Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21
جب حور کی گھر والے واپس آئے تو انہوں نے حور کو بہت بری حالت میں پایا
حور کے ساتھ جو ہوا اسکے بارے میں حور کے ماما پاپا کے علاوہ
کسی کو نہیں پتا تھا اور نا ہی انہوں نے کسی سے اس بات کا ذکر کیا
حور کی جان تو بچ گئی لیکن وہ ایک زندہ لاش بن گئی
جو حور کے ساتھ ہوا یہ ہمارے معاشرے میں کئی بچوں کے ساتھ ہو چکا
ہے
کچھ بچیاں تو کسی کی درندگی کا نشانہ بن کے اپنی زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں
اور جو بچ جاتی ہیں وہ نا زندوں میں شمار ہوتی ہیں نا مردوں میں
جب ایک ننھی سی جان کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہو تو سوچیے اس پر کیا بیتی ہو
گی
ایک لڑکی جو کسی ظالم کے حوس کا شکار ہو جائے وہ ایک عام لڑکی کی طرح
زندگی نہیں گزار سکتی ہے
وہ یا تو ساری سے کٹ کے رہ جاتی ہے یا پھر حور کی طرح اتنی سخت ہو جاتی
ہے کہ کسی بھی مرد کا اعتبار نہیں کر پاتی
چاہے وہ اس سے اسکا کوئی بھی رشتہ ہو
حور کے ساتھ جب یہ ہوا تو اس کے بعد سے اس نے
سب کے ساتھ ملنا کم کر دیا خاموش رہنے لگی سب سے بات کرنی کم کر دی اپنی ہر شام وہ پارک میں گزارتی
پھر اسکی زندگی میں روحان آیا اس نے اسے بدل کے رکھ دیا
وہ نارمل ہونے لگی
روحان کے جانے کے بعد حور نے اپنے اوپر ایک خول چڑھا لیا جو باہر سے بہت مضبوط دیکھتا تھا اور اندر سے بہت کمزور تھا
سب کے ساتھ وہ ہنستی مسکراتی سب کی خوشیوں کا خیال رکھتی
لیکن رات کو اللہ کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر روتی تھی اور صبح خود کو پھر سے نارمل کر لیتی تھی
روحان اس کے پاس آیا اور اسے گلے لگا لیا
چھوڑ مجھے ۔۔۔۔۔حور نے خود چھوڑوانے کی جتنی کوشش کر رہی تھی روحان اس کے گرد اپنی گرفت اور مضبوط کرتا جا رہا تھا
نہیں چھوڑ رہا ۔۔۔۔ اس لئے تمھاری مزاحمت بے کار ہے
میں سب کچھ جانتا ہوں علی انکل نے مجھے اور پاپا کو نکاح سے پہلے سب کچھ بتا دیا تھا اور ہمارا نکاح میری مرضی سے ہی ہوا تھا
جو بھی ہوا تمھارے ساتھ اس میں تمھاری کوئی غلطی نہیں تھی
اور یہ بات تمھارے لئے میری محبت میں کمی نہیں لا سکتی میں کل بھی تم سے محبت کرتا تھا آج بھی کرتا ہوں اور اپنی آخری سانس تک تم سے محبت کرتا رہوں گا روحان نے اسکے سر پر بم پھوڑا
روحان جیسے مرد بھی کم ہی ہوتے ہیں اس دنیا میں جو حور جیسی لڑکیوں کو کھلے دل سے قبول کریں
نا صرف انہیں قبول کریں بلکہ انہیں وہ محبت ، مان اور عزت بھی دیں
جو ایک عام لڑکی کا حق ہوتا ہے
یہاں تو مرد ایک لڑکی کو شک کی بنیاد پر اپنی غیرت کا مسلہ بناتے ہوئے
موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں
حالانکہ اس میں اس بیچاری لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہوتا
سب کچھ جانتے ہو ئے بھی روحان کے دل میں موجود حور کے لیے محبت کم نا ہو سکی
کیونکہ جو کچھ ہوا تھا اس میں حور کا تو کوئی قسور نہیں تھا
حور نے اسکی بات سن کر مزاحمت کرنا چھوڑ دی اور رونا شروع کر دیا
حور چاہے سب کے سامنے جتنی بھی خود کو مضبوط ظاہر کرے
پر ہے تو وہ بھی ایک لڑکی ہی نا جسے بھی کسی کے سہارے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے
روحان نے کچھ دیر اسے رونے دیا
اسے سینے سے لگائے خود بھی رونے لگا
وہ دونوں رو رہے تھے ان دونوں نےبارہ سال بعد ایک دوسرے کا لمس محسوس کیا تھا
ہنی پلیز تم رو تو نا میں نے تمھیں رولانے کے لئے تو یہ بات نہیں بتائی تھی
پلیز چپ کر جاو تمھارے رونے سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے
روحان نے اس کے گرد اپنی گرفت اور مضبوط کر دی اور اسے چپ کروانے کی کوشش کی
تم جاو یہاں سے مجھے نیند آرہی ہے میں نے سونا ہے کچھ دیر بعد اس سے الگ ہوئی
اوکے چلا جاتا ہوں اتنی بھی کیا جلدی ہے تمھیں مجھے بھیجنے کی یہاں سے
میں نے تو سنا تھا کہ حور روتی نہیں ہے پر آج تو حور نے آنسوں کا سمندر ہی بہا دیا ہے روحان اسکی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے بولا
تمھیں اب میں کیا بتاؤں کہ تمھارے سامنے ہی تو رونے کا دل کرتا ہے
حور نے دل میں سوچا
پلیز جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔ حور رخ موڑ کر کھڑی ہو گئی
وہ اسکے پاس آیا اور اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ دئیے
اوکے گڈ نائٹ جا رہا ہوں میں اپنا خیال رکھنا اس سے کہتا ہوا وہ چلا گیا
حور بہت خوش قسمت تھی جسے اللہ نے روحان جیسا شوہر دیا تھا
جو اسے خود سے بھی زیادہ چاہتا تھا
پر حور کیا کرتی وہ خود کو روحان کے قابل نہیں سمجھتی تھی
حور کا دل کیا اسے روک لے پر وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کر پائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلا دن سنڈے کا تھا سب لوگ حور کے گھر آئے ہوئے تھے
نور ، باسل ، آیان ، شایان ، ہانیہ فن لینڈ گئے ہوئے تھے سب بڑے لان میں موجود تھے
اور رضا ، زاوی ، مشال ، شیری ، دعا ، عائزہ ، زویا ، روحان،حسن اور حور لاونچ میں موجود تھے
وہ سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے حور سب سے باتیں کر رہی تھی سوائے روحان کے
حور دعا سے بات کر رہی تھی جب اسکا فون بج اٹھا
اس نے کال اٹینڈ کی
جی جمال بھائی کیسے فون کیا ۔۔۔۔۔ حور نے کال کرنی کی وجہ پوچھی
واہ ۔۔۔۔ یہ تو کمال کر دیا آپ نے میں ابھی آرہی ہوں پولیس اسٹیشن
دوسری طرف سے بات سننے کے بعد حور نے خوشی کا اظہار کیا
سب لوگ حور کی ہی طرف متوجہ تھے
اب ذ را فضل حسین کو فون دیں میں نے اس سے بات کرنی ہے
ہاں فضل حسین اب اگر یہ والا بھاگ گیا نا تو اس کے حصے کی سزا میں نے تمھیں دینی ہے سمجھے کہ نہیں حور اسے وان کیا ایسا کرتے ہوئے حور کے چہرے پر شرارت عیاں تھی
اچھا میں کچھ دیر میں آتی ہوں یہ کہتے حور نے فون بند کر دیا
________
اچھا میں کچھ دیر میں آتی ہوں یہ کہتے حور نے فون بند کر دیا
تم آج بھی جا رہی ہو حور ۔۔۔۔ دعا نے منہ بنایا
میری پیاری سی بھابھی کام ہے اس لئے جا رہی ہوں حور نے اسے رضا کے سامنے بھابھی کہہ کر چھیڑا دعا نے حور کو گھورا
لیکن یہاں کس کو پرواہ تھی
دعا کو اکثر حور رضا کے سامنےبھابھی کہہ کر چھیڑا کرتی تھی
کیا کام آن پڑا اب تمھیں ۔۔۔۔۔ زاوی نے اس پر مصنوئی غصہ کیا
ایک ملزم پکڑا ہے جمال بھائی اور کمال بھائی نے اس لئے میرا جانا ضروری ہے حور نے وجہ بیان کی
حور تم بچارے فضل حیسن کو اتنا تنگ نا کیا کرو وہ تو پہلے ہی تم سے ڈ رتا ہے اور تم اسے اور ڈ راتی ہو ۔۔۔۔۔ عائزہ نےہنستے ہوئے فضل حسین کی حما یت کی
تمھیں پتا تو ہے پچھلا ملزم بھی فضل حسین کی کوتاہی کی وجہ سے بھاگ گیا تھا اور اب میں نہیں چاہتی یہ والا بھی بھاگ جائے اور ویسے بھی فضل حسین کو تنگ کرنے میں مجھے بڑا مزہ آتا ہے
حور نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
ایک بات یاد آئی حور وہ جو پچھلا ملزم بھاگ گیا تھا اس کا کیا بنا رضا نے اس سے پوچھا
آپ کو آ کر بتاتی ہوں بھائی پہلے میں یونیفارم چینج کر آوں حور اس سے کہتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی
کچھ دیر کے بعد جب وہ نیچے آئی تو وہاں دعا ، عائزہ ،مشال ، زویا موجود نہیں تھیں وہ سب کچن میں دوپہر کا کھانا بنانے چلی گئی تھیں
وہ ملزم جو بھاگ گیا تھا کچھ دن کے بعد اس کی جلی ہوئی لاش ملی تھی اسکی گاڑی بے قابو ہونے کی وجہ سے
درخت سے ٹکرا گئی اور گاڑی میں آگ لگ گئی حور نے ان لوگوں کے پاس بیٹھنے کے بعد رضا
پوچھی گئی بات کا جواب دیا
مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ سچ یہ نہیں ہے شیری نے مشکوک نظروں
سے حور کی طرف دیکھا
ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ بلکل یہ سچ نہیں ہے جو میں نے بتایا وہ سب تو کاغذات میں لکھا ہے لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔ حور نے ہنستے ہوئے جواب دیا
تو سچ کیا ہے پھر ۔۔۔۔ روحان نے پوچھا
حور نے روحان کو گھورا کہ وہ کون ہوتا ہے اس سے بات پوچھنے والا
ہاں حور بتاو نا سچ کیا ہے حسن نے بھی پوچھا
تو سچ یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
مجھے پتا تھا کہ وہ بھاگے گا اور میں نے اسے بھاگنے کا پورا موقع دیا
پھر ایک دن بعد اسے کمال اور جمال بھائی کی مدد سے اپنے خفیہ ٹھکانے پر پہنچایا اسے دو دن قید رکھا
یہ کہنے کے بعد حور چپ ہو گئی
پھر کیا کیا تم نے ۔۔۔۔۔ شیری نے اس سے پوچھا
پھر میں نے جو کیا وہ بتاوں یا پھر دکھاؤں آپ لوگوں کو ۔۔۔۔۔ حور نے ان سب سے پوچھا
دیکھا دو ۔۔۔۔ زاوی بولا
ٹھیک ہے ۔۔۔۔ ابھی میں اپنا لیپ ٹاپ لے کر آئی وہ ان سے کہتی ہوئی لیپ ٹاپ لینے چلی گئی
یہ دیکھیں ۔۔۔۔ حور نے ان سب کے سامنے ایک وڈیو پلے کی
وڈیو میں دو لوگ نظر آ رہے تھے ایک کرسی کے ساتھ بندھا ہوا تھا اور دوسرا جو کرسی سے بندھے شخص پیچھے کھڑا تھا اور اسکے منہ پر ماسک اور ہاتھوں پر گلوز تھے
تو کیا حال ہیں مسڑ کے ۔۔۔۔۔ آنے والے تیسرے نے کرسی سے بندھے ہوئے شخص سے پوچھا
آنے والا اور کوئی نہیں حور ہی تھی جس نے بلیک ٹروازر اور بلیک فل سلیوز والی شرٹ کے ساتھ اپنے چہرے پر ماسک اور ہاتھوں پر گلوز پہنے ہوئے تھے
تم نے مجھے اغوا کیا ہے ۔۔۔۔تم نے مجھے اغوا کر کے اچھا نہیں کیا
تم شاید جانتی نہیں ہو میں کون ہوں اور تمھارے ساتھ کیا کر سکتا ہوں
اس شخص نے حور کو دھمکی دی
ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ تم میرے ساتھ کچھ تب کرو گے جب میں تمھیں چھوڑوں گی
تم کیا سمجھتے تھے کہ بھاگ جاؤ گے تو بچ جاو گے یہ بھول تھی تمھاری میں نے ہی تمھیں بھاگنے دیا تا کہ تم بھاگو اور میں تمھیں یہاں لا سکوں
اور کسی کو مجھ پر شک بھی نا ہو
اور میں تمھیں اچھے سے جانتی ہوں اور مجھے یہ بھی پتا ہے کہ میں نے تمھارے ساتھ کیا کرنا ہےیہ کہتے ساتھ حور نے کیھنچ کے تھپڑ اور گھونسا اسکے منہ پر مارا جس سے اسکے منہ اور ناک سے خون نکلنے لگا
تم نے مجھے مارا تم دو ٹکے کی ایس پی ذ را میرے ہاتھ تو کھولو پھر تمھیں میں بتاتا ہوں ۔۔۔۔
بھائی اسکے ہاتھ کھولیں اسکا یہ شوق بھی پورا ہو جائے حور نے پیچھے کھڑے شخص سے کہا
اس نے اسکے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس شخص کے ہاتھ کھول دیئے
اسکے کھڑا ہوتے ہی حور نے اسے ایک ذور کی َکک اسکے پیٹ میں ماری
اور وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ ر کھتے ہوئے نیچے بیٹھتا چلا گیا
اٹھو نا اب اٹھ کیوں نہیں رہے ۔۔۔ حور نے اس کے ایک ہاتھ کو اپنے
جوتے تلے مسلا اور اس کے بال کھینچے
پیٹ میں لگنے ولی َکک اور حور کے ہاتھ مسلنے کے د رد سے کراہ اٹھا
بس اتنی سی ہی ہمت تھی کمزور لڑکیوں پر تم نے اپنی کافی مردانگی آزمائی ہے مجھ پر بھی آزما لو اگر تم نے مجھے ہرا دیا تو تم آزاد ہو ۔۔۔۔ اٹھو لڑو
حور نے اسے چیلنج دیا
وہ اٹھا اور کو ایک گھونسا مارنا چاہا جسے حور نے جھک کر اس کا وار خطا کر دیا
نوٹ بیڈ ٹرے اگین ۔۔۔۔۔ حور نے کہتے ہوئے اسکے سامنے کھڑی ہو گئی
اس نے پھر سے حور مارنے کی کوشش کی اسکا یہ وار بھی حور نے خطا کر دیا
ناو اٹس مائی ٹرن ۔۔۔۔ اسکے سمجھنے سے پہلے حور نے یہ کہتے ہی اپنی ٹانگ گھوما کر ایک َکک اسکےمنہ پر اور دوسری سر میں ماری جس سے اس کے دانت ٹوٹ گئے اور وہ اپنا سر پکڑے نیچے زمین پر بیٹھتا چلا گیا
چلو یہ لو گن اور خود کو چھوٹ کرو حور نے اسکے سامنے گن کی
لیکن اس نے گن لیتے ہی خود کو چھوٹ کرنے کی بجائے گن حور پر
تان دی
اب تم کیسے بچو گئی میرے ہاتھوں سے۔۔۔۔۔
وہ ہمت کرتے ہوئے کھڑا ہوا کیونکہ سر پر لگنے والی َکک کی وجہ سے اسکا سر گھوم رہا تھا اور گن بھی صحیح سے پکڑی نہیں جا رہی تھی پھر بھی وہ حور کو دھمکی دینے سے باز نا آیا
نہیں نہیں پلیز مجھے کچھ نا کرنا مجھے چھوڑ دو تم جا سکتے ہو ۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہا
یہ کہتے ہی حور ہنسنے لگی
میں تو چاہتی ہی یہ تھی کہ تم یہ کرو خود کو مارنے کی بجائے مجھ پر گن تان لو تاکہ مجھے کچھ تو مزہ آئے اس شو کا ۔۔۔۔ہاہاہاہاہا
تم نے کیا مجھے بیوقوف سمجھا ہوا ہے جو گن تمھارے ہاتھ میں
دے دوں تمھاری اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اس گن میں گولیاں نہیں ہیں تم تو بہت ہی بیوقوف ہو ۔۔۔۔
حور نے اسکی عقل پر ماتم کیا
چلو اب اللہ کے حوالے باقی کی سزا اللہ سے لے لینا
یہ کہتے ہوئےحور اس سے دور ہوئی اور کلابازی کھاتی ہوئی اسکے پاس آئی اور اسکی ٹانگوں پر ایک َکک ماری جس سے وہ نیچے گر گیا پھر حور نے اسکی گردن اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے مڑوڑ دی
جس سے وہ موقعے پر ہی چل بسا
چلو جی خس کم جہاں پاک ۔۔۔۔ حور ہاتھ جھاڑتے ہوئے کھڑی ہوئی
ویسے نا تم بہت ہی بیوقوف انسان تھے ایک بار گن چلانے کی ٹرائی تو کرتے
گن میں پوری چھ گولیاں تھیں پر ہائے رے تمھاری قسمت چچ چچ۔۔۔
حور نے اسکے سراہانے کھڑے ہو کر افسوس کیا
چلیں اب اسے ٹھکانے بھی لگا دیتے ہیں حور اپنے ساتھیوں سے کہتی ہوئی
وہاں سے چلی گئی اور وڈیو ختم ہو گئی
وڈیو دیکھ کر سب سکتے کی کیفیت میں تھے اور سب اب حور کو دیکھ رہے تھے
__________
وڈیو دیکھ کر سب سکتے کی کیفیت میں تھے اور سب اب حور کو دیکھ رہے تھے
کیا ہوا آپ سب مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں حور نے ان سے وجہ پوچھی
یہ تم ہی ہو وڈیو میں یا کوئی اور ہے ۔۔۔۔۔ حسن ابھی بھی شاک میں تھا
میں ہی ہوں کیا ہوا ۔۔۔۔۔ حور نے ان سب کی طرف باری باری دیکھا جو ابھی بھی حور کو ہی عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے
کیا ہوا ۔۔۔ تو ایسے پوچھ رہی ہو جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو کیا حال کر دیا تم نے اس کا اور اب پوچھا رہی ہو کیا ہوا ۔۔۔۔ زاوی ابھی بھی شاک میں تھا
جو اسنے کیا میرے مطابق ابھی جو میں نے اسکے ساتھ کیا وہ بھی کم ہے
حور نے غصے سے اسکا ذکر کیا
مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ ہماری حور ہماری گڑیا کسی کو اتنی بری طرح مار سکتی ہے ۔۔۔ رضا شاک کی کیفیت سے نکل ہی نہیں پا رہا تھا
اور تم بیوقوف ہو جو اسنے کہا کہ میرے ہاتھ کھول دو اور تم نے کھول دئیے اور اس سے بڑی بیوقوفی یہ کی کہ اسکے ہاتھ میں لوڈ کی ہوئی گن بھی دے دی اگر وہ گولی چلا دیتا تو ۔۔۔۔۔ روحان نے اس پر غصہ کیا
تو کیا ہوجانا تھا مر جاتی اس سے زیادہ تو کچھ ہو نہیں سکتا تھا
اور ویسے بھی میرا یقین ہے جس دن موت آنی ہے اس دن
آ کر ہی رہنی ہے کوئی بھی اسے روک نہیں پائے گا
حور نے اسے گھورتے ہوئے اسکی بات کا جواب دیا
تمھارے لئے تو مرنا آسان سی بات ہے اور تمھارے بعد ہم سب کا کیا ہوتا ہم سب کی تم میں جان بستی ہے اور تمھیں تھوڑا سا بھی ڈ ر نہیں لگا یہ سب کرتے ہوئے شیری حور کی کہی ہوئی بات کا برا مان گیا
مجھے کیوں ڈ ر لگتا اللہ ہے نا میرے ساتھ اور میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا جو اسکے ساتھ ہوا بلکل ٹھیک ہوا
میرے بس میں ہوتا تو یہ سب کچھ بلکہ اس سے بھی برا ساری دنیا کے سامنے اس کے ساتھ کرتی ایک چھوٹی سی بچی تھی
وہ جس کو اس نے اپنے ہوس کا نشانہ بنا کر مار کر پھینک دیا
یہ سب کہتے ہوئے حور غصے سے لال ہو چکی تھی
مارا تو تم نے اسے تھا پھر اسکی لاش جلی ہوئی کیسے ملی یہ بھی تم نے ہی کیا ہے کیا ۔۔۔؟ رضا نے پوچھا
جی میں نےہی کیا ہے حور نے جواب دیا
کیسے ۔۔۔۔۔ حسن نے استفسار کیا
اسکی لاش لے جا کر ایک ویران سڑک پر موجود اسکی گاڑی میں ڈالی پھر پڑول ڈال کر آگ لگا دی حور نے ساری بات بتائی
اور تم نے یہ وڈیو کیوں بنائی اگر یہ وڈیو کسی کے ہاتھ لگ گئی تو ۔۔۔۔ روحان نے بات ادھوری چھوڑ دی.
جاری ہے
