Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16
ہنی اس کی طرف دیکھتی رہی لیکن اپنی جگہ سے نہیں ہلی
پلیز ہنی ۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر اسکی ٹانگوں کے د رمیان بنائی ہوئی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی
ہنی کے بیٹھنے کے بعد اس نے اس کے گرد اپنے بازوؤں کا حصار بنا لیا
تھینکس ہنی میری بات ماننے کے لئے تم بہت اچھی ہو
میں اوپر والے کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے کہ اس نے بن مانگے ہی تمھیں میرا بنا دیا
آئی لو یو ہنی ۔۔۔۔
اسکے سر کو چومتے ہوئے وہ بولا
ہنی نے اپنی آنکھیں بند کرکے اس کے سینے پر اپنا سر ٹکا دیا اس کو اسکی
بانہوں میں سکون مل رہا تھا
ہنی میں نے تمھیں کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ایک بار ہنس کے ہی دکھا دو
پلیز ۔۔۔۔
مجھے ہنسی نہیں آ رہی تو کیسے ہنس سکتی ہوں میں ہنی نے اس کے سینے
سے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا
ابھی بتاتا ہوں میں ۔۔۔۔ کہتے ساتھ ہی اس نے ہنی کو گُد گُدیا جس سے وہ ہنس پڑی
بس بس۔۔۔۔۔ پلیز بس کرو مجھ سے اور نہیں ہنسا جا رہا وہ ہنستے ہوئے بولی
ہنستی رہا کرو ہنستے ہوئے پیاری لگتی ہو وہ اسکے ماتھے کو چومتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے بولا
تمھارا ڈمپل بہت پیارا ہے ہنی اسکا ڈمپل دیکھتے ہوئے بولی
اسکے دائیں گال پر ہنستے وقت ڈمپل پڑ تا تھا
کیا میں تمھارے ڈمپل کو چھو سکتی ہوں
تم چھو سکتی ہو ہنی تمھیں مجھ پر ہر حق حاصل ہے میں پورے کا پورا تمھارا
ہوں
ہنی نے اپنے ہاتھ سے اسکے ڈمپل کو چھوا ہنی کو اسکا ڈمپل اور گرے آنکھیں بہت پسند تھیں
پھر وہ روز اسےکافی دیر تک اپنی بانہوں میں لئے بیٹھا رہتا اور ساتھ میں اسے وائلن بجانا بھی سیکھاتا
کیا ہوا ہنی آج میرے پاس نہیں آو گی
وہ آج بھی پارک میں بیٹھا تھا جہاں وہ روز بیٹھتا تھا اور وہ اس سے دور بیٹھی تھی
نہیں میں یہاں ہی ٹھیک ہوں
کیوں کیا ہوا مجھ سے ناراض ہو جو میرے پاس نہیں آو گی
نہیں میں تم سے ناراض نہیں ہوں
تو پھر کیا بات ہے سچ سچ بتاؤ تمھیں میری قسم ہے وہ اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
وہ مجھے بخارہے اگرمیں تمھارے پاس آتی تو تمھیں پتا چل جاتا اور تم مجھے اس دن کی طرح ڈاکڑ کے پاس لے جاتے اور میں نے کہیں نہیں جانا
میں نے یہ وقت تمھارے ساتھ گزارنا ہے وہ روتے ہوئے بولی
ہنی ۔۔۔۔ اس نے ہنی کو اپنے گلےسے لگا لیا
ڈاکڑ کے پاس نہیں جائیں گے تو تم ٹھیک کیسے ہو گی اور اگر تمھاری طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو پھر وہ اسکا ماتھا چومتے ہوئے بولا
میں نے نہیں جانا یہ دیکھو میں ڈاکڑ کے پاس گئی تھی اس نے میڈیسن بھی دی ہے اور ابھی تمھارے سامنے کھا لیتی ہوں
ٹھیک ہے جیسے میری ہنی کی مرضی چلو اب رو نہیں اور میڈیسن کھاو
اسے میڈیسن کھلانے کے بعد وہ اپنے سینے سے لگا کر د رخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
ہنی ۔۔۔۔۔ کچھ دیر کے بعد اس نے اسے پکارا
لیکن اس کی طرف سے کوئی ر یسپونس نہیں آیا
اس نے اسے خود سے الگ کر کے دیکھا تو وہ سو چکی تھی
اس نے دوبارہ اسے خود سے لگا لیا
کچھ دیر کے بعد اس نے ہنی کو آواز دی ہنی اٹھ جاو اب کیا آج سوتے رہنے کا ارادہ ہے
اسکے جگانے سے وہ اٹھ گئی
میں کتنی دیر سوتی رہی ہوں
ایک گھنٹے سے ۔۔۔۔۔۔
اف اتنی دیر ہو گئی آج ماما انتظار کر رہی ہوں گی تم مجھے جگا دیتے
تمھاری ماما پریشان ہو رہیں ہوں گی اسی لئے تمھیں جگادیا ہے ورنہ میرا تو دل ہی نہیں کرتا تم سے دور جانے
ہمیشہ میرے ساتھ میری ہو کے رہو گی نا ۔۔۔۔۔ پیار سے پوچھا گیا
میں ہمیشہ تمھاری رہوں گی چاہے ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں
وہ اس کے دائیں گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
آئی لو یو سو مچ ہنی ۔۔۔۔۔
اچھا اب چلو چلتے ہیں نہیں تو ماما نے پھر مجھے یہاں نہیں آنے دینا
وہ دونوں گھر چلے گئے
اس کو یہاں آئے ہوئے سال ہونے والا تھا
پھر اچانک اسکے دادا کی طبیعت خراب ہو گئی اور اس دفعہ زندگی نے ان کا
ساتھ نہیں دیا اور وہ وفات پا گئے
پھر اس کے ماما اور پاپا نے واپس جانے کا فیصلہ کیا اس نے ان سے بات بھی کی کہ ہم یہیں رہتے ہیں واپس نہیں جاتے لیکن وہ نہیں مانے
واپس جانے سے پہلے وہ پارک گیا تا کہ ہنی سے مل سکے
جب وہ اپنے مقررا مقام پر پہنچا تو ہنی وہاں پہلے سے موجود تھی اس نے جاتے ہی اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور کب اس کی آنکھوں سے آنسو نکلے اسے پتا ہی نہیں چلا
تم رو رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ اس سے الگ ہو کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھامتے ہوئے اس سے پوچھا
اس نے ہنی کے دونوں ہاتھ پکڑ کر چوم لئے
پلیز کیا ہوا بتاؤ نا تم اس طرح کیوں رو رہے وہ بھی رونے لگی
اس نے اپنی ہنی کو پھر سے گلے لگا لیا
میں تمھیں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا وہ ابھی بھی رو رہا تھا
تو تم سے کس نے کہا کہ تم مجھے چھوڑ کر جاؤ ہنی نے کہتے ہوئے اس سے
الگ ہونا چاہا لیکن اس نے گرفت اور مظبوط کر لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی میں ماما پاپا کے ساتھ واپس جا رہا ہوں شام سات بجے کی فلائٹ سے اس کی یہ بات سن کر وہ ایک جھٹکے سے اس سے الگ ہوئی اور نا میں سر ہلاتی ہوئی اور روتی ہوئی اس سے دور جانے لگی
تم تم ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔
میں خود بھی نہیں جانا چاہتا میں نے ماما اور پاپا کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ مان ہی نہیں رہے یہ کہتے ہوئے وہ پھر اس کے پاس آ گیا
اور اس کے ہاتھ پکڑ لئے
پلیز نہیں جاؤ نا تمھارے بغیر میرا کیا ہو گا
کاش ہنی میرے بس میں ہوتا تو میں تمھیں اپنے ساتھ ہی لے جاتا اس نے اسکی پیشانی چومی اور اسے اپنے ساتھ لگائے بیٹھ گیا
کافی دیر وہ اسی طرح بیٹھے رہے
ہنی ۔۔۔۔۔
ہوں ۔۔۔۔۔
میرا انتظار کرنا میں واپس آوں گا اپنی ہنی کو ہمیشہ کے لینے
آو گے نا ۔۔۔۔۔
ضرور آوں گا اپنی ہنی کو لینے میں ۔۔۔۔۔
وعدہ ۔۔۔۔۔ ہنی نے اس کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلایا
ہاں وعدہ اس نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس کے گال پر دائیں گال پر موجود تل کو چوما
اب تم جاو تمھاری فلائٹ کا ٹائم ہونے والا ہے کچھ دیر بعد وہ اس سے الگ ہوئی
تم نہیں آو گی میرے ساتھ گھر تک ۔۔۔۔۔۔
نہیں میں کچھ دیر یہاں رہنا چاہتی ہوں وہ کھڑی ہو گئی
میں تمھیں بہت مس کروں گا وہ بھی کھڑا ہو گیا
اچھا جاو اب تمھارے ماما اور پاپا تمھیں ڈھونڈ رہے ہوں گے وہ خود کو سھنبالتے ہوئے بولی
آئی لو یو ہنی ۔۔۔۔۔ اس نے پھر اسے گلے لگا لیا
اپنا خیال رکھنا میرے لئے اوکے پھر ملیں گے اللہ حافظ اسے خود سے الگ کرتے ہوئے وہ بولا
اوکے تم بھی اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ
حانی ۔۔۔۔ ہنی نے نے پکارا
اور وہ جاتے ہوئے پلٹ کر دوبارہ اس کے پاس آگیا
کیا کہا تم نے ابھی پھر سے کہنا ذ را ۔۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا
ہنی نے پہلی بار اسکا نام لیا تھا اس کے کئی بار کہنے کے باوجود کبھی بھی ہنی نے اسے اسکا نام نہیں لیا تھا
حانی میں تمھارا انتظار کروں گی کہتے ساتھ ہی اس نے اسکا ڈمپل کو چوم لیا
آج بہت اچھا لگا تمھارےمنہ سے اپنا نام سن کر اور پتا ہے میرا دل کیا کر رہا ہے
کیا ۔۔۔۔۔؟ ہنی نے پوچھا
ابھی نہیں جب میں واپس آوں گا تب بتاؤں گا اور میں ضرور آوں گا ہنی
تمھیں لےجانے کے لئے اپنا خیال رکھنا
اور پھر وہ چلا گیا وہاں سے اپنی ہنی کو اکیلا چھوڑ کر
وہ اپنی یادوں سے واپس حال کی دنیا میں آیا پلیز آجاو نا ہنی
میں تو آ گیا واپس پر تم چلی گئی مجھے چھوڑ کر روتے ہوئے وہ اس سے شکوے کر رہا تھا پھر اس پر نیند کی دیوی مہربان ہوگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب آ گئے ہیں کوئی رہ تو نہیں گیا نا ۔۔۔۔۔ احمد صاحب نے سب سے پوچھا
حور ابھی تک نہیں آئی باقی تو سب موجود ہیں نور نے جواب دیا
آپ سب بس میں بیٹھو وہ بھی آ جائے گی علی صاحب بولے
سب بس میں بیٹھ گئے سوائے دعا اور عائزہ کے وہ بس سے باہر کھڑیں حور
کا انتظار کرنے لگیں
وہ سب لوگ حور کے اسرار پر ایک ہفتے کے لئے مری جا رہے تھے
آیان ، شایان ، ہانیہ ، باسل اور نور کو دسمبر کی چھٹیاں تھیں اس لئے حور نے یہ پلین بنایا تاکہ سب ایک ساتھ جا سکیں
اور اس وقت زاوی ، شیری ، رضا ، حسن اور حور کی ساری فیملی حور کے گھر جمع تھے ان لوگوں نے ایک بس بک کروائی تھی مری جانے کے لئے
ایک تو یہ لڑکی بھی نا ہر وقت سب سے لیٹ ہی پہنچتی ہے ہر جگہ
دعا بولی
حور شکر ہے تم آ گئی ہو عائزہ اس پر طنز کرتے ہوئے بولی
اچھا زیادہ طنز کرنے کی ضرورت نہیں چلو بیٹھو سب بیٹھ گئے ہیں اور تم دونوں ابھی تک باہر ہو چلو اپنے اپنے میاں کے پاس۔۔۔۔ میرے بیچارے بھائی تم لوگوں کی راہ دیکھ رہے ہوں گے اور تم لوگ یہاں کھڑی ہو
چلو چلو بس میں ۔۔۔۔۔ حور بولی
تم نا کبھی اپنے پر بات نا آنے دینا ہمیشہ ہمیں ہی غلط ثابت کرتی رہنا
دعا منہ بناتے ہوئے بولی
ان کے بیٹھتے ہی ڈ رائیور نے بس سٹارٹ کر دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راستے میں وہ لوگ ایک جگہ رکے جہاں ان سب نے کھانا کھایا
پاپا مجھے باقی کا سفر بس کی چھت پر بیٹھ کر کرنا ہے پلیز منع نہیں کیجئے گا
کھانا کھانے کے بعد حور اپنے پاپا سے بولی
ٹھیک ہے پر دھیان سے رہنا اور جب نیچے آنا چاہوں بتا دینا مجھے کال کر کے اوکے
تھینکس پاپا حور ان کے گلے لگ گئی
حور اور علی صاحب اس وقت بس کے پاس موجود تھے باقی سب ابھی کھانا کھا رہے تھے
حور اپنا موبائیل اور اپنا وائلن لے کر سب کے آنے سے پہلے بس کی چھت پر چڑھ کر بیٹھ گئی
کچھ دیر کے بعد سب کھانا کھا کر آ گئے
اے حور کی بچی اوپر کیوں بیٹھی ہو مشال اسکو اوپر بیٹھا دیکھ کر بولی
میں باقی کا سفر چھت بس پر بیٹھ کر ہی کروں گی
حور نیچے آ جاؤ گر جاؤ گی اس کی ماما اس سے بولیں
کچھ نہیں ہو گا ماما
رہنے دو فاطمہ اسے اوپر کچھ نہیں ہو گا علی صاحب بولے
ہم اوپر آ جائیں رضا نے اس سے پوچھا
نہیں بھائی آپ اپنی بیگم کے ساتھ رہیں ویسے بھی میں اکیلی ہی رہنا چاہتی
ہوں
ٹھیک ہے گڑیا جیسی تمھاری مرضی رضا اس سے کہتا ہوا بس میں بیٹھ گیا
دھیان سے رہنا حور زاوی اس سے بولا
ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔۔ یو ڈونٹ وری آئی ول بی فائن
سب کے بیٹھنے کے بعد بس اپنی منزل کی طرف گامزن ہو گئی
حور بس کی چھت پر بیٹھی خوبصورت نظارے دیکھتی رہی اور اپنے موبائیل میں
قید کرتی رہی
اور اپنی پسندیدہ دھن بھی بجاتی رہی ہوا
رات کو وہ لوگ مری پہنچے
سب کے رہنے کا انتطام زاوی کے پاپا عامر صاحب کے بنگلے میں تھا
یہ ان کا ذاتی بنگلہ تھا
کھانا کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ا گلے دن سب صبح کا ناشتہ کرنے کے بعد سیر کے لئے گھر سے نکل پڑے
سب نے خوب انجوائے کیا دوپہر کا کھانا ایک ہوٹل سے کھایا
ایک مقام پر پہاڑ سے گرنے کی وجہ سےحور کے سر پے چوٹ لگ گئی جس کی وجہ سے اسکے سر سے بہت سا خون نکلا
اور وہ بے ہوش ہو گئی
اس کے پاپا اور رضا اس کو ہوسپٹل لے کر گئے
باقی سب کو مصطفی صاحب بڑی مشکل سے منا کر گھر لے کر آئے وہ سب بھی حور کےساتھ ہوسپٹل جانے کی ضد کر تھے
پٹی وغیرہ کرنے بعد حور کو ڈسچارج کر دیا گیا ہوسپٹل سے
رضا اور علی صاحب اسے گھر لے کر آ گئے
حور تم تو بہت ہی بہاد ر ہو جو اتنی بڑی چوٹ لگنے کے باوجود بھی تمھاری
آنکھ سے ایک بھی آنسو نہیں نکلا زویا بولی
دعا ، عائزہ ، مشال اور زویا اس وقت اس کمرے میں موجود تھے جس میں حور ٹھہری ہوئی تھی
باقی سب اس کی طبیعت کا پوچھ کر اس کے کمرے سے جا چکے تھے
حور تمھیں د رد نہیں ہوا تھا کیا جو تم روئی نہیں تھیں اور اب بھی سب سے ہنس ہنس کر ایسے بات کر رہی ہو جیسے تمھیں کچھ ہوا ہی نا ہو
مشال نے استفسار کیا
ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے د رد ہوا تھا بہت د رد ہوا تھا لیکن مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں ایسی کئی چوٹوں
کو ہنستے ہوئے برداشت کر سکتی ہوں حور نے ہنستے ہوئے اسکی بات کا جواب دیا
آپ لوگوں کو ایک اور بات بتاؤں کہ جب سے ہم لاہور شیفٹ ہوئے ہیں ہم میں سے کسی نے بھی آج تک حور کو روتے ہوئےنہیں دیکھا
اور ہمیں یہاں آئے ہوئے دس سال ہو گئے ہیں
دعا نے مشال اور زویا کی معلومات میں اضافہ کیا
سچی ۔۔۔۔۔ وہ دونوں ایک ساتھ بولیں
ہاں سچ میں ۔۔۔۔ عائزہ نے تصدیق کی
حور تم تو مجھے اس دنیا کی نہیں لگتی ہو بھلا کوئی انسان روئے بغیر کیسے رہ سکتا ہے خاص طور پر ایک لڑکی کیسے خود کو رونے سے روک سکتی ہے
زویا شاک کی کیفیت میں بولی
تم کیسے گزارا کر لیا اتنا عرصہ روئے بغیر حور مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آرہا
مشال نے حیرت کا اظہار کیا
میں نے ہر بات کو ہمیشہ حوصلے اور ہمت سے برداشت کیا ہے اس لئے مجھے کبھی رونے کی ضرورت نہیں پڑی حور نے ان کے سوالوں کا
جواب دیا
واقعی تم بہت بہاد ر ہو زویا بولی
پھر وہ چاروں اس سے آرام کرنے کا کہہ کر اس کے کمرے سے چلیں گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ا گلے روز سب کہیں بھی باہر جانے کے لئے تیار نہیں تھے کیونکہ حور گھر
ہی موجود تھی اس کو ڈاکڑ نے ریسٹ کا کہا تھا
حور نے ساری ینگ پارٹی کو زبردستی بھیجا البتہ بڑوں نے جانے سے
انکار کر دیا وہ سب حور کے ساتھ گھر پر ہی رہے
اس سے ا گلے دن حور بھی سب کے ساتھ گھومنے پھرنے گئی سب مختلف
مقامات پر گئے سب نے ڈھیر ساری شا پنگ کی
ایک ہفتہ مری میں گزارنے کے بعد سب واپس آ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو سال بعد ۔۔۔۔
حور نے سی ایس ایس کر پیپرز دئیے جس میں وہ پاس ہوگئی اور اٹرویو میں
بھی وہ سلیکٹ ہو گئی اور ٹرینگ کے بعد اسکی پوسٹنگ لاہور میں ہو گئی
آج کل وہ اپنی ڈیوٹی پر ہوتی تھی اس نے اب تک کئی کیسسز حل کر لئے تھے اور ان کیسسز کو حل کرنے کی وجہ سے پورے لاہور میں مشہور ہو چکی تھی
پورے میڈیا میں اسکی دھوم تھی
نور اور باسل کا بی ایس ختم ہو چکا تھا شایان اور ہانیہ نے ایف ایس سی کے بعد یونی میں اڈمیشن لے لیا تھا اور آیان نے کالج میں
زویا ،مشال اور دعا کو اللہ نے بیٹے اور عائزہ کو اللہ نے بیٹی سے نوازا تھا
رضا ، حسن ، زاوی اور شیری نے سارا بزنس سنھبال لیا تھا اور ان چاروں کے پاپا اب گھر پر ہی ہوتے تھے انہوں نے آفس جانا چھوڑ دیا تھا
جبکہ علی صاحب کی مدد کے لئے مشال کا بھائی معاذ موجود تھا وہ ان کی کمپنی کا مینیجر تھا
ہر کوئی اپنی اپنی زندگی میں بہت خوش تھا.
جاری ہے
