Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23

اس کی حالت دیکھ کر حور کی یہ حالت ہو گئی ہے
فاطمہ بیگم نے ساری بات بتائی
انہوں نے سب سے جھوٹ بولا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں
کہ ان کو سچ بتانا پڑے کیوںکہ سچ بہت کڑوا تھا اس لئے انہوں نے جھوٹی کہانی بنا کر سنا دی
کیا ہم مل سکتے ہیں حور سے عائزہ نے پوچھا
ہاں کیوں نہیں مل لو ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم نے اسے اجازت دی
سب حور سے ملنے گئے جہاں روحان پہلے سے
موجود تھا وہ تب سے ہی حور کے ساتھ تھا اور ابھی تک حور کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا ہوا تھا
جب وہ روم میں آئے تو حور ڈاکڑ کے دیئے گئے
انجیکشن کے زیر اثر سو رہی تھی اور روحان اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا
سب حور کو دیکھ کر چلے گئے
آنٹی کیا میں آج حور کے ساتھ ہی رہ سکتا ہوں
روحان نے فاطمہ بیگم سے اجازت چاہی جو کہ
حور کو دیکھنے اسکے کمرے میں آئی تھیں
حور سو رہی تھی
کیوں نہیں بیٹا مجھے کوئی اعتراض نہیں پر جب حور سو کے اٹھے گی بہت
غصہ ہو گی تمھیں اپنے کمرے میں دیکھ کر ۔۔۔۔
فاطمہ بیگم نے مسلہ بیان کیا
میں خود ہی سنھبال لوں گا حور کو جب اٹھے گی ۔۔۔۔۔ روحان نے حل پیش کیا
ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمھاری مرضی ۔۔۔۔۔۔وہ اس سے کہتی ہوئیں وہاں سے چلی گئیں
روحان حور کے ساتھ ہی لیٹ گیا اور اسکا سر اپنے سینے پر رکھ کر اسکے گرد اپنے بازوں کا حصار بنا لیا
آئی لو یو ہنی ۔۔۔۔ اب میں تمھاری یہ حالت اور برداشت نہیں کروں گا
تمھیں بہت جلد اپنے پاس لے آوں گا وعدہ ہے یہ میرا تم سے ہنی
روحان نے اسکے سر کو چوما اور اسکے سر پر اپنا سر رکھ کے وہ بھی سو گیا
__________
صبح جب حور کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو روحان کی بانہوں میں پایا
یہ ادھر کیا کر رہا ہے ۔۔۔۔ حور نے اپنا چہرہ اونچا کر کے اسے دیکھتے ہوئے
سوچا پھر اسے آہستہ آہستہ سب یاد آ گیا کہ کل کیا ہوا تھا
کیوں مجھے کمزور کر رہے ہو تم میرے اوپر چڑھے ہوئے خول کو کمزور کر رہے ہو
میں تمھیں کچھ بھی نہیں دے سکتی نا کرو نا میرے ساتھ ایسا۔۔
حور نے اپنا سر اسکے سینے پر ٹکا کر اس سے دل ہی دل میں مخاطب تھی کب حور کے آنسو نکل آئے اسے پتا ہی نہیں چلا اور اسکے آنسو روحان کی شرٹ کو بھگونے لگے
اپنے سینے پر نمی محسوس کر کے روحان کی آنکھ کھل گئی
ہنی ۔۔۔۔ کیا ہوا رو کیوں رہی ہو ۔۔۔۔۔
روحان نے اسے خود سے الگ کیا اور بیڈ پر لیٹا دیا اور خود اس کے اوپر جھک کر اسکے آنسوں اپنے لبوں سے چننے لگا
حور نے اسے دھکا دے کر خود سے دور کیا
نکلو میرے کمرے سے ۔۔۔۔۔ حور نے بیڈ سے اٹھ کر اسے باہر کی طرف اشارہ کیا
بس کر دو ہنی یہ سب کچھ کرنا۔۔۔۔میں تم سے دور نہیں رہ سکتا اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم بھی میرے بغیر نہیں سکتی
روحان اٹھ کر اس کے پاس آیا
میں نے تمھیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ میں تمھارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی
تو کیوں تم میری بات نہیں مان لیتے ۔۔۔۔
کیوں تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتی کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتی ۔۔۔
تمھیں میری قسم ہے ہنی سچ سچ جواب دینا
کیوںکہ میں تمھارے حقوق ادا نہیں کر سکتی ۔۔۔ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے اور یہاں تک تم سے محبت کی بات ہے تمھیں خود سے زیادہ چاہا ہے میں نے ۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے حور کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے
میں تم سے وہ حق کبھی مانگوں گا بھی نہیں مجھے تو صرف تمھارا ساتھ چاہیئے
پلیز مان جاو نا ہنی ۔۔۔۔۔ کیوں خود کو اور مجھے تکلیف دے رہی ہو
تم جا رہے ہو کمرے سے یا میں جاؤں کمرے سے ۔۔۔۔۔ حور پر اسکی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا
بہت سنگدل ہو گئی ہو تم ہنی ۔۔۔۔ لیکن تم جو بھی کر لو میں تمھیں اپنی بنا کر ہی رہوں گا
اسکی پیشانی چومتا ہوا وہ وہاں سے چلا گیا
اور وہ روتے ہوئے نیچے بیٹھتی چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتاؤ تم نے یہ کس کے کہنے پر کیا ۔۔۔۔؟
روحان خان بابا سے پوچھ رہا تھا اس وقت روحان کے سر پر غصہ سوار تھا
روحان کافی دنوں سے خان بابا کو ڈھونڈ رہا تھا جو وہ جگہ چھوڑ کر چلا گیا تھا جہاں روحان اس سے پہلی بار ملا تھا اور اس نے اس کو بتایا تھا کہ حور اس دنیا میں نہیں رہی
اب خان بابا اس کو مل گیا تھا اور روحان نے اسے اٹھوا لیا تھا
میں نے یہ سب کچھ آپ کی ماما کے کہنے پر کیا تھا خان بابا نے اسے وجہ بتائی
ماما کے کے کہنے پر ماما ایسا کیوں کریں گی روحان
بے یقینی کی کیفیت میں خود سے بولا
کیوں مانی آپ نے ماما کی بات ۔۔۔۔۔؟ روحان نے پوچھا
مجھے اپنے بیٹے کے لئے پیسے چاہیئے تھے اس لئے میں نے ان کی بات مان لی خان بابا روتے ہوئے بولا
کیا ہوا تھا آپ کے بیٹے کو اور اب کیسا ہے آپ کا بیٹا ۔۔۔
روحان نےخود کو ٹھنڈا کرتے ہوئے اسکے بیٹے کی طبیعت
دریافت کی
اس کے دل میں سوراخ تھا اب وہ ٹھیک ہے اسکا آپریشن تھا اس کا آپریشن کامیاب ہو گیا تھا خان بابا نے بتایا
اور وہ قبر کس کی تھی جو آپ نے مجھے دکھائی تھی
وہ قبر ایک بچی کی تھی جسے آپ کے سامنے حورم کی قبر بنا کر آپ کے سامنے پیش کیا گیا ۔۔۔۔ بیٹا مجھے معاف کر دو اگر میں ایسا نا کرتا تو میرا بیٹا مر جاتا خان بابا نے اس سے معافی مانگی
ٹھیک ہے اب آپ جائیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو آپ مجھے یاد کر لیجئے گا اور جو بھی ہوا میں نے اس کے لئے آپ کو معاف کیا
یہ میرا کارڈ ہے رکھ لیں
جیتے رہو بیٹا تمھارا بہت بہت شکریہ خان بابا نے اسکا شکریہ ادا کیا
وہ سر ہلاتا ہوا وہاں سے چلا گیا
گھر آکر اس نے اپنی ماما کو فون کیا
کیسی ہیں آپ ماما ۔۔۔۔ اور آپ لوگ کب آرہے ہیں ۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں اور ہماری دو دن بعد کی فلائٹ ہے اور تم کیسے ہو بزنس کیسا جا رہا ہے۔۔۔ انہوں نے جواب دیا
میں بھی ٹھیک ہوں ماما اور بزنس بھی اچھا جا رہا ہے آپ بتائیں پاپا اور ہادیہ کیسے ہیں
وہ دونوں بھی ٹھیک ہیں ۔۔۔۔انہوں نے اسکی بات کا جواب دیا
ماما مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے
ہاں پوچھو بیٹا ۔۔۔
ہنی زندہ ہے چوکیدار نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا روحان نے انہیں آگاہ کیا
تمھیں تمھیں کیسے پتا چلا کہ وہ زندہ ہے وہ ہکلاتے ہوئے بولیں
کیوںکہ میں ہنی سے اور باقی سب سے بھی مل چکا ہوں وہ سب اس گھر کے ساتھ ہی رہتے ہیں جو میں نے لاہور میں لیا ہے
اور آپ کو ایک اور بات بتاؤں میرے اگلوانے پر اس چوکیدار نے اس انسان کا نام بتا دیا جس نے اسے جھوٹ بولنے کا کہا تھا
کون ۔۔۔ کون ہے وہ جس نے اسے یہ سب کہنے کا کہا اسکی ماما نے پوچھا روحان نے ان کی آواز میں واضع لڑکھڑاہٹ محسوس کی
اس نے آپ کا نام لیا آپ نے ایسا کیوں کیا آپ کو میری قسم آپ سچ سچ
میری بات کا جواب دیں
کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ تمھاری شادی حورم سے ہو میں تمھاری شادی اپنی بھانجی مشل سے کروانا چاہتی تھی
میں نے تمھارے اور حورم کے نکاح کو روکنے کی بھی بہت کوشش کی
تمھارے پاپا کو منانے کی بہت کوشش کی کہ وہ یہ نکاح نا کریں
لیکن تمھارے پاپا نے میری ایک نا سنی اور تمھارا نکاح حورم سے کروا دیا
پھر ہم واپس لندن آگئے میں نے سوچا وقت کے ساتھ ساتھ تم حورم کو بھول جاو گے لیکن تم تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے پیچھے پاگل ہوتے گئے پھر تمھارے پاپا نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے واپس جانے کا فیصلہ کیا
میں نے بہت کوشش کی کہ وہ اپنا یہ فیصلہ بدل لیں لیکن تمھارے پاپا نے اس بار بھی میری ایک نہیں سنی اور تمھیں پاکستان بھیج دیا
مجھے پتا تھا کہ تم جاتے ساتھ ہی حورم سے ملو گے میں حورم کے بارے میں پتا کروا اور مجھے پتا چلا کہ وہ لوگ تو یہ شہر کئی سال پہلے ہی چھوڑ کر چلے گئے ہیں پھر میں نے یہ پلین بنایا
کہ حورم کی موت کو تمھارے سامنے پیش کیا جائے اور اسکے لئے مجھے اس چوکیدار کو بھی ساتھ ملانا پڑا
میں یہ اس لئے کیا تاکہ تم حورم کی موت کو سن کر اس کی طرف سے مایوس ہو جاو اور پھر میں تمھاری شادی اپنی بھانجی سے کروا دوں گی
انہوں نے اسکے سامنے اعتراف کیا
بہت برا کیا آپ نے ماما آپ کو شاید اندازہ نہیں میرے پر کیا گزری تھی جب مجھے پتا چلا تھا کہ میری ہنی اس دنیا میں نہیں رہی میں نے وہ
وقت بہت مشکل سے گزارا تھا روحان نے دکھ کا اظہار کیا
مجھے معاف کر دو بیٹا میری وجہ سے تمھیں تکلیف ہوئی حرا بیگم روتے ہوئے بولیں
ماما میں نے آپ کو معاف کیا لیکن میری بات آپ کو منانا ہی ہو گی
کون سی بات روحان ۔۔۔۔
اب آپ واپس آکر حورم کے گھر میرا رشتہ لے کر جائیں گی
تم اسے بھول کیوں نہیں جاتے میں اسے اپنی بہو نہیں بنانا چاہتی یہ بات تم کان کھول کر سن لو ۔۔۔۔ اسکی ماما نے غصے کا اظہار کیا
میں آپ کو دو دن کو ٹائم دے رہا ہوں سوچ لیں
جب آپ واپس آئیں گی تو آپ میرا رشتا آپ کو حورم کے گھر لے کر جانا ہی ہو گا اور اگر آپ نے ایسا نا کیا تو میں آپ کو وہ کر کے دکھاوں گا جو
آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا
روحان نے بھی غصے کا اظہار کیا
تمھارے سر پر اسکے پیار کا بھوت سوار ہو گیا ہے یقینا اس نے تم پر ڈورے ڈالے ہوں گے لیکن میں اس کا کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہونے دوں گی سمجھے تم ۔۔۔۔۔
اس نے ایسا کچھ نہیں کیا جیسا آپ سمجھ رہی ہیں اور آپ کو میری بات ماننی ہی ہو گی
روحان نے غصے سے کہتے ہوئے فون بند کر دیا
اس نے سوچ لیا تھا کہ ماما کو ہر صورت میں منا کر ہی رہے گا اور وہ اپنی مرضی سے اسکی شادی اسکی ہنی سے کروایں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو مجھے پکا یقین ہو گیا ہے کی روحان بھائی ہی حور کے شوہر ہیں دیکھا نہیں تم لوگوں نے اس دن روحان سب کے سامنے حور کو بانہوں میں اٹھا کر لے گئے اسے سی پی آر دیا
اور انکل علی نے کچھ بھی نہیں کہا روحان بھائی کو بلکہ ہم سب کے ماما اور پاپا نے بھی ان سے کچھ نہیں پوچھا
عائزہ نے دعا اور مشال سے اپنے خیالات شیئر کیے
وہ تینوں اس وقت مشال کی طرف موجود تھیں
تم صحیح کہہ رہی ہو مجھے بھی اب یقین ہو گیا ہے اس دن سب کچھ دیکھ کر
مشال بھی بولی
ویسے روحان بھائی اور حور ایک دوسرے کے ساتھ کتنے اچھے لگیں گے نا وہ دونوں کتنے پیارے ہیں ان کی جوڑی چاند اور سورج کی جوڑی ہو گی
دعا نے خوشی کا اظہار کیا
چلو دیکھتے ہیں کب یہ بات سب کے سامنے آتی ہے کہ روحان بھائی اور حور کا نکاح پہلے سے ہی ہو چکا ہے عائزہ بولی
ہممم ۔۔۔۔۔ مشال اور دعا نے بھی اسکی بات پر سر ہلایا
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
انکل اور آنٹی مجھے آپ سے بات کرنی ہے اگر آپ دونوں کی اجازت ہو تو
روحان اس وقت علی صاحب اور فاطمہ بیگم سے بات کرنے کے لئے
ان کے کمرے میں موجود تھا
ہاں بولو بیٹا کیا بات ہے علی صاحب نے پوچھا
میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ حورم کی رخصتی کر دیں میرے ساتھ ۔۔۔۔
پاپا اور ماما دو دن بعد آ رہے ہیں لیکن میں نے پہلے آپ سے یہ بات اس لئے کی ہے کہ میں پہلے آپ کی رائے جانا چاہتا تھا
پھر ماما اور پاپا کو آپ کے پاس بھیجنا چاہ رہا تھا
ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے بیٹا پر حور نہیں مانے گی ۔۔۔۔ علی صاحب بولے
اس کو میں خود ہی منا لوں گا آپ اس بات کی ٹینشن نا لیں روحان نے ان حل پیش کیا
ٹھیک ہے پھر بیٹا اب حور کو منانا تمھاری ذمہ داری ہے فاطمہ بیگم مسکراتے
ہوئے بولیں
آپ حور کو بتا دیجئیے گا کہ میں نے رخصتی کی بات کی ہے یہ بات سنتے ہی وہ میرے پاس آئے گی اور میں اس کو سنھبال لوں گا
ٹھیک ہے میں بتا دوں گی حور کو فاطمہ بیگم بولیں
اوکے اب میں چلتا ہوں اللہ حافظ ۔۔۔۔
بیٹا رات کا کھانا تو کھاتے جاو میں ابھی لگاتی ہوں فاطمہ بیگم نے اسے روکا
آنٹی پھر کبھی صحیح ابھی مجھے ایک دوست کی طرف جانا ہے آج اس نے مجھے ڈنر پر بلایا تھا
اوکے بیٹا ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم بولیں
وہ ان سے اللہ حافظ کہتا ہو وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور میں دو دن سے تم سے بات کرنا چاہ رہی ہوں اور تم دو دن سے ہی صبح جلدی چلی جاتی ہو اور رات گئے واپس آتی ہو
فاطمہ بیگم حور کے کمرے میں موجود تھیں اس سے بات کرنے کے لئے حور پولیس اسٹیشن جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی
سوری ماما کام ہوتا ہے اس لئے جلدی جانا پڑتا ہے اور اسی وجہ سے دیر سے واپسی ہوتی ہے آپ بتائیں کیا بات ہے
حور ان سے بات کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تیاری بھی کر رہی تھی
روحان رخصتی چاہتا ہے اس نے تمھارے پاپا اور مجھ سے بات کی تھی فا طمہ بیگم نے اسکے سر پے بم پھوڑا
حور کے چلتے ہوئے ہاتھ ان کی بات سن کر رک گئے
اسکی تو ایسی کی تیسی۔۔۔۔تمھیں تو میں واپسی پر آ کر بتاوں گی مسڑ
حور نے اپنے دل میں اسے مخاطب کیا
ٹھیک ہے ماما ابھی تو مجھے جلدی ہے میں واپسی پر خود اس سے بات کر لوں گی حور ان کے سامنے تو خود کو نارمل شو کر رہی تھی لیکن اندر سے وہ غصے سے بھری ہوئی تھی اوکے ماما اللہ حافظ میں جا رہی ہوں
تیار ہونے کے بعد وہ ان کو اللہ حافظ کہتی ہوئی چلی گئی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *