Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33

حورم نے دونوں کو رج کے پھینٹی لگائی وہ دونوں زمین پر پڑے ہاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگ رہے تھے
کافی لوگ وہاں جمع ہوگئے تھے
روحان جب وہاں آیا تو لوگوں کے ہجوم کو وہاں پایا
جب وہ ہجوم کو چیرتا آگے پہنچا تو حورم کو زمین پر زخمی پڑے دو لڑکوں کو
لاتوں سے مارتے ہوئے پایا
کیا ہوا ہنی ان کو کیوں مار رہی ہو ۔۔۔۔۔۔روحان نے پریشانی سے پوچھا
ذ را یہ چائے دینا حانی ۔۔۔۔۔ حورم نے اسکی بات کا جواب دینے کی بجائے
اس سے چائے مانگی
روحان نے چائے کے دونوں کپ اسے پکڑا دیئے
حورم نے چائے کے دونوں کپ ان دونوں لڑکوں کے پیروں پر ڈال دئیے
وہ دونوں گرم گرم چائے پیروں پر گرنے کی وجہ سے چیخنے لگے
سب حورم کو دیکھ رہے تھے یہ کیا چیز ہے پہلے ان دونوں کو مار مار کے زخمی
کر دیا اور اب گرم گرم چائے ان پر گرا دی
اب بتاؤ چلنا ہے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ حورم نے غصے سے ان دونوں سے
پوچھا
نہیں نہیں ہمیں معاف کر دیں آ ئیند ایسا نہیں کریں گے ان میں سے
ایک ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا
چلو نو دو گیارہ ہو جاؤ یہاں سے اگر آئیندہ مجھے ایسا ویسا کچھ کرتے نظر آئے
تو تم دونوں کی خیر نہیں تم لوگ ابھی مجھے جانتے نہیں ہو ایس پی ہوں میں پولیس میں
ایسے ایسے کیس ڈالوں گی تم دونوں پر کے یاد رکھو گے اگر آئیندہ کچھ غلط کیا تو
حورم نے ان دونوں کو غصے سے گھورا
وہ دونوں ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ
باقی سب لوگ بھی وہاں سے چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا کیا تھا ہنی مجھے بھی تو کچھ بتاو ۔
ہونا کیا تھا حانی مجھے چھیڑ رہے تھے اور میں چھیڑ گئی اور پھر جو ہوا اس کا
نتیجہ تمھارے سامنے ہے
ان کی تو ایسی کی تیسی ان کو میں چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔ روحان غصے سے کہتا ہوا ان کے پیچھے جانے لگا
حورم نے اسکا بازو پکڑ کر اسے روکا
رہنے دو حانی ان کے ساتھ پہلے ہی بہت ہو گئی ہے
مجھے تو بہت مزا آیا ان کی پھینٹی لگانے کا بہت دن ہو گئے تھے میں نے
کسی کی پھینٹی نہیں لگائی تھی
قسم سے ہاتھوں پر کھجلی ہونے لگی تھی
آج سکون آ گیا ہاتھوں کو ان دونوں کو مار کے
حورم ہنستے ہوئے گویا ہوئی
تمھارا کچھ نہیں ہو سکتا ہنی ۔۔۔۔۔ روحان مسکراتے ہوئے بولا
اچھا چلو ہوٹل چلتے ہیں واپس
وہیں کھانا کھائیں گئے مجھے بھوک لگی ہے
حورم نے معصوم سا منہ بنایا
ایک تم اور دوسری تمھاری بھوک اللہ بچائے ان دونوں سے ۔۔۔
روحان نے مسکراتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگائے
حورم اسکے انداز پر کھکھلا کر ہنسی روحان نے اسے ہنستا دیکھ ماشااللہ کہا
اور اسکی نظر اتاری
حانی بڑے ہی بے شرم ہو تم کوئی دیکھ لیتا تو ۔۔۔۔۔ اس نے اپنا سانس بحال کرتے ہوئے لال چہرے سے روحان کو گھورا
کسی نے دیکھا تو نہیں نا ۔۔۔۔۔روحان نے کہتے ہوئے اسکی سرخ ناک چوم
لی
حانی ۔۔۔۔۔ وہ چیخی اور اس سے منہ پھیر کر کھڑی ہو گئی
اب چلنا نہیں کیا بھوک نہیں لگی کیا ۔۔۔۔۔۔ روحان نے اسکا رخ اپنی طرف کیا
تم بہت ہی برے اور بے شرم ہو بندہ جگہ کا تو لحاظ کر لیتا وہ پھولے
ہوئے منہ کے ساتھ بولی
چلو آئیندہ خیال کروں گا اب تو معاف کر دو روحان نے اپنے دونوں کان
پکڑ کر اس سے معافی مانگی روحان کے لب مسکرا رہے تھے
جاو معاف کیا ۔۔۔۔۔ حورم نے مسکراتے ہوئے اسکا ڈمپل چوم
لیا حورم کو اسکا ڈمپل بہت پسند تھا
اب اگر کوئی دیکھ لیتا تو ۔۔۔۔۔ روحان نے اپنے گال کی طرف اشارا کرتے
ہوئے اسے پوچھا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھے میں نے کون سا کوئی گناہ کیا ہے اپنے شوہر کو
کس ہی کیا ہے ۔۔۔۔۔ وہ ایک ادا سے بولی
اور میں نے بھی اپنی بیوی کو ہی کس کیا تھا کوئی گناہ نہیں کیا تو پھر تم نے منہ کیوں پھلایا تھا
روحان بھی اسی کے انداز میں مسکراتے ہوئے بولا
وہ تو میں تمھیں ویسے ہی تنگ کر رہی تھی اس نے مسکراتے ہوئے جواب
دیا
تم بھی نا ہنی ۔۔۔۔
میں بھی کیا حانی۔۔۔۔۔
تم بھی نا ہنی بہت پیاری ہو اور میری جان ہو آئی لو یو سو مچ ۔۔۔۔
آئی لو یو ٹو حانی
چلو چلتے ہیں ہنی روحان اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لئے ہوٹل آگیا
جہاں انہوں نے مل کر کھانا کھایا
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
حانی آج ہم سب کے شوپنگ کرتے ہیں کیا خیال ہے تمھارا ۔۔۔
ٹھیک ہے ہنی آج ہم کے شاپنگ کر لیتے ہیں اور کل اپنے لیے
ٹھیک ہے حانی چلو چلتے ہیں میں تیار ہوں ۔۔۔۔۔ حورم اپنا کوٹ پہننے کے بعد اس سے کہا
چلو ۔۔۔۔ روحان اسکو لئے مارکیٹ کی طرف روانہ ہوا
کیا لیں ہنی مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے وہ دونوں اس وقت ایک دکان
میں کھڑے چیزیں دیکھ رہے تھے
ہمممم ۔۔۔۔۔۔ حانی ایسا کرتے ہیں سب males کے لئے ایک جیسی اور
لیڈیز کے لئے ایک جیسے ہی چیزیں لے لیتے ہیں ڈفرنٹ کلرز کی
ٹھیک رہے گا نا ۔۔۔
حورم نے سوچنے کے بعد اپنی تجویز اسکے سامنے پیش کی
ہاں یہ ٹھیک رہے گا ہنی پر لیں کیا ۔۔۔۔؟ روحان نے سوالیہ نظروں سے
اسکی طرف دیکھا
ایسا کرتے ہیں males کے گرم شال ، پرفیوم اور واچ لے لیتے ہیں
اور لیڈیز کے لیے گرم شال ، پرفیوم اور جیم سٹون ( قیمتی پتھر ) کا نیکلس
لے لیتے ہوں
اور بچوں کے لئے میں سوچ رہی ہوں کہ گلز کے لئے ڈول ، چاکلیٹ اور
ڈ ریس اور بوائز کے لئے ڈ ریس ، چاکلیٹ اور ریموٹ کار لے لیتے ہیں کیسا رہے گا تم کیا کہتے ہو ۔۔۔۔۔۔؟
حورم نے ایک آئیڈیا پیش کیا
بہت اچھا رہے گا چلو اب ساری چیزیں لیتے ہیں ۔۔۔۔ روحان نےمسکراتے
ہوئے اسکے آئیڈیے سے اتفاق کیا
پھر ان دونوں نے مل کر سب کے لئے شاپنگ کی
اف تھک گئی آج تو میں ۔۔۔۔۔ حورم شاپنگ بیگز ایک کونے پر رکھے
اور خود بیٹھ پر بیڈ کر اپنے پیر شوز سے آزاد کیے اور بیڈ پر لیٹ گئی
میں بھی بہت تھک گیا ہوں روحان بھی اسکے برابر ہی بیڈ پر لیٹ گیا
حورم نے اسکے سینے پر اپنا سر ٹکا دیا اور روحان نے اسکے گرد اپنی بانہیں پھیلا لیں
ہنی ۔۔۔۔ روحان نے غنودگی کی حالت میں اسے پکارا
ہوں ۔۔۔۔۔ حورم کی تھکن اور روحان کی قربت کی وجہ سے آنکھیں بند ہو رہی تھیں
ہنی تھینکس میری ہونے کے لئے ۔۔۔۔۔
شکریہ تو تمھارا مجھے کرنا چاہیئے اگر تم اپنی قسم دے کر مجھے نا مناتے تو میں
آج اتنی پرسکون اور خوش ہونے کی بجائے اس وقت رو رہی ہوتی اور
تڑپ رہی ہوتی ۔۔۔۔
آئی لو یو ہنی ۔۔۔۔
آئی لو یو ٹو حانی ۔۔۔۔
دونوں کو ایک دوسرے کی قربت سکون دیتی تھی وہ دونوں ایک دوسرے
کے لئے لازم و ملزوم ہو گئے تھے ان کی نیند کی وادی مہربان ہو گئی
اور وہ ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے
______
میری ہنی ۔۔۔۔ روحان نے اسکے بالوں پر اپنے لب رکھ دئیے
وہ حورم احتیاط سے خود سے الگ کرنے ہی لگا تھا کہ حورم بول پڑی
حانی ابھی نا اٹھو مجھے ابھی اور سونا ہے حورم نے روحان کی شرٹ کو کس کے پکڑ لیا کہ کہیں وہ اٹھ کر چلا نا جائے
روحان نے جھک کر اسے دیکھا تو اسکی آنکھیں بند تھیں
ہنی اٹھ جاو نماز رہ جائے گی ہماری ۔۔۔۔
ٹھیک ہے اٹھ جاتی ہوں لیکن پانچ منٹ بعد ۔۔۔
ٹھیک ہے سو لو پانچ منٹ اور ۔۔۔۔۔ روحان اسکی بات مان لی
پانچ منٹ پورے ہوئے ہنی اب اٹھ جاؤ ۔۔۔۔۔ روحان نے پانچ منٹ بعد
اسکو پکارا
حورم بند آنکھوں سے اٹھ کر بیٹھ گئی
روحان اسکو نیند میں جھومتا دیکھ مسکرا دیا اور اٹھ کر اسکا چہرہ اپنے دونوں
ہاتھوں میں تھام کر تھپتھپایا
حورم نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا
ہوش میں آ جاو یار نہیں تو نماز رہ جانی ہے ہماری روحان نے اسے
ہوش دلوایا
اوکے میں وضو کر کے آتی ہوں وہ اس سے کہتی ہوئی واشروم چلی گئی
دونوں نے مل کر فجر کی نماز ادا کی
ہنی ایک بات تو بتاو تمھیں کیسے پتا چل جاتا ہے کہ میں بیڈ سے اٹھنے لگا ہوں حلانکہ تم تو سو رہی ہوتی ہو
روحان نے مسکراتے ہوئے اپنی گرے آنکھیں اسکی شہد رنگ آنکھوں میں گاڑھتے ہوئے اس سے استفسار کیا
وہ دونوں آمنے سامنے بیڈ پر بیٹھے ہوئے تھے
اس سے پہلے کے حورم کوئی جواب دیتی روحان بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ
گیا اور حورم کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا
حورم نے اسکے پاس ہوتے ہوئے اپنا سر اسے سینے پر ٹکا دیا
روحان نے اسکے گرد اپنی بانہوں کا حصار بنا لیا
میں سوتے ہوئے بھی تمھارا لمس محسوس کر سکتی ہوں حانی اس لئے جب بھی تم مجھے خود سے الگ کر کے اٹھتے ہو تو میں بھی جاگ جاتی ہوں
مجھے تو تمھارے بنا اب نیند بھی نہیں آتی
ہر وقت دل کرتا ہے تمھاری بانہوں میں رہوں تمھاری بانہوں میں مجھے وہ سکون ملتا ہے جو آج تک مجھے کبھی نہیں ملا
حورم نے محبت سے چور لہجے میں اپنی کیفیت بیان کی
میرا بھی تمھارے جیسا ہی حال ہے ہنی جب تم پاس ہوتی ہو تو میں اپنی ہر پریشانی اور غم بھول جاتا ہوں عجیب سا سکون ملتا ہے تمھارے ہونے سے
پتا نہیں کیسے میں نے تمھارے بنا اتنے سال گزار لئے
اب تو تم سے دور جانے کا سوچتا بھی ہوں تو سانس رکنے لگتا ہے
ہنی مجھ دور کبھی تم ہونا مر جاو تمھارے بنا
روحان نے لو دیتے اور نم لہجے میں کہتے ہوئے اسے خود میں زور سے بھینچ لیا
خبردار جو آئیندہ تم نے مرنے کی بات کی تو جب تک میری سانسیں چل رہی
تمھیں کچھ نہیں ہو گا سمجھے تم حورم نے اس سے الگ ہوتے ہوئے اسکی
آنکھوں میں دیکھتے ہوئے روتے ہوئے گویا ہوئی
روحان نے اسکے آنسو اپنے لبوں سے چن لئے
میں بھلا جا سکتا ہوں اپنی ہنی کو اکیلا چھوڑ کر کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔
روحان نے اپنا ماتھا اسکے ماتھے سے ٹکرایا
مجھے کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑنا حانی میں مر جاوں گی تمھارے بغیر
حورم کی آنکھوں سے پھر سے آنسو رواں ہو گئے حورم روحان کا چہرہ اپنے دونوں میں تھامتے ہوئے بولی
روحان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے
کافی دیر روحان اسکو اپنی بانہوں کے حصار میں لئے بیٹھا رہا
حانی آج اپنی فیورٹ دھن سنا دو ۔۔۔۔ کچھ دیر کے بعد نارمل ہونے کے بعد
حورم نے اسے فرمائش کی
کیوں نہیں میری جان ابھی تمھاری فرمائش پوری کرتا ہوں روحان نے کہتے ساتھ ہی وائلن لیا اور دھن بجائی
روحان آنکھیں بند کیے دھن بجاتا رہا اور حورم اسکے سامنے بیٹھی اسکو
آنکھوں کے ذ ریعے اپنے دل میں اتارتی رہی
کیسی لگی دھن ہنی ۔۔۔۔۔ روحان نے دھن بجانے کے بعد اس سے پوچھا
بہت اچھی ۔۔۔۔ حورم نے یہ کہنے کے بعد اسکی پیشانی اور گال چوما
آئی لو یو حانی فروم ڈیپ آف مائی ہارٹ ۔۔۔۔
آئی لو یو ٹو ہنی ۔۔۔۔۔ روحان نے کہتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا
آج ہم دونوں اپنی شاپنگ کریں گے ہنی ۔۔۔۔۔
میری ایک شرط ہے حانی ۔۔۔۔۔
وہ کیا ہنی ۔۔۔۔۔؟
میرے لیے تم شاپنگ کرو گے اور میں تمھارے لئے ۔۔۔۔۔ حورم نے اپنی
شرط اسکے سامنے رکھی
میں بھی یہی کہنے والا تھا ہنی ۔۔۔۔۔ روحان مسکراتے ہوئے بولا
چلو پھر ٹھیک ہے پہلے ناشتا کرتے ہیں پھر شاپنگ کرنے جائیں گے
ٹھیک ہے ہنی میں ابھی ناشتے کا آرڈ ر کرتا ہوں ۔۔۔۔
روحان اسے نرمی سے خود سے الگ کرتا ہوا لینڈ لائن کی طرف بڑھا اور ناشتے
کا آرڈ ر کیا
ناشتا کرنے کے بعد وہ دونوں مارکیٹ آ گئے اور دونوں نے ایک دوسرے
کے لئے شاپنگ کی ان دونوں نے سیم کلر کی ایک دوسرے کے لئے چیزیں لیں
وہ دونوں شاپنگ کر کے دکان سے نکل ہی رہے تھے کہ حورم اپنا پاوں پکڑ کر زمین پر بیٹھ گئی
کیا ہوا ہنی ۔۔۔۔۔ روحان نے پریشانی سے استفسار کیا
حانی موچ آ گئی ہے پاوں میں بہت د رد ہو رہا ہے حورم د رد کو ضبط کرتے
ہوئے بولی
روحان نے اسکا پاؤں دیکھا تو وہ لال ہو رہا تھا
ہنی تم ایک منٹ ویٹ کرو میں ٹیکسی کا پتا کرتا ہوں روحان اس سے کہتا ہوا ٹیکسی لینے چلا گیا
چلو آو ہنی ۔۔۔۔۔ روحان نے کہتے ہوئے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا
اور ٹیکسی تک لا کر اسے پیچھلی سیٹ پر بیٹھا دیا
پھر شاپنگ بیگ اٹھا کر لایا اور حورم کے ساتھ بیٹھ گیا
پہلے وہ اسے ڈاکڑ کے پاس لےکر آیا ڈاکڑ سے چیک اپ کروانے کے بعد اسے اپنی بانہوں میں ہی اٹھا کر اسے واپس کیب تک لے آیا
پھر وہ اسے ہوٹل لے آیا
ڈ رائیور کو پیسے دے کر اور ہوٹل کے ملازم کو شاپنگ بیگز کمرے تک پہچانے کا کہہ کر حورم کو اپنی بانہوں میں بھر کر کمرے تک لے آیا
وہان موجود سب لوگ ان دونوں کو ستائش سے دیکھ رہے تھے
روحان نے اسے بیڈ میں لیٹایا اور اس پر کمفرٹر ڈال دیا
اتنے میں ملازم شاپنگ بیگز لے آیا روحان نے اس سے بیگز لئے اور
د روازہ بند کر دیا
شاپنگ بیگز رکھ کر حورم کے پاس آیا جو آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی
زیادہ د رد تو نہیں ہو رہا ہنی روحان اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسکے پاس بیٹھ گیا
میں اب ٹھیک ہوں حانی ٹینشن نا لو ۔۔۔۔۔حورم نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اسکے چہرے کو چھوا
سچ کہہ رہی ہو نا ہنی ۔۔۔۔۔ روحان نے اسکا دوسرا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں
لے لیا
بلکل سچ ۔۔۔۔ اب تم کھانا آرڈ ر کرو بھوک سے جان نکل رہی ہے
حورم نے مظلوم سا منہ بنایا
ابھی منگواتا ہوں ہنی ۔۔۔۔ روحان مسکراتے ہوئے اسکے دونوں ہاتھ چومتے
ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔ ان دونوں نے مل کر کھانا کھایا
حانی گھر بات کر لیتے ہیں سب سے ۔۔۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد حورم
بولی
ٹھیک ہے ہنی میں ابھی ماما کو کال کرتا ہوں پھر باری باری سب سے بات
کریں گے ۔۔۔۔۔ روحان بھی اسکے برابر لیٹ گیا
پھر ان دونوں نے سب سے بات کی ان کا حال چال پوچھا ان سے ڈھیر
ساری باتیں کیں
چلو ہنی اب میڈیسن کھاو اور سو جاو روحان نے اسے دوائی کھلائی اور
اسے بانہوں میں لیے لیٹ گیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *