Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32

شادی کی اینورسری بہت بہت مبارک ہو حورم نے ان تینوں کے گلے ملتے ہوئے ان کو مبارک باد دی
تھینکس حورم ۔۔۔۔۔ ان تینوں نے اسکا شکریہ ادا کیا
اور یہ تم سب کا گفٹ میری اور روحان کی طرف سے
حورم نے ان تینوں کا گفٹ ان کو دیا
حورم اس وقت دعا ، عائزہ اور مشال کے ساتھ ہوٹل میں موجود تھی
جہاں ان تینوں کی شادی کی سالگرہ کی خوشی میں پارٹی رکھی گئی تھی
اسی اثنا میں روحان اور شیری ، رضا اور حسن بھی ان کے پاس آ گئے
اسلام علیکم بھائی کیسے ہیں آپ لوگ حورم نے ان تینوں کو سلام کیا
ہم ٹھیک ہیں تم کیسی ہو رضا نے جواب دیا
میں بھی ٹھیک ہوں بھائی آپ تینوں کو بھی اینورسری بہت بہت مبارک ہو
تھینکس گڑیا ۔۔۔۔ حسن بولا
اور یہ آپ لوگون کا گفٹ میری اور روحان کی طرف سے حورم نے ان کو
بھی ان کے گفٹس دیئے
تھینکس حورم ۔۔۔۔۔ شیری نے اسکا شکریہ ادا کیا
اچھا اب میں بچوں کے پاس جا رہی ہوں ان سے ملنے کچھ دیر ان سب سے
باتیں کرنے کے بعد حورم نے ان سب سے کہا
میں بھی چلتا ہوں تمھارے ساتھ ہنی ۔۔
وہ دونوں بچوں کے پاس چلے گئے جو ایک جگہ صوفوں پر بیٹھے کھیل رہے تھے
زاوی کا بڑا بیٹا چھ سال کا اور چھوٹی بیٹی ڈیڑھ سال کی تھی جبکہ دعا اور مشال کا بیٹا اور عائزہ کی بیٹی ڈیڑھ سال کی تھی
تو کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔۔۔ حورم ان سب کے پاس جا کر بولی
اور ان کے ساتھ بیٹھ گئی
آنٹی ہم کھیل رہے ہیں ۔۔۔۔۔جواب عائزہ کی بیٹی کی طرف سے آیا
کیا کھیل رہے آپ سب ۔۔۔۔۔ روحان بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا
اور دعا کے بیٹے کو اپنی گود میں بیٹھا لیا
ہم اپنے ٹوائز کے ساتھ کھیل رہے ہیں انتل (انکل ) دعا کے بیٹے نے توتلی
زبان میں جواب دیا
آنٹی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں مشال کی بیٹی نے حورم کے گال کو چھوا
تھینکس گڑیا آپ بھی بہت پیاری لگ رہی ہو
حورم نے بھی اسکا گال چھوا
آنٹی کیا ہم نہیں پیارے لگ رہے زاوی کی بیٹی نے معصوم سا منہ بنایا
نہیں آپ سب ہی بہت پیارے لگ رہے ہو
حورم کے کہنے پر سب خوش ہو گئے
میں اور آپ کے انکل آپ سب کے لئے کچھ لئے کر آئیں ہیں
حورم کے کہنے پر وہ سب کھیلنا چھوڑ اسکو دیکھنے لگے
کیا لائی ہیں آپ آنٹی زاوی کے بیٹے نے پوچھا
چاکلیٹ ۔۔۔۔ حورم نے سب کو چاکلیٹ دی
سب بچوں نے چاکلیٹ لینے کے بعد روحان اور حورم کے گال کو چوما
روحان نے بھی سب بچوں کے گال پر پیار کیا
تھینکس آنٹی ۔۔۔ زاوی کے بیٹے نے اسکا شکریہ ادا کیا
نو تھینکس بچے حورم نے پیار سے اسکے بال بگاڑے
چلو اب آپ لوگ کھیلو ہم آپ کے دادا اور دادی کے پاس جا رہے ہیں
حورم ان سے کہتی ہوئی روحان کے ساتھ سب بڑوں کے پاس چلی گئی
حورم روحان کے ساتھ اپنے ماما اور پاپا کے ساتھ آ گئی
اسلام علیکم ماما ، پاپا۔۔۔۔ حورم نے اپنے ماما اور پاپا کو سلام کیا
اسلام علیکم انکل آنٹی ۔۔۔۔ روحان نےبھی ان کو سلام کیا
وعلیکم اسلام بیٹا ان دونوں نے ان کے سلام کا جواب دیا
کیسے ہیں آپ دونوں ۔۔۔۔ حورم ان سے ان کا حال پوچھتی ہوئی ان دونوں
کے د رمیان صوفے پر بیٹھ گئی اور روحان دوسرے صوفے پر بیٹھ گیا
ہم تو ٹھیک ہیں ہماری بیٹی کیسی ہے علی صاحب نے اسے اپنے ساتھ
لگایا
میں بھی ٹھیک ہوں پاپا ۔۔
اور روحان بیٹے آپ کیسے ہو فاطمہ بیگم نے اس سے پوچھا
جی میں بھی ٹھیک ہوں آنٹی
اتنے میں باسل اور نور بھی ان کے پاس آ گئے
اور ان سب کو سلام کر کے ان کے ساتھ بیٹھ گئے
اور سناو باسل کیسا چل رہا بزنس ۔۔۔۔ حورم نے اس سے پوچھا
باسل نے کچھ عرصے پہلے ہی بزنس جوائن کیا تھا
بہت اچھا جا رہا ہے ۔۔۔۔ اس نے جواب دیا
کیا ہوا نور تم ڈل ڈل کیوں لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔ حورم نے اس سے د ریافت
کیا جو مر جھائی سی بیٹھی ہوئی تھی
پتا نہیں حور صبح سے طبیعت عجیب سی ہو رہی ہے کچھ بھی کرنے کو دل
نہیں کر رہا
واپسی پے باسل اسے ڈاکڑ کے پاس لے جانا فاطمہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں
اوکے آنٹی لے جاؤں گا ۔۔
ماما آپ مسکرا کیوں رہی ہیں ۔۔۔۔۔حورم نے ان سے ان کے مسکرانے
کی وجہ د ریافت کی
میں اس لئے مسکرا رہی ہوں کہ مجھے لگ رہا ہے کہ ہمیں نور کی طرف سے
خوشخبری ملنے والی ہے انہوں نے مسکراتے ہوئے وجہ بیان کی
واقعی میں ماما ۔۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو نور تمھیں حورم نے خوشی سے بولتے ہوئے نور کو گلے لگا لیا
نور شرم سے لال ہو گئی تھی
ارے لڑکی ابھی ڈاکڑ سے کنفرم تو کر لینے دو اتنی بھی کیا جلدی ہے
فاطمہ بیگم اس کی جلد بازی پر مسکراتے ہوئے بولیں
باقی سب بھی اسکی جلد بازی پر مسکرا دئیے
جو آپ نے بتایا ہے نا ماما ڈاکڑ بھی وہی بتائے گی دیکھ لیجئے گا آپ سب
مجھے یقین ہے ۔۔۔۔ حورم خوشی سے بولی
انشااللہ سب نے کہا
تمھیں بھی بہت بہت مبارک ہو باسل اور جب ڈاکڑ اس بات کو کنفرم
کر دے تو مجھے اسی وقت کال کر کے بتانا ہے
ورنہ تم پنجاب پولیس کو تو جانتے ہی ہو ۔۔۔۔۔۔ حورم نے مسکراتے ہوئے اسے دھمکی دی
ٹھیک ہے جیسے آپ کا حکم ایس پی صاحبہ ۔۔۔۔۔ باسل مسکراتے ہوئے
گویا ہوا
سب ان دونوں کی بات پر ہنس دیئے
پھر کچھ دیر کے بعد دعا اور رضا ، شیری اور مشال ، عائزہ اور حسن نے کیک
کاٹا اور سب نے ان کو مبارک باد دی
فنگشن ختم ہوئے کے بعد سب اپنے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کتنا مزہ آیا نا حانی ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔۔ہنی
حورم روحان کے سینے پر سر رکھ کر بیٹھی ہوئی تھی اور روحان نے اسکے گرد
اپنی بانہوں کا حصار بنایا ہوا تھا
اتنے میں حورم پر باسل کی کال آ گئی
ہاں بولو باسل ڈاکڑ نے کیا کہا حورم نے کال اٹینڈ کرتے ہی اس سے پوچھا
آنٹی کی بات سچ ہے ہم ماما اور پاپا بننے والے ہیں باسل کے لہجے سے
خوشی جھلک رہی تھی
بہت بہت مبارک ہو تمھیں باسل اب ذ را نور کو فون دو
تمھیں بھی بہت بہت مبارک ہو نور میں بہت بہت خوش ہوں اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے
حورم نے اسے اپنا خیال ر کھنے کا کہہ کر فون بند کر دیا
حانی میں خالہ بننے والی ہوں میں بہت بہت خوش ہوں حورم نے اسکے سینے
سے سر اٹھاتے ہوئے اسکی طرف دیکھ کر اسے بتایا
روحان حورم کے چہرے پر واضح خوشی دیکھ سکتا تھا
تمھیں بہت بہت مبارک ہو ہنی ۔۔۔۔۔
خیر مبارک حانی ۔۔۔۔۔ حورم نے دوبارہ اپنا سر اسکے سینے پر ٹکا دیا
ہنی ایک بات پوچھوں ۔۔۔
پوچھو حانی کیا بات ہے
تم بچوں کو پیار کیوں نہیں کرتی ان کو گود میں کیوں نہیں اٹھاتی ہو
تمھیں کیسے پتا چلی یہ بات ۔۔۔۔۔ حورم نے اسکی طرف دیکھا
میں نے آج نوٹ کیا تھا کہ جب بچے تمھارے پاس آئے نا تم نے کسی کو
گود میں اٹھایا نا ہی ان کو پیار کیا بس ان کے گال کو ہاتھ سے چھوا تھا
روحان نے اپنی آج کی اوبزرویشن بیان کی
پتا نہیں کیوں حانی مجھ میں بچوں کو پیار کرنے
ان کو اٹھانے کی ہمت ہی نہیں ہوتی
عجیب سی فیلنگ ہوتی ہے میری
ہنی کیا یہ اس واقعے کی وجہ سے تمھارے ساتھ ہوتا ہے
پتا نہیں حانی مجھے خود کچھ نہیں پتا میں کیوں نہیں بچوں کے پاس جا پاتی
حورم نے روتے ہوئے اپنی کیفیت بیان کی
روحان نے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور اپنی پوروں سے
اسکے آنسو صاف کیے
ہنی اگر وہ شخص زندہ ہوتا تو تم کیا کرتی اس کے ساتھ ۔۔۔۔
شاید اللہ کو منظور نہیں تھا کہ وہ میرے ہاتھوں سے مرے اس لئے اللہ
نے اسی رات اسکی جان لے لی تھی جس دن اس نے میرے ساتھ ۔۔
حورم نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی اسکی آنکھوں سے آنسو رواں تھے
میں نے پولیس فورس جوائن کرتے ہی اسکا پتا کروا تھا مجھے پتا چلا کہ وہ
اسی رات ٹرالر کے نیچے کچلا گیا
اگر وہ زندہ ہوتا تو اسکا میں وہ حال کرتی کہ اسکی روح تک کانپ جاتی
ایسی موت دیتی اسے کہ کوئی آئیندہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نا سکتا کسی اور کے ساتھ
حورم روتے ہوئے غصے اور نفرت سے بولی
ریلیکس ہنی ۔۔۔۔ روحان نے اس کے آنسو اپنے لبوں سے چن لئے
اور اسے خود میں بھینچ لیا
ایک منٹ تمھیں کیسے پتا چلا کہ وہ مر چکا ہے ۔۔۔۔۔ کچھ دیر کے بعد
جب حورم سنھبل گئی تو اس نے اس سے الگ ہوتے ہوئے
حیرانی کا اظہار کیا
تمھیں کیا لگتا ہے ہنی میں اسے زندہ چھوڑ دیتا اگر وہ زندہ ہوتا تو
میں نے بھی واپس آنے کے بعد یہی پہلا کام کیا تھا
اب آئیندہ سے ہم اس بارے میں کوئی بات نہیں کریں گے اوکے
روحان اسکی پیشانی چومتے ہوئے بولا
اوکے حانی ۔۔۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے سونا ہے
روحان سر ہلاتے ہوئے لیٹ گیا اور حورم نے سینے پر اپنا سر ٹکا دیا
اور روحان نے اسکے گرد اپنے بازوں کا حصار کھینچ لیا
کچھ دیر میں وہ دونوں نیند کی وادی میں اتر گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانی کتنی اچھی لگ رہی ہے نا برف باری۔۔۔ چلو نا باہر چلتے ہیں
حورم کھڑ کی کے پاس کھڑی باہر گرتی برف کو دیکھ رہی تھی
نہیں چپ کر کے سو جاو رات ہو گئی ہے
پہلے ہی ہم اتنا لمبا سفر کر کے آئے ہیں اب باہر گئی تو بیمار ہو جاؤ گی روحان نے اسکی بات کو رد کر دیا
وہ دونوں مری آئے ہوئے تھے اور اس وقت ہوٹل کے روم میں موجود تھے
وہ دونوں حورم کی خواہش پر بائے روڈ آئے تھے
پلیز حانی ۔۔۔۔۔
نہیں چپ کر کے لیٹ جاو ۔۔۔۔
ہوں ۔۔۔۔۔ حورم ہوں کرتی ہوئی اسکے سینے پر سر رکھ کے لیٹ گئی
روحان اسکی اس ادا پر مسکرا دیا
________
ہنی ۔۔۔۔۔ تم ٹھہرو میں تمھیں ابھی بتاتا ہوں
روحان اور وہ باہر آئے ہوئے تھے حورم ”’ سنو مین ”’ بنا رہی تھی
جبکہ روحان پکس بنا رہا تھا اپنے موبائیل پر
وہ پکس بنا رہا تھا جب حورم نے برف کا گولا اسکو مارا
روحان نے اپنا موبائیل اپنی پوکیٹ میں ڈالا اور برف کا گولا بنا کر اسے مارا
حورم سائیڈ پر ہو گی جسکی وجہ سے گولا اسے نہیں لگا
حورم نے ہنستے ہوئے اسے ٹھینگا دیکھا
روحان محویت سے اسے دیکھنے لگا جو سر پر کیپ لیے اور کورٹ پہنے اور سرخ
ہوتے ناک کے ساتھ بہت کیوٹ لگ رہی تھی
حورم نے اسکی محویت کا فائدہ اٹھا اور ایک گولا پھر سے اسے مارا
جو روحان کے منہ پر لگا
برف کا گولا لگنے سے وہ ہوش میں آیا
روحان نے بھی گولا بنا کے اسے مارا جو اب کی بار حورم کے بازو پر لگا
کافی دیر وہ ایک دوسرے پر برف کے گولے پھینکتے رہے
اور کچھ دیر بعد وہ دونوں تھک کر بیٹھ گئے
چلو حانی اب میرے ساتھ سنو مین بناو میرا د رمیان میں ہی رہ گیا تھا
ان دونوں نے مل کر سنو مین بنایا اور اسکے ساتھ سیلفیاں لیں
ان دونوں ایک دوسرے کی ڈھیر ساری پکس لیں اور وہاں پر موجود ایک
آئے ہوئے کپل سے اپنے دونوں کی پکس بنوائی
اتنے میں برف باری ہونے لگی
واوووو۔۔۔۔۔۔ حورم اپنے بازو پھیلائے اوپر کو منہ کیے گول گول گھوم
رہی تھی
اور روحان مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا
چلو ہنی کہیں سے کچھ کھاتے ہیں اور چائے پیتے ہیں
چلو حانی مجھے بھی بھوک لگی ہے
ان دونوں نے ہوٹل سے کھانا کھایا اور اس ہوٹل میں آ گئے جہاں وہ دونوں
ٹھہرے ہوئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واوووو ۔۔۔۔۔ حانی گھوڑے مجھے گھوڑے پر بیٹھنا ہے پلیز پلیز
وہ ا گلے دن بھی گھومنے باہر آئے تھے اور حورم گھوڑے کو دیکھ کر اسکی
سواری کرنے کی ضد کر رہی تھی
روحان نے اسے گھوڑے پر بیٹھا دیا
بہت مزہ آیا حانی ۔۔۔۔۔ گھوڑے پر سواری کرنے کے بعد وہ بہت خوش تھی
آج بھی ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی
چلو ہنی آگے چلتے ہیں روحان اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لیے چلنے
لگا
ہنی تم یہاں رکو میں چائے لے کر آتا ہوں
کچھ آگے جا کر ایک ڈابہ آیا روحان اسکو ڈابے سے کچھ دور شیلڑ کے نیچے کھڑا کر کے خود چائے لینے چلا گیا
روحان کو گئے ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ وہاں پر دو لڑکے آگے
اور حورم کو چھیڑنے لگے
کیسی ہو بیوٹفل اکیلی کیوں کھڑی ہو ہمارے ساتھ آ جاو
ان میں سے ایک لوفرانہ انداز میں بولا
ہاں یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ہمارے ساتھ آ جاو انجوائے کرو گی
دوسرا بھی بولا
اور پھر کیا ہونا تھا حورم تپ گئی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *