Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750

Last updated: 25 July 2026

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob

اس دن شیری تمھیں دیکھتے ہی اپنا دل دے بیٹھا حور نے مسکراتے ہوئے اسے آگاہ کیا
یہ دیکھو شیری کب سے مجھے فون کر رہا ہے کوئی دس بار وہ مجھے کال
کر چکا ہے یہ پتا کرنے کے لئے کہ کیا فیصلہ ہوا
حور نےمسکراتے ہوئے اپنا موبائیل اسکے سامنے کیا
چلو بات کرتے ہیں اس سے ۔۔۔۔ حور نے شیری کی کال ریسو کی اور فون کا سپیکر آن کر دیا تاکہ مشال بھی اسکی بات سن سکے
ہاں بولو کیا بات ہے ۔۔۔۔۔ حور نے انجان بنتے ہوئے اس سے پوچھا
کیا بنا حور ۔۔۔۔۔ شیری نے بے صبری سے پوچھا
وہ شیری بہت بری خبر ہے ۔۔۔۔۔
کیا ہوا حور ۔۔۔۔۔۔۔
وہ نا ۔۔۔۔ وہ نا ۔۔۔۔
کیا وہ نا ۔۔۔۔ وہ نا لگا رکھی ہے حور ہوا کیا ہے جلدی سے بتاؤ نہیں تو مجھے
ہارٹ اٹیک ہو جانا ہے
بے صبر یاں چک کرو مجنوں کی ۔۔۔۔ حور نے موبائیل سائیڈ پر کر کے مشال کے کان میں سرگوشی کی
جس پر مشال نے نے شرما کہ اپنا چہرہ جھکا لیا
حور ۔۔۔۔ کچھ بولو بھی چپ کیوں کر گئی ۔۔۔۔ شیری بولا
وہ مشال کا نکاح بچپن میں ہی اس کے کزن سے کر دیا گیا تھا
اب اسکی کسی اور سے شادی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔ حور نے اپنی ہنسی کو
کو بڑی مشکل سے کنڑول کیا اس وقت شیری کی حالت سوچ سوچ کر حور
کا قہقہے لگانے کو دل کر رہا تھا
ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ صرف میری ہے کسی اور کی نہیں ہو سکتی میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں میں اسے کسی اور کا کبھی نہیں ہونے
دوں گا میں اسکے کے کزن کو جان سے ہی مار دوں گا
بتا دینا اس کے گھر والوں کو ۔۔۔۔۔۔ شیری طیش میں آتے ہوئے بولا
شیری کا اتنا کہنا تھا بس پھر کیا تھا حور فون کان سے لگائے
ہاتھ پیٹ پر رکھے ہنسنے لگی اور مشال شیری کی باتیں سن کر شرم سے لال ہو گئی تھی
یہاں میری جان پر بنی ہے اور تمھیں ہنسی آ رہی ہے ۔۔۔۔۔ شیری غصے
سے بولا
کتنے جزباتی ہو نا تم میں تو تم سے مزاق کر رہی تھی اور تم سیریس ہی ہو گئے
حور ہنسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
حور کی بچی تم نے میری جان ہی نکال دی تھی تم واپس آؤ پھر تم کو
بتاتا ہوں میں ۔۔۔۔ شیری نے خفگی کا اظہار کیا
ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا اب خوش خبری بھی سن لو
کیا بنا جلدی سے بتا دو اب اور صبر نہیں ہوتا ۔۔۔ شیری کا زیادہ ہی بے صبری تھی
دو دن بعد تمھارا اور مشال کا نکاح ہے اور پڑھائی ختم ہونے کے بعد رخصتی ہو گئی بہت بہت مبارک ہو تمھیں
تھینکس حور یہ سب تمھاری ہی وجہ سے ممکن ہوا ہے تم بہت اچھی ہو
شیری کے لہجے سے خوشی جھلک رہی تھی
اچھا اب ذیادہ مسکا نا لگاؤ سمجھے ۔۔۔۔۔ تم میرے بھائی ہو اور اپنوں کے
لئے تو میں کچھ بھی کر سکتی ہوں
اور تم نے جو کچھ بھی ابھی تک کہا ہے وہ سب مشال نے بھی سنا ہے
کیونکہ میں اس وقت اسکے کمرے میں ہوں اور میں نے سپیکر آن کیا ہوا
تھا حور نے اسے بتایا
یہ تو اچھی بات ہے اس نے بھی سن لیا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں
شیری بولا
سن لیا تم نے شیری کیا کہہ رہا ہے حور نے مشال کو چھیڑا
مشال نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا صرف اپنا جھکا ہوا چہرہ
اور جھکا لیا
یار مشال مجھ سے کیوں شرما رہی ہو میں کون سا شیری ہوں حور اسے تنگ
کیا
مشال نے حور کو گھورا
حور کی بات سن کر شیری نے قہقہہ بے ساختہ تھا
جو حور کے ساتھ مشال نے بھی سنا ۔۔۔۔۔
مشال بہت بہت مبارک ہو شیری اس سے بولا
مشال نے کوئی جواب نا دیا
جواب نہیں دو گی ۔۔۔۔ شیری نے مشال سے پوچھا
وہ جواب نہیں دے گی اسے تنگ نہیں کرو چلو فون بند کرو اب
حور اس سے بولی
اوکے اللہ حافظ ۔۔۔۔۔ شیری نے اللہ حافظ کہہ کے فون بند کر دیا
مچھے آپ سب کو ایک خوشخبری دینی ہے ندا بیگم سب سے بولیں
وہ سب زاوی کے گھر ڈنر کے لئے آئے ہوئے تھے زاوی اور زویا بھی واپس آ چکے تھے
کون سی خوشخبری ۔۔۔۔۔۔ حنا بیگم نے پوچھا
دو دن بعد شیری کا نکاح ہے
شیری کا نکاح ۔۔۔۔۔۔ دعا اور عائزہ ایک ساتھ بولیں
لڑکی کون ہے ۔۔۔۔۔ صبا بیگم نے پوچھا
مشال نام ہے اس کا ۔۔۔۔۔ حور لوگوں کی دوست ہے وہ ندا بیگم نے جواب دیا
مشال ۔۔۔۔۔۔۔ دعا اور عائزہ ایک ساتھ چیخیں اور اپنی جگہ سے کھڑی ہو
گئیں ان کا ری ایکشن دیکھ کر شیری اور حور دونوں ہنس رہے تھے
بہت مبارک ہو ۔۔۔۔ سب نے شیری کو مبارک باد دی
اتنا کچھ ہو گیا اور ہمیں کسی نے کچھ نہیں بتایا دعا نے ندا بیگم سے شکوہ
کیا
ہمیں حور نے منع کیا تھا اس لئے کسی کو نہیں بتایا وہ سب کو سرپرائز
دینا چاہتی تھی اس لئے ندا بیگم مسکراتے ہوئے بولیں
اس کا مطلب ہے حور کو بھی سب پتا تھا یہ شیری ایسا ہی کرتا ہے حور کو ہی سب کچھ بتا دیتا ہے اور ہمیں کچھ بھی نہیں بتانا پسند نہیں کرتا
عائزہ نے منہ بنا لیا
ایسی کوئی بات نہیں ہے ہم تو تم لوگوں کو سرپرائز دینا چاہتے تھے حور نے مسکراتے ہوئے صافی پیش کی
اچھا تو مشال ہی وہی لڑکی ہے جسکا تم نے کہا تھا کہ وقت آنے پر بتاؤں
گا دعا نے اس سے پوچھا
ہاں وہ مشال ہی ہے شیری بولا
اچھا بہت بہت مبارک ہو دعا اور عائزہ نے بھی اسے مبارک باد دی
تھینکس ۔۔۔۔ شیری بولا
واہ ۔۔۔۔ حور تم نے بہت کارنامے انجام دیئے ہیں میرے پیچھے زاوی اس سے بولا
کبھی غرور نہیں کیا میں نے حور نے ایک ادا سے جواب دیا
اچھی بات ہے ۔۔۔۔۔ زاوی ہنستے ہوئے بولا
آپ لوگوں کا ٹریپ کیسا رہا حور نے ان سے پوچھا
بہت اچھا ۔۔۔۔۔ زاوی نے جواب دیا
شیری کے نکاح سے ا گلے روز میرے ، حسن بھائی ، رضا بھائی ، شیری اور
آپ کے درمیان بائیک ریس ہو گی
اور ہارنے والے سب لوگوں کو مل کر جیتنے والے سمیت سب گھر والوں کو ڈنر کروانا ہو گا
آپ کو منظور ہے یہ ۔۔۔۔۔ حور نے زاوی سے پوچھا
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے
اوکے پھر ڈن ہو گیا ۔۔۔۔۔ حور بولی
سادگی سے شیری اور مشال کا نکاح کیا گیا نکاح کی تقر یب میں صرف گھر
کے ہی لوگ شامل تھے سب لوگ مشال کے گھر موجود تھے
شیری اور مشال ایک ساتھ بہت اچھے لگ رہے تھے
سب لوگ بہت خوش تھے شیری سب سے زیادہ خوش تھا اس کی تو دل
کی مراد پوری ہو گئی تھی
رضا بھائی اور حسن بھائی مجھے آپ دونوں سے بات کرنی ہے حور نے ان دونوں کو سب سے الگ کھڑا دیکھ کر کہا
کیا بات ہے گڑیا ۔۔۔۔۔ نے پوچھا
یہ آپ دونوں کو آجکل ہو کیا گیا ہے میں نے کافی دفعہ نوٹ کیا ہے اس بات کو ۔۔۔۔۔
کیا ہوا حور کس بارے میں بات کر رہی ہو ۔۔۔۔ حسن نے اس سے پوچھا
بات یہ ہے کہ جب دیکھو آپ دعا کو اور رضا بھائی عائزہ کو گھورتے رہتے ہیں
حور حسن سے بولی
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے رضا فورا بولا

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *