Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41

لیکن مجھے نہیں چاہیں کوئی بھی بچے وچے ۔۔۔۔ روحان غصے سے کہتے ہوئے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا
ہم دونوں کے بھی نہیں ۔۔۔۔۔ حورم بولی تو روحان ایک جھٹکے سے اسکی طرف مڑا
کیا بولا ہے ابھی تم نے دوبارہ بولو ۔۔۔۔ روحان نے اس سے پوچھا
میں نے کہا کہ ہم دونوں کے بچے بھی نہیں چاہیں کیا تمھیں ۔۔۔۔ حورم
نے بہت ہمت سے یہ الفاظ ادا کیے تھے اسکو شرم آ رہی تھی یہ بات کہتے
ہوئے
اسکا مطلب ہے تم ۔۔۔۔۔ روحان نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی
ہاں آج سے تمھیں مجھ پر وہ حق بھی حاصل ہے جو میں نے آج تک تم کو نہیں دیا ۔
سوری پلیز مجھے معاف کر دو مجھے پتا چل گیا ہے کہ میں غلط تھی مجھے تم سے دوسری شادی کی بات نہیں کرنی چاہیئے تھی میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی کسی اور کو تمھارے ساتھ نہیں دیکھ سکتی تم صرف میرے ہو صرف
میرے ہو میں کیسے تمھیں کسی اور کا ہونے دوں پلیز معاف کر دو نا
سوری حورم نے روتے ہوئے اسکے آگے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لیے
روحان نے تڑپ کر اسکے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور اسکے دونوں ہاتھ چومے
روحان کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے
میں بھلا اپنی ہنی سے ناراض ہو سکتا ہوں کیا روحان نے اسکا چہرہ اپنے دونوں
میں بھرا اور دیوانوں کی طرح اسکا ایک ایک نقش چوم لیا
پھر اسے زور سے خود میں بھینچ لیا
کافی دیر کے بعد روحان نے اسے خود سے الگ کر چاہا پر حورم اس سے الگ
نہیں ہو رہی تھی
ہنی کھڑی کھڑی تھک جاو گی تمھاری طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے
روحان اسکے خود سے الگ نا ہونے پر بولا
حورم اس سے الگ ہو گئی
کبھی ناراض مت ہونا
گلے چاہے بہت کرنا
کبھی ایسا جو ہو جائے
جہنیں کہنا ضروری ہو
وہ لفظ مجھ سے کھو جائیں
انا کو بیچ میں مت لانا
میری آواز بن جانا
کبھی ناراض مت ہوتا
حورم نے بہت جزب سے روحان کی گرے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کچھ اشعار ادا کیے
کبھی بھی نہیں ہوں گا میں اپنی ہنی سے ناراض ۔۔۔۔۔ روحان نے اس کی
پیشانی پر اپنے لب رکھ دیئے
روحان اسکا ہاتھ پکڑے بیڈ تک لایا
روحان بیڈ کروان سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور اپنی ٹانگوں کے درمیان جگہ
بناتے ہوئے حورم کو اپنے پاس آنے کا اشارا کیا
اور حورم بنا دیر کیے اسکی بنائی ہوئی جگہ پے بیٹھ گئی اور اپنا سر اسکے سینے
پر ٹکا دیا روحان نے اسکے گرد اپنے بازوں کا حصار بنا لیا
ویسے تم نے زیادہ ہی زور سے نہیں مار دیا مشعل کے تھپڑ ۔۔۔۔ روحان
بولا
حورم نے اسکے سینے سے اپنا سر اٹھایا اور اسے گھورا
تم اسکی حمایت نا کرو حانی اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا وہ کیوں
آرہی تھی میرے اور تمھارے درمیان۔۔۔۔۔
اچھا ویسے کوئی تھا جس نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں مشعل سے شادی کر
لوں روحان آنکھوں میں شرارت لیے بولا اور ساتھ میں مسکرا بھی رہا تھا
جس سے اسکا ڈمپل عود آیا
حورم کا دھیان اسکی بات سے زیادہ اسکے ڈمپل کی طرف تھا
بس تب مجھے پتا نہیں تھا کہ میں کیا کر رہی ہوں اب مجھے پتا لگ گیا ہے
حورم کے کہتے ساتھ ہی اسکے ڈمپل پر اپنے لب رکھ دیئے
روحان کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی
اچھا ہنی یاد ہے نا ہماری انیورسری ہے کل کو ۔۔۔۔۔۔
ہاں حانی میں بھلا کیسے بھول سکتی ہوں ۔۔۔۔۔ حورم نے مسکراتے ہوئے
دوبارہ اپنا سر اسکے سینے پے رکھ دیا
اب تم چلو میرے ساتھ پارلر تمھیں مہندی لگوا کر لاتا ہوں ۔۔۔۔۔ روحان اس سے بولا
اچھا حانی کچھ دیر کے بعد چلتے ہیں ابھی میرا دل نہیں کر رہا کہیں بھی جانے کو ۔۔۔
چلو ٹھیک ہے ہنی جیسے تمھاری مرضی ۔۔۔۔ اور میں نے کل رات کو ہوٹل میں پارٹی ارینج کی ہے ہماری شادی کی سالگرہ اور ہم دونوں کی سالگرہ کی
خوشی میں اور سب کو اینواٹ بھی کر لیا ہے اور تم کل کو میرا گفٹ کیا
ہوا لہنگا چولی پہنو گی تم نے وہ آج تک بھی نہیں پہنا ٹھیک ہے نا ہنی
حانی تم نے تو سارا کچھ پلین کیا ہوا ہے اگر میں نا آتی آج اور تم سے معافی
نا مانگتی تو پھر کیا ہوتا ۔۔۔
مجھے پتا تھا تم آو گی میں نے پلین ہی ایسا بنایا تھا اور ویسے بھی مجھے پتا ہے
میری ہنی میرے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔۔ روحان محبت سے چور لہجے
میں بولا
کون سا پلین حانی ۔۔۔۔ حورم نے اس سے پوچھا
پھر روحان نے اسے اپنا سارا پلین بتایا کہ کیسے اس نے اور مشعل نے مل کر اسے جلایا کرتے تھے
روحان نے مشعل کو یہ بتایا تھا کہ حورم مجھ سے ناراض ہے اور مجھ سے بات نہیں کر رہی اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ہم دونوں مل کر اسے
جلایں تاکہ وہ مان جائے اور ناراضگی ختم کر دے روحان نے اسے اصل
بات نہیں بتائی تھی
حانی کے بچے ۔۔۔۔۔ حورم اسکے بازوں کے گھیرے سے نکلتے ہوئے اسکے
سامنے بیٹھ کر اسے گھورنے لگی
تم نے مجھے تب کیوں نہیں روکا جب میں نے اسے تھپڑ مارا تھا ایسے ہی میں نے بے چاری پر اتنا غصہ کیا اسے مارا بہت برے ہو تم ۔۔۔۔۔
تمھیں بتا دیتا تو تم پھر سے اپنی بات پر اڑ جاتی تو میرا کیا ہوتا پھر ۔۔۔۔
روحان مسکراتے ہوئے بولا
میں جارہی ہوں اسکے پاس معافی مانگنے ۔۔۔۔ حورم اسے گھورتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تو روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
حورم نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
میں بھی چلتا ہوں تمھارے ساتھ ۔۔۔۔
سوری مشعل میں نے تمھیں مار مجھے تمھیں تھپڑ نہیں مارنا چاہیئے تھا سارا
قصور حانی کا ہے یہ مجھے بتا دیتا تو ایسا تو نا ہوتا نا ۔۔۔۔۔۔ حورم نے اپنی صافی پیش کی
سوری کی کوئی بات نہیں تم دونوں دوبارہ سے ایک ہو گئے مجھے اور کیا چاہیئے بھلا
اور روحان کو میں نے ہی منا کیا تھا کہ تمھیں کچھ نا بتائے
ورنہ ہمارا پلین کامیاب نہیں ہوگا پر ایک بات ہے تم مارتی بہت زور کا ہو
کوئی تمھیں دیکھ کر نہیں کہہ سکتا کہ تم جیسی نازک سی لڑکی اتنا زور کا مار بھی سکتی ہے
مشعل مسکراتے ہوئے بولی
سوری ۔۔۔۔۔۔ حورم شرمندہ سی بولی
اٹس اوکے ۔۔۔۔۔ مشعل مسکراتے ہوئے بولی
مارتی تو ہنی بہت زور سے ہے مجھے بھی ایک تھپڑ پڑا ہے ہنی کے ہاتھوں
روحان ہنستے ہوئے بولا
واقعی میں روحان تمھیں بھی تھپڑ مارا حورم نے ۔۔۔۔۔ مشعل حیرانگی سے بولی
ہاں میں نے جب ہنی سے رخصتی کی بات کی تو اس نے غصے میں سب کے سامنے ایک تھپڑ مجھے بھی ٹکا دیا پر میں نے بھی اسے منا کہ ہی دم لیا
اور پھر ہماری شادی ہو گی
روحان ہنستے ہوئے بتا رہا تھا مشعل بھی ہنس رہی تھی
حانی ۔۔۔۔۔ حورم نے احتجاج کیا
اوکے مشعل مجھے ہنی کو مارکیٹ لے جانا ہے اب ہم چلتے ہیں روحان مسکراتے ہوئے بولا
اوکے ٹھیک ہے ۔۔۔۔ مشعل بولی
پھر روحان اسے مہندی لگوانے پارلر لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانی تم نے یہ کیا کیا ہے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ میرے پیروں پے بھی مہندی لگوا دی ہے اب میں چلو گی کیسے ۔۔۔۔۔
حورم اس وقت پارلر میں موجود تھی جبکہ روحان گاڑی میں موجود تھا
اور اسکے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا
حورم مہندی لگوا چکی تھی اور اب روحان کو فون کر کے اس سے خفگی کا اظہار کر رہی تھی کیونکہ روحان نے ہی پارلر والی سے بات کی تھی کہ حورم
کے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگوانی ہے
حورم نے مہندی لگوانے کے دوران مہندی لگانے والی کو منع کیا لیکن اس
نے بتایا کہ اسے ایسا کرنے کو روحان نے بولا ہے
روحان کی وجہ
سے حورم اس وقت خاموش رہی پر اب وہ چل بھی نہیں پا رہی تھی مہندی
کی وجہ سے اس لئے روحان کو سنا رہی تھی
روحان کچھ دیر کے بعد اندر داخل ہوا اور حورم کو بولنے کا موقع دیئے بغیر
اپنی بانہوں میں بھر کر گاڑی تک لے آیا
اور حورم اس اچانک اتفاد پر کچھ بول ہی نا سکی البتہ لوگوں کی ستائشی نظروں
کی وجہ سے اس نے اپنا سرخ پڑتا چہرہ روحان کے سینے میں چھپا لیا
روحان نے اسے فرنٹ سیٹ بر آرام سے بٹھایا اور اس کے جوتے لینے اور بیگ لینے اور پیمنٹ کرنے دوبارہ پارلر کے اندر چلا گیا
جب روحان واپس آیا وہ خود کو نارمل کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی
یہ کیا حرکت کی ہے تم نے ابھی روحان کے ڈ رائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی حورم نے اسے گھورا
کیا ۔۔۔۔۔ روحان نے انجان بنتے ہوئے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے حورم نے منہ بنا لیا اور اپنا چہرہ دوسری
طرف موڑ لیا
روحان نے مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اسکا ارادہ اسے گھر جا کر منانے کا تھا
گھر پہنچ کر بھی روحان نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا اور اندر کی طرف چل
دیا جہاں ڈ رائینگ روم میں مشعل اور حرا بیگم موجود تھیں
ان کو دیکھ کر وہ مسکرانے لگیں روحان بھی مسکرا رہا تھا جبکہ حورم کا تو شرم
کے مارے سر ہی نہیں اوپر اٹھ رہا تھا اس نے نظر اٹھا کر بھی ان کی طرف نہیں دیکھا
حانی اتارو مجھے آنٹی اور مشعل دیکھ رہی ہیں ۔۔۔۔ حورم نے آہستہ سے اسکے کان میں بولی
ماما میں آپ کی بہو کو اسکے روم میں لے کر جا رہا ہوں اس سے پہلے کہ آپ کی بہو غصے میں میرا
سر ہی پھاڑ دے روحان شرارت سے ان سے بولا
جو ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں
حورم کا تو دل کیا واقعی میں روحان کا سر پھاڑ دے اور اسے گھوریوں سے نوازا لیکن روحان کو کہاں پروا تھی
روحان اسے کمرے میں لے آیا
اللہ ان دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے حرا بیگم نے ان کو جاتا دیکھ دعا دی
آمین ۔۔۔۔ مشعل بولی
روحان نے کمرے میں آتے ہی اسے بیڈ پر بیٹھایا
بڑے ہی بے شرم ہو تم حانی ۔۔۔۔
حورم اسے گھور رہی تھی اور روحان آنکھوں میں محبت کا ایک جہاں آباد کیے
مسکرا رہا تھا
جیسا بھی ہوں تمھارا ہی ہوں اب تو کچھ نہیں ہو سکتا اس لیے صبر کرو
روحان کی آنکھوں سے شررات عیاں تھی
ہوں ۔۔۔۔ حورم نے اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیا یہ اسکی روحان سے خفگی
کا اظہار تھا
میری ہنی ناراض ہے مجھ سے ۔۔۔۔ روحان نے اسکی تھوڑی پکڑ کر اسکا چہرہ
اپنی طرف کیا
تم نے اپنا موڈ ٹھیک نا کیا تو میں جارہا ہوں پھر جہاں سے روحان آنکھوں میں شرارت لیے بولا
حورم اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی اس لیے اسکی آنکھوں میں موجود شرارت
کو دیکھ نا سکی
نہیں تم کہیں نہیں جا رہے حورم نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور اسکی طرف دیکھا
میں تو مزاق کر رہا تھا ہنی ۔۔۔۔۔ روحان اسکی آنکھوں میں جمع ہوتے آنسوں کو دیکھ فورا بولا اور اسکے نازک سے مہندی سے سجے ہاتھ اپنے مضبوط
ہاتھوں میں لے لیے
حورم کی مہندی سوکھ چکی تھی
مجھے کبھی بھی مت چھوڑنا حانی میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی حورم نے اپنا
سر اسکے سینے پر ٹکا دیا
میں کبھی بھی اپنی ہنی کو نہیں چھوڑ سکتا میں بھی اپنی ہنی کے بغیر نہیں رہ سکتا روحان نے زور سے خود میں بھینچ لیا
💞💞💞💞💞💞💞💞
مہندی بہت اچھی لگ رہی ہے تمھارے ہاتھوں اور پیروں پر ۔۔۔۔ روحان نے اسکے دونوں ہاتھوں کو چوما دودھیا نازک سے ہاتھوں پر سرخ مہندی اس
کے ہاتھوں کو اور خوبصورت بنا رہی تھی
وہ ہاتھ دھو چکی تھی
روحان نے اسکے پیروں کو اپنے ہاتھوں سے چھوا تو حورم نے فورا سے اپنے
دونوں پاوں سمیٹ لیے اور اسکے دونوں ہاتھ پکڑ لیے
آئی لو یو حانی ۔۔۔۔ حورم نے اسکے دونوں ہاتھ چومے
آئی لویو ٹو ہنی ۔۔۔۔ روحان نے اسکی پیشانی چومی اور اسے اپنے ساتھ لگایا
چلو نیچے چلتے ہیں سب کے پاس ۔۔۔۔ روحان اسے اپنے ساتھ لئے سب
کے پاس آ گیا
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
حانی میں یہ نہیں پہن رہی کل کو کیونکہ چولی بہت چھوٹی ہے ۔۔۔۔۔۔
حورم نے چولی اسکے سامنے کی ۔۔۔۔۔۔
رات کا ٹائم تھا اور وہ دونوں اپنے روم میں تھے حورم اپنا کل کا ڈریس دیکھ رہی تھی اور روحان یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا
حانی ۔۔۔۔ حورم نے اسکا کندھا ہلایا جس سے وہ ہوش میں آیا
ہممم ۔۔۔۔ کیا کہا تم نے ہنی ۔۔۔۔
میں نے کہا کہ میں یہ نہیں پہنوں گی ۔۔۔۔ حورم نے چولی اس کے سامنے رکھی اور خود بھی بیڈ پر اسکے پاس بیٹھ گئی
پہنانا تو تمھیں یہی پڑے گا روحان حکمیایہ لہجے میں بولا
نہیں ۔۔۔۔۔ حورم نے منہ پھلایا
روحان اٹھا اور ڈریسنگ روم میں گیا تو واپسی پر اسکے ہاتھ میں گول گھیرے والی ٹی پنک کلر کی کرتی تھی بلکل چولی جیسے رنگ اور کام والی
یہ لو یہ پہن لینا پر میری ایک شرط ہے روحان اس کے پاس بیٹھ گیا
کون سی شرط ۔۔۔۔ حورم نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
یہ کرتی تم سب کے سامنے پہنو گی اور فنگشن کے بعد تم یہ چولی پہنو گی
تب ہی میں یہ کرتی تمھیں دوں گا ورنہ نہیں ۔۔۔۔ روحان نے اپنا ہاتھ جس
میں کرتی تھی اپنے پیچھے کر لیا
ٹھیک ہے ۔۔۔۔ حورم نے ہامی بھر لی کیونکہ روحان نے پہلی بار اس سے کوئی فرمائش کی تھی وہ بھلا کیسے انکار کر سکتی تھی
روحان نے چولی اسکو دے دی
چلو اب انہیں الماری میں رکھ آو پھر سونا بھی ہے کافی رات ہوگئی ہے
روحان کے کہنے پر وہ سر ہلاتی ہوئی ڈریسنگ روم میں چلی گئی
جب وہ واپس آئی تو روحان کو اپنی جگہ پر لیٹا ہوا پایا حورم اسکے پاس آئی اور اسکے سینے پر سر ٹکا کر لیٹ گئی
روحان نے اسکے گرد اپنی بانہوں کا حصار بنا لیا اور اپنا سر اس کے سر پر ٹکا
دیا
جلد ہی نیند کی وادی ان دونوں پر مہربان ہو.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *