Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27

جوڑی کی شکل میں ”” جینس”’ مووی کے سونگ
”’دل میری نا سنے ”’ پر ڈانس کیا
روحان اور حورم سب سے آگے تھے باقی سب جوڑیوں کی شکل میں ان کے
سائیڈ پر اور پیچھے ڈانس کر رہے تھے
سب نے مل کر بہت اچھا ڈانس کیا وہاں موجود سب لوگوں نے ان کو
بہت سہرایا
ان سب نے اپنا اپنا سر جھکا کر سب لوگوں کا شکریہ ادا کیا
ان سب کے پیرنٹس نے ان سب کو ایک ساتھ دیکھ کر ہمیشہ ان سب کے ساتھ رہنے کی دعا کی
یہ سب حور کا پلین تھا
مزہ آگیا ۔۔۔۔ حورم خوشی سے بولی
واقعی میں ہم سب نے بھی بہت انجوائے کیا سب نے اسکی بات کی تائید کی
ساری ینگ پارٹی بہت خوش تھی
پھر سب نے مل کر ڈھیر ساری تصویریں بنوائیں اور حورم کے کہنے پر سب نے مل کر فیملی گروپ فوٹو بنوائی جس میں ینگ پارٹی کے ساتھ بڑے بھی
شامل تھے
رات گئے تک مہندی کا فنگشن چلتا رہا سب نے مل کر خوب انجوائے کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلیں نکالیں 50 ہزار نہیں تو ہم نے دلہن کو لے جانے نہیں دینا
نور نے روحان کو دھمکی دی
بارات آ چکی تھی اور وہ سب روحان کا راستہ روکے کھڑی تھیں
یہ لو ۔۔۔۔ روحان نے چپ چاپ پیسے اسکے ہاتھ پر رکھے کیوں کہ اسے حورم
کو دیکھنے کی بہت جلدی تھی
اس لئے اس نے کسی بحث کے پیسے دے دیئے
پھولوں سے روحان کا استقبال کیا گیا
وہ سٹیج پر بیٹھا حورم کا انتظار کر رہا تھا جب وہ سب لڑکیوں کے ساتھ آتی
دیکھائی دی
اسکو دیکھ کر روحان کی تو ساری دنیا ہی رک گئی اسے اس وقت صرف اپنی
ہنی ہی نظر آرہی تھی وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا
وہ لگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی کہ روحان کے لئے اس پر سے اپنی نظریں
ہٹانا بہت مشکل لگ رہا تھا اس کے لائے ہوئے بلڈ ریڈ لہنگا اور زیور پہنے
وہ کسی اسپرا سے کم نہیں لگ رہی تھی
زاوی کے ہلانے پر وہ ہوش میں آیا جو اسے اپنا ہاتھ حورم کے آگے کرنے کو کہہ رہا تھا
اس نے فورا حورم کے سامنے اپنا ہاتھ کیا اور سٹیج پر آنے میں اسکی مدد کی
اور اسے سٹیج پر رکھے صوفے پر بیٹھا دیا اور خود بھی اسکے ساتھ بیٹھ گیا
وہ دونوں سورج اور چاند کی جوڑی لگ رہے تھے
سب نے ان کی جوڑی کا
سراہا
روحان نے بلیک شیروانی پہنی ہوئی تھی جس میں وہ کسی ریاست کا شہزادہ
لگ رہا تھا
اور حورم کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی
وہ اب بھی حورم کو ہی دیکھ رہا تھا حورم نے اسے کہنی ماری جس سے وہ
ہوش میں آیا
کیا ہوا ۔۔۔۔ روحان نے پوچھا
سیدھے ہو کر بیٹھو اور مجھے گھورنا بند کرو نہیں تو میں نے اٹھ کر چلے جانا ہے یہاں سے ۔۔
حورم نے اسے دھمکی دی جو کام کر گئی
اور وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
لیکن اسکا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا
حورم نے اسے گھورا لیکن وہ اسے سمائل پاس کر کے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
اسکا کچھ نہیں ہو سکتا حورم نے مسکراتے ہوئے دل میں سوچا
یہ آپ دونوں اس وقت سے کیا باتیں کر رہے ہیں ہمیں بھی تو پتا چلے
عائزہ نے ان دونوں سے پوچھا
عائزہ ، مشال ، دعا ، نور سٹیج پر آ گئیں
تم لوگوں کو کیوں بتائیں جواب حورم نے دیا
تم دلہن ہو آج
اگر تم کو بھول گیا ہے تو میں یاد کروا دوں اس لئے آج کے دن چپ کر کے بیٹھی رہوں
مشال نے اسے دیا دلوایا
اب اگر آج میری شادی ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں اپنا منہ ہی سی لوں یہ مجھ سے نہیں ہو گا حورم بولی
تمھارا کچھ نہیں ہو سکتا اور نا ہی ہم تمھیں سمجھا سکتے ہیں اس لئے جو دل کرتا
ہے وہی کرو مجھے سے غلطی ہو گئی جو تم کو ٹوکا عائزہ چڑتے ہوئے بولی
حورم کی اسکی شکل دیکھ کر ہنسی نکل گئ
اور بھائی آپ کیوں حورم کو گھور رہے تھے نور نے پوچھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بیوی ہے میں تو گھوروں گا ویسے بھی آج جتنی ہنی پیاری لگ رہی ہے
میرا دل کر رہا اپنے علاوہ کسی اور کو ہنی کو دیکھنے ہی نا دوں
روحان بات تو نور سے کر رہا تھا لیکن اسکی آنکھیں حورم کے چہرے کا ہی طواف کر رہی تھیں
واقعی حورم آج بہت خوبصورت لگ رہی ہے بہت روپ آیا ہے اس پر آج
اور آپ کو ایک بات بتاؤں حورم نے آج پہلی با ر جو
میک اپ کروایا ہے
ورنہ اس نے آج تک کسی موقعے پر میک اپ نہیں کیا
نور بولی
واقعی میں ہنی ۔۔۔۔۔ یہ سچ ہے روحان نے حیرت کا اظہار کیا
ہاں یہ سچ ہے ۔۔۔۔ اس نے اعتراف کیا
ہممم ۔۔۔۔ روحان نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا
اسی اثنا میں سب روحان اور ہنی کے ماما پاپا سٹیج پر نکاح خواں کے ساتھ آئے
روحان کی فرمائش پر ان دونوں کا دوبارہ سے نکاح کیا گیا
نکاح کے بعد نور دودھ پلائی کی رسم کرنے کے لئے سب لڑکیوں کے ساتھ سٹیج پر آ گئی
اس نے روحان کو دودھ پلایا اور بدلے میں ایک لاکھ کا مطالبہ کیا
میں نے نہیں دینے اتنے پیسے تم لوگوں کو ایک دودھ کا گلاس ہی تھا
کوئی بھینس تو نہیں دی نا تم لوگوں نے مجھے روحان پیسے دینے کے لئے نہیں مان رہا تھا
دینے تو آپ کو پڑنے ہیں نہیں تو ادھر ہی بیٹھے رہیں کل تک ولیمہ کر کے ہی گھر جائے گا مشال کی بات پر حورم سمیت وہاں موجود سب ہنسنے
لگے
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے روحان بولا اس کو ان لوگوں کو تنگ کرنے میں مزا آ رہا تھا
حورم تم ہی سفارش کر دو ۔۔۔۔ نور نے اس سے کہا جو ان کی باتوں پر ہنس
رہی تھی
دے دو حانی ۔
اپنی ہنی کے کہنے پر دے رہا ہوں ورنہ تم بھوکیوں کو تو ایک پیسہ نا دوں
روحان نے انہیں تنگ کرتے ہوئے پیسے دے دیئے
مطلب شادی کے بعد آپ بھی بدل گئے۔۔۔ ہائے اللہ میرا بھائی بدل گیا ہادیہ نے مصنوئی آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
سب اسکی بات سن کر مسکرانے لگے
پھر حورم اور روحان کا فوٹو سیشن ہوا اور باقی سب نے بھی ان کے ساتھ
فوٹوز بنوائیں
پھر کھانا سرو کیا گیا اور سب نے کھانا کھایا
اور کھانے کی شوقین حورم نے دل کھول کر اپنی شادی کا کھانا کھایا بنا اس
بات کی پرواہ کیے کے وہ دلہن ہےاور لوگ دیکھ رہے ہیں وہ کیا کہیں گے
کھا لیا کھانا ۔۔۔۔ مشال نے آنکھوں میں شرارت لئے اس سے پوچھا
ہاں کھالیا بہت ہی مزے کا تھا اور میں نے تو دل بھر کے کھایا ہے
حورم مسکراتے ہوئے بولی کیونکہ وہ اسکی آنکھوں میں موجود شرارت دیکھ چکی تھی
دھیان سے رہے گا بھائی یہ لڑکی بہت کھاتی ہے ثبوت تو ابھی آپ کو مل ہی گیا ہو گا
یہ نا ہو کہ یہ آپ کے حصے کا کھانا بھی کھا جایا کرے اور آپ بھوکے ہی رہ جائیں اس لئے جب بھی اس کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھیں
ایک بندے کا ایکسڑا کھانا منگوائے گا ورنہ پچھتائیں گے ۔
عائزہ نے اسے آگاہ کیا
وہ تو میں دیکھ ہی چکا ہوں کہ ہنی کتنا کھاتی ہے
ہنی تم اتنا کھاتی ہو تو کھانا کدھر جاتا ہے تم پر تو کھانا کوئی اثر ہی نہیں کرتا
تم پھر بھی سمارٹ سی دیکھتی ہو
روحان نے حیرت سے پوچھا
دیکھ لیں پھر میرا کمال ۔
اور تم لوگ چپ کرو ہر وقت میرے کھانے کو ہی نظر لگاتی رہتی ہو مل کر ۔۔۔۔ حورم نے ان کو مصنوئی غصے سے گھورا
پھر حورم کی رخصتی کا وقت آیا اس نے رخصتی سے پہلے گھونگھٹ نکال لیا
تھا تا کہ رخصتی کہ وقت کوئی اسے روتے ہوئے نا دیکھے
انگلی پکڑ کے تو نے چلنا سیکھایا تھا نا ۔۔۔۔۔
دہلیز اونچی ہے یہ پار کرا دے ۔۔۔۔۔۔
بابا میں تیری ملکہ ٹکڑا ہوں تیرے دل کا۔۔۔۔۔
ایک بار پھر سے دہلیز پار کرا دے ۔۔۔۔۔
مڑ کے نا دیکھو دلبرو ۔۔۔ دلبرو ۔۔
ماما پاپا اپنے بھائیوں نور اور دعا لوگوں کے گلے لگ کہ وہ بے آواز روتی رہی
پھر سب نے اپنی دعائیوں کے سائے میں اسے روحان کے ساتھ رخصت
کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب لڑکیاں اسے روحان کے کمرے میں بیٹھا کر چلیں گئیں پھر اس نے اپنا گھونگھٹ اٹھایا اور کمرے کا جائزہ لیا
روحان کا کمرہ بہت ہی خوبصورت تھا وہ پہلے بھی اس کمرے میں آئی تھی
لیکن اس نے اس وقت کمرے پر دھیان نہیں دیا تھا
پورے کمرے میں سفید رنگ کا پینٹ تھا کمرے کے د رمیان میں فل سائز خوبصورت سا بیڈ تھا جس پر سفید اور ریڈ کلر کے تکیے، کشن ، کمفرٹر اور بیڈ شیٹ بچھی ہوئی تھی
اور حورم کا روحان کو گفٹ کیا ہوا ٹیڈی بیئر پڑا تھا
بیڈ کے چاروں کونوں پر خوبصورت سے لکڑی کر پلر تھے
بیڈ کے اوپر
اور چاروں طرف سفید اور ریڈ کلر کے باریک نیٹ کے پردے لٹک رہے تھے
جو بہت خوبصورت لگ رہے تھے ایک سائیڈ کے پردوں کو باند کر
د روازے کی شکل دی گئی تھی
بیڈ کے سہرانے والی سائیڈ پر سفید اور ریڈ کلر کے بکے رکھے ہوئے تھے اسی طرح کے کئی بکے پورے روم میں کونوں پر رکھے گئے تھے
پورے کمرے
میں پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی
بیڈ کے دائیں طرف ڈ ریسنگ روم اور ڈ ریسنگ ٹیبل تھا جبکہ بائیں طرف واش روم تھا
بیڈ کے بلکل سیدھ میں ایک صوفہ اور ٹیبل موجود تھا اور صوفے سے پیچھے دیوار پر ایل سی ڈی لگی ہوئی تھی
ڈریسنگ ٹیبل سے کچھ فاصلے پر کھڑکیاں تھیں جن پر سفید پردے گرے ہوئے تھے اور بیڈ کے بائیں طرف د روازہ تھا
ابھی وہ کمرے کا جائزہ لے کر فارغ ہوئی تھی کہ روحان کمرے میں آ گیا
اور اسکے سامنے بیٹھ گیا
_______
ابھی وہ کمرے کا جائزہ لے کر فارغ ہوئی تھی کہ روحان کمرے میں آ گیا
اور اسکے سامنے بیٹھ گیا
حورم کا دل بہت تیز تیز دھڑک رہا تھا وہ بہت بولڈ تھی لیکن تھی تو ایک لڑکی ہی نا
بہت ہی خوبصورت لگ رہی ہو ہنی ۔۔۔۔ پیاری تو تم پہلے ہی ہو لیکن آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو روحان نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے
لو دیتے لہجے میں اسکی تعر یف کی
تھینکس تم بھی بہت ہنڈسم لگ رہے ہو حورم نے بھی اسکی تعر یف کی
حانی ۔۔۔۔ حورم نے اسے پکارا
جی میری جان ۔۔۔۔
تمھیں یاد ہےتم نے جانے سے پہلے کہا تھا کہ اس دن تمھارا دل جو چاہ رہا تھا وہ تم مجھے دوبارہ ملنے پر بتاؤ گے ۔۔ حورم نے اسے آخری ملاقات والی بات
یاد کروائی
اسکی بات سن کر روحان مسکرانے لگا
ہاں یاد ہے مجھے ۔۔۔۔ روحان نے اسکا دوسرا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا
اس دن میرا دل کر رہا تھا کہ تمھاری نظر اتاروں اور آج بھی میرا دل ایسا ہی چاہ رہا ہے
کیا میں تمھاری نظر اتار سکتا ہوں ہنی ۔
حورم نے نا سمجھی سے روحان کی طرف دیکھا کہ پیسے وار کے ہی تو نظر اتاری
جاتی ہے بھلا اس میں بھی میری اجازت کیوں لے رہا ہے حانی
اجازت ہے مجھے ہنی ۔۔۔ روحان نے اجازت چاہی
اس نے ہاں میں سر ہلا دیا
اسکے اجازت دیتے ہی روحان اس پر جھکا
اور حورم کا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا اسے کون سا پتا تھا کہ
روحان اس طرح نظر اتارے گا اسکی
وہ تو اسے اجازت دے کر ہی پچھتائی
کچھ دیر کے بعد روحان نے اسکے لبوں کو آزاد کر دیا
وہ منہ نیچے کیے سرخ چہرے کے ساتھ اپنا سانس بحال کر رہی تھی
جبکہ روحان نے ہونٹوں پر دلفر یب مسکراہٹ رکسایا تھی
مجھے نہیں پتا تھا کہ میری ہنی بلش بھی کرتی ہے روحان نے اسکی تھوڑی
کو پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر کیا
حورم نے خود کو سنھبالا اور اسے گھورا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا
یہ کیا تھا ۔۔۔۔ حورم نے اس سے اس کے نظر اتارنے والے طریقے کے بارے میں استفسار کیا
روحان دوبارہ اس پر جھک گیا
حورم نے اسے دور کرنے کی کوشش کی لیکن روحان نے اسے بتا کر ہی
دم لیا کہ ”” یہ کیا تھا””
اسکو میرے انداز میں نظر اتارنا کہتے ہیں میری جان ۔۔۔۔
روحان اسے آزاد کرتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں بولا
تو پہلے ہی یہ بات منہ سے نہیں بتا سکتے تھے یہ جو ابھی کیا
کرنا ضروری تھا کیا ۔۔
حورم نے اسے گھورا اسکو اس وقت روحان سے بہت شرم آ رہی تھی لیکن وہ اس پر ظاہر نہیں کر رہی تھی
بہت ضروری تھا میرا دل تو پھر سے تمھاری نظر اتارنے کو کر رہا تھا
روحان مسکراتے ہوئے پھر اسکے اوپر جھکا لیکن حورم نے اسکے سینے پر اپنے
ہاتھ رکھ کے اسے دور کیا
خبردار اگر تم نے ایسا ویسا کچھ کیا تو کیس کر دوں گی تم پر ۔۔۔۔ حورم نے اس پر مصنوئی غصہ کیا
اوکے اوکے ایس پی صاحبہ ابھی کچھ نہیں کرتا روحان مسکراتے ہوئے بولا
حانی ۔۔۔۔۔ میں تمھارے ڈمپل کو چھو سکتی ہوں ۔۔۔۔ حورم نے بچپن کی طرح آج بھی اس سے وہی سوال کیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *