Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20

مجھے تو وہ حور ہی لگتی ہے جسکی وہ ہماری یونی کے آخری دن بات کر
رہے تھے دعا نے باقی کے پنے جوڑے ۔۔
تو کیا واقعی میں حور اور روحان بھائی کا نکاح ہوا ہے پھر عائزہ بولی
یہ تو جب حقیقت کھلے گی تو پتا چلے گا لیکن ہمیں تو ایسا ہی لگ رہا ہے دعا نے اسکی بات کا جواب دیا
چلو میں تو گھر جا رہیں ہوں بہت دیر ہو گئی ہے صبح حور کے گھر ناشتے کے لئے بھی جانا ہے اور اب تم لوگ بھی جا کر سو جاؤ کافی رات ہو گئی ہے مشال ان سے کہتی ہوئی اپنے گھر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو تم باسل نے نور کا ہاتھ پکڑا
اور حور کا تو میں جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے جس نے مجھے اور تمھیں ایک
کر دیا حور کو پتا نہیں کیسے ہم سب کے دلوں کی بھی بات پتا چل جاتی ہے
یہ کہتے ساتھ ہی وہ نور کی گود میں سر رکھ کر لیٹ کیا اور اسکا ہاتھ اپنے دل پر رکھ لیا
آئی لو یو نور ۔۔۔
یار جواب تو دے دو میری بات کا مجھ سے بلکل شرمانے کی ضرورت نہیں ہے ہم اب بھی ایک دوسرے کے اچھے دوست ہی ہیں میاں بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ ہم ہمیشہ اچھے دوست ہی رہیں گے جو اپنی ہر بات
بلا جھجھک ایک دوسرے سے کر سکیں اوکے
باسل نے اسکی تھوڑی کو اپنے دوسرے ہاتھ سے چھوا
چلو اب میری بات کا جواب دو
آئی لو یو ٹو ۔۔۔۔ نور شرماتے ہوئے بولی
تھینکس میری ہونے کے لئے اور یہ تمھاری منہ دکھائی باسل نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے نور کو ڈائمنڈ کی انگوٹھی پہنائی اور اسکا ہاتھ چوما
نور نے شرماتے ہوئے اپنا چہرہ باسل کے سینے میں چھپا لیا اور باسل نے اسکے گرد اپنی باہوں کا حصار بنا لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنٹی مجھے آپ سے بات کرنی ہے حورم کے بارے میں روحان اس وقت حور کے گھر موجود تھا
ٹھیک ہے بیٹا میرے کمرے میں آ جاؤ
فاطمہ بیگم اسے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے آئیں
ہاں بیٹا اب بولو کیا بات ہو روحان کو اپنے کمرے میں بیٹھانے کے بعد انہوں نے اس سے پوچھا
آنٹی مجھے یہ جاننا ہے کہ میرے جانے کے بعد ایسا کیا ہوا تھا کہ اب حورم میرے ساتھ ایسا بی ہیو کر رہی ہے اس نے مجھ سے ایک بات نہیں کی
اور اگر میں اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ مجھ
سے کترا کر چلی جاتی ہے اس نے اپنے آنے کی مدعا بیان کی
تمھارے جانے کے بعد حور کو بہت تیز بخار ہو گیا اور وہ بے ہوش ہو گئی
دو دن تک اسے ہوش نہیں آیا دو دن بعد اسے ہوش آیا اور ایک ہفتہ وہ ہوسپٹل رہی
جب وہ ہوسپٹل سے واپس آئی تو ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی اور وہ چپ چپ رہنے لگی تھی
پھر ہم سب نے فیصلہ کیا کہ ہم یہ شہر ہی چھوڑ دیتے ہیں تا کہ حور سنھبل سکے اور ہم سب کراچی چھوڑ کر اپنا سب کچھ بیچ کر ہمیشہ کے لئے لاہور آ گئے اور یہاں پر اپنا گھر لیا بزنس سٹارٹ کیا
یہاں آ کر حور سنھبل گئی خوش رہنے لگی سب کے ساتھ گھل مل گئی
سب کو یہی لگتا ہے کہ حور کو کوئی دکھ نہیں ہے وہ اپنی زندگی سے بہت خوش ہے لیکن مجھے پتا ہےماں جو ہوں اس کی اس نے اپنے اوپر ایک سخت خول چڑھا لیا جو باہر سے بہت مضبوط لگتا ہے اور اندر سے بہت کمزور ہے وہ اسے بتاتے بتاتے رو پڑیں
آپ روئیں نہیں آنٹی میں آ گیا ہوں نا سب ٹھیک کر دوں گا روحان نے ان کو اپنے ساتھ لگایا
اور آنٹی ایک اور بات آپ سب حورم کو حور کیوں بلاتے ہیں یہاں تک کہ یونی میں بھی اسکے تمام ڈوکومنٹس پر اسکا نام حور ہی تھا
حور جب ہوسپٹل سے واپس آئی تھی تو اس نے ہی سب سے کہا تھا کہ آج سے سب اسے حور ہی کہیں گے حورم نہیں
پھر جس بھی سکول کالج اور یونی میں حور نے داخلہ لیا حور کے پاپا نے حور کے کہنے پر پرنسپل سے بات کی کہ حور کہ صرف رزلٹ کارڈ ز پر حورم لکھا جائے باقی سب ڈوکومنٹس پر حور لکھا جائے
انہوں نے روحان کو بتایا
ہممم ۔۔۔۔ تو یہ بات ہے ٹھیک ہے اسکا بھی کچھ کرتے ہیں مگر اب آپ نے ٹینشن نہیں لینی آپ کا بیٹا اب آ گیا ہے اوکے
اوکے بیٹا ۔۔۔۔
اوکے آنٹی اب میں چلتا ہوں اس نے جانے کی اجازت چاہی
صبح ناشتے پر ضرور آنا صبح سب کا ناشتا ہمارے گھر ہے اور یہ سب حور کے کہنے پر ہی ہو رہا ہے فاطمہ بیگم نے اسے صبح آنے کی دعوت دی
ٹھیک ہے آنٹی ضرور آوں گا میں اب میں چلتا ہوں
گوڈ نائٹ آنٹی۔۔۔۔
گوڈ نائٹ بیٹا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح سب حور کے گھر موجود تھے ناشتے کےلئے
یہ بھی حور کا ہی پلین تھا اور آج کا سارا ناشتا حور نے خود بنایا تھا
واہ ۔۔۔۔ حور تم نے بڑے مزے کا ناشتا بنایا ہے حسن نے اسکی تعریف کی
تھینکس بھائی ۔۔۔۔ حور نے اسکا شکریہ ادا کیا
روحان بھی ناشتے پر سب کے ساتھ موجود تھا اور آج بھی اسکی نظریں حور کے چہرے کا ہی طواف کر رہی تھیں
اور حور کو اس کی موجودگی اور نا موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ سب کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف تھی سوائے روحان کے
اور روحان کو بہت دکھ ہو رہا تھا کہ اسکی ہنی اسے ایک نظر دیکھنا تک گوارا
نہیں کر رہی
ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے گھر چلے گئے
روحان کو رضا اپنے ساتھ اپنے گھر لے آیا
روحان کو دعا ، عائزہ اور مشال کے پاس ڈرائینگ روم میں چھوڑ کر رضا روحان سے ایکسکوز کرتا وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضا کو ولیمے کے انتظامات دیکھنے جانا تھا ولیمے کا فنگشن رات کا تھا
آج حور نے ناشتا بہت مزے کا بنایا تھا ۔۔۔۔ مشال نے حور کی تعر یف کی
ہاں واقعی سب کچھ بہت مزے کا تھا
عائزہ نے بھی اسکی بات سے اتفاق کیا
آپ کو کیسا لگا حور کا بنایا ہوا ناشتا بھائی دعا نے روحان کو بھی گفتگو میں
شامل کیا
بہت اچھا تھا سب کچھ ۔۔۔ روحان نے جواب دیا
آپ کو پتا ہے روحان بھائی حور کو وائلن بجانا آتا ہے اس نے کوکئینگ کورس اور فائیٹنگ کورس بھی کیا ہوا ہے
وہ کیا مزے کی دھلائی کرتی ہے لڑکوں کی میرے پاس حور کی وڈیوز ہیں میں آپ کو دیکھاتی ہوں دعا روحان سے کہتی ہوئی اپنا لیپ ٹاپ لینے اپنے روم میں چلی گئی
یہ دیکھیں بھائی دعا نے اسے یونی کی ساری وڈیوز دکھائیں جن میں حور لڑکوں کی پٹائی کر رہی تھی
حور تو پھر بڑی خطرناک ہے اس سے تو ڈ رنا چاہیئے روحان مسکراتے ہوئے بولا
اپنوں کو وہ کچھ نہیں آپ کو اس سے ڈ رنے کی ضرورت نہیں دعا نے مسکراتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا
حور بہت بہاد ر ہے وہ ہر مشکل کا مقابلہ کر لیتی ہے اور آپ کو ایک اور بات بتاؤں اسے کچھ بھی ہو جائے چوٹ کیوں نا لگ جائے
وہ روتی نہیں ہے ہم لوگ جب سے لاہور آئے ہیں ہم نے اسے روتے ہوئے نہیں دیکھا اور ہمیں لاہور آئے ہوئے بارہ سال ہو گئے ہیں عائزہ نے اسے بتایا
واقعی میں کیا یہ سچ ہے کہ وہ روتی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ روحان نے
حیرانگی سے پوچھا
جی بھائی یہ سچ ہے ۔۔۔۔ دعا نے جواب دیا
اچھا اب میں چلتا ہوں اب آپ سب سے رات کو ملاقات ہو گی کچھ دیر ان سے باتیں کرنے کے بعد وہ ان سے کہتا ہوا وہاں سے اپنے گھر آگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور ۔۔۔۔۔ تمھیں ماما بلا رہی ہیں اپنے روم میں شایان نے اسے مطلع کیا
اوکے میں جاتی ہوں ان کے پاس ۔۔۔۔ وہ شایان سے کہنے کے بعد ماما کے پاس ان کے روم میں چلی گئی
جی ماما آپ نے مجھے بلایا کوئی کام تھا کیا ۔۔۔۔ حور نے اندر داخل ہوتے ہوئے ان سے پوچھا
ہاں ہاں آؤ آج تم یہ ساڑی پہن رہی ہو انہوں نے ساڑی حور کی طرف بڑھائی
لیکن ماما میں نے آج تک ساڑھی نہیں پہنی اور نہ ہی مجھے ساڑھی لگانا آتی ہے اس نے اپنا مسلہ ان کے سامنے بیان کیا
اس میں کون سی بڑی بات ہے میں تمھیں ساڑی لگانا سیکھا دوں گی انہوں نے فورا حل پیش کیا
پر ماما آپ کو پتا ہے میں سر ہمیشہ کور کر کے رکھتی ہوں اور ساڑی کے ساتھ کیسے اپنے سر کو کور کروں گی اس نے ایک اور مسلہ بیان کیا
تم حجاب لے لینا ساتھ ۔۔۔ اب ٹھیک ہے اب اور تو کوئی مسلہ نہیں نا
انہوں نے حور سے پوچھا
نہیں ماما ۔۔۔۔ اور کوئی مسلہ نہیں
تو پھر ٹھیک ہے تم ساڑی لے کر اپنے روم میں جاؤ میں ابھی آتی ہوں
فاطمہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں
وہ اوکے ماما کہتی ساڑی لے کر اپنے روم میں چلی گئی
پتا نہیں ماما کو آج کیا سوجھی ہے مجھے ساڑی پہنانے کی میں کیسے سنھبالوں گی ساڑی کو اپنے کمرے میں آ کر اس نے سوچا
ویسے یہ ہے تو بہت ہی پیاری ۔۔۔۔ ماما کی چوائس بہت اچھی ہے اس نے اپنی ماما کی پسند کو سراہا
اسکی ماما نے اسکے ساڑی لگائی اور اسے تیار ہونے کا کہہ کر خود بھی تیار ہونے چلیں گئیں
تیار ہونے کے بعد حور اپنے بھائیوں اور ماما پاپا کے ساتھ ہوٹل چلی گئی
جہاں ولیمے کا فنگشن تھا
جب حور وہاں پہنچی تو سب پہلے سے موجود تھے
حور سب سے پہلے نور سے جا کر ملی جو بیبی پنک کلر کی میکسی میں بہت پیاری لگ رہی تھی
نور سے ملنے کے بعد وہ دعا لوگوں کے پاس آ گئی جو ایک جگہ کھڑی باتیں کر رہی تھیں
اے وہ دیکھو حور آج کتنی پیاری لگ رہی ہے اگر ہمارے اندازے کے مطابق روحان بھائی حور کے ہزبینڈ ہیں تو آج حور کو دیکھنے کے بعد وہ تو گئے کام سے حور آج پوری قاتل حسینہ لگ رہی ہے مشال نے حور کو آتا دیکھ
دعا اور عائزہ کی توجہ حور کی طرف مبذول کروائی
واقعی حور بہت خوبصورت لگ رہی ہے
اور وہ دیکھو روحان بھائی حور کو ہی دیکھ رہے ہیں دعا نے حور کی تعر یف کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو روحان کی طرف متوجہ کیا
حور یہ تم ہو ماشااللہ تم آج بہت پیاری لگ رہی ہو حور کے ان لوگوں کے پاس آنے کے بعد عائزہ نے اسکی
تعر یف کرتے ہوئے اسے گلے لگا لیا
حور ہلدی رنگ کی ساڑی جس کے بارڈ ر پر ریڈ اور کوپر کلر کا کام تھا ریڈ لیپسٹک لگائے اور سر پر ریڈ ہی حجاب لئے بہت خوبصورت لگ رہی تھی
تھینکس یہ تو سب ماما کا کمال ہے انہوں نے ہی مجھے ساڑی پہننے کو دی ہے حور نے ان کو بتایا
تم پر ساڑی بہت سوٹ کر رہی ہے مشال نے اسکی تعر یف کی
آج حور جتنی خوبصورت لگ رہی پکا حور پر کسی جن نے عاشق ہو جانا ہے
لکھوا کر رکھ لو تم لوگ مجھ سے دعا مسکراتے ہوئے پر یقین لہجے میں بولی
ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔اور اس عاشق جن کا میں کروں گی دعا اب یہ بھی بتادو
حور اسکی بات سن کر پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی
تم اسے اپنا غلام بنا لینا دعا نے ہنستے ہوئے اسے مشورہ دیا
چلو ٹھیک ہے مجھے جب بھی ملا جن میں ایسا ہی کروں گی ۔۔۔۔
اور روحان نے جب اسے دیکھا تو ماشا اللہ بولا
آج تو میری ہنی بہت پیاری لگ رہی ہے دل کر رہا ہے کہ
اسے سب سے چھپا کر اپنے دل میں رکھ لوں کہیں میری ہنی کو کسی کی نظر ہی نا لگ جائے
آج جو بھی ہو جائے ہنی میں تم سے بات کر کے ہی رہوں گا
اور وجہ بھی جان کے ہی رہوں گا کہ تم کیوں مجھ سے بھاگ رہی ہو آج تم جو مرضی کر لینا میں تمھیں منا ہی لوں گا دیکھ لینا تم
روحان نے دل میں سوچا
رات گئے تک فنگشن چلتا رہا سب نے خوب انجوائے کیا
فنگشن ختم ہونے کے بعد سب اپنے اپنے گھر لوٹ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ۔۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو نکلو میرے کمرے سے تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی ۔۔۔۔۔
جب وہ حور کے کمرے میں داخل ہوا تو حور کمرے میں نہیں تھی وہ بیڈ پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا بیڈ پر اسکا ٹیڈی بیئر پڑا ہوا تھا جو اس نے حور کو اسکے برتھ ڈے پر دیا تھا روحان نے مسکراتے ہوئے اسے پکڑ لیا
کچھ دیر کے بعد ڈ ریسنگ روم کا د روازہ کھلا اور اس نے
حور کو بیبی پنک کلر کی ٹی شرٹ اور ٹراورز پہنے باہر آتا دیکھا اس نے بال کھلے چھوڑے ہوئے تھے کچھ بال اسکی پشت پر بکھرے ہوئے تھے اور کچھ
اس کے چہرے پر آرہے تھے
روحان اسے ہمیشہ حجاب میں یا پھر ڈوپٹے میں دیکھا تھا
اور آج اسے بنا ڈوپٹے کے دیکھا تھا وہ اپنی تمام تر خوبصورتی کہ ساتھ اس کے سامنے موجود تھی اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے اور بڑی مشکل سے اپنے آپ پر قابو رکھ کر بیٹھا ہوا ہے
اور اسکو اپنے روم دیکھ کر وہ اس پر غصہ کرنا شروع ہو گئی
وہ اٹھ کر اسکے پاس آیا
میں آج تب تک نہیں جاوں گا جب تک تم مجھے وجہ نہیں بتاؤ گی کہ کیوں تم مجھ سے دور بھاگ رہی ہو یہ کہتے ساتھ ہی اس نے حور کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی
خبردار جو مجھے ہاتھ بھی لگایا ہاتھ توڑ دوں گی میں تمھارا حور نے اسے وان کیا
اوکے ہنی نہیں لگاتا ہاتھ بس یہ بتا دو کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا
روحان اس سے دور ہوا
تمھیں میں نے اس دن بھی کہا تھا کہ میرا نام حور ہے ہنی نہیں ۔۔۔۔۔
تمھیں سمجھ میں نہیں آتا کیا اور تم ابھی کے ابھی نکلو یہاں سے ۔۔۔۔ حور نے اسے گھورا
________
تم ابھی کے ابھی نکلو یہاں سے ۔۔۔۔ حور نے اسے گھورا
نہیں جاؤں گا جب تک تم میری بات کا جواب نہیں دو گی روحان اپنی بات پر اڑ گیا
اگر تم نا گئے تو اس چھری سے تمھاری جان لے لوں گی حور نے پاس پڑی
چھری اسکی طرف کی
تم مجھے مارو گی ہنی اپنے حانی کو یہ کہتے ہوئے روحان نے اسکا ہاتھ پکڑا
حور نے دوسرے ہاتھ میں پکڑی چھری سے اسکے اس ہاتھ پر جس سے اس نے حور کا ہاتھ پکڑا تھا پر کٹ لگا دیا
اب آ گیا یقین ابھی کے ابھی تم نا گئے تو میں تھیں جان سے مار دوں گی
ثبوت تو تمھیں مل ہی چکا ہو گا کہ میں کچھ بھی کر سکتی ہوں
حور نے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا جس سے خون نکل رہا تھا
ہنی ۔۔۔۔ہنی تم ایسا بھی کر سکتی ہو روحان بے یقینی کی کیفیت میں بولا
تمھیں میری قسم ہے بتاؤ کیوں کر رہی ہو ایسا روحان نے اپنے ہاتھ سے نکلتے خون کی پرواہ کیے حور کو اسکے دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کیا
اور حور کا دل کر رہا تھا کہ اسکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دے
اسکے گلے لگ کے اتنا روئے کہ اسکی اپنی ذات اسکے ہی آنسوں میں بہہ جائے پر وہ ایسا چاہ کر بھی نہیں کر سکتی تھی
بولو نا ہنی روحان سے اسے جھنجوڑا جو اسے ہی دیکھے جا رہی تھی
ٹھیک ہے بتاتی ہوں لیکن پہلے وعدہ کرو کہ تم میری میری بات سننے کے بعد تم میری ہر شرط مانوں گے حور نے ایک جھٹکے سے اسکے ہاتھ اپنے کندھوں سے ہٹائے اور خود کو نارمل کیا وہ اسکے سامنے کمزور نہیں پڑ نا چاہتی تھی اس لئے اس نے خود کو رونے سے روکا
ٹھیک ہے وعدہ ۔۔۔۔۔ اگر شرط ماننے والی ہوئی تو میں ضرور مانوں گا روحان نے ہامی بھری
بات یہ ہے کہ میں تمھارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی مجھے تم سے طلاق چاہیئے
حور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی
ہنی ۔۔۔۔ روحان دھاڑا
تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے کیا بکواس کر رہی ہو میں ایسا کبھی نہیں کروں گا
تم میری ہو صرف میری جب تک میری سانسیں چل رہیں ہیں تمھیں مجھ سے کوئی بھی الگ نہیں کر سکتا یہ بات تم اپنے دماغ میں بیٹھا لو
اب بتاؤ کون سی بات تمھیں مجھ سے دور کر رہی ہے کیونکہ مجھے پتا ہے کہ میری ہنی کبھی بھی مجھ سے یہ بات نہیں کر سکتی
کیونکہ میں تمھارے قابل نہیں ہوں میں ایک استعمال شدہ لڑکی ہوں
اب آ گیا سمجھ میں ۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنی بات بتا دی اب مجھے طلاق دو یہی میری شرط ہے حور نے چیختے ہوئے اسے بتایا
روحان کو یہ سب بتاتے ہوئے حور کی آنکھ سے ایک بھی آنسو نہیں نکلا
کیونکہ وہ اس کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی
حور سات سال کی تھی جب ان کے ڈ رائیور نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا
اس روز حور کے گھر پر کوئی نہیں تھا اور کو سکول لانے اور لے جانے کی ذمہ داری اسی ڈ رائیور کی تھی
اس ڈ رائیور نے سب کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھایا
اور سب کے آنے سے پہلے وہاں سے ہمیشہ کے لئے چلا گیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *