Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46

حانی کو برین ٹیومر نہیں ہے وہ ریپورٹس غلط تھیں ہمیں آج ہی پتا چلا ہے
حورم نے مسکراتے ہوئے سب کو خوشخبری سے آگاہ کیا
جس سے سب کے مرجھائے ہوئے چہرے کھل اٹھے سب نے حورم اور روحان کو مبارک باد دی اور اللہ کا شکر ادا کیا
بہت بہت مبارک ہو بیٹا تمھیں علی صاحب نے حورم کو گلے لگایا اور اسے مبارک باد دی
تھینکس پاپا ۔۔۔۔ حورم خوشی سے بولی علی صاحب اسکی خوشی کا اندازہ اسکے چہرے سے لگا سکتے تھے
اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم نے حورم کے خوشی سے تمتماتے
چہرے کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا
اللہ بہت بہت شکریہ آپ کا آپ نے میرے بیٹے کو نئی زندگی نواز دی
حرا بیگم نے روحان کی پیشانی چومتے ہوئے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا
فیضان صاحب نے بھی روحان کو گلے لگایا اور اللہ کا شکر ادا کیا
سب نے اچھے ماحول میں کھانا کھایا ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سا وقت گزارا
روحان آفس سے واپس آ چکا تھا اور اپنے روم میں حورم کا انتظار کر رہا تھا
جو کہ ابھی تک واپس نہیں آئی تھی پولیس اسٹیشن سے
حورم روم میں آئی اور آتے ہی سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گئی روحان پریشانی سے اسکے پاس آیا اور اسکے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گیا
کیا ہوا ہے ہنی ایسے کیوں بیٹھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے کیا ۔۔۔ روحان نے اس سے استفسار کیا
پتا نہیں حانی طبیعت بوجھل سی ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔ حورم اسکی طرف دیکھتے
ہوئے بولی
چلو ڈاکڑ کے پاس چلتے ہیں ہنی ۔۔۔۔۔
نہیں حانی آرام کروں گی تو ٹھیک ہو جاوں گی تم ٹینشن نا لو حورم مسکراتے
ہوئے بولی کیونکہ وہ روحان کو پریشان نہیں کرنا چا رہی تھی
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ روحان نے اسکا حجاب اتار دیا
اچھا جاو چینج کرو جا کر پھر سب کے ساتھ ڈنر کرتے ہیں روحان کے کہنے پر وہ سر ہلاتی ہوئی چینج کرنے چلی گئی
پھر وہ دونوں نیچے چلے گئے
کھانا کھانے کے بعد وہ روم میں واپس آ چکے تھے اور اس وقت بیٹھے مووی دیکھ رہے تھے
حورم ایک دم اٹھی اور واشروم کی طرف بھاگی واشروم میں جاتے ہی اس نے
الٹیاں کرنا شروع کر دیں
روحان بھی بھاگا ہوا اس کے پیچھے واشروم میں آیا
ہنی ۔۔۔۔۔
اسے واش بیسن پر جھکا الٹیاں کرتا دیکھ روحان نے اس کے پاس آنے کی کوشش کی
لیکن حورم نے اسکے سینے پر اپنا ایک ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کیا
لیکن روحان کہاں اس سے دور ہونے والا تھا وہ حورم کی کمر سہلانے لگا اور دوسرے ہاتھ سے اسکے بال اس کے چہرے سے ہٹائے
کچھ دیر کے بعد حورم کی طبیعت سنھبلی تو روحان اس اپنی بانہوں میں بھر کر بیڈ تک لے کر آیا اور اسے
بیڈ پر لیٹا دیا
ہنی ڈاکڑ کے پاس چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ روحان پریشانی سے گویا ہوا
نہیں حانی میں اب ٹھیک ہوں شاید دوپہر میں نے جو کھانا کھایا ہے اس کی وجہ سے ایسا ہوا ہے کیونکہ لنچ کے بعد سے میری طبیعت بوجھل سی تھی
حورم نے اسے ٹالنے کی کوشش کی حلانکہ الٹیاں کرنے کے بعد اس میں اب بولنے کی بھی ہمت باقی نہیں بچی تھی
ٹھیک ہے تم سو جاو اب روحان اچھے سے جانتا تھا کہ وہ اس وقت کس حالت میں ہے لیکن وہ نہیں جانا چاہ رہی تھی ڈاکڑ کے پاس
اس لیے روحان نے اسکی طبیعت کے پیش نظر اور فورس نہیں کیا ڈاکڑ کے پاس جانے کے لیے
اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیے لیٹ گیا اور حورم اسکے سینے پر اپنا سر ٹکا کر سو گئی
کچھ دیر کے بعد روحان بھی نیند کی وادی میں اتر گیا
❤️💞💞💞💞💞❣️❣️❣️💞❤️❤️
اگلی صبح وہ دونوں اپنے اپنے کام پر جانے کے لیے تیار ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے
اسلام علیکم ان دونوں نے سب کو سلام کیا اور اپنی اپنی چئیر پر بیٹھ گئے
حورم نے جیسے ہی کھانا کھانا شروع کیا اسکا دل خراب ہونے لگا
اسکو الٹی آنے لگی تھی وہ کرسی دھکیلتے ہوئے بھاگتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی
سب پریشانی سے اسے جاتا دیکھ رہے تھے
روحان بھی اسکے پیچھے جانے لگا لیکن حرا بیگم کے پکارنے پر اسے رکھنا پڑا
کیا ہوا حورم کو بیٹھا وہ ایسے کیوں گئی ہے یہاں سے انہوں نے پریشانی سے
اس سے استفسار کیا
پتا نہیں ماما رات کو بھی ومیٹنگ کرتی رہی ہے اور اب بھی مجھے لگ رہا
ہے اسکا دل خراب ہو رہا ہوگا اس لیے اس طرح روم میں بھاگتی ہوئی گئی ہے
میں دیکھتا ہوں روحان ان کی بات کا جواب دیتا ہوا دوڑتا ہوا
حورم کے پیچھے اپنے روم میں گیا
جبکہ حرا بیگم روحان کے دیئے گئے جواب پر مسکرا رہی تھیں اور فیضان صاحب اور ہادیہ حیرانی سے ان کو دیکھ رہے تھے
کیا ہوا بیگم ایسے کیوں مسکرا رہی ہو ۔۔۔۔
مجھے حورم کی حالت دیکھ کر لگ رہا ہے کہ وہ ماں بننے والی ہے ۔۔۔۔ فیضان صاحب کے سوال کا جواب حرا بیگم نے مسکراتے ہوئے دیا
یہ تو بہت خوشی کی بات ہے فیضان صاحب نے خوشی کا اظہار کیا
سچ میں ماما ۔۔۔۔میں پھوپھو بننے والی ہوں ہادیہ نے خوشی کے جزبات سے
تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ ان سے پوچھا
ہاں بیٹا مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے روحان آتا ہے تو اس کہتی ہوں کہ اسے
ڈاکڑ کے پاس لے کر جائے اور چک اپ کروائے حرا بیگم مسکراتے ہوئے بولیں
ہادیہ خوشی خوشی اپنے کالج روانہ ہو گئی
روحان جیسے ہی روم میں آیا اس نے حورم کو واشروم سے باہر آتے ہوئے پایا
حورم نے قدم اٹھایا ہی تھا کہ اسے چکر آ گیا اس سے پہلے کہ وہ گرتی روحان
نے آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لے لیا اور اسے گرنے
سے بچا لیا
ہنی اب میں تمھاری ایک نہیں سنو گا اور ڈاکڑ کے پاس لے کر جاوں گا
روحان بہت پریشان تھا کہ پتا نہیں کیا ہو گیا ہے میری ہنی کو جو اسکی حالت اتنی خراب ہو گئی ہے
حورم نے صرف سر ہلایا اس میں اب تھوڑی سی بھی ہمت باقی نہیں بچی تھی
روحان اسے اپنی بانہوں میں بھر کر نیچے لے آیا جہاں فیضان صاحب اور حرا
بیگم ان دونوں کا ہی انتظار کر رہے تھے
کیا ہوا روحان حورم کو ۔۔۔۔ روحان کی بانہوں میں حورم کو دیکھ فیضان صاحب پریشانی سے گویا ہوئے
پھر سے ومیٹنگ ہو رہی ہے ہنی کو میں اسے ڈاکڑ کے پاس لے کر جا رہا
ہوں ۔۔۔ روحان نے انہیں بتایا
ٹھیک ہے بیٹا جاو جلدی جاو ۔۔۔۔ حرا بیگم کے کہنے پر وہ حورم کو لیے گاڑی
تک لے آیا اور اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر خود بھی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اور ہوسپٹل کی طرف روانہ ہوگیا
__________
چلو ہنی ۔۔۔۔ روحان نے ہاسپٹل پہنچ کر حورم کو پکارا جو سیٹ سے سر ٹکائے آنکھیں بند کیے بیٹھی ہوئی تھی
روحان اسے اپنے ساتھ لگائے ڈاکڑ کے روم تک لے آیا
کیا ہوا ہے ڈاکڑ میری وائف کو ۔۔۔۔ حورم کا چیک اپ کرنے کے بعد روحان نے ڈاکڑ سے پوچھا
پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ خوشخبری ہے آپ کے لیے آپ کی مسسز پریگنٹ ہیں جس کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہے
ڈاکڑ نے مسکراتے ہوئے انہیں خوشخبری سے آگاہ کیا
سچ میں ڈاکڑ ۔۔۔۔ روحان کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا
جی یہ سچ ہے ۔۔۔۔ ڈاکڑ نے مسکراتے ہوئے ریپورٹس روحان کی طرف بڑھائی
آپ کا بہت بہت شکریہ ڈاکڑ ۔۔۔۔ روحان نے مسکراتے ہوئے ڈاکڑ کا شکریہ ادا کیا
شکریہ کی کوئی بات نہیں میں نے کچھ میڈیسن لکھ دی ہیں یہ ان کو باقاعدگی سے دیجیئے گا اور ان کے کھانے پینے کا بھی خیال رکھیے گا ڈاکڑ نے اسے ہدایات دیں اور مسکرا دی
روحان حورم کو لیے گاڑی تک لے آیا
ہنی ۔۔۔۔ روحان نے حورم کو پکارا جو اپنا سرخ چہرہ لیے مسکرا رہی تھی وہ بھی بہت خوش تھی
بہت بہت مبارک ہو ہنی ۔۔۔تھینکس مجھے اتنی بڑی خوشخبری دینے کے لیے میں بہت بہت خوش ہوں
روحان نے اسے خود سے لگایا اور اسکی پیشانی چومی
تمھیں بھی بہت بہت مبارک ہو حانی ۔۔۔۔۔حورم بولی
ہنی تم خوش ہو نا ۔۔۔۔ روحان نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر لیا
ہاں حانی میں بہت بہت خوش ہوں ۔۔۔۔حورم اسکی آنکھوں میں دیکھتے
ہوئے بولی
جس پر روحان مسکرا دیا اور اسکے لبوں پر اپنے لب رکھ دیئے
پھر وہ دونوں خوشی خوشی گھر کی طرف روانہ ہوگئے
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جہاں فیضان صاحب اور حرا بیگم نے صبری سے ان دونوں کا انتظار کر رہے تھے
بہت بہت مبارک ہو ماما اور پاپا آپ دونوں کو آپ دادا دادی بننے والے ہیں
روحان نے ان کے پاس پہنچتے ہی ان کو خوشخبری سے آگاہ کیا
بہت بہت مبارک ہو بیٹا تم دونوں کو فیضان صاحب خوشی کے جزبات لیے
ان سے مخاطب ہوئے
تھینکس پاپا ۔۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو بیٹا تم دونوں کو اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے
حرا بیگم نے بھی ان کو مبارک باد دی اور حورم کو گلے لگا کر اسکی پیشانی
چومی
تھینکس آنٹی ۔۔۔۔۔ حورم خوشی سے بولی
اچھا تم دونوں اپنے روم میں جاو اور میں رات کے ڈنر کی تیاری کرتی ہوں
آج رات کا ڈنر ہماری طرف ہے تو جب سب ہماری طرف آئیں گے تب ہم سب کو اس خوشخبری سے آگاہ کریں گے حرا بیگم مسکراتے ہوئے بولیں
روحان حورم کو لیے روم میں چلا گیا
اچھا آپ ڈرائیور کے ساتھ جائیں اور مٹھائی کیک وغیرہ لے کر آئیں حرا بیگم
کے کہنے پر فیضان صاحب مسکراتے ہوئے چلے گئے
اور حرا بیگم نے کچن میں چلی گئیں اور ملازمہ کے ہاتھوں حورم اور روحان کے لیے کھانے پینے کی چیزیں ان کے روم میں بھجوائیں کیونکہ ان دونوں نے ناشتہ نہیں کیا تھا
اور خود رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگیں وہ بہت خوش تھیں اللہ نے ان کو اتنی بڑی خوشی سے جو نوازہ تھا
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
یہ لیں سب منہ میٹھا کریں حرا بیگم نے ہادیہ کو اپنے ساتھ مل کر سب کو مٹھائی کھلائی
کس خوشی میں میٹھائی کھلائی جا رہی ہے عائشہ بیگم نے مسکراتے ہوئے
حرا بیگم سے استفسار کیا
پہلے آپ سب منہ تو میٹھا کریں پھر بتاتی ہوں ۔۔۔۔ حرا بیگم مسکراتے ہوئے بولیں
اب بتا بھی دو حرا کہ کیا خوشخبری ہے اب کی بار فاطمہ بیگم نے ان سے پوچھا
خوشخبری یہ ہے کہ میں دادی بننے والی ہوں ۔۔۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے سب کو آگاہ کیا
بہت بہت مبارک ہو آپ سب کو ۔۔۔۔ مصطفی صاحب نے ان سب کو مبارک باد دی
سب نے حورم اور روحان کو گلے لگا کر ان کو مبارک باد دی
روحان اور حورم مسکرا مسکرا کر خوشی سے سب سے مبارک وصول کر رہے تھے
بہت بہت مبارک ہو بیٹا فاطمہ بیگم نے حورم کو لگے لگایا
آپ کو بھی مبارک ہو ماما ۔۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو بیٹا تمھیں ۔۔۔۔ علی صاحب نے بھی حورم کو گلے لگایا اور اسکی پیشانی چومتے ہوئے اسے مبارک باد دی
تھینکس پاپا آپ کو بھی بہت بہت مبارک ہو حورم مسکراتے ہوئے بولی
علی صاحب نے روحان کو گلے لگاتے ہوئے اسے بھی مبارک باد دی
حورم کا بھی بے بی ہو گا کتنا مزا آئے گا نا نور خوشی سے بولی
ہاں بہت مزا آئے گا حورم کا بے بی حورم کی طرح بہت پیارا ہو گا انشااللہ
دعا نے خوشی کا اظہار کیا اور حورم کے گلے لگ گئی
مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کہ میں ماموں بننے والا ہوں ۔۔۔۔ شایان حورم کے گلے لگتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولا
کیوں یقین نہیں آ رہا تم کون سا پہلی بار ماموں بن رہے ہو تم پہلے بھی ماموں بن چکے ہو اور تم دور ہٹو حورم سے میں نے بھی اپنی بہن کو گلے
ملنا ہے ۔۔۔ آیان نے شایان کو حورم سے دور کرنا چاہا پر وہ حورم سے دور نا ہوا
حورم نے مسکراتے ہوئے آیان کے لیے اپنا دوسرا بازو پھیلایا آیان اسکے گلے لگ گیا
بہت بہت مبارک ہو حورم ۔۔۔۔ دونوں ایک ساتھ بولے
تم دونوں کو بھی مبارک ہو آخر کو تم لوگ ماموں جو بننے والے ہو ۔۔۔
حورم مسکراتے ہوئے بولی
اسکے ایک طرف آیان تھا تو دوسری طرف شایان حورم کا یک بازو آیان کے گرد تھا اور دوسرا شایان کے گرد
تم لوگ ہر بار مجھے کیوں بھول جاتے ہو نور ان تینوں کو ایک ساتھ دیکھ کر منہ بناتی ہوئی بولی
آ جاو تم بھی ۔۔۔۔ حورم کے کہنے پر وہ بھی ان سے آ کر لپٹ گئی
سب آنکھوں میں پیار سموئے ان چاروں کو دیکھ رہے تھے
💕💕💕💕💕💕💕
روحان ریلکس رہو حورم ٹھیک ہو گی اسے کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔۔ فیضان صاحب نے اسے تسلی دی جو آپریشن تھیڑ کے سامنے پاگلوں کی طرح ادھر
سے اُدھر ٹہل رہا تھا
حورم آپریشن تھیٹر کے اندر تھی اور اس کا آپریشن ہو رہا تھا ڈاکڑ نے اسے نارمل ڈلیوری کی بجائے آپریشن کا بولا تھا کیونکہ حورم کافی کمزور تھی
کافی دیر ہو گئی تھی حورم کے آپریشن کو چلتے ہوئے اور ابھی تک اسکی کوئی
خبر نہیں تھی کہ وہ کس حالت میں ہے
روحان کو اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی وہ دیوانوں کی طرح ٹہل رہا تھا اور دل میں اللہ سے فریاد کر رہا تھا کہ اس کی ہنی کو کچھ
نہ ہو
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *