Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38

اور حورم بیٹا آپ نہیں جاو گی کیا آج پولیس اسٹیشن ۔۔۔۔۔ اب کی بار
انہوں نے حورم سے پوچھا
نہیں آنٹی میرے سر میں د رد ہے اس لئے میں آج نہیں جاؤں گی
اور اگر آپ کی اجازت ہو تو کیا میں ماما کی طرف ایک دن کے لئے جا سکتی ہوں کل واپس آ جاوں گی ۔۔۔۔۔حورم بولی
بیٹا مجھے بھلا کیا اعتراض ہو گا البتہ روحان سے پوچھ لو
وہ مسکراتے ہوئے آنکھوں میں شرارت لئے روحان کو اور حورم کو دیکھ رہی
تھیں
روحان حورم کو اپنے ماما پاپا کے گھر رکنے نہیں دیتا تھا اسکا کہنا تھا کہ میری
غیر موجودگی میں تم کچھ دیر کے لئے جا سکتی ہو پر رات نہیں رکو
گی ان کی طرف ۔۔۔۔
میں جا سکتی ہوں حورم نے روحان سے پوچھا
ہاں چلی جاو مجھے بھلا کیا اعتراض ہو گا روحان عام سے لہجے میں بولا
بیٹا طبیعت تو ٹھیک ہے تمھاری ۔۔۔۔ حرا بیگم روحان کا ماتھا چھوتی ہوئی
بولیں
کیا مطلب ماما ۔۔۔۔۔ روحان نے نا سمجھی سے ان کو دیکھا
مطلب یہ کہ بیٹا تم حورم کو اپنے ماما پاپا کے گھر رات رکنے کی اجازت دے
رہے ہو ۔۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولیں
ماما۔۔۔۔۔ اس نے احتجاج کیا
وہ مسکراتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئیں
تو روحان تم مجھے کہاں کہاں لے کر جاو گے مشعل اسے ہاتھ پر ہاتھ
رکھتے ہوئے بولی
حورم روحان کے اس ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جس پر مشعل نے پنا ہاتھ رکھا
ہوا تھا
اسکے لیے یہ برداشت کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا وہ کیسے کسی کو بھی روحان
کے قریب دیکھ سکتی تھی
روحان کا دھیان بھی اسکی طرف تھا وہ دیکھ چکا تھا کہ اس کا دھیان
مشعل کے ہاتھ کے نیچے دبے اسکے ہاتھ کی طرف ہے اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اسکی اس وقت کیا حالت ہو گی
یہی تو وہ چاہتا تھا کہ وہ اسے کسی اور کے ساتھ دیکھ کر تڑپے جیلس ہو اسے اپنی غلطی کا احساس ہو
اس لئے اس نے مشعل کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے نہیں ہٹایا
جہاں تم کہو گی وہی لے جاوں گا روحان مسکراتے ہوئے بولا
حورم کا اس سے زیادہ سہنا مشکل ہو گیا تھا وہ ان سے ایکسکوز کہتی ہوئی
وہاں سے چلی گئی
روحان کی نظروں نے اس وقت تک اسکا تعاقب کیا جب تک وہ اسکی نظروں سے اوجل نہیں ہو گئی
لگتا ہے تیر نشانے پر لگا ہے روحان نے دل میں سوچا
دیکھ لینا حورم میں روحان کو تم سے چھین لوں گی ۔۔۔۔ مشعل دل میں
جاتی ہوئی حورم سے مخاطب ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا فیصلہ کیا ہے تم نے اپنے ماما پاپا کے گھر جانے کا
میں تو کہتا ہوں ایک کی بجائے دو چار دن رہ لو ان کی طرف
اچھا ہوگا کہ اب تم اکیلا رہنے کی عادت ڈال لو آگے جا کے تمھارے کام آئے گی
میری شادی کے بعد بھی تم کو اکیلا رہنا پڑے گا روحان کمرے میں آتے ہی نہایت سفاک لہجے میں حورم سے مخاطب ہوا
حورم جو کہ پہلے ہی بہت مشکل سے اپنے اشکوں پر قابو کیے اپنا چہرہ جھکائے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی
روحان کا اتنا سرد رویہ اور اس پر اسکا یہ سب کہنا اسکی برداشت سے باہر
ہو گیا تھا اس سے پہلے کہ وہ روحان کے سامنے ٹوٹ جاتی وہ بنا روحان
کی طرف دیکھے واشروم میں چلی گئی
روحان دکھ سے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا اور اسکے واشروم میں بند ہونے کے بعد
گاڑی کی چابی لے کر روم سے چلا گیا
روحان کے جانے کے فورا بعد وہ واشروم سے باہر آگئی اور ٹیرس پے چلی
گئی
اسنے گیٹ کی طرف دیکھا تو مشعل اسے روحان کی گاڑی میں فرنٹ سیٹ
پر بیٹھتی ہوئی دیکھائی دی
مشعل کو روحان کے ساتھ دیکھ کر اسے بہت تکلیف ہو رہی تھی اسکی آنکھوں سے اشک رواں تھے
ان کے جانے کے بعد وہ روم میں آ گئی اور کچھ دیر اپنے دل کو ہلکا کرنے
کے بعد چینج کر کے اور خود کو نارمل کرتے ہوئے ماما پاپا کے گھر
چل دی
_______
اسلام علیکم ماما ۔۔۔۔۔ حورم نے فاطمہ بیگم کو سلام کیا جو ڈرائینگ روم میں
بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں
وعلیکم اسلام آج میری بیٹی کو ہمارے گھر کا راستہ کیسے بھول گیا ۔۔۔
انہوں نے خوشی سے صوفے سے اٹھتے ہوئے اسے گلے لگا لیا
بس آپ کی یاد آئی اور میں چلی آئی حورم مسکراتے ہوئے ان سے بولی
اچھا کیا بیٹا ۔۔۔۔۔ روحان نہیں آیا آج ورنہ تو وہ تمھیں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے اس سے پوچھا
ماما وہ حانی کی خالہ کی بیٹی آئی ہوئی ہے وہ اسے سیر کروانے گیا ہے
اس لیے میرے ساتھ نہیں آیا
تو حورم بیٹا تم کیوں نہیں گئی ان کے ساتھ ۔۔۔۔۔
ماما میرے سر میں درد تھا اس لئے نہیں گئی اس نے بہانا بنایا
وہ ان کو اور کیا بتاتی اس سے تو روحان نے اپنے ساتھ جانے کا پوچھا بھی نہیں تھا
اب کیسا ہے تمھارا سر درد میڈیسن لی کہ نہیں ۔۔۔۔ انہوں نے فکر مند لہجے میں استفسار کیا
ماما ٹھیک ہوں اب میں اور میں نے میڈیسن بھی لی تھی ۔۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے ان کو یقین دلایا
ماما آیان شایان اور پاپا کیسے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ سب بھی ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔ تم سناو تمھاری لائف کیسی جارہی ہے
بہت اچھی جا رہی ہے ماما آپ بے فکر ہو جائیں ۔۔۔۔ اور ماما آج کا ڈنر ہماری
طرف ہے نا سب کا تو سارا کھانا میں خود بناوں گی آج آپ کی چھٹی اوکے
وہ ان کے گلے میں پیار سے بانہیں ڈالے بولی
ٹھیک ہے جیسے میری بیٹی کی مرضی ۔۔۔۔۔ انہوں نے حورم کی پیشانی چومی
ماما مجھے مارکیٹ جانا ہے آپ بھی چلیں میرے ساتھ ۔۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے ویسے بھی میں فارغ ہی ہوں تمھارے ساتھ چلتی ہوں
وہ دونوں مارکیٹ روانہ ہو گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما آپ چلیں گاڑی میں بیٹھیں جا کر میں اپنا بریسلیٹ لے کر آتی ہوں یقینا اسی شاپ میں گر گیا ہو گا جہاں سے ہم نے شاپنگ کی ہے
حورم کا بریسلٹ گم گیا تھا اس نے ابھی اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا تو اس میں بریسلٹ نہیں تھا
وہ دونوں اس وقت مال میں موجود تھیں اور حورم نے شاپنگ بھی کر لی تھی
ٹھیک ہے بیٹا میں گاڑی میں تمھارا ویٹ کر رہی ہوں وہ اس سے کہتی ہوئیں پا رکینگ میں موجود گاڑی کی طرف چل دیں
حورم اسی شاپ کی طرف چل دی جہاں سے اس نے شاپنگ کی تھی راستے میں اسے روحان اور مشعل نظر آئے وہ اسی کی طرف آ رہے تھے
حورم شاپ کی طرف جا ہی رہی تھی کہ راستے میں موجود ایک لڑکا اس کے راستے میں کھڑا ہو گیا
ہیلو بے بی کیسی ہو ۔۔۔۔ وہ انتہائی گھٹیا انداز میں حورم سے پوچھ تو ایسے
رہا تھا جیسے حورم کو بچپن سے جانتا ہو
حورم نے ایک نظر اسے دیکھا اور ایک سائیڈ سے وہاں سے جانے لگی تھی کہ وہ لڑکا پھر اسکے سامنے آ گیا
بے بی جواب تو دے دو ۔۔۔۔۔۔ اس لڑکے کی نظریں حورم کو اپنے آر پار
ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں لیکن وہ اس کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی
وہ ویسے ہی بہت دکھی تھی حورم کا اس سے لڑنے اور مغز ماری کرنے کا بلکل بھی موڈ نہیں تھا
حورم اسے دھکا دیتی ہوئی وہاں سے چلی گئی اتنے میں روحان اور مشعل بھی اس کے پاس آ چکے تھے لیکن حورم بنا ان کو دیکھے ان کو مخاطب کیے
ان دونوں کے پاس سے گزر گئی
روحان نے دور سے ہی ایک لڑکے کو حورم کا راستہ روکے دیکھ لیا تھا اس لیے وہ تیزی سے حورم کے پاس آیا لیکن تب تک حورم اس لڑکے کو دھکا
دیتی ہوئی وہاں سے چل پڑی
اس سے پہلے کے وہ لڑکا حورم کے پیچھے جاتا روحان اس لڑکے کے پاس آ گیا
مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے چلو گے ایک سائیڈ پے ۔۔۔۔۔ روحان نے سنجیدہ لہجے میں اسے مخاطب کیا اور خود کو نارمل ہی شو کیا اس کے سامنے
ورنہ جتنا اس کو غصہ تھا اسکا دل کر رہا تھا یہں پر اس کا منہ توڑ دے
لیکن تم ہو کون اور میں کیوں تمھارے ساتھ جاوں اس لڑکے نے حیرانگی
سے روحان سے استفسار کیا
چلو تو صحیح میں کون ہوں یہ بھی بتا دیتا ہوں ۔۔۔۔ روحان کے کہنے پر وہ روحان کے ساتھ چل پڑا اس بات سے بے خبر کے روحان اسکا کیا
حال کرنے والا ہے
روحان اسے پارکینگ تک لے آیا
اس لڑکی کا راستہ کیوں روکا تم نے تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی ایسا کرنے کی روحان نے اس لڑکے سے کہتے ساتھ ہی ایک مکہ کھینچ کے اس کے منہ
پر دے مارا
جس سے اسکے منہ سے خون نکلنے لگا وہ آنکھیں پھاڑے غصے سے روحان کو گھور رہا تھا
اس سے پہلے کے وہ لڑکا روحان پر جوابی حملہ کرتا روحان نے اسے مارنا
شروع کر دیا بنا لوگوں کی پرواہ کیے اور بنا اس بات کی پرواہ کیے کہ اس لڑکے کے کہاں کہاں چوٹ لگ رہی ہے اس پر تو جنون سوار تھا
کہ کیسے کوئی اسکے سامنے اس کی ہنی کو تنگ کر سکتا ہے وہ اس بات بھی حیران تھا کہ حورم نے اسکا منہ کیوں نہیں توڑا آج اسے کیا ہو گیا ہے
جو اس نے اس لڑکے کو اتنی آسانی سے جانے دیا
حورم اپنا بریسلٹ لے کر جب پارکنگ میں آئی تو اس نے روحان کو اسی لڑکے تو پیٹتے ہوئے پایا جو اسے کچھ دیر پہلے تنگ کر رہا تھا
مشعل اور اسکی ماما ایک سائیڈ پر کھڑیں روحان کو اس لڑکے کو چھوڑنے کا کہہ رہی تھیں لیکن روحان اسی لڑکے کو مارنے سے باز نہیں آ رہا تھا
وہ لڑکا بری طرح زخمی ہو گیا تھا اس میں مزاہمت کرنے کی بھی ہمت
بھی نہیں بچی تھی پھر بھی روحان بس نہیں کر رہا تھا
حورم اس لڑکے کی حالت اور روحان کا جنونی پن دیکھتی ہوئی دوڑ کر روحان کے پاس آئی اور اسکا بازو پکڑ کر اپنا پورا زور لگا کر روحان کو اس لڑکے سے
دور کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کرو حانی مر جائے گا وہ کیوں مار رہے ہو اس کو اتنی بری طرح سے
حورم کے روکنے پر روحان رکھ گیا تھا پر ابھی بھی اس لڑکے کو خون کھار
نظروں سے گھور رہا تھا
اسکی ہمت کیسے ہوئی تمھارے ساتھ بدتمیزی کرنے کی میرا دل کر رہا ہے اسکی جان لے لوں روحان غصے سے بولا اور اپنا بازو حورم کی گرفت سے آزاد کروایا
حورم آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھ رہی تھی جو اس سے اتنی محبت کرتا تھا
حورم نے جلد ہی خود کو نارمل کیا اور روحان سے مخاطب ہوئی
حانی تم مشعل کو لے کر جاو اسے میں خود ہی دیکھ لوں گئی
روحان وہاں سے جانا نہیں چاہتا تھا حورم کو اکیلا چھوڑ کر پر اسے جانا پڑا کیونکہ وہ اگر کمزور پڑ جاتا تو حورم اس سے دور ہو جاتی جو پلین اس نے سوچا ہوا تھا وہ کبھی پایا تقمیل تک نا پہنچ پاتا
اس لیے بنا حورم سے کچھ کہے وہ مشعل کے ساتھ وہاں سے چلا گیا
ماما آپ گاڑی میں بیٹھیں میں ابھی آتی ہوں حورم فاطمہ بیگم سے مخاطب ہوئی جو کب سے یہ سب دیکھ رہی تھیں
وہ سر ہلاتی ہوئیں گاڑی میں بیٹھ گئیں
حورم نے کمال کو فون کیا اور پرائیوٹ گاڑی اور کچھ جمال کے ساتھ اسے یہاں آنے کا بولا
اسکو فون کرنے کے بعد حورم اس لڑکے کے پاس ایک ٹانگ پر بیٹھ گئی
جو درد سے کراہ رہا تھا
عقل تو آ ہی گئی ہو گی شکر کرو میں یہاں تھی اور میں نے حانی کو روک لیا
ورنہ تمھیں وہ زندہ نا چھوڑتا کیا ملا مجھے چھیڑ کے الٹا مار بھی کھائی
تم شاید ٹی وی نہیں دیکھتے اور کبھی پولیس اسٹیشن بھی نہیں آئے ورنہ جان جاتے کہ جس کو تم نے آج چھیڑا ہے وہ اس علاقے کی ایس پی ہے
نام تو تم نے سنا ہی ہو گا حورم علی نام ہے میرا
وہ تو شکر کرو آج میرا موڈ ٹھیک نہیں تھا ورنہ میں نے تمھارا وہ حال کرنا تھا
کہ ساری عمر یاد رکھتے کہ کس سے پالا پڑا ہے اور جس سے تم نے ابھی
مار کھائی ہے نا وہ میرا شوہر ہے آج تو تم بچ گئے اگر آئیندہ تم مجھے ایسی ہی
حرکت کرتے دوبارہ نظر آئے تو تمھاری خیر نہیں یہ بات پلے سے بند لو
حورم کی زبانی سن کر کہ وہ ایس پی حورم علی ہے اس لڑکے کی سٹی گم
ہو گئی وہ اس کا نام جانتا تھا پر اسے کبھی دیکھا نہیں تھا
اتنے میں کمال اور جمال بھی آ گئے حورم نے ان دونوں کو اس لڑکے کی پٹی وٹی کروانے کے بعد اسے گھر پہچانے کا بول کر خود اپنی گاڑی میں گھر روانہ ہو گئی
حورم ۔۔۔۔۔ تم آج جہاں ۔۔۔۔ آیان اور شایان نے گھر میں داخل ہوتے
ہی حورم کو دیکھ لیا تھا اور وہ خوشی سے چلاتے ہوئے ایک ساتھ اسکے گلے
لگ گئے
جی میں جہاں ۔۔۔۔۔۔ تم دونوں کیسے ہو ۔۔۔۔حورم ان دونوں کو خود سے الگ کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولی
ہم بلکل ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔ جواب آیان کی طرف سے آیا
تم بتاو تم کیسی ہو اور روحان بھائی کیسے ہیں وہ نہیں آئے تمھارے ساتھ
شایان نے پوچھا
میں بھی ٹھیک ہوں اور حانی کو کام تھا اس لئے نہیں آیا
اچھا چھوڑو تم دونوں ان باتوں کو یہ بتاو کچھ کھاو گے یا کھا کے آئے ہو
حورم نے ان دونوں سے پوچھا
نہیں میں تو رات کو ڈنر ہی کروں گا میں نے یونی سے کھا لیا تھا شایان بولا
اور تم آیان ۔۔۔۔۔ حورم نے سوالیہ نظروں سے آیان کی طرف دیکھا
نہیں میں نے بھی کالج میں برگر کھا لیا تھا ابھی کچھ نہیں کھاوں گا آیان بولا
اچھا ٹھیک ہے پھر تم دونوں اپنے روم میں جا کر فریش ہو جاو اور میں کچن
میں جا رہی ہوں رات کا ڈنر ریڈی کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔
تو آج کا ڈنر تم بناو گی مزا آ جا ئے گا آج تو پھر کھانا کھانے کا ۔۔۔۔۔
شایان مسکراتے ہوئے بولا
اچھا اچھا جاو اب تم دونوں اب مجھے بھی اپنا کام کرنے دو ۔۔۔۔ وہ مسکراتی
ہوئی ان سے کہتی ہوئی کچن میں چلی گئی
آنٹی حورم کدھر ہے نظر نہیں آ رہی دعا نے فاطمہ بیگم سے پوچھا
سب لوگ ڈرائینگ روم میں موجود تھے روحان اور مشعل بھی ۔۔۔۔۔
دعا تم نے تو میرے دل کی بات پوچھ لی ہے آنٹی سے
میری نظریں بھی کب سے اسے ڈھونڈ رہی ہیں پر وہ ہے کہ نظر آنے کا نام نہیں لے
رہی روحان نے دل میں سوچھا
وہ تم سب کے آنے سے پہلے کھانا بنا کے اپنے روم میں چینج کرنے گئی ہے آ جائے گی تھوڑی دیر میں ۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولیں
ٹھیک ہے آنٹی ہم ویٹ کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ دعا بولی
کچھ دیر میں حورم وائٹ کلر کی فراک پہنے سر پر ڈوپٹا اوڑھے سڑھیاں اترتے
ہوئے نظر آئی
اتفاق سے روحان نے بھی وائٹ نیرو پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنی ہوئی
تھی آج ان دونوں نے خود سے میچنگ کے کپڑے نہیں پہنے تھے وہ
تو اتفاق سے میچنگ ہو گئی تھی
اسے دیکھتے ہی روحان کی بے چین روح اور بے چین دل کو قرار آیا
حورم ۔۔۔۔۔۔ عائزہ ، مشال اور دعا خوشی سے چلاتی ہوئیں ایک ساتھ اس کے گلے لگ گئیں
ہائے اللہ چڑیلوں چھوڑو مجھے مارنا ہے کیا آج مجھے تم تینوں نے ۔۔۔۔۔
حورم نے ان تینوں کو آنکھوں میں شرارت لیے خود سے دور کیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *