Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35
ہنی تم نے تو بہت ہی کم وقت میں تیرنا سیکھ لیا ہے روحان اور وہ اس وقت پول میں تیر رہے تھے
روحان نے اسکو تیرنا سکھا دیا تھا اور اس نے بہت ہی کم وقت میں تیرنا سیکھ
لیا تھا
دیکھ لو پھ میرا کمال ۔۔۔۔۔۔ حورم تیرتے ہوئے بولی
روحان تیرتے ہوئے اسکے پاس آیا
اور اسکی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قر یب کیا
حانی عقل کرو کچھ کوئی دیکھ لے گا حورم نے خود کو چھڑوانے کی کوشش
کی لیکن روحان اسکو چھوڑنے کی موڈ میں نہیں تھا
حانی ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ اور کہتی روحان نے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھتے ہوئے اسکی بولتی بند کر دی
حانی ۔۔۔۔۔۔۔حورم نے اپنا پورا زور لگا کہ خود کو اسکی گرفت سے آزاد کروایا
تھوڑا سا تو عقل سے کام لو کوئی دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا
سوچنے دو جو بھی سوچتا ہے میں تو اپنی بیوی کو پیار کر رہا ہوں روحان ڈھیٹوں
کی طرح مسکراتے ہوئے بولا
چلو نکلو باہر ۔۔۔۔۔ حورم نے اسے گھورا
وہ مسکراتے ہوئے پول سے باہر نکل کر اپنے روم کی طرف چل دیا
اس کے جانے کے بعد حورم پول سے باہر نکلی اور خور کو اچھے سے بڑے سے ٹاول سے کور کیا اور روم کی طرف چل دی
جب بھی روحان اسے سیکھاتا تھا تو وہ روحان کے جانے کے بعد ہی پول سے
نکلتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ روحان اسکو گیلے کپڑوں میں دیکھے
اسے روحان سے شرم آتی تھی پر اس نے کبھی روحان پر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا
روحان بھی سمجھ گیا تھا کہ وہ اس حالت میں اس کے سامنے نہیں آنا چاہتی
اس لئے وہ بنا کچھ کہے اس سے پہلے ہی پول سے نکل جایا کرتا تھا
حانی د ربار پر چلیں ۔۔۔۔۔ حورم چینج کرنے کے بعد اس سے بولی
ٹھیک ہے ہنی چلو چلتے ہیں ۔۔۔۔۔
بائیک پر چلتے ہیں حانی پلیز ۔۔۔۔ حورم نے اس سے فرمائش کی
جیسے میری ہنی کہے گی میں ویسا ہی کروں گا تم حجاب کر کے آجاو نیچے
میں تب تک ماما کو بتا دوں روحان اس سے کہتا ہوا نیچے چلا گیا
پھر وہ دونوں بائیک پر د ربار کی طرف روانہ ہوئے جہاں اکثر حورم جایا کرتی تھی اور اب تو روحان بھی اس کے ساتھ جایا کرتا تھا
حورم آنکھیں بند کیے مزاز کے پاس کھڑی فاتحہ پڑھ رہی تھی اور روحان اسکی
طرف دیکھ رہا تھا
حورم نے فاتحہ پڑھنے کے بعد جب روحان کی طرف دیکھا تو وہ اپنی آنکھوں میں اسکے لئے محبت سموئے یک ٹک اسے ہی دیکھ رہا تھا
حورم نے اسے گھورا تو وہ فورا فاتحہ پڑنے لگا اور حورم اسے دیکھنے لگی
روحان نے اسکی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی تو وہ ہوش میں آئی
چلو چلتے ہیں روحان اسکا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکل کر بائیک کے پاس لے
آیا
بائیک پر روحان کے پیچھے بیٹھنے کے بعد حورم نے اسکے گرد اپنے دونوں بازو پھیلا لئے اور اپنا سر اسکے کندھے پر ٹکا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحان اسے ریسٹورانٹ تک لے آیا
یہاں کیوں آئے ہیں ہم حانی ۔۔۔۔۔ حورم نے بائیک سے اترتے ہوئے
اس سے پوچھا
ڈنر کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔ روحان نے اسے بتایا
پر گھر پر سب ہمارا انتظار کر رہیں ہوں گے حورم نے اسے احساس دلوایا
میں ماما کو بتا کہ آیا تھا کہ ہم ڈنر باہر ہی کریں گے اب چلو ہنی ۔۔۔۔
روحان اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ہوٹل میں داخل ہوا
وہاں موجود سب لوگوں نے ستائش بھری نظروں سے ان دونوں کی جوڑی کو
دیکھا
روحان نے بلیک نیرو پینٹ کے ساتھ بلیک شرٹ اور حورم نے بلیک فراک کے ساتھ سر پر بلیک حجاب لیا ہوا تھا وہ دونوں ایک ساتھ بہت پیارے لگ
رہے تھے ان کی جوڑی چاند اور سورج کی جوڑی لگ رہی تھی
بائیک میں چلاوں گی حانی ۔۔۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد جب وہ ہوٹل سے باہر پارکنگ میں آئے تو حورم نے
سے نئی فرمائش کی
روحان نے مسکراتے ہوئے چابی اسکی طرف بڑھائی
حورم نے چابی اسکے ہاتھ سے لینے کے بعد بائیک پر بیٹھ کر بائیک سٹارٹ کی
اور روحان اسکے پیچھے بیٹھ گیا
حورم نے بائیک فل سپیڈ پر چلانا شروع کر دی
کچھ دیر فل سپیڈ میں چلانے کے بعد حورم نے سپیڈ بہت سلو کر دی
روحان نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لے لیا
حانی ۔۔۔۔۔ چھوڑ مجھے حورم بولی
نہیں ۔۔۔۔۔ روحان اسے کندھے پر اپنا سر ٹکاتے ہوئے بولا
حورم نے پھر اسے منع نہیں کیا اور چپ کر کے بائیک چلانے لگی
مزا آ گیا آج روحان بائیک سے اترتے ہوئے بولا وہ دونوں گھر پہنچ چکے تھے
ہاں میں نے بھی بہت انجوائے کیا ہے حانی ۔۔۔۔۔ حورم بولی
روحان بائیک پارک کر کے اس لئے اپنے کمرے کی طرف چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنٹی آج کا سارا کھانا میں اکیلی ہی بناوں گی آپ آج ریسٹ کریں
حورم حرا بیگم سے گویا ہوئی
جیسے میری بیٹی کی مرضی مجھے تو کوئی اعتراض نہیں لیکن ساتھ ملازمہ کو بھی
اپنی ہیلپ کے لئے رکھ لینا ورنہ اکیلی کام کرتی کرتی تھک جاو گی
حرا بیگم اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولیں
وہ اور حورم اس وقت ڈ رائینگ روم میں موجود تھیں
حورم نے آج پولیس اسٹیشن سے چھٹی کی تھی باقی سب اپنے اپنے کام پر گئے ہوئے تھے
آج Saturday تھا اور ان کے گھر پر سب نے ڈنر کے لئے آنا
تھا
ٹھیک ہے آنٹی ملازمہ کو ساتھ لے لوں گی حورم مسکراتے ہوئے بولی
اللہ تمھیں اور روحان کو بہت سی خوشیاں دے بیٹا اور تم لوگ مجھے دادی کب بنا رہے ہو انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا
جب اللہ کو منظور ہوا آنٹی حورم نے یہ الفاظ بہت کرب سے ادا کیے تھے
اچھا اب میں کچن میں جا رہی ہوں رات کے کھانے کی تیاری کے لئے
حورم ان سے کہتی ہوئی کچن میں چلی گئی
بہت اچھی ہے حورم میں ایسے ہی اتنے سال اس سے نفرت کرتی رہی جتنا یہ ہم سب کا خیال رکھتی ہے اللہ حورم کو اور میرے بیٹے کو ہمیشہ خوشیاں دے ان کی ہر مراد پوری کرے آمین ۔۔
حرا بیگم نے اسے جاتا دیکھ مسکراتے ہوئے دل میں سوچا اور اسکی خوشیوں
کی دعا کی
ٹھیک ہے تم اب جاو اپنے کواٹر میں جب ضرورت ہوئی میں تمھیں بلا لوں گی اور باقی کا کام میں خود ہی کر لوں گی حورم ملازمہ سے بولی
ملازمہ جی بی بی جی کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
حورم نے ملازمہ کی مدد سے سب کچھ ریڈی کر لیا تھا اب وہ سیوٹ ڈیش بنا رہی تھی
وہ چوہلے کی طرف منہ کیے کھڑی تھی جب ملازمہ کے جانے کے کچھ دیر بعد اسے اپنی گردن پر کسی کی گرم سانسیں محسوس ہوئیں
اور پھر کسی نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیتے ہوئے اپنی تھوڑی اس
کے کندھے پر ٹکا دی
وہ روحان تھا حورم اسکو اسکی خوشبو سے پہچان گئی تھی
حانی چھوڑو کوئی آ جائے گا یہ کچن ہے ہمارا بیڈ روم نہیں ہے حورم نے
خود کو چھوڑوانے کی کوشش کی
لیکن روحان نے گرفت اور مضبوط کر لی نہیں چھوڑوں گا کوئی آتا ہے تو
آجائے آئی ڈونٹ کیئر ہنی ۔۔۔۔۔ روحان نے اسکا گال چوم لیا
حانی ۔۔۔۔ حورم نے چوہلا بند کر کے خود کو چھوڑوا کر اپنا رخ روحان کی طرف
کیا
روحان نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر رکھ لئے
میں آفس سے واپسی پر سیدھا روم میں گیا لیکن تم مجھے وہاں نہیں ملی ماما سے پوچھنے پر پتا چلا کہ میڈیم آج کچن میں ہیں تو میں بنا چینج کیے جہاں
آگیا اور آج تم نے پولیس اسٹیشن سے چھٹی کر کے اچھا نہیں کیا
کیونکہ آج تمھارے چھٹی کرنے کی وجہ سے دوپہر کو ہم مل نہیں سکے اور نا ہی اکٹھے ڈنر کر سکے پتا ہے میں نے تم کو کتنا مس کیا
روحان اسکے کندھے پر سر رکھے اسے اپنے دل کی روداد سنا رہا تھا
بس آج میرا دل چاہا کہ سب کے لئے رات کا کھانا میں بناوں تو میں نے چھٹی کر لی اب تم جاو روم میں اور چینج کرو میں تمھارے لئے چائے
لے کر آتی ہوں حورم اسے خود سے دور کرتی ہوئی بولی
بہت ہی بری ہو تم ہنی روحان نے دکھی سا منہ بنایا
ہاں میں بہت ہی بری ہوں تم جاو اب روم میں حورم مسکراتے ہوئے بولی
اب جلدی آ جانا وہ نا ہو مجھے خود ہی آنا پڑے تمھیں لینے کے لئے روحان
اس سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
______
اب جلدی آ جانا وہ نا ہو مجھے خود ہی آنا پڑے تمھیں لینے کے لئے روحان
اس سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
اور حورم اسکے لئے چائے بنانے لگی
چائے بنانے کے بعد وہ روم میں لے آئی روحان بیڈ کروان سے ٹیک
لگائے بیٹھا تھا
یہ لو چائے حورم نے چائے کا کپ اسکی طرف بڑھایا روحان نے کپ پکڑ کر سائیڈ پر رکھا اور اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارا کیا
حورم ہمیشہ کی طرح اسکے سینے پر سر رکھ کر بیٹھ گئی اور روحان نے اسکے گرد
اپنی بانہوں کا حصار بنا لیا
پہلے تم پیو ہنی ۔۔۔۔۔روحان نے چائے کا کپ اٹھا کر حورم کی طرف بڑھایا
حورم نے ایک سیپ لے کر کپ اسکے ہاتھ میں دے دیا
پھر ایک سیپ روحان نے لیا اور کپ دوبارہ سے حورم کو تھمایا
دونوں نے مل کر ایک ہی کپ سے چائے پی
ہنی آٹھ ماہ گزر گئے ہیں ہماری شادی اور پتا ہی نہیں چلا وقت گزرنے کا
صیحیح کہا تم نے حانی ۔۔۔۔ایک بات کہوں تم سے حورم نے ڈ رتے ڈ رتے
اس سے پوچھا کہ پتا نہیں اسکا ری ایکشن کیا ہو گا اسکی بات پر
ہاں بولو ہنی ۔۔
تم پہلے وعدہ کرو غصہ نہیں ہو گے اور میری بات مانو گے بھی حورم نے اپنا سر اسکے سینے سے اٹھاتے ہوئے اسکی طرف دیکھا
نہیں کروں گا غصہ اور اگر ماننے والی بات ہوئی تو ضرور مانوں گا روحان اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
تم دوسری شادی کر لو حورم نے اسکے سر بم پھوڑا
حورم نے یہ الفاظ بہت ہمت سے ادا کیے تھے
روحان نے اسے دونوں بازوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا
پھر سے بولو کیا کہا ابھی تم نے مجھ سے روحان بے یقینی کی کیفیت میں
بولا کہ شاید اسے ہی سننے میں غلطی لگی ہے
تم دوسری شادی کر لو ۔۔۔۔۔ حورم نے اپنی بات دہرائی
وجہ پوچھ سکتا ہوں تم سے اس ساری بکواس کی ۔۔۔۔۔ روحان اسکی آنکھوں
میں اپنی گرے آنکھیں گاڑھتے ہوئے بولا
کیونکہ کہ میں تمھیں کبھی بھی اولاد نہیں دے سکتی کب تک بے اولاد رہو
گے تم ۔۔۔۔۔ حورم اپنی نظریں جھکا لیں
لیکن مجھے نہیں چاہیئے بچے وچے اور نا ہی میں دوسری شادی کروں گا
یہ بات آج تو تم نے مجھ سے کر لی آئیندہ کبھی نا کرنا سمجھی ۔۔۔۔
روحان نے اسکا چہرہ اونچا کرتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھا
تمھیں اولاد نہیں چاہیئے پر انکل آنٹی کو تو ان کے بیٹے کی اولاد تو چاہیئے نا
وہ کیوں ترسیں تمھارے بچوں کے لیے
حورم نے بہت مشکل سے خود کو رونے سے باز رکھا ہوا تھا اور وہ یہ سب کچھ بہت ہمت سے کہہ رہی تھی روحان سے
وہ بھلا کیسے روحان کی جدائی برداشت کر سکتی تھی اس کو کسی اور کے ساتھ دیکھ سکتی تھی
لیکن اسے روحان کے ماما اور پاپا کی خواہش پوری کرنے کے لئے یہ سب
کچھ کرنا پڑا روحان کی ماما پہلے بھی کئی بار حورم سے اس بارے میں پوچھ
چکی تھیں
حورم ہر بار کوئی نا کوئی بات کہہ کے انہیں ٹال دیتی تھی
اس موضوع کی طرف آنے سے
روحان حورم کو ہی دیکھ رہا تھا جو اس سے یہ بات کرتے ہوئے خود
پر ضبط کرنے کی وجہ سے لال ہو رہی تھی
حانی میری بات ۔۔۔۔۔ حورم کی بات د رمیان ہیں ہی رہ گئی تھی کیونکہ
روحان نے اسکے لبوں پر اپنے لب رکھ کر اسے چپ کروا دیا تھا
روحان نے اسے چپ کروانے کے لیے یہ کیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ خود کو اور اسے اور تکلیف دے
وہ بھلا کیسے اپنی ہنی کے علاوہ کسی کے بارے میں سوچ سکتا تھا
پہلے تو اس سے وہ محبت کرتا تھا اب تو اسے اپنی ہنی سے عشق ہو گیا تھا
روحان نے اسکے لبوں کو آزاد کرنے کے بعد اسے خود میں بھینچ لیا
اور حورم کی ہمت بس اتنی ہی تھی وہ اسکی بانہوں میں پھوٹ پھوٹ کر رو دی
روحان نے اسکے گرد اپنی گرفت اور مضبوط کر لی
ایک دوسرے کو بانہوں میں لئے وہ دونوں کافی دیر تک روتے رہے
کچھ دیر کے بعد روحان نے اسے خود سے الگ کیا اور اسکے آنسو اپنے لبوں سے چن لئے
حورم نے اسکی طرف دیکھا جسکا سارا چہرہ آنسو سے تر تھا
حورم نے نفی میں سر
ہلاتے ہوئے اسکے آنسو اپنی پوروں پر چن لئے
چلو اب منہ دھو اور چینج کرو پھر نیچے چلتے ہیں سب آ گئے ہو ں گے
روحان نے پیچھلی بات کا کوئی ذکر نہیں کیا اور اسے چینج کرنے کا بولا
وہ سر ہلاتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر واشروم میں چلی گئی
جب وہ دونوں نیچے آئے تو سب آ چکے تھے ان دونوں نے سب کو مشترکہ سلام کیا اور سب کے ساتھ بیٹھ گئے
ان دونوں کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ دونوں جہاں آنے سے پہلے روتے رہیں ہیں وہ دونوں سب سے نارمل پیش آ رہے تھے سب سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے.
جاری ہے
