Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13

کلاس کے سی آر اور جی آر کون ہیں پلیز سٹینڈ اپ سر کبیر بولے
حور اور شیری کھڑے ہو گئے
حور کو دیکھتے ہی وہ اس کو دیکھتا ہی رہ گیا پتا نہیں کیوں جب بھی اسے دیکھتا تھا اس سے نظر ہٹتی ہی نہیں تھی
آپ دونوں اپنا انٹرو کروایں اس نے خود کو سنھبالتے ہوئے ان دونوں
سے کہا
ان دونوں کے انڑو کے بعد اس نے ساری کلاس سے اپنا انڑو کروانے
کا بولا
لیکن اس کا سارا دھیان حور کی طرف تھا
چلیں اب ہم آج کا لیکچر شروع کرتے ہیں پھر اس نے کلاس کو پڑھانا
شروع کر دیا
واہ یار کبیر سر کتنے ہینڈسم ہیں نا ۔۔۔۔ دعا ان سب سے بولی
اے لڑکی چپ کر نہیں تو میں نے حسن بھائی کو بتا دینا ہے کہ تمھیں
سر ہینڈسم لگتے ہیں حور نے مسکراتے ہوئے اسے دھمکی دی
تم تو میری دشمن ہی رہنا ہمیشہ دعا منہ بنایا
چلو ڈ رامے باز گھر چلتے ہیں حور نے اسے گاڑی میں بیٹھنے کا بولا
میری بیٹی کا پڑھائی ختم ہونے کے بعد کیا کرنے کا ارادہ ہے
وہ سب اس وقت کھانے کی ٹیبل پر موجود تھے جب علی صاحب نے حور
سے پوچھا
پاپا میں سی ایس ایس کے ایگزیمز پاس کرنے کے بعد پولیس میں جانا
چاہتی ہوں پلیز پاپا منع نا کیجئے گا پلیز پلیز ۔۔۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے جیسے میری بیٹی کی مرضی ۔۔۔۔ علی صاحب بولے
کوئی ضرورت نہیں ہے پولیس میں جانے کی فاطمہ بیگم بولیں
پلیز ماما مان جائیں نا ۔۔۔۔ حور ان کی منت کی
مان جاو بیگم ہمیں صرف اپنی بیٹی کی خوشی دیکھنی ہے جس میں ہماری
بیٹی خوش ہمیں وہ ہر بات منظور ہے
ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی مجھے کوئی اعتراض نہیں فاطمہ بیگم بھی مان گئیں
تھینکس ماما اور پاپا ۔۔۔۔ حور چہچہاتے ہوئے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر اچھا پڑھاتے ہیں نا مشال نے ان سب سے انکی سر کے بارے میں رائے جانی
ہاں واقعی سر بہت اچھا پڑھاتے ہیں سب کچھ سمجھ آ جاتا ہے دعا اس کی بات سے متفق تھی
وہ سب اس وقت گراونڈ میں موجود تھے
یار ایک میں ان پیپرز سے بہت تنگ ہوں مڈ ٹرم ختم ہوتے ہیں تو فاعنل
کے پیپر سٹارٹ ہو جاتے ہیں
اب پھر سے فاعنل کے پیپر سٹارٹ ہونے والے ہیں عائزہ اپنے لہجے میں دنیا جہاں کا دکھ سموئے بولی
یہ تو تم نے سو آنے سچ والی بات کی ہے عائزہ شیری نے بھی اسکی بات
سے اتفاق کیا
چلو کوئی نہیں یہ ہمارے لاسٹ پیپر ہیں اس کے بعد سب ٹینشن ختم
حور ان کو تسلی دی
شکر ہے ہمارا بی ایس ختم ہو جائے گا مشال نے شکر ادا کیا
اور اس کے بعد تم شیری کے گھر اور دعا ، عائزہ کے گھر ، عائزہ ،دعا کے گھر ہے نا حور ہنستے ہوئے ان سب کو چھیڑا
حور کی بچی وہ تینوں ایک ساتھ بولیں
وہاں سے گزرتے کبیر نے بھی اسے ہنستے ہوئے دیکھا تھا اور ہمیشہ کی طرح
وہ اسکو دیکھ کر رک گیا تھا کچھ دیر کے بعد خود پر قابو پانے کے بعد
وہ وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر آج ہمارا آخری سیمیسڑ کا آخری دن ہے کیوں نا ایک گیم ہی کھیل لی جائے شیری کبیر سر بولا
اوکے از یو وش آئی نیور مائنڈ ۔۔۔۔ سر کبیر کو کوئی اعتراض نہیں تھا
اوکے تو گیم یہ ہے کہ میں سب کے پاس ایک بوکس لے کر آوں گا
اور آپ سب نے اس میں ایک پرچی پر کچھ بھی لکھ کر ڈال دینا ہے
آپ پرچی پر کوئی بھی سوال لکھ سکتے ہیں آج آپ سب کو کھلی چھٹی ہے
سب سے پرچیاں اکھٹی کرنے کے بعد میں بوکس ڈائس پر رکھ دوں گا
باری سب ڈائس کے پاس آئیں گے اور اس پرچی پر جو بھی لکھا ہو گا اسکا جواب آپ کو دینا ہو گا
ٹھیک ہے شیری نے ساری کلاس سے پوچھا
یس ۔۔۔۔ ساری کلاس نے جواب دیا
سر آپ بھی ایک پرچی ڈالیں گے اور پھر ایک پرچی نکالیں گے بھی
شیری سر سے مخاطب ہوا
ٹھیک ہے جو پرچی لاسٹ پر رہ جائے گی میں اس پر لکھے سوال کا جواب دوں گا کبیر سر نے حامی بھری
اب آپ سب حلف اٹھائیں کہ جو بھی سوال پوچھا گیا ہو گا آپ سب اس کا سچ سچ جواب دیں گے آپ کو آپ کے سب سے پیارے اور
عزیز انسان کی قسم اوکےسب سے پرچیاں اکھٹی کرنے کے بعد شیری نے سب سے حلف لیا
چلیں ہم گیم لاسٹ رول نمبر سے شروع کرتے ہیں شیری بولا
سب سے لاسٹ رول نمبر والا سٹوڈینٹ آیا ڈائس کے پاس اور ایک پرچی نکالی
کیا لکھا ہے اس میں سر نے اس سے پوچھا
اس میں لکھا ہے کہ کیا آپ نے کبھی امی سے ہینگر سے مار کھائی ہے
تو بتائیں اس کا جواب سر نے پوچھا
ہاں بہت بار کھائی بچپن میں اس نے جواب دیا
پھر باری باری کئی سٹوڈینٹس نے اپنے حصے میں آئی پرچی پر لکھے سوال کا جواب دیا
پھر مشال کی باری آئی اس نے اس نے پرچی اٹھائی اور اسے کھولا
بولیں مس مشال کیا لکھا ہے پرچی میں مشال کے نا بولنے پر سر نے کہا
اس میں لکھا ہے کہ اپنے لو ون کا نام بتائیں اور اس سے اپنا رشتہ بھی
تو بتائیں ۔۔۔۔ سر بولے
شیری نے مشال کو اپنی نظروں کے حصار میں لے رکھا تھا اور وہ مشال کی
حالت کا سوچ سوچ کر مسکرا رہا تھا
بولیں مس مشال ۔۔۔ سر نے پھر سے کہا
شیری نام ہے اس کا اور وہ میرا شوہر ہے مشال نے ہمت کرتے ہوئے اور اپنا چہرہ جھکاتے ہوئے جواب دیا بنا دیکھے بھی وہ بتا سکتی تھی کہ شیری اسے ہی دیکھ رہا ہو گا اس لئے اس نے اس کی طرف نہیں دیکھا
مبارک ہو شیری بچی مان گئی حور ہلکی سی آواز میں شیری سے مخاطب ہوئی
میں تو بہت خوش ہوں مانی تو صحیح آخر کار شیری خوشی کا اظہار کیا
آپ کلاس کے سی آر کی بات کر رہیں ہیں سر نے مشال سے
پوچھا
یس سر مشال نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا
ساری کلاس نے ان دونوں کو مبارک باد دی اور کچھ نے شکوہ بھی کیا کہ ان کو نہیں بتایا ان دونوں نے
آپ دونوں کو بہت بہت مبارک ہو سر نے ان دونوں کو مبارک باد دی
تھینکس سر ان دونوں نے سر کا شکریہ ادا کیا
پھر دعا کی باری آئی اس نے جو پرچی اٹھائی اس پر لکھا تھا کہ کیا کبھی آپ
کے پیچھے کبھی کتا پڑا ہے اگر پڑے ہیں تو واقع بتائیں اس نے سب
کو پڑھ کر سنایا کہ پرچی پر کیا لکھا ہے
ہاں پڑا تھا ایک دن میں عائزہ اور حور ہمارے گھر کے پاس ایک پارک
میں واک کے لئے گئیں تو وہاں پر موجود ایک انکل کا کتا
ہمارے پیچھے لگ گیا حور تو فورا دوڑ کر د رخت پر چڑھ گئی اور میں 120 کی سپیڈ سے کتے اور عائزہ کے آگے آگے اور عائزہ مجھے اور کتے کو
کوستی ہوئی میرے پیچھے پیچھے دوڑ رہی تھی
اس انکل نے بڑی مشکل سے کتے کو کنٹرول کیا لیکن پھر بھی اس کتے
نے ہمیں پورے پارک کا چکر لگوا دیا تھا
دعا نے ہنستے ہوئے سارا واقع سنایا سر کے ساتھ ساتھ ساری کلاس
دعا کا قصہ سن کر ہنس رہی تھی
پھر عائزہ کی باری آئی
اس میں لکھا ہے کہ کیا کبھی آپ نے نوڈل کانٹے کی بجائے ہاتھ سے
کھائے ہیں عائزہ نے اونچی آواز پرچی پر لکھا سوال پڑھا
ہاں کئی بار کیا ہے ایسا ۔۔۔۔۔ اکژ میرے ، دعا اور حور کے د رمیان ہاتھ سے نوڈل کھانے کا مقابلہ ہوتا رہتا ہے اور ہمیشہ حور ہی جیتی ہے
کیوںکہ حور کو کھانا کھانے میں تو دنیا کا کوئی انسان نہیں ہرا سکتا کیوں حور میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا ۔۔۔۔ عائزہ مسکراتے ہوئے بولی
حور نے ہاں میں سر ہلایا
پھر شیری کی باری آئی اس پرچی میں لکھا ہے کہ آپ کے لو ون اور بیسٹ
فرئینڈ کا نام
تو میری لو ون کو نام ہے مشال اور میری بیسٹ فرئینڈ ہے حور
شیری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
حور کلاس کی آخری سٹوڈینٹ تھی اس نے ایک پرچی اٹھائی
اس پرچی میں جو سوال پوچھا گیا تھا وہ ایسا راز تھا جو آج تک کسی کو نہیں
پتا تھا
کیا ہوا مس حور آپ بول کیوں نہیں رہیں کہ پرچی میں کیا لکھا ہے سر
نے اس سے استفسار کیا
میں اس کا جواب نہیں دے سکتی حور بولی
ایسا کیا ہے اس میں سر نے اس سے پوچھا تو اس نے پرچی ان کے
ہاتھ میں تھاما دی
اب میں تو کچھ نہیں کر سکتا اس معاملے میں آپ کلاس سے پوچھ لیں
وہ لوگ کیا کہتے ہیں سر بولے
کیا ہوا ہے سر شیری اپنی جگہ سے اٹھ کر حور اور سر کے پاس آیا
سر نے پرچی اس کے آگے کر دی
تو اس میں کون سی بڑی بات ہے حور کہہ دو نہیں شیری نے اس کے سامنے حل پیش کیا
سچ بولنا ہے اس گیم میں اور میں سچ بول نہیں سکتی حور بولی
اس کا مطلب ہے تم نے ۔۔۔۔ شیری نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی
حور نے ہاں میں سر ہلایا
حور میں کچھ نہیں کر سکتا اس گیم کا رول سب کے لئے ایک ہی ہے
تمھیں بھی بتانا ہو گا جو لکھا ہے اس پرچی پے شیری بے بسی سے بولا
شیری اور وہ اتنی آہستہ آواز میں باتیں کر رہے تھے کہ سر کے علاوہ ان کی یہ باتیں کوئی نہیں سن سکتا تھا
ٹھیک ہے ایسا ہے تو ایسا ہی صحیح میں بتاتی ہوں
اوکے میں اپنی سیٹ پر جا رہا ہوں
اس پر لکھا ہے کہ کیا آپ نے کبھی کسی کو َکس کیا ۔۔۔۔ کیا ہے تو وہ
آپ کا کیا لگتا ہے
حور نے وہ کہا جو اس پرچی پر لکھا تھا
لو یہ کیا سوال ہوا حور کی طرف سے میں اس کا جواب دے سکتی ہوں
اور جواب نہیں ہے دعا کا لہجہ پر یقین تھا
ہاں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ حور بولی
اس کی بات سن سب اسے دیکھنے لگے جبکہ دعا ، عائزہ ، مشال اور شیری کا
تو یہ حال تھا کہ جیسے کسی نے ان کو پتھر کا بنا دیا ہو وہ منہ کھولے شاک
کی کیفیت میں حور کو دیکھ رہے تھے
_________
ہاں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ حور بولی
اس کی بات سن سب اسے دیکھنے لگے جبکہ دعا ، عائزہ ، مشال اور شیری کا
تو یہ حال تھا کہ جیسے کسی نے ان کو پتھر کا بنا دیا ہو وہ منہ کھولے شاک
کی کیفیت میں حور کو دیکھ رہے تھے
اور میرا شوہر لگتا ہے حور نے دعا ، مشال ، عائزہ اور شیری کے سر پر ایک اور
بم پھوڑا
حور کی یہ بات سن کر دعا لوگوں کو ایسا لگا کہ ان پر کوئی آسمان آن گرا ہے
حور اپنی بات مکمل کر کے اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی
شیری نے اس سے کچھ نا پوچھا
چلیں کلاس اب میری باری ہے سر نے آخری پرچی اٹھائی
سر کی آواز دعا لوگوں کو ہوش میں لے آئی اور وہ سر کی طرف متوجہ ہو گئیں
تو کلاس اس پر لکھا ہے کہ اگر آپ کی کوئی لو سٹوری ہے تو بتائیں
میری لو سٹوری بہت چھوٹی سی ہے جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو
وہ مجھے اچھی لگی اور میرے مانگے بنا اللہ نے اسے میرا بنا دیا پھر کب اس
سے محبت ہوئی مجھے پتا ہی نہیں چلا
مجھے اس سے کتنی محبت ہے وہ مجھے اس کے جانے کے بعد پتا چلا
کیا مطلب سر جانے کے بعد ۔۔۔۔ ایک سٹوڈینٹ نے پوچھا
وہ صرف ایک سال میرے ساتھ رہی پھر مجھے چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے
اللہ کے پاس چلی گئی بس اتنی ہی سی تھی میری لو سٹوری
سر کے لہجے سے ان کا دکھ عیاں تھا
اچھا کلاس کا ٹائم ختم ہو گیا ہے آپ سب کے ساتھ میرا بہت اچھا ٹائم گزرا اللہ آپ سب کو آگے بہت سی کامیابیاں دے اللہ حافظ
سر کے جانے کے بعد سب نے حور کو اس کی شادی کی مبارک باد دی
اور وہ سر نیچے جھکائے بیٹھی رہی
حور چلو اٹھو باہر گراونڈ میں چلتے ہیں شیری کے اشارہ کرنے پر مشال حور کو لے کر گراونڈ میں آ گئی ساتھ میں دعا لوگ بھی آ گئے
اب بتاؤ یہ شوہر والا کیا چکر ہے عائزہ نے اس سے پوچھا
ٹھیک ہے بتاتی ہوں لیکن تم سب وعدہ کرو کہ گھر میں کسی سے کوئی بات نہیں کرو گے حور بولی
اچھا ٹھیک ہے سب بولے
میرا نکاح بچپن میں ہی ہو گیا تھا اور اس بات کو گھر کے سب بڑوں کو پتا ہے اس نے ان سب کے سر پر بم پھوڑا
تمھارا نکاح ہوا ہوا ہے مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا مشال ابھی تک شاک میں تھی
ہاں ہوا ہے میرا نکاح یہی سچ ہے حور بولی
کون ہے وہ کہاں ہے اس وقت شیری نے پوچھا
کون ہے یہ میں تم لوگوں کو نہیں بتا سکتی اور مجھے نہیں پتا وہ کہاں ہے
اور اللہ کرے نا ہی آئے واپس حور کا لہجہ کھردرے پن سے بھرا ہوا تھا
کیوں واپس نا آئے ۔۔۔۔ دعا نے پوچھا
کیوںکہ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے میرے لئے تو یہی اچھا ہے کہ وہ
نا آئے اور پلیز آئیند کوئی بھی مجھ سے اس بارے میں کوئی بات نا کرنا تم لوگ ایسے سوچو جیسے تمھیں کچھ پتا ہی نا چلا ہو حور تلخی سے بولی
اچھا چھوڑ ان باتوں کو چلو ڈیٹ شیٹ دیکھ کر آتے ہیں لگ گئی ہے مشال ماحول میں موجود تخی کو بدلنے کے لئے بات کا رخ بدلتے ہوئے بولی
تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ہنی میں نے جاتے وقت کہا تھا نا کہ میرا انتظار کرنا تو پھر کیوں میرا انتظار نہیں کیا تم نے۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔ کیوں ہنی ۔۔۔۔۔کیوں کیا میرے ساتھ ایسا
کبیر اپنی ہنی کی تصویر کو سامنے رکھے روتے ہوئے اس سے شکایتں کر رہا تھا
تم بہت بہت بری ہو تم نے میری ذ را سی بھی پرواہ نہیں کی اور مجھے چھوڑ
کر چلی گئی
کبیر نے اپنے اوپر ایک خول چڑا لیا تھا اسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا
کہ اتنا مضبوط مرد رات کو کسی کی تصویر کو سینے سے لگا کر بچوں کی طرح روتا ہو گا
وہ اپنا بزنس بھی بہت اچھے طر یقے سے چلا رہا تھا تاکہ اس کہ پاپا کو کچھ پتا نا چلے اور ان کی طبیعت خراب نا ہو
آج تمھاری بہت یاد آ رہی ہے پلیز واپس آ جاو یا پھر مجھے اپنے پاس بلا لو
روتے روتے اسکی تصویر سے باتیں کرتے کرتے کب نیند کی دیوی اس پر مہر بان ہوئی اسے پتا ہی نہیں چلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماشااللہ آج تومیری بیٹی بہت پیاری لگ رہی ہے فاطمہ بیگم حور کو تیار دیکھ کر بولیں
تھینکس ماما ۔۔۔۔۔
اوکے ماما اب میں جا رہی ہوں ابھی دعا ، عائزہ اور مشال کو پارلر سے بھی لینا ہے حور ان سے بولی
اوکے اللہ حافظ بیٹا دھیان سے جانا
اوکے ماما اللہ حافظ
اور وہ اپنی گاڑی لے کر پارلر کی طرف روانہ ہو گئی
آ جاؤ باہر میں آ گئی ہوں ۔۔۔۔۔ حور نے پارلر پہنچ کر عائزہ کو میسج کیا
کچھ دیر بعد وہ آ گئیں
ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو تم تینوں حور نے ان کو دیکھ کر انکی تعریف کی
تھینکس وہ بولیں
تم تو بنا کسی میک اپ کے ہم سے بھی پیاری لگ رہی ہو مشال نے اسکی
تعریف کی
ویسے حور تم بھی میک کروا لیتں تو اچھا ہوتا دعا بولی
تمھیں پتا تو ہے مجھے میک اپ سے کتنی چڑ ہے حور بولی
دعا اور مشال سوچو جس دن حور نے میک اپ کیا اس دن کئی لڑکوں کے قتل ہو جانے ہیں اسے تو بنا میک اپ کے ہی دیکھ کر لڑکے
آہیں بھرتے ہیں عائزہ مسکراتے ان سے مخاطب ہوئی
اچھا اچھا چھوڑو ان باتوں کو چلو چلتے ہیں شیری انتظار کر رہا ہو گا
ان کے بیٹھتے ہی حور نے گاڑی سٹارٹ کر دی
ان کے پیپر ختم ہو چکے تھے اور آج ان کا فئیر ول تھی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *