Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18

ماما حور نہیں آئی ابھی تک کیا ؟ نور نے ان سے پوچھا
آج نور کی مہندی تھی اور حور ابھی تک پولیس اسٹیشن سے نہیں آئی تھی اور
مہندی کا فنگشن شروع ہو گیا تھا اور اس وقت
فاطمہ بیگم نور کے کمرے میں دعا لوگوں کو کہنے آئیں تھیں
کہ وہ نور کو نیچے لے آئیں جہاں مہندی کا فنگشن ارینج کیا گیا تھا
نہیں وہ ابھی تک نہیں آئی میں نے کہا بھی تھا کہ
نا جاؤ لیکن یہ پولیس اسٹیشن والوں کو بھی چین نہیں ہے
جب بھی وہ گھر آ جائے پیچھے سے فون آنے شروع ہو جاتے ہیں
میں نے فضل حسین کو فون کر کے پتا کیا ہے وہ کہہ رہا تھا وہ پولیس اسٹیشن سے نکل پڑی ہے فاطمہ بیگم نے اسے مطلع کیا
فضل حسین حور کے تھانے میں حور کا ماتحت تھا
اب تم سب لوگ نور کو نیچے لے کر آو حور بھی آ جائے گی وہ ان سب سے کہتی ہوئی نیچے چلی گئیں
ایک تو یہ حور بھی نا ہر موقعے پر سب سے لیٹ آتی ہے
اس کو میری ذرا سی پرواہ نہیں ہے آج بھی پولیس سٹیشن چلی گئی
نور نے منہ بنایا
نور سکن کرتی جس پر ہرے اور پیلے رنگ کا کام کیا ہوا تھا اور
پیلا لہنگا پہنا ہوا تھا سر پر پیلا ڈوپٹا اوڑھے اور پھولوں کا زیور پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور سکن کرتی جس پر ہرے اور پیلے رنگ کا کام کیا ہوا تھا اور
پیلا لہنگا پہنا ہوا تھا سر پر پیلا ڈوپٹا اوڑھے اور پھولوں کا زیور پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی
باقی سب نے پیلے اور ہرے رنگ کے شرارے پہنے ہوئے تھے اور ساتھ میں پھولوں کا ریور پہنا ہوا تھا
آجائے گی وہ تم چلو نیچے چلتے ہیں اسے کام ہو گا اسی لئے گئی ہو گی
دعا نے اسے سمجھایا
مشال دیکھو تو ذ را نور کو سمجھا کون رہاہے عائزہ نے مشال کے کندھے سے کندھے ٹکرایا
مجھے پکڑ لو عائزہ میں گرنے لگی ہوں بے ہوش ہو کر مجھے تو یہ بات تو ہضم ہی نہیں ہو رہی ہے کہ دعا بھی سمجھ داری کی بات کر سکتی ہے
مشال نے بے ہوش ہونے کی ایکٹینگ کی
مشال کی بات سن کر نور ،ہانیہ ، زویا اور عائزہ ہنسنے لگیں
تم لوگوں کہنے کا کیا مطلب ہے کہ میں کوئی سمجھ داری کی بات نہیں کر
سکتی دعا نے ان کی بات پر منہ بنایا
ہاں ہم یہی کہنا چاہتی ہیں کیوں مشال میں صحیح کہہ رہی ہوں نا عائزہ نے مز ید دعا کو تنگ کرنے کے لئے مشال کو بھی اپنی بات میں شامل کیا
بلکل صحیح کہا تم نے عائزہ مشال نےاس کی بات کی تصد یق کی
بس کرو تم لوگ دعا کو اور تنگ کرنا چلو نیچے چلتے ہیں سب ویٹ کر رہے ہوں گے ہمارا زویا نے ان کو احساس دلایا کہ سب نیچے دلہن کا انتطار کر رہے ہوں گے
وہ سب باہر کی طرف چل پڑیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے کبیر تم آ گئے ۔۔۔۔۔ آو میں تمھیں رضا لوگوں کے پاس لے کر چلتا ہوں حسن اس کو رضا لوگوں کے پاس لے گیا
وہاں شیری ، زاوی ، رضا اور معاذ موجود تھے وہ ان سب سے ملا
تم کس کو فون کر رہے ہو میں کب سے تمھیں دیکھ رہا ہوں زاوی نے شیری سے پوچھا
حور کو کر رہا ہوں وہ آج کے دن بھی پولیس سٹیشن چلی گئی ہے اور وہ ابھی تک نہیں آئی
اسکو تو آ لینے دو اس سے میں پوچھتا ہوں اسکو آج گھر پر چین نہیں ملا
اور پولیس اسٹیشن چلی گئی زاوی بولا
اتنے میں حور اپنی بائیک لے کر گیٹ سے اندر داخل ہوئی
لو آ گئی حور ۔۔۔۔ حسن نے سب کو حور کی طرف متوجہ کیا
حور نے بائیک پارکنگ میں کھڑی کی اور اپنا ہیلمٹ اتار کر ملازم کو دیا اور
زاوی لوگوں کے پاس آ گئی حور اس وقت پولیس یونییفام میں تھی اور سر پر حجاب لیا ہوا تھا
اسلام علیکم کیسے ہیں میرے بھائی ۔۔۔۔ حور نے ان کا حال چال د ریافت کیا
حور کا دھیان ابھی تک کبیر کی طرف نہیں گیا تھا
مل گیا موقع گھر آنے کا ۔۔۔۔۔۔ آج کیا ضرورت تھی آج کے دن جانے کی زاوی نے اس پر مصنوئی غصہ کیا
میرے پیارے سے بھائی مجھے بہت ضروری کام تھا ورنہ میں کبھی بھی آج کے دن نا جاتی ۔۔۔۔۔ حور نے صفائی پیش کی
بہت پیاری لگ رہی ہے میری گڑیا پولیس یونی فام میں ۔۔۔ حسن نے اسکی تعر یف کی
تھینکس بھائی
کبیر سر آپ یہاں ۔۔۔۔۔ جیسے ہی حور کا دھیان اس کی طرف ہوا حور نے اس سے پوچھا
یہ ہمارا دوست ہے اسکو ہم نے ہی شادی پر اینوائٹ کیا ہے جواب رضا کی طرف سے آیا
اوو۔۔۔۔ اچھا کیسے آپ سر ۔۔۔۔ حور نے میزبانی کا فرض نبھایا
میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں
میں بھی ٹھیک ہوں سر ۔۔۔۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی حور مسکراتے
ہوئے بولی
اچھا بھائی اب میں چلتی ہوں نہیں تو سب خواتین کے ہاتھوں آج میری خیر نہیں حور ان سے کہتی ہوئی چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکر ہے تم آ گئیں نور تمھارا پوچھ رہی تھی ان جلدی سے چینج کر لو اور باہر آو
ٹھیک ہے ماما میں پانچ منٹ میں آئی آپ نور کو بتائیے گا نہیں کہ میں
آ گئی ہوں حور ان سے کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی
جب وہ چینج کر کے نیچے آئی تو دعا لوگ نور کو باہر لے کر ہی جانے والیں تھیں
سٹاپ گلز یو آر انڈر اریسٹ ۔۔۔۔۔ حور نے ان کو پولیس کے انداز میں روکا
وہ سب رک گئیں اور پیچھے مڑ کر حور کو دیکھا
شکر ہے اللہ کا تم آج کی تاریخ میں ہی آگئی واپس مشال نے طنز کیا
ہاہاہاہا ۔۔۔۔
چلو مجھے طنز کرنے کے بہانے ہی اللہ کا شکر ادا کیا
حور نے اس کے طنز کا بلکل بھی اثر نہیں لیا اور الٹا اسکی بات اس کی طرف ہی لوٹا دی
تم سے تو اللہ کی پناہ ہے ۔۔۔۔ مشال نے کانوں کو ہاتھ لگایا
نور بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اسکے گلے لگ گئی
میری بہن بہت پیاری لگ رہی ہے حور نے اسکو خود سے الگ کیا اور اس کا ماتھا چوما
تم تو مجھ سے بھی پیاری لگ رہی ہو حور نے اسے نظر کا ٹھیکہ لگایا
اے تم لوگ بس کرو یہ بہن چارہ باہر چلو نہیں تو اب سب مہمانوں نے خود ہی نور کو لینے آ جانا ہے دعا نے ان دونوں کو ہوش دلوایا
دعا اور ہانیہ نے ڈوپٹے کا اگلا کونا اور زویا اور عائزہ نے پچھلا کونا پکڑا اور وہ نور کو ڈوپٹے کے سائے میں لے کر باہر کی طرف روانہ ہوئیں
جبکہ حور نور کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی
وہ اسے سیٹج تک لے کر آئیں جہاں باسل پہلے سے موجود تھا اس نے نور کا ہاتھ پکڑ کر اسے اوپر سٹیج پر آنے میں مدد کی جس پر سب نے ہوٹینگ کی
جس میں حور سب سے آگے تھی اس نے منہ ہیں ہاتھ ڈال کر
سیٹھی بجائی
بہت پیارے لگ رہے ہو تم دونوں ایک ساتھ حور نے ان کی تعر یف کی
تھینکس حور باسل نے اسکا شکریہ ادا کیا
چلو اب تم لوگ نیچے اترو سٹیج سے اور اپنے اپنے بچوں کو دیکھو ان کو اپنی اپنی ساس کے پاس چھوڑ کر تم لوگ تو بھول ہی گئی ہو
حور نے ان کو ڈپٹا جو نور اور باسل کو تنگ کرنے میں مصروف تھیں
وہ سب منہ بناتی نیچے چلی گئیں
تھینکس حور بچانے کے لئے باسل نے اسکا شکریہ ادا کیا
کوئی بات نہیں تم لوگ باتیں کروں میں ان لوگوں کے پیچھے جاتی ہوں
ان سے کہتی ہوئی حور چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر آو ہم تمھیں اپنے ماما پاپا سے ملواتے ہیں حسن ، رضا ، شیری اور زاوی اسے اپنے ساتھ لئے اپنے ماما پاپا کے پاس گئے
ان لوگوں کے پاس پہنچ کر سب نے اپنے ماما پاپا سے کبیر کا تعارف کروایا
ان رضا ، شیری اور حسن کے ماما اور پاپا کو دیکھ کر کبیر کو لگا کہ اس نے ان سب کو پہلے بھی کبھی دیکھا ہوا ہے پر کہاں اسے یہ یاد نہیں آ رہا تھا
ماما علی انکل اور فاطمہ آنٹی کہاں ہیں حسن نے ان سے پوچھا
وہ ابھی تو یہیں تھے اب پتا نہیں کہاں ہوں گے
اچھا ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں ان کو کبیر سے ملوانا ہے حسن ان سے کہتا ہوا ان کو ڈھونڈنے چلا گیا
کبیر زاوی کے پاپا سے بات کر رہا تھا جب کچھ دیر کے بعد حسن ان دونوں کےساتھ وہاں آیا
کبیر یہ حور کے ماما اور پاپا اور انکل آنٹی یہ کبیر ہے ہمارا دوست
اس نے ان سب کا تعارف کروایا لیکن کبیر ان دونوں کو دیکھتے ہی پتھر کا بن گیا
________
ماضی ۔۔
فیضان ،علی ، مصطفی اور احمد صاحب کراچی میں ایک دوسرے کے ہمسائے تھے اور ایک دوسرے کے کزن اور دوست تھے ان سب نے ایک ساتھ ہی اپنی تعلیم مکمل کی تھی
علی ، مصطفی اور احمد صاحب کے والدین کی ڈیتھ ہو گئی تھی اور فیضان صاحب کے بابا زندہ تھے اور والدہ کا انتقال ہو گیا تھا
اور ان کی شادی ہو چکی تھی ان کی اپنی کافی زمینیں بھی تھیں وہ زمینوں کو ملازموں کے حوالے کر کے خود نوکری کرتے تھے
فیضان صاحب کو لندن کی ایک کمپنی میں نوکری مل گئی اور وہ اپنی بیوی کو لے کر لندن چلے گئے وہ اپنے بابا کبیر صاحب کو بھی ساتھ لے جانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا
اچانک کبیر صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی اور فیضان صاحب اپنے بیوی اور تیرہ سالہ بچے روحان کو ساتھ لے کر پاکستان آ گئے
روحان پہلی بار پاکستان آیا تھا ہمیشہ فیضان صاحب اور ان کی بیوی حرا بیگم ہی پاکستان آتے تھے ان کے ساتھ روحان کبھی نہیں آتا تھا
جب فیضان صاحب واپس آئے تو اس وقت علی صاحب کے تین بچے تھے سب سے بڑی بیٹی حورم ، اس سے چھوٹی نور اور انکا بیٹا شایان
اور مصطفی صاحب کے بھی تین بچے تھے بڑا بیٹا حسن اس سے چھوٹی دعا اور اس سے چھوٹی بیٹی ہانیہ
اور احمد صاحب کے بھی تین بچے تھے بڑا بیٹا رضا اس سے چھوٹی عائزہ اور اس سے چھوٹا بیٹا باسل
فیضان صاحب ان سب سے ملے
کبیر صاحب کو حورم سے بہت پیار تھا ان کی خواہش پر حورم اور روحان کا نکاح کر دیا گیا
کبیر صاحب بہت خوش تھے اس نکاح سے کچھ عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا اور فیضان صاحب اپنا گھر اور زمینیں بیچ کر لندن واپس چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال ۔۔۔۔۔
کبیر ان دونوں کو دیکھتے ہی پتھر کا بن گیا
کیسے ہو آپ بیٹا علی صاحب نے اس کا حال چال د ریافت کیا
کبیر کچھ نہیں بولا بس ان کو دیکھتا ہی رہا
کیا ہوا کبیر تم کچھ بول کیوں رہے انکل تم سے کچھ پوچھ رہے ہیں کبیر کو خاموش پا کر رضا نے اسکے بازو کو ہلایا
رضا کے ہلانے پر وہ ہوش میں آیا
آپ آپ یہاں رہتے ہیں میں نے آپ کو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا اور آپ یہاں رہتے ہیں وہ خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات لیے ان سے
مخاطب ہوا
کیا باتیں کر رہے ہو بیٹا مجھے تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا آپ نے مجھے کیوں ڈھونڈا کیا ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں علی صاحب نے اس سے پوچھا
آپ نے مجھے نہیں پہچانا ؟
نہیں بیٹا میں نے آپ کو نہیں پہچانا آپ کون ہو انہوں نے اس سے
د ریافت کیا
میں روحان کبیر ہوں اس نے اپنا تعارف کروایا جسکی وجہ سے سب کئی پل کے لئے کچھ بھی نا بول سکے
تم تم فیضان انکل کے بیٹے ہو جو لندن میں رہتے ہیں سب سے پہلے ہوش رضا کو آیا اس نے پوچھا
ہاں ۔۔۔۔ روحان نے جواب دیا
تمھارا نام تو روحان ہے پھر تم سب کو اپنا نام کبیر کیوں بتاتے ہو حسن نے اس سے استفسار کیا
لندن میں مجھے سب کبیر ہی کہہ کر بلاتے تھے اس لیے اب عادت سی ہو گئی ہے کبیر نام کی اس لیے میں سب کو اپنا یہی نام بتاتا ہوں
روحان نے اسکی بات کا جواب دیا
تم کتنے بڑے ہو گئے ہو جب یہاں آئے تھے چھوٹے سے تھے علی صاحب نے کہتے ہوئے اسے گلے لگایا
پھر وہ فاطمہ بیگم سے ملا انہوں نےاسکے سر پر پیار کیا اور اسکا ماتھا چوما
وہ باری باری سب سے گلے ملا
تمھارے ماما اور پاپا کیسے ہیں انہوں نے اس سے د ریافت کیا
وہ بھی ٹھیک ہیں اس نے جواب دیا
تم تو ہمارے ہی کزن نکلے ہمیں تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا حسن نے دوبارہ اسے گلے لگایا
نور اور باسل کتنے بڑے ہو گئے ہیں جب میں پہلی بار پاکستان آیا تھا تو دونوں چھوٹے چھوٹے تھے اور آج ان کی شادی ہو رہی تھی روحان ان دونوں کو دیکھتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا
اور دعا ، عائزہ ،ہانیہ ، آیان کیسے ہیں وہ لوگ کہاں ان سے بھی تو ملوایں
وہ لوگ بھی بڑے ہو گئے ہوں گے روحان نے ان سب کے بارے میں
د ریافت کیا
ابھی ملواتے ہیں بھائی شیری نے کہتے ساتھ ہی آیان کو آواز دی جو شایان اور ہانیہ کے ساتھ ان سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا
یہ شایان ہے ، یہ ہانیہ اور یہ ہمارا چھوٹو علی انکل کا چھوٹا بیٹا آیان
اور یہ روحان بھائی ہمارے کزن فیضان انکل کے بیٹے حسن نے ان سب کا تعارف کروایا
ان تینوں نے روحان کو سلام کیا
تم لوگ کتنے بڑے ہو گئے ہو روحان مسکراتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا
آیان تم دعا لوگوں کو بلا کر لاؤ رضا نے اسے دعا لوگوں کو بلانے بھیجا
وہ اوکے بھائی کہتا ان کو بلانے چلا گیا
کچھ دیر کے بعد وہ لوگ وہاں آئیں
ارے کبیر سر آپ یہاں دعا اسے وہاں دیکھ کر حیران ہوئی
تم جانتی ہو روحان کو ۔۔۔۔ مصطفی نے اس سے پوچھا
جی پاپا یہ یونی میں ہمارے ٹیچر رہے ہیں دعا نے جواب دیا
جی میں یہاں وہ اس کی حیرانگی پر مسکرایا
یہ میری وائف دعا اور اسکی گود میں میرا بیٹا اور یہ عائزہ حسن کی بیوی اور عائزہ کی گود میں ان دونوں کی بیٹی اور دعا اور عائزہ یہ روحان لندن والے فیضان انکل کا بیٹا
رضا نے ان کا تعارف کروایا
آپ فیضان انکل کے بیٹے ہیں یعنی آپ ہمارے کزن ہیں عائزہ نے اس سے پوچھا
ہاں جی بلکل آپ کا کزن اور آپ مجھے سر نہیں بھائی کہو گی آج سے
روحان نے ان کے بچوں کو پیار کیا اور اسکی بات کا جواب دیا
اور یہ شیری کی وائف مشال اور یہ ان کا بیٹا مشال کو تو تم جانتے ہی ہو گے حسن نے اپنی بات کی تصدیق چاہی
ہاں جانتا ہوں میں مشال کو ۔۔۔۔ اس نے مشال کے بیٹے کو پیار کیا
اور یہ زاوی کی وائف زویا اور یہ زاوی کا بیٹا بیٹی حسن نے زویا کا تعارف کروایا
روحان نے زاوی کے بچوں کو بھی پیار کیا
تم لوگوں کے بچے بہت پیارے ہیں روحان مسکراتے ہوئے بولا
یہ حور کدھر ہے ۔۔۔ رضا نے دعا سے پوچھا
وہ اپنے کمرے میں گئی ہے اسے فون آیا تھا پولیس اسٹیشن سے وہ سننے گئی ہے دعا نے جواب دیا
روحان تم نے حور کو تو پوچھا ہی نہیں ۔۔۔۔ کیا حور یاد نہیں ہے تمھیں رضا نے اس سے پوچھا
حور ۔۔۔۔؟ روحان نے ابرو اچکائے
رضا حورم کی بات کر رہا ہے فاطمہ بیگم نے روحان کو آگاہ کیا
حورم ۔۔۔۔ حورم کے کے بارے میں کیا پوچھوں وہ دکھی لہجے میں بولا
کیا مطلب کیا پوچھوں ۔۔۔۔ اس سے نہیں ملو گے کیا حسن نے حیرانگی سے استفسار کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب تمھارا وہ زندہ ہے ۔۔۔۔۔ وہ حیرانگی سے بولا
کیا مطلب زندہ ہے وہ زندہ ہے ۔۔۔۔۔ اسے کیا ہونا ہے حسن حیرانگی کا اظہار کیا
لیکن مجھے تو بتایا گیا تھا کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہی مجھے تو اسکی قبر تک دکھائی گئی ہے اور تم کہہ رہے ہو وہ زندہ ہو روحان ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں تھا
تمھیں کس نے بتایا بیٹا علی صاحب نے پوچھا
ان کے پوچھنے پر اس نے انہیں ساری بات بتا دی
اس ملازم نے ایسا کیوں کہا اس کو ایسا کرنے سے بھلا کیا ملے گا علی صاحب پریشانی سے بولے
آپ ٹینشن نا لیں میں پتا کروا لوں گا کہ اس نے ایسا کیوں کیا روحان نے انہیں تسلی دلائی
اسکا خوشی سے برا حال تھا کہ اسکی ہنی زندہ ہے اور وہ کوئی اور نہیں حور تھی جس سے وہ کئی بار مل چکا تھا جس کو دیکھ کر وہ رک جایا کرتا تھا جس میں اسے کشش محسوس ہوتی تھی
اب اسے پتا چلا کہ اسے کیوں حور میں کشش محسوس ہوتی تھی کیوںکہ وہ اسکی ہنی تھی اس کی نظریں اپنی ہنی کو ہی ڈھونڈ رہیں تھیں لیکن وہ کہیں بھی نظر نہیں آرہی تھی
چلو چھوڑو سب ان باتوں کو چلو ہم سب نور اور باسل کے پاس چلتے ہیں
رضا نے سب سے کہا اور سب ینگ پارٹی سٹیج کی طرف چل پڑی
سٹیج پر آنے کے بعد حسن نے روحان کا تعارف نور اور باسل سے بھی کروایا
تم لوگوں کو پتا ہے کہ روحان کو بھی وائلن بجانا آتا ہے روحان تم اپنی پسند کی دھن ہی سنا دو آج ۔۔۔۔ رضا نے ان سب کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ روحان سے فرمائش بھی فرمائش کی
کر تو دوں پلے دھن پر میرے پاس ابھی وائلن نہیں ہے روحان نے اپنا مسلہ بیان کیا وہ باتیں تو سب سے کر رہا تھا لیکن اس کی نظریں حور کو ہی تلاش کر رہی تھیں
لو اس کا کیا مسلہ ہے آیان جاو حور سے وائلن لے کر آو اور اسے بھی بلا لاؤ
وہ جی بھائی کہتا حور کے کمرے کی طرف چلا گیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *