Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05
حور یار کیا ہے تم ابھی تک ریڈی نہیں ہوئی ہم لیٹ ہو رہے ہیں دعا اسے ابھی تک واشروم میں دیکھ کر بولی
حور کی بچی آ جا باہر ۔۔۔۔۔۔عائزہ نے غصے کا اظہار کیا
ان تینوں نے یونیورسٹی اڈمیشن فارم فل کرنے جانا تھا اور حور نے ان دونوں کو اپنی طرف آنے کا بولا وہ تو آ گئیں تھیں پر وہ خود ابھی تک واشروم میں تھی
کچھ دیر کے بعد وہ واشروم سے باہر نکلی
شکر خدا کیا جو تم آج کی تاریخ میں ہی باہر آ گئی دعا نے طنز کیا
اچھا اب تم دونوں زیادہ نا بولو مجھے تیار ہونے دو حور ان سے بولی
ہو جا تیار میری ماں ہم چپ اب ۔۔۔۔۔ عائزہ بولی
حور نے بال کیچر میں قید کیے ، سر پر حجاب لیا ، چہرے پر صرف کریم لگائی ، ہونٹوں پر نیچرل پنک لیپسٹیک لگائی اورجوتا پہنا
لو ہو گئی میں ریڈی ۔۔۔۔۔۔۔حور نے ان دونوں سے بولی جو اپنی باتوں میں لگی ہوئی تھیں
ان دونوں نے اس کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں ماشااللہ بولا کیونکہ وہ بنا کسی میک اپ کے لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی اسے کسی میک اپ کی ضرورت ہی نہیں تھی وہ تھی بہت پیاری اللہ نے اسے بڑی فرصت سے بنایا تھا
اچھا چلو اب مجھے کیا گھور رہی ہو حور نے ان دونوں سے کہا جو ابھی تک اسے ہی دیکھ رہیں تھیں
دعا اور عائزہ نے بھی حجاب لیا ہوا تھا یہ ان کے گھر کی سب لڑکیوں کی عادت تھی جب بھی وہ باہر جاتی تھیں تو حجاب ضرور لیتی تھیں
یہاں تک کے سکول اور کالج میں بھی کیوں کہ وہ سب ہمیشہ کو ایجوکیشن میں ہی پڑھیں تھیں
چلو آ جاؤ اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حور ان سے بولی
اور وہ گاڑی میں بیٹھ گئیں ۔ چلیں کرمو بابا گاڑی چلائیں حور ڈرائیور سے بولی
یونیورسٹی جا کر ان تینوں نے فارم فل کیے اور یونیورسٹی کو گھوم پھر کر دیکھا
چلو یار کھانا کھاتے ہیں بہت بھوک لگی ہےحور نے دہائی دی
ایک تو تمھیں ہر وقت بھوک کیوں لگی رہتی ہے دعا نے اس سے پوچھا
کیا کرو اب بھوک لگ گئی ہے ۔۔۔۔۔ حور معصوم سا منہ بنایا
تم کتنا کھاتی ہو پر پھر بھی کتنی سمارٹ ہو اگر ہم دونوں اتنا کھائیں تو پھول کر گول گپے کی طرح ہو جائیں عائزہ حور سے بولی
دیکھ لو پھر میرے جیسے پیس بھی اس دنیا میں کم کم ہی ملتے ہیں حور ایک ادا سے بولی
واقعی صحیح بات کی ہے تم جیسا عجوبا بھی ہمیں کہیں اور کہاں مل سکتا ہے
دعا اسے چھیڑتے ہوئے بولی
جیلس لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حور نے بنا برے مانے مسکراتے ہوئے بولی
اچھا چلو اب چھوڑو ان باتوں کو کنٹین چلتے ہیں عائزہ ان سے بولی
کنٹین سے کھانا کھانے کے بعد وہ گھر چلیں گئ
_______
یہ لو بیٹا تمھاری گاڑی کی چابی ۔۔۔۔۔۔۔ علی صاحب نے دفتر سے واپسی پر حور کو چابی دی
تھینک یو پاپا سو مچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حور ان کے گلے لگ گئی
نو تھینکس بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔ اور آپ کی گاڑی باہر پارکینگ میں کھڑی ہے دیکھ لو
حور اوکے پاپا۔۔۔۔۔۔ کہتی ہوئی باہر چلی گئی جب وہ باہر آئی تو باہر بلیک مرسیڈیز کھڑی تھی
واوووو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ویری بیوٹیفل
وہ بھاگتی ہوئی ڈرائینگ روم میں گئی اور علی صاحب کے گلے لگ گئی
پاپا تھیک یو سو مچ یو آر دی بیسٹ پاپا اوف دی ورلڈ ۔۔۔۔۔ آئی لو یو سو مچ
کیا ہوا جو آج اپنے پاپا پر اتنا پار آ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ بیگم نے اس سے پوچھا
حور علی صاحب سے الگ ہو کر ان کے پاس آئی
یو نو ماما ۔۔۔۔۔ پاپا نے مجھے میرے فیورٹ کلر اور برینڈ کی کار گفٹ کی ہے باہر کھڑی ہے گاڑی میں ابھی دیکھ کر آئی ہوں بہت اچھی ہے
خوشی حور کے چہرے پر صاف نظز آ رہی تھی
فاطمہ بیگم اور علی صاحب اسے خوش دیکھ کر بہت خوش تھے
پاپا تھینک یو آج تک میری ہر خواہش پوری کرنے کے لئے ۔۔۔۔ وہ پھر سے ان کے گلے لگ گئی
مجھے میری بیٹی کی ہر خواہش بہت عزیز ہے ۔۔۔۔علی صاحب اس کی پیشانی چومی اور پیار سے بولے
اچھا میں نا اب گاڑی دیکھ لوں اور سب کو کال کر کے بتاتی ہوں
حور ان دونوں سے کہتی ہوئی گاڑی کی طرف چلی گئی
آج کتنے عرصے بعد میری بیٹی خوش لگ رہی ہے اللہ اس کو ہر مصیبت سے بچائے
فاطمہ بیگم اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولیں
آمین ۔۔۔۔۔۔ علی صاحب فاطمہ بیگم کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولے
ہم سب نے تو ہمیشہ کوشش کی ہے اسے خوش رکھنے کی تاکہ اسے وہ باتیں یاد نا آئیں جو اسے تکلیف دیتی ہیں پر پھر بھی جو اس کے ساتھ ہوا ہے اس کو بھولنا آسان بھی نہیں ہے اللہ ہماری بیٹی کی ہر مشکل میں مدد کرے اس کو دنیا کے ہر خوشی دے علی صاحب ان سے بولے
آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم نے کہا
اچھا آپ اب چینج کر لیں میں آپ کے چائے بناتی ہوں وہ ان سے کہتی ہوئیں کچن میں چلیں گئیں
اور علی صاحب اپنے کمرے میں چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما باہر گاڑی کس کی ہے
نور نے ابھی کالج سے واپس آئی تھی اس نے پارکینگ میں نئی گاڑی کھڑی دیکھ کر ان سے پوچھا
حور کی ہے تمھارے پاپا نے اسے گفٹ کی ہے
واوووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماما بہت پیاری گاڑی ہے
میں ابھی حور کو مبارک باد دیتی ہوں اور ٹریٹ کا بھی کہتی ہوں
ویسے وہ اس وقت کہاں ہے نور نے فاطمہ بیگم سے پوچھا
وہ اپنے کمرے میں ہے ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم بولیں
اوکے ماما میں اس کے کمرے میں جا رہی ہوں وہ ان سے کہتی ہوئی حور کے کمرے کی طرف چل دی
حور نے دعا اور عائزہ کو کال کی اپنی گاڑی کا بتانے کی لئے جو اسے پاپا نے گفٹ کی تھی
حور نے ان دونوں کو ایک ساتھ کال کی
ہیلو چڑیلوں کیسی ہو تم دونوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حور ان سے بولی
ہم تو ٹھیک ہیں پر تم کبھی باز نا آنا ہمیں تنگ کرنے سے ۔۔۔۔۔ دعا بولی
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو تم دونوں کی قسمت خراب تھی جو تم میری کزنز اور دوست ہو
حور ہنستے ہوئے بولی
کیا بات آج بہت خوش لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ عائزہ نے پوچھا
ہاں آج میں بہت خوش ہوں حور بولی
وہ کیوں ۔۔۔۔۔ کہیں کسی سے محبت تو نہیں ہو گئی دعا بولی
”” کس طرح کر لوں کسی اورسے محبت
مجھے خود سے زیادہ کوئی پیارا نہیں لگتا ””
حور دعا کے سوال کے جواب میں بولی
اس کا مطلب ہے تم کبھی کسی سے محبت نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔ عائزہ نے حور سے پوچھا
بلکل ٹھیک کہا تم نے میری زندگی میں کسی اور کی کوئی جگہ نہیں ہے تو پھر کیسے کوئی آ جائے گا کوئی نہیں آسکتا نا میرے دل میں۔۔۔۔۔۔۔۔
اور نا ہی میری زندگی میں۔۔۔۔۔۔۔ حور اٹل لہجے میں بولی
شادی کرو گی کہ وہ بھی نہیں کرو گی دعا نے پوچھا
نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔ حور بولی
کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ عائزہ نے پوچھا
بس میں نہیں چاہتی کہ کوئی بھی مجھ پر اپنا حق جتائے حور بولی
اچھا چھوڑو ان باتوں کو تم یہ بتاؤ خوش کیوں ہو تم آج دعا بات کا رخ بدلتے ہوئے بولی
ہاں ہاں بتاؤ کیا خوش خبری ہے عائزہ نے بھی اس سے استفسار کیا
پاپا نے آج مجھے گاڑی لے کر دی ہے اور اس گاڑی پر ہم تینوں یونیورسٹی جایا کریں گی پاپا سے میں پرمیشن لے لی ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور مصطفی اور احمد انکل سے پاپا خود ہی بات کر لیں گے
بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔۔۔۔۔ دعا اور عائزہ ایک ساتھ بولی تھیں
تھینکس ۔۔۔۔۔۔۔ حور نے ان کا شکریہ ادا کیا
اور ہماری ٹریٹ ۔۔۔۔۔۔ دعا نے پوچھا
ہمممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج Saturday night ہے آج کا ڈنر تو دعا کے گھر ہے کل کو میں نے آیان ، شایان اور نور کو ٹریٹ دینی ہے
پھر منڈے کو ہم نے یونی بھی جانا ہے منڈے کر یونی سے واپسی پر تم لوگوں کی ٹریٹ پکی ٹھیک ہے نا حور بولی
اوکے ڈن ۔۔۔۔۔ دعا اور عائزہ ایک ساتھ بولیں
اوکے ٹھیک ہے پھر ۔۔۔۔ حور بولی
اسی اثنا میں دروازے پر نوک ہوا
اچھا اللہ حافظ پھر بات ہو گی حور ان دونوں سے بولی
اوکے اللہ حافظ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں بولیں
حور بہت بہت مبارک ہو میں تمھاری گاڑی دیکھ کے آئی ہوں بہت پیاری ہے
نور نے اندر آتے ہوئے اسے مبارک باد دی
تھینکس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا اب ہماری ٹریٹ کب ملے گی نور نے اس سے پوچھا
کل تمھیں ، آیان اور شایان کو لنچ کرواں گی ٹھیک ہے حور مسکراتے ہوئے بولی
ٹھیک ہے نور بولی
اوکے میں چینج کرنے جا رہی ہوں اپنے کمرے میں تم نیچے چلو شایان لوگ بھی آنے والے ہوں گے نور حور سے بولی
اچھا ٹھیک ہے میں نیچے جا رہی ہوں تم چینج کر کے آ جاؤ
نور اپنے روم میں چلی گئی اور حور نیچے چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔ آیان اور شایان نے سلام کیا
وعلیکم اسلام ۔۔۔۔ بیٹا فاطمہ بیگم نے ان کے سلام کا جواب دیا
حور باہر گاڑی کس کی ہے
شایان نے حور سے پوچھا جو کہ ڈرائینگ روم میں ماما کے ساتھ بیٹھی ہوئی نیوز دیکھ رہی تھی
آیان اور شایان ابھی سکول سے آئے تھے
میری ۔۔۔۔۔۔ حور بولی
سچی ۔۔۔۔۔۔۔ شایان اور آیان ایک ساتھ بولے
ہاں سچی ۔۔۔۔۔۔۔۔ حور مسکراتے ہوئے بولی
بہت بہت مبارک ہو دونوں بھائی صوفے پر حور کے دونوں طرف آ کر بیٹھ گئے
حور نے ان دونوں کے گرد اپنے بازو پھیلائے
تھینکس میرے پیارے سے بھائیوں حور نے ان دونوں کواپنے ساتھ لگایاہوئے
اور ہماری ٹریٹ ۔۔۔۔۔۔ آیان نے حور سے استفسار کیا
کل کو آپ کو آپ کی ٹریٹ بھی مل جائے گی حور نے آیان کے بال بگاڑھے
اوکے ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ آیان مسکراتے ہوئے بولا
اتنے میں نور بھی ان کے پاس آگئی
یہ تو ذیادتی ہے میرے ساتھ میں کچھ نہیں لگتی کیا
نور نے ان تینوں کو ساتھ بیٹھا دیکھ کر خفگی کا اظہار کیا
آ جاؤ تم بھی ۔۔۔۔۔۔ آیان نے نور سے کہا
نور بھی آیان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی اور اس کے گرد اپنا بازو پھیلایا
ماشااللہ ۔۔۔۔۔۔ اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ خوش رکھے
فاطمہ بیگم ان چاروں ایک ساتھ دیکھ کردل میں بولیں
کچھ دیر تک وہ سب باتیں کرتے رہے
اچھا اب سب اپنا اپنا کام کر لو پھر ہمیں عائشہ بھابھی کی طرف ڈنر پر بھی جانا ہے
فاطمہ بیگم ان سب سے بولیں
اوکے ماما ۔۔۔۔۔۔۔ سب کہتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصطفی ، احمد مجھے تم دونوں سے ایک بات کرنی ہے
علی صاحب ان سے بولے
وہ سب اس وقت مصطفی صاحب کے گھر ڈنر پر جمع تھے اور ڈائنیگ ٹیبل پر موجود تھے
علی صاحب کی بات سن کر سب ان کی طرف متوجہ ہو گئے خاص طور پر دعا ، عائزہ اور حور
ہاں علی بولو کیا بات ہے احمد صاحب بولے
بچیاں چاہتی ہیں کہ وہ حور کی کار پر خود ہی یونی جایا کریں اگر تم لوگوں کی اجازت ہو تو ۔۔۔۔۔علی صاحب بولے
اگر کبھی راستے میں کوئے پروبلم ہو گئی تو بچیاں اکیلی کیا کریں گی
احمد صاحب بولے
ہماری حور ہے نا اگر کبھی کچھ ہو گیا تو ہماری حور ہے نا وہ سب سنبھال لے گی علی صاحب بولے
وہ کیسے ۔۔۔۔۔۔۔ مصطفی صاحب کی طرف سے سوال کیا گیا
تم لوگوں کو ابھی تک یہ نہیں پتا ہے کہ حور نے فائٹینگ کورس بھی کیا ہوا ہے علی صاحب بولے
حور ۔۔۔۔۔۔۔ دعا اور عائزہ دونوں حور کو گھورتے ہوئے ایک ساتھ بولیں
حور نے مسکراتے ہوئے سوالیہ نظروں سے ان دونوں کو دیکھا
تم نے ہم دونوں کو بھی نہیں بتایا ۔۔۔۔۔عائزہ نے شکوہ کیا
اس کی بات سن کر حور نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا
ہنس لو تم کو بعد میں ہم پوچھیں گی دعا نے اسے گھورا
یہ تو اچھی بات ہے جو ہماری بیٹی کو اپنا دفع کرنا بھی آتا ہے احمد صاحب بولے
ٹھیک ہے میری طرف سے اجازت ہے مصطفی صاحب مان گئے
مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے احمد صاحب نے بھی حامی بھری
بھابھی آپ لوگوں کی طرف سے بھی اجازت ہے علی صاحب نے عائشہ اور حنا بیگم سے پوچھا
ہماری طرف سے اجازت ہے کیوں حنا ۔۔۔۔۔ عائشہ بیگم بولیں
ہاں مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔ حنا بیگم بولیں
تھینکس آپ کا پرمیشن دینے کے لئے حور ان سب کا شکریہ ادا کیا
نو تھینکس بیٹا حنا بیگم پیار سے بولیں
کھانا کھانے کے بعد سب ڈرائینگ روم میں آ گئے
اور فاطمہ ، عائشہ اور حنا بیگم سب کے کافی بنانے کچن میں چلی گئیں
ہمیں تو آج پتا چلا ہماری بہن کے پاس اتنے ہنر ہیں رضا نے حور کو مخاطب کیا
بس دیکھ لیں بھائی پھر آپ کی بہن نے کبھی غرور نہیں کیا حور ایک ادا سے بولی
حور کیوں نا ایک بائیک ریس ہی ہو جائے حسن اس سے بولا
حور نے بائیک چلانی بھی آتی تھی اس نے اپنے پاپا سے بائیک چلانا سیکھی تھی
ٹھیک ہے بھائی پر زاوی بھائی کے آنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔ جب وہ اپنے ہنی مون سے واپس آئیں گے تو پھر رکھیں گے ریس ٹھیک ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔
حور بولی
ٹھیک ہے حسن بولا
اور جو ہار جائے گا وہ سب کو ڈنر کرائے گا ڈن رضا نے ان دونوں سے پوچھا
ٹھیک ہے زاوی بھائی آ جائیں پھر ہو گی آپ دونوں زاوی بھائی اور میرے درمیان ریس ڈن ہو گیا حور ان سے بولی
اوکے ۔۔۔۔۔۔ حسن اور رضا نے ہاں میں سر ہلایا
اچھا اب تم سب باتیں کروں ہم پاپا لوگوں کے پاس جا رہے ہیں حسن نے ان سب سے کہتا ہوا رضا کے ساتھ وہاں سے چلا گیا
مصطفی ، علی اور احمد صاحب ان لوگوں سے کچھ دور بیٹھے تھ
نور ، آیان ، ہانیہ ، باسل ، شایان کارڈز کھیلنے لگے
اور دعا اور عائزہ نے حور کو گھیر لیا
اب بتاؤ تم نے ہم کو کیوں نہیں بتایا اپنے فائٹینگ کورس کے بارے میں ۔۔۔۔۔ دعا نے اس سے پوچھا
وہ اس لئے کیوں کہ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ جب تم لوگوں کو پتا چلے گا کہ میں نے فائٹینگ کورس کیا ہوا ہے تو تم لوگوں کو کیا رسپونس ہوتا ہے
حور نے مسکراتے ہوئے اسکی بات کا جواب دیا
یار ویسے تم تو بڑی پاور فل ہو تم کو تو سب کچھ آتا ہے دنیا کا کون سا کام ہے جو تم کو نہیں آتا عائزہ رشک سے بولی
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ابھی مجھے بہت کچھ نہیں آتا اور وہ سب مجھے ابھی سیکھنا ہے حور عاجزی سے بولی
اچھا اور کیا سیکھنا ہے تم نے عائزہ نے حور سے پوچھا
وہ تو وقت آنے پر تمھیں خود ہی پتا چل جائے گا حور مسکراتے ہوئے بولی
اوکے ۔۔۔۔۔ دعا اور عائزہ نے سر ہلایا
ویسے مجھے ایک بات تو بتاؤ تم دونوں کو رضا اور حسن بھائی کیسے لگتے ہیں حور نے ان دونوں سے پوچھا
ہمارے بھائی ہیں ہمارے لئے تو ہمارے بھائی دنیا کے سب سے اچھے انسان اور بھائی ہیں دعا کے لہجے سے اپنے بھائی کے لیے مان جھلک رہا تھا
اے سارے جہاں کی جھلی ۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ تمھیں رضا بھائی
اور عائزہ تمھیں حسن بھائی کیسے لگتے ہیں حور نے ان کی عقل پر ماتم کیا
یہ کیا بات ہوئی بھلا ۔۔۔۔۔۔۔ عائزہ نے منہ بنایا
میں جو پوچھا ہے اس کا جواب دو الٹا مجھ سےسوال نا کرو حور نے عائزہ کو گھورا
پتا نہیں ۔۔۔۔ عائزہ بولی
تم لوگوں کو پتا ہو یا نا پتا ہو مجھے پتا ہے تم دونوں کی شکل دیکھ کر مجھے میری بات کا جواب مل گیا ہے حور کا لہجہ پر یقین تھا
کیا پتا چل گیا ہے دعا نے پوچھا
یہ ہی کہ تم لوگوں کو بھی میرے بھائی اچھے لگتے ہیں ہے نا میں سچ کہہ رہی ہوں نا اور پلیز اب مجھ سے جھوٹ نا بولنا
حور نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے ان سے دریافت کیا
ان دونوں نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنا چہرہ جھکالیا
تو پھر اب تم لوگوں اور بھائیوں کو ملانے کی ذمہ داری میری ہے حور نے خوش ہوتے ہوئے ان دونوں کو اپنے ساتھ لگایا
اچھا اللہ حافظ ۔۔۔۔اب میں جا رہی ہوں پہلے ہی کافی دیر ہوگئی ہے سب گھر چلے گئے ہیں اور میں ابھی تک جہاں ہی ہوں تم دونوں نے مجھے باتوں میں لگائے رکھا حور نے سارا الزام ان پر لگادیا
چلو اب تم بھی اپنے گھر حور نے عائزہ پر مصنوئی غصہ کیا
وہ تینوں دعا کے کمرے میں آگئی تھیں اور باقی سب گھر چلے گئے تھے
حور نے پہلے عائزہ کو اس کے گھر چھوڑا اور پھر خود اپنے گھر آگئی.
جاری ہے
