Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17

تم لوگ کیا کر رہے تھے اس وقت جب وہ بھاگا ۔۔۔۔۔
حور سب پر غصے سے چیخ رہی تھی کیونکہ پولیس اسٹیشن سے ایک ملزم بھاگ گیا تھا وہ ملزم رات کے وقت پولیس اسٹیشن سے بھاگ گیا تھا
وہاں کسی کو پتا ہی نہیں چلا
اب ان سب کی حور کے ہاتھوں کمبختی آئی ہوئی تھی
وہ سب سر جھکائے اس کے سامنے کھڑے تھے اسکے سامنے بولنے کی بھلا
کس میں ہمت تھی
جاو سب یہاں سے اور اسے ڈھونڈ کر لاو ۔۔۔۔۔ حور نے غصے سے ان کو
جانے کا بولا
وہ سب اسے سلیوٹ کرتے ہوئے اسکے روم سے چلے گئے
شکر ہے میم نے آج صرف غصہ ہی کیا ہے نہیں تو ان کو غصے
سے لال ہوتا دیکھ میرا دل کہہ رہا تھا انہوں نے آج ہم میں سے کسی ایک کو چھوٹ کر دینا ہے پر شکر ہے اوپر والے کا جو اس نے ہمیں ان سے بچا لیا
فضل حسین نے حور کے روم سے باہر آتے ہی اللہ کا شکر ادا کیا وہ سب سے زیادہ حور سے ڈ رتا تھا اسکی تو جان جاتی تھی حور کے غصے سے
واقعی میں یار شکر ہے بچ گئے میم کے ہاتھوں ۔۔۔۔ ایک اور بولا
چلو اب اسے ڈھونڈتے ہیں فضل حسین ان سب سے بولا
ان سب کے روم سے جانے کے بعد حور قہقہے لگا رہی تھی اسکا ہنس ہنس کر برا حال تھا
حور اتنی اچھی ایکٹنگ کرنے پر خود کو داد دے رہی تھی
حور جانتی تھی کہ وہ ملزم بھاگے گا اور اس لیے حور نے اسے بھاگنے دیا کیونکہ کہ وہ چاہتی تھی کہ وہ وہاں سے بھاگے
حور کو سب سے زیادہ فضل حسین کی لٹکی ہوئی اور ڈ ری ہوئی صورت سوچ سوچ کر ہنسی آ رہی تھی
جب وہ ان سب پر غصہ کر رہی تھی تو اس وقت فضل حسین کی کیا حالت
تھی
حور کو اپنا پولیس اسٹیشن کا پہلا دن یاد آگیا جب وہ پہلے دن ایس پی کی
حیثیت سے پولیس اسٹیشن آئی تھی
جیسے ہی حور کی یعنی کہ نئے ایس پی کی گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوئی
سب ایک لائن بنا کر کھڑے ہو گئے
جب حور گاڑی سے نکلی تو سب اسے سلیوٹ کرنے کی بجائے منہ کھولے
اسے دیکھ رہے تھے وہ سب تو سمجھ رہے تھے کہ کوئی کافی عمر کا ایس پی
ہو گا پر یہاں تو ایک نازک سی لڑکی ایس پی کے یونیفارم میں سر حجاب
لیے ان کے سامنے نئے ایس پی شکل میں کھڑی تھی
حور نے ان سب کی شکل دیکھ کر بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی
ہیلو ایوری ون آئی ایم یور نیو ایس پی حور علی ۔۔۔۔۔ حور نے خود کو سنجیدہ
کرتے ہوئے اپنا تعارف رعب دار آواز میں کروایا
سب اسکے بولنے کی وجہ سے ہوش میں آئے اور اسے سب نے ایک ساتھ سلیوٹ کیا
حور نے بھی ان سب کو سلیوٹ کیا
ان سب نے اپنا اپنا تعارف اسے کروایا
میرے کچھ رولز ہیں اور میں چاہتی ہوں کہ میرے انڈر کام کرنے والا ہر
شخص ان رولز کو فولو کرے
آج سے کوئی رشوت نہیں لے گا کسی سے اور نا ہی کسی بے گناہ اور غریب کے ساتھ نا انصافی کرے گا جو سچا ہو گا ہم سب کر مل کر اسے انصاف دلوائیں گے
اوکے ۔۔۔۔ حور سب سے بولی
یس میم ۔۔۔۔۔ سب ایک ساتھ بولے
اور اگر کوئی مجھے غلط کام کرتا مل گیا آپ سب میں سے تو مجھ سے برا کوئی
نہیں ہو گا
حور نے سب کو وان کیا
سب نے اسکی بات پر سر ہلایا
جتنے بھی کیسسز چل رہے ہیں ان سب کی فاعلز لے کر میرے میں روم
میں آئیں ابھی ۔۔۔۔۔حور انسپکڑ سے کہتی ہوئی وہاں سے اپنے روم میں چلی
گئی
حورم فاعلز دیکھ رہی تھی کہ اسے باہر شور سنائی دیا
وہ اٹھ کر باہر آگئی اسکے پیچھے انسپکڑ بھی آ گیا
جہاں ایک سپاہی ایک بزرگ پر چیخ رہا تھا
کیا ہو رہا یہاں ۔۔۔۔۔ حور نے کڑک دار میں آواز میں پوچھا
وہ میم یہ بابا جی اپنی بیٹی کی گمشدگی کی ریپورٹ لکھوانے آئے ہیں اور اس
شہر کے بہت بڑے سیاست دان کے بیٹے پر الزام لگا رہے ہیں
اسکے ماتحت نے اسے وجہ سے آگاہ کیا
تو لکھیں ان کی ریپورٹ اور اس لڑکے کو گرفتار کر کے لے آئیں سمپل سی
بات ہے اس میں اتنا شور کرنے کی کیا بات ہے حور غصے سے بولی
لیکن میم وہ بہت بڑے آدمی کا بیٹا ہے ۔۔۔۔ وہ ڈ رتے ہوئے بولا
بڑے آدمی کا بیٹا ہے تو کیا ہوا آپ ریپورٹ لکھو اور اس لڑکے کے اریسٹ
وارنٹ تیار کریں میں خود آپ سب کے ساتھ جاوں گی
اسے گرفتار کرنے حور رعب دار آواز میں بولی
لیکن میم ۔۔۔۔۔۔ وہ پھر سے منمنایا
میں اور کوئی بات نہیں سنو گی ریپورٹ لکھیں چپ کر کے ۔۔۔۔ حور غصے
سے بولی
اور بابا جی آپ بے فکر رہیں آپ کی بیٹی آپ تک میں با حفاطت پہنچاوں گی
حور نے ان کو تسلی دی
اور اپنے کمرے میں چلی گئی
پھر اگلے دن حور خود اس لڑکے کو گرفتار کر کے لے کر آئی اور اسکو اپنے ہاتھوں سے مار مار کر اس لڑکے کا وہ حال کیا کہ اسے لڑکے کا کہ
اس نے طوطے کی طرح اس لڑکی کا بتا دیا
حور کو اس لڑکے باپ نے بہت دھمکیاں دیں پر وہ اپنے کام سے باز نا
آئی حور نے لڑکی کو باز یاب کر کے اسے اسکے گھر تک پہنچا دیا
اس دن کے بعد حور پورے شہر میں مشہور ہو گئی اور اسکے ماتحت بھی اس دن سے اس سے ڈ رنے لگے تھے
اللہ اللہ میم کتنے غصے والی ہیں اس لڑکے کا کیا حال کیا ہے ان کو دیکھ
کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ اتنی بری طرح بھی کسی کو مار بھی
سکتی ہیں دیکھنے میں تو وہ نازک سی ہی لگتی ہیں پر ہیں بہت سخت ۔۔۔۔
فضل حسین جو کہ بیس سال کا تھا اور حور کا ماتحت تھا
وہ سب سے بولا
ہاں صیحیح کہہ رہے ہو تم ۔۔۔۔۔ ان میں سے ایک بولا
حور نے بھی ان کی باتیں سن لی تھیں اور انکی باتیں سن سن کر مسکرا رہی تھی
کیا ہو رہا یہاں حور ان سب کے سر پر کھڑی ہو کر غصے سے بولی
کچھ نہیں میم۔۔۔۔ فضل حسین ڈ رتے ہوئے بولا
چلیں اپنا اپنا کام کریں جا کر سب ۔۔۔۔ حور کے کہنے پر سب اپنی اپنی
جگہ پر چلے گئے
حور حال میں واپس آئی تو اسکے لب اپنا پہلا دن یاد کر کے مسکرا رہے تھے
پھر حور جان بوجھ کر فضل حسین پر مصنوئی غصہ کیا کرتی تھی کیونکہ اسے
تنگ کرنے میں اسے مزا آتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاپا ماما اب ہمیں نور کی رخصتی کر دینی چاہیئے آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں ۔۔۔۔ حور نے ان دونوں سے پوچھا
وہ اس وقت وہ ان کے کمرے میں موجود تھی
لیکن حور تم بڑی ہو پہلی ہی تمھارے کہنے پر ہم نے ان کا نکاح کر دیا ہے
اب تم رخصتی کا کہہ رہی ہو فاطمہ بیگم بولیں
پلیز ماما مجھ سے تو شادی کی بات بھی مت کریں اور یہ دنیا کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ پہلے بڑی بہن کی ہی شادی ہو گی
کیوں تمھاری شادی کی بات کیوں نا کروں تم نے کیا شادی نہیں کرنی
اس کی ماما نے غصے کا اظہار کیا
نہیں کرنی مجھے کوئی شادی وادی حور کا لہجہ اٹل تھا
پلیز آپ لوگ اس بات کو یہیں چھوڑ دیں اس پر ہم پھر بات کریں گے
ابھی ہم نور کے بارے میں بات کر لیتے ہیں علی صاحب ماحول کو تلخ ہوتا
دیکھ کر ان دونوں سے بولے
ٹھیک ہے کر لیں اپنی مرضی ۔۔۔۔ فاطمہ بیگم ناراض ہوتے ہوئے بولیں
ماما پلیز ناراض نا ہوں میری قسمت میں جو ہے مجھے مل جائے گا
اور پتا نہیں میرا کیا بنتا ہے اور میری وجہ سے ہم نور کی تو حق تلفی
نہیں کرنی چاہیئے حور ان کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور ان کو قائل کرنے کی کوشش کی
چلو ٹھیک ہے میں راضی ہوں آپ بات کر لیں باسل کے پاپا۔۔۔انہوں نے مسکراتے ہوئے اپنی رضامندی دے دی
تھینکس ماما ۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر میں بات کرتا ہوں احمد سے ۔۔۔۔۔ علی صاحب مسکراتے ہوئے بولے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی صاحب نے احمد صاحب سے بات کی ان کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا سب کی مرضی سے اس ا گلے ماہ کے لاسٹ کی ڈیڈ فکس کردی گئی
اور گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں
رضا کیسی جا رہیں ہیں باسل کی شادی کی تیاریاں پھر زاوی نے پوچھا
زاوی ، رضا ،حسن ، شیری اور معاذ اس وقت زاوی کے دفتر میں موجود تھے بزنس کے سلسے میں ۔۔۔۔۔
ابھی رضا جواب دینے ہی لگا تھا کہ آفس کا د رازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا
اسلام علیکم آنے والے نے سب کو سلام کیا
وعلیکم اسلام سب نے جواب دیا
آو کبیر ہم تمھارا ہی انتظار کر رہے تھے حسن نے اس سے ہاتھ ملایا
کبیر سے ان کی دوستی بزنس ڈیل کے بعد ہوئی تھی اب وہ ان سب کا بہت اچھا دوست تھا
ہاں رضا کیسی چل رہی ہیں تیاریاں شادی کی اس نے اپنا سوال پھر دوہرایا
بہت اچھی چل رہی ہیں تیاریاں ۔۔۔۔۔۔ جب دیکھو سب خواتین بازار کے چکر لگا رہی ہوتی ہیں
ہاں یہ تو ہے شادی والے گھر میں یہ تو ہوتا ہی ہے زاوی مسکراتے ہوئے بولا
اور ایس پی صاحبہ کیا کر رہیں آج کل جن کی وجہ سے یہ شادی ہو رہی ہے وہ تو ملتی ہی نہیں ہیں بھائی کو بھی بھول گئی وہ پولیس میں جا کر
زاوی نےسب سے پوچھا
وہ آج کل بہت مصروف ہوتی ہے اسکا کوئی کیس چل رہا ہے اسی میں بزی ہے وہ میں کل اس کے گھر گیا تھا وہاں میری اس سے ملاقات ہوئی تھی
جواب شیری کی طرف سے آیا
تم سوچ رہے ہو گے ہم کس کی بات کر رہے ہیں حسن نے کبیر سے پوچھا جو کب سے خاموش بیٹھا ان سب کی شکلیں دیکھ رہا تھا
ہم حور کی بات کر رہے ہیں وہ ہم سب کی جان ہے ہماری اور ہمارے سب گھر والوں کی جان بستی ہے اس میں آج کل وہ ایس پی ہے ہمارے
علاقے کی ۔۔۔۔۔ حسن نے اسے آگاہ کیا
وہی حور جو شیری کے ساتھ ساتھ یونی میں پڑھتی تھی اسکی بات کر رہے ہو تم ۔۔۔۔ کبیر نے پوچھا
کبیر نے یہ تو سنا تھا کہ اس علاقے کی ایس پی کا نام حور علی ہے پر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وہی حور علی ہے جو اسکی سٹوڈنٹ رہ چکی ہے
جی کبیر بھائی وہی حور شیری نے جواب دیا
آفس میں جب کبیر شیری سے پہلی بار ملا تھا تو کبیر نے ہی اسے کہا تھا کہ وہ اسے سر کی بجائے بھائی کہا کرے تب سے شیری اسے بھائی ہی کہتا تھا اور رضا لوگوں کو یہ بات نہیں پتا تھی کہ شیری کبیر کا سٹوڈینٹ رہ چکا ہے
تم جانتے ہو حور کو ۔۔۔۔ رضا کی طرف سے سوال کیا گیا
ہاں میں نے شیری لوگوں کو یونی میں ایک سمیسڑ پڑھایا تھا
اوکے ۔۔۔۔ یہ تو اچھی بات ہے رضا بولا
اور تمھیں ایک بات بتاؤں کبیر میری ، شیری اور رضا کی شادی حور کی ہی وجہ سے ہوئی تھی اس نے ہی ہماری شادی کروائی ہے اور اب باسل کی شادی بھی اسی کی وجہ سے ہو رہی ہے
اس کو ہماری ہر خواہش کا ہمارے بنا بتائے ہی پتا چل جاتا ہے اور ہمارے بنا کہے وہ ہماری خوشی کو وہ پورا کر دیتی ہے
ہماری بہن بہت ہی اچھی ہے حسن کے لہجے میں حور کے لئے بہت محبت اور مان تھا
اور بہت بہاد ر بھی ہے میں نے آج تک اس جیسی بہاد ر لڑکی نہیں دیکھی
معاذ نے حور کی تعر یف کی
اب تم نے باسل کی شادی پر ضرور آنا ہے اس ماہ کے لاسٹ پر شادی ہے
رضا نے اسے شادی پر آنے کی دعوت دی
اوکے ضرور آوں گا میں ۔۔۔۔ اس نے آنے کی حامی بھری
چلو اب کچھ بزنس کی بات کر لیں حسن نے فاعل کھولی
پھر وہ بزنس کو ڈسکس کرنے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیری میں نے آپ کے کپڑے نکال دیئے ہیں پہن لیجئے گا میں نور کی
طرف جا رہی ہوں
مشال اسکو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ اس سے بولی
جبکہ شیری تو اپنی آنکھوں میں محبت سموئے اسے دیکھ رہا تھا
شیری ۔۔۔۔ مشال نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی جس سے وہ ہوش میں آیا
ہممم ۔۔۔۔۔ کیا کہا تم نے ۔۔۔۔۔ شیری نے اس سے پوچھا
میں نے بولا ہے کہ میں نے آپ کے کپڑے واشروم میں رکھ دیئے ہیں
وہاں سے لے لیجئے گا اور اب میں نور کی طرف جا رہی ہوں
مشال نے اپنی بات دہرائی
اوکے ۔۔۔۔ شیری بولا
________
میں اب جا رہی ہوں مشال نے ابھی اپنے قدم د روازے کی طرف
بڑھائے ہی تھے کہ شیری نے اسکا ہاتھ پکڑ اسے روک لیا
مشال نے اسکی طرف مڑتے ہوئے اسکو سوالیہ نظروں سے دیکھا
بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔ شیری نے لو دیتے لہجے میں اسکی تعر یف کی
تھینکس ۔۔۔۔۔ مشال نے آہستہ سی آواز میں اس کا شکریہ ادا کیا
شیری نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا
آئی لو یو مشال ۔۔۔۔
آئی لو یو ٹو شیری ۔۔۔
شیری نے کچھ دیر کے بعد اسے خود سے الگ کیا
تو وہ لال ہو رہی تھی شیری نے اسکے گال چوم لیے
میں اب چلتی ہوں مشال اس سے کہتی ہوئی وہاں سے کسک گئی
دو سال ہو گئے ہیں ہمیں ایک ساتھ رہتے ہوئے لیکن میری بیگم اب بھی مجھ سے ایسے شرماتی ہے جیسے کل ہی ہماری شادی ہوئی ہو ۔۔۔۔
شیری نے اسے جاتا دیکھ مسکراتے ہوئے دل میں سوچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔ حسن نے عائزہ کو پیچھے سے اپنے حصار
میں لیتے ہوئے اپنی تھوڑی اسکے کندھے پر ٹکا دی
وہ نور کی مہندی پر جانے کے لئے آئینے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی جب حسن کمرے میں آیا
اور آتے ساتھ ہی اسے اپنے حصار میں لے لیا
تھینکس حسن آپ بھی تیار ہو جائیں پھر اکٹھے چلتے ہیں عائزہ نے اپنا رخ اسکی طرف دیکھا
ٹھیک ہے حسن نے کہتے ہوئے اسے خود میں بھینچ لیا
پھر اسے خود سے الگ کرتے ہوئے چینج کرنے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا کدھر ہو ۔۔۔۔۔ رضا کمرے کے د روازے میں کھڑا اسے آوازیں دے
رہا تھا
جی کیا ہوا ۔۔۔۔۔ دعا نے کمرے میں آتے ہی اس سے پوچھا
کدھر تھی ۔۔۔۔ رضا نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا
اور دعا کی تو ہمیشہ کی طرح اسکے سامنے بولتی ہی بند ہو گئی تھی دو سال ہو گئے تھے ان کی شادی کو پر دعا کی بولتی اب بھی اسکے سامنے بند ہو
جاتی تھی
دعا ۔۔۔۔۔ رضا نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے اسے پکارا
وہ میں بے بی کو تیار کرنے گئی تھی آنٹی کے روم میں دعا اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی
بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔رضا نے ایک پیار بھری شرارت کی
جس سے دعا کی نظریں جھک گئیں
دعا ایک بات تو بتاو ویسے تو تم اتنا بولتی ہو میرے سامنے کیا ہو جاتا ہے
رضا نے اسکا جھکا ہو چہرہ اپنے ہاتھ سے اوپر اٹھاتے ہوئے اس سے پوچھا
وہ مجھے آپ سے شرم آتی ہے اس لئے میں آپ سے بات نہیں کر پاتی ۔۔۔
خاص طور پر تب جب آپ کچھ ایسا ویسا کرتے ہیں ۔۔۔۔
دعا نے بڑی مشکل سے اسے جواب دیا
اسکی بات پر رضا کا قہقہہ نے ساختہ تھا
ایسا ویسا کیا ۔۔۔۔ رضا نے اس سے شرارت سے پوچھا حالانکہ وہ اسکی بات
سمجھ گیا تھا
دعا نے شرماتے ہوئے اپنا چہرہ جھکا لیا
رضا نے مسکراتے ہوئے اسکی پیشانی چومی
اچھا اب میرے کپڑے تو دے دو میں بھی تیار ہو جاؤں پھر نور کی طرف چلتے ہیں
وہ سر ہلاتے ہوئے اسکے کپڑے لے آئی اور اسکے ہاتھ میں تھما دیئے
وہ چینج کرنے چلا گیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *