپنے دھڑکتے دل کو سنھبالتے ہوئے
اسکو گھورا
تم لگ ہی اتنی پیاری رہی ہو کہ میں تمھاری نظر اتارے بنا رہ ہی نہیں سکا روحان مسکراتے ہوئے گویا ہوا
اور اتنا اچھا تمھیں تیار کیا ہے اور بدلے میں مجھے بھی تو کچھ ملنا چاہیئے تھا
روحان نے اسکی شہد رنگ آنکھوں میں اپنی گرے آنکھیں گاڑھ دیں
اچھا اگر ان چڑیلوں نے مجھ سے پوچھ لیا کہ مجھے تیار کس نے کیا ہے تو میں کیا جواب دوں گی ان کو تو یہ بھی پتا ہے کہ مجھے سوائے لیپسٹک کاجل اور مسکارا لگانے کے کچھ اور آتا ہی نہیں ۔۔۔۔
حورم نے اسکی بات کا جواب دینے کی بجائی اس سے ہی سوال کر لیا
جو سچ ہے وہ ہی کہہ دینا روحان نے مسکراتے ہوئے اسکے سوال کا جواب
دیا وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اسکی بات کا جواب نہیں دینا چاہتی اس لئے بات
بدل دی ہے
اوکے ٹھیک ہے اور ہاں ایک بات تو بتاو کیا تمھارے ماما ، پاپا اور ہادیہ کو پتا ہے کہ تم نے میک اپ کرنا سیکھا ہوا ہے
حورم نے اس سے استفسار کیا
نہیں ان کو نہیں پتا ۔۔۔۔۔ روحان نے نفی میں سر ہلایا
تو پھر جب میں نے دعا لوگوں کو بتایا تو انکل آنٹی اور ہادیہ کو بھی پتا چل جائے گا
کوئی بات نہیں اچھا ہے ان کو بھی پتا چل جائے کیونکہ میں ولیمے کے فنگشن کے لئے بھی تمھیں خود ہی تیار کروں گا تب بھی تو ان کو پتا چلے گا
اب ہی پتا جائے تو مجھے کسی کو بتانا نہیں پڑے گا کہ میں کیوں تم کو
پارلر نہیں بھیج رہا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے حورم نے کہتے ہوئے آئینے کی طرف رخ کر کے خود پر روحان کا گفٹ کیا ہوا پرفیوم سپرے کرنے لگی
روحان نے اسے پیچھے سے اپنے گھیرے میں لے لیا اور اپنی تھوڑی اسکے
کندھے پر ٹکا دی
حانی جاو تم بھی چینج کر لو پھر نیچے چلتے ہیں چڑیلیں آنے والیں ہوں گی
حورم اس کی طرف رخ کرتے ہوئے بولی
وہ اسکی پیشانی چومتا ہوا چینج کرنے چلا گیا
جب وہ چینج کر کے آیا تو وہ صوفے پر بیٹھی بلیک ہیل پہن رہی تھی
اسکو باہر آتا دیکھ اٹھ کر اسکے پاس آئی
بہت اچھے لگ رہے ہو حانی ۔۔۔۔ حورم نے اسکی تعر یف کی
حورم کی دی ہوئی بلیک قمیض شلوار میں بہت مردانہ وجہاہت کا منہ بولتا
ثبوت لگ رہا تھا
تھینکس ہنی ۔۔۔
چلو جلدی سے ریڈی ہو جاو پھر ہمیں نیچے بھی جانا ہے سب آ گئے ہوں گے
حورم نے اسے احساس دلایا
آج کا سب کا ناشتا روحان کے گھر تھا
وہ تیار ہونے لگا بال بنائے خود پر حورم کے گفٹ کیے ہوئے پرفیوم
کا سپرے کیا اور اور حورم کی دی ہوئی واچ اور نیکلس لے کر حورم کے پاس بیڈ پر آگیا جو کہ بیڈ پر بیٹھی موبائیل میں مصروف تھی
ہنی ۔۔۔۔
ہاں حانی ۔۔۔۔
مجھے یہ پہنا دو گی ۔۔۔۔ روحان نے اسکے سامنے واچ اور نیکلس کیا
کیوں نہیں ۔۔۔ حورم نے مسکراتے ہوئے اسکے ہاتھ سے دونوں چیزیں لیں
اور اسکو پہنا دیں اور حورم نے اسکے ہاتھ کی پشت کو چوما
پھر روحان نے شوز پہنے
چلو ہنی سیلفی لیتے ہیں ۔۔۔ روحان نے بیڈ سے اٹھ کر اپنا ہاتھ اسکے آگے کیا حورم نے اسکے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی
ان دونوں نے مل کر سیلفی لی
بہت پیاری آئی ہے سیلفی ۔۔۔۔ حورم بولی
سیلفی میں وہ دونوں کندھے سے کندھا ملائے ہونٹوں پر مسکراہٹ لئے
نظر آ رہے تھے
حورم ہیلز کے بغیر روحان نے کندھوں تک آتی تھی
پھر وہ نیچے چلے گئ
_______
یہ حورم کب آئے گی ۔۔۔۔ دعا کو
بے چینی سے حورم کا انتظار کر رہی تھی
دعا ، عائزہ اور مشال کے ساتھ ایک صوفے پر بیٹھی تھی
سب لوگ روحان کے گھر آ چکے تھے اور ڈ رائینگ روم میں موجود تھے
آ جائے گی تمھیں کیا جلدی ہے ۔۔۔۔ مشال نے اسے گھورا
اپنے بیٹے پر بھی دھیان دے لیا کرو جب بھی دیکھو ماما کے پاس ہی نظر آتا ہے ہر وقت الٹے ہی کاموں میں گھسی رہتی ہو ۔۔۔۔۔ عائزہ نے اس پر مصنوئی رعب ڈالا اور اس کا دھیان اور طرف کیا ورنہ اسکا کیا اعتبار وہ حورم اور روحان کے کمرے میں ہی پہنچ جاتی ان کو لینے ۔۔۔۔۔
وہ زیادہ تر عائشہ آنٹی کے پاس ہی رہتا ہے اور میں اپنے بیٹے کا پورا پورا
خیال رکھتی ہوں تم لوگ بھی تو اپنے اپنے بچے اپنی اپنی ساسو ماں کو
پکڑا کر بھول ہی جاتی ہو ۔۔۔۔۔ دعا نے حساب برابر کیا
اور وہ دونوں اسکی بات پر مسکرانے دیں
اب ہم کیا کر سکتی ہیں ہمارے بچے اپنے دادا اور دادی کے ساتھ زیادہ
خوش رہ سکتے ہیں کیوں عائزہ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا
مشال نے عائزہ سے پوچھا
ہاں صحیح کہہ رہی ہو تم عائزہ نے بھی اسکی بات سے اتفاق کیا
لو وہ آگے جب کا انتظار تھا عائزہ نے ان دونوں کا دھیان روحان اور حورم
کی طرف کروایا
جو ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے سیڑھیاں اتر رہے تھے
بہت پیارے لگ رہیں دونوں ایک ساتھ ۔۔۔۔۔ ماشااللہ دعا نے ان دونوں
کی تعر یف کی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *