Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42
حورم اور روحان نے کیک کاٹا سب نے ان کو مبارک باد دی
آج ان کی ویڈئنگ اینورسری اور ان دونوں کی سالگرہ کا دن تھا اس وقت سب ہوٹل میں موجود تھے
ٹی پنک کلر کی کرتی ، پیچ کلر کا لہنگا اور ڈوپٹا سر پر اوڑھے اور نفاست سے کیے گئے میک اپ جو کہ روحان نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا میں جنت سے اتری حور لگ رہی تھی
اور روحان بھی اس سے کم نہیں لگ رہا تھا ٹی پنک کلر کی شرٹ اور واٹ
نیرو پینٹ میں نفاست سے سیٹ کیے براون بالوں کے ساتھ کسی ریاست
کا شہزادہ لگ رہا تھا
ان کی جوڑی سورج اور چاند کی جوڑی کو بھی مات دے رہی تھی سب کی
ستائشی نظریں ان پر ہی تھیں
روحان نے حورم کے لیے ”” سنو نا سنگ مرمر ”” گانے کی دھن وائلن پر پلے کی
حورم آنکھوں میں پیار سموئے یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی
حورم نے روحان سے وائلن لیا اور اسی گانے کی دھن پلے بقیہ دھن پلے کی
روحان محبت سے اسے دیکھ رہا تھا جو اسکی جان تھی حورم بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی
روحان نے اس سے وائلن لیا
میری ہنی کے لیے اسکے حانی کی طرف سے روحان آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کیے مائک میں بولا
روحان نے پھر سے اسی گانے کی دھن بجائی اور ساتھ ہی گانے کی کچھ
لائنیں گنگنائیں
بن تیرے مدھم مدھم بھی چل رہی تھی دھڑکن۔۔
جب سے ملے تم ہمیں۔۔۔۔۔
آنچل سے تیرے بندھے دل اڑ رہا ہے ۔۔۔
سنو نا آسمانوں کے یہ ستارے ۔۔۔۔۔۔
کچھ بھی نہیں ہے آگے تمھارے۔۔۔۔۔
آج سے دل پے میرے راج تمھارا تاج تمھارا ۔۔۔۔۔۔
سنو نا سنگ مرمر کی یہ مناریں ۔۔۔۔۔
کچھ بھی نہیں ہے آگے تمھارے ۔۔۔۔
آج سے دل پے میرے راج تمھارا تاج تمھارا ۔۔۔
سب رشک سے حورم کو دیکھ رہے تھے جسکو اتنا چاہنے والا شوہر ملا تھا
سب نے تالیاں بجا کر روحان کو داد دی
روحان نے سب کا شکریہ ادا کیا
مشعل کو کب سے اپنے اوپر کسی کی نظروں کی تپش کا احساس ہو رہا تھا
اس نے اردگرد دیکھا تو کسی کو اپنی طرف دیکھتا پایا مشعل کے دیکھتے ہی
اس نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل لیا
مشعل نے بھی غور سے اس لڑکے کو دیکھا اسکو دیکھ پہلی بار معشل کے دل نے دھڑکنا سیکھا تھا اسکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا
معاذ بھائی ابھی آپ کس کو دیکھ رہے تھے اور کیوں ۔۔۔۔ حورم نے معاذ کو مشعل کو دیکھتے ہوئے دیکھ لیا تھا
کسی کو بھی نہیں وہ صاف مکر گیا
اگر آپ مجھے بتا دیں گے تو میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں اور ویسے بھی میں نے دیکھ لیا تھا آپ کو مشعل کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔ حورم مسکراتے
ہوئے بولی
اسکا نام مشعل ہے ۔۔۔۔ معاذ نے پوچھا
ہاں اس کا نام مشعل ہے اور حانی کی خالہ کی بیٹی ہے لندن سے آئی ہےکچھ دن پہلے ۔۔۔۔ حورم نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا
اگر آپ کہیں تو بات کروں پھر حرا آنٹی سے اور آپ کے امی ابو سے آپ اور
مشعل کے بارے میں ۔۔۔۔۔ حورم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
حورم تم واقعی میں پولیس والی ہی ہو ہر بات جان جاتی ہو تم سے تو کچھ بھی چپ نہیں پاتا اور اگر تم میری مدد کر دو گی تو میں ساری زندگی تمھارا
احسان مند رہوں گا پہلی دفع کوئی لڑکی مجھے اچھی لگی ہے ۔۔۔۔ معاذ نے
اپنے دل کی بات بتائی
ٹھیک ہے پھر بھائی میں ابھی آئی حورم اس سے کہتی ہوی مسکراتی ہوئی
معاذ اور مشال کے امی ابو کے پاس گئی اور ان سے بات کی وہ اسکی بات سن کر بہت خوش ہوئے انہیں کئی اعتراض نہیں تھا
حورم ان دونوں کو لیے حرا بیگم اور فیضان صاحب کے پاس آ گئی
آنٹی انکل مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔ حورم ان سے مخاطب ہوئی
ہاں بولو بیٹا کیا بات ہے ۔۔۔۔ فیضان صاحب شفقت سے بولے
وہ معاذ بھائی کے امی ابو مشعل کے لیے معاذ بھائی کا راشتہ مانگنے آنا چاہتے
ہیں اگر آپ کو اعتراض نا ہو تو ۔۔۔۔ حورم نے اپنی مدعا بیان کی
یہ تو بہت خوشی کی بات ہے معاذ ہماری آنکھوں دیکھا بچہ ہے ہمیں تو کوئی
اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔ فیضان صاحب خوشی سے بولے
مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں میں مشعل اور اسکے ماما اور پاپا سے بات کرتی ہوں ۔۔۔۔ حرا بیگم نے بھی خوشی کا اظہار کیا
بہت بہت شکریہ آپ کا ۔۔۔ معاذ کی امی ان سے بولیں
ارے اس میں شکریے کی کیا بات ہے میں تو بہت خوش ہوں حرا بیگم ان سے گلے ملیں
تھینکس انکل آنٹی ۔۔۔۔۔ حورم خوشی سے تمتماتے چہرے سے ان کا شکریہ
ادا کرتی ہوئی معاذ کے پاس گئی جو روحان کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا
ہو گیا کام بھائی آپ کے امی ابو اور حانی کے ماما پاپا کو کوئی اعتراض نہیں ہے آپ کے رشتے سے اب بس مشعل اور اس کے ماما پاپا سے بات
کرنا رہ گئی ہے وہ بھی انشااللہ مان جائیں گے
حورم نے مسکراتے ہوئے اسے خوش خبری دی
تھینکس ۔۔۔۔۔ معاذ نے مسکراتے ہوئے اسکا شکریہ ادا کیا
نو تھینکس بھائی ۔۔۔۔
مجھے بھی تو بتاو کیا بات ہے ۔۔۔۔ روحان کچھ کچھ سمجھ گیا تھا لیکن پوری
بات جاننا چاہتا تھا
حورم نے اسے ساری بات بتائی
روحان محبت سے اسے دیکھ رہا تھا جو سب کی خوشی کا خیال رکھتی تھی
میں مشعل کو لے کر آتی ہوں اور آپ سے ملواتی ہوں حورم معاذ سے
کہتی ہوئی مشعل کے پاس آ گئی جو دعا لوگوں کے ساتھ کھڑی تھی
کچھ دیر کے بعد حورم مشعل کے ساتھ روحان اور معاذ کے پاس آئی
مشعل یہ مشال کے بھائی معاذ اور معاذ بھائی یہ حانی کی خالہ کی بیٹی مشعل ۔۔۔۔ حورم نے ان دونوں کا تعارف کروایا
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔ مشعل نے معاذ کو سلام کیا
وعلیکم اسلام آپ سے مل کر خوشی ہوئی ۔۔۔۔۔ معاذ نے اسکے سلام کا جواب دیا
اور اسکا جائزہ لیا جو بلیک کلر کی میکسی میں بہت پیاری لگ رہی تھی
مشعل نے حورم کے کہنے پر سلیو لیس شرٹس پہننا چھوڑ دی تھیں وہ اب شلوار قمیض پہنتی تھی
حورم اور روحان بھائی ہمارے ساتھ آئیں ذرا عائزہ ، دعا اور مشال ان دونوں
سٹیج پر لے آئیں اور وہاں موجود سب کو سٹیج کی طرف متوجہ کیا
دعا نے حورم کی آنکھوں کے گرد پٹی باند دی
حورم تمھارے سامنے لائن میں شیری ، معاذ بھائی ، زاوی بھائی ، رضا بھائی ،
روحان بھائی ، آیان ، شایان اور باسل کھڑا کر رہی ہوں ان سب میں سے
تم نے بنا کسی کو بھی چھوئے روحان بھائی کو ڈھونڈنا ہے
دعا کے حورم کی آنکھوں پر پٹی باندنے کے بعد مشال اس سے مخاطب ہوئی
اور عائزہ نے اشاروں سے سب کو ایک لائن میں کھڑا ہونے کو کہا
سب لائن میں کھڑے ہو گئے
وہاں موجود سب لوگ ان سب کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے
دعا نے اسے پہلے کے سامنے کھڑا کیا
ڈھونڈو حورم روحان بھائی کو ۔۔۔۔ دعا مسکراتے ہوئے گویا ہوئی
حورم باری باری سب کے سامنے آئی اس کے لب مسکرا رہے تھے
وہ روحان کو اسکی خوشبو سے ہی پہچان سکتی تھی اسکا دل روحان کی موجودگی کا پتا اسے دے دیا کرتا تھا
پھر اس نے ان سب میں سے روحان کو ڈھونڈ ہی لیا اور اسکا ہاتھ پکڑ لیا
وہ سب سے آخر میں کھڑا تھا
مشال نے مسکراتے ہوئے اسکی پٹی اتاری
واوووو۔۔۔۔۔ حورم تم نے تو کر دیکھایا دعا مسکراتے ہوئے بولی
حورم اور روحان دونوں مسکرا رہے تھے
اب روحان بھائی آپ کی باری ہے حورم کو ڈھونڈنے کی عائزہ بولی
روحان نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا تو رضا نے روحان کی آنکھوں پر پٹی باندی
چلیں روحان بھائی آپکے سامنے ساری ینگ پارٹی کھڑی ہے سب میں سے
آپ نے حورم کو ڈھونڈنا ہے چلیں ہو جائیں شروع ۔۔۔۔
دعا اس سے بولی
روحان باری باری سب کے سامنے گیا وہ سب لائن بنا کر کھڑے تھے
ان سب میں سے حورم کوئی بھی نہیں تھی روحان نے رضا اور حسن کو سائیڈ پر کیا اور ان کے پیچھے کھڑی حورم کے پاس گیا ایک ہاتھ سے اسکا
ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اپنی پٹی اتاری
وہ حورم ہی تھی جو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی سب نے تالیاں بجا کر روحان اور حورم کو داد دی
حورم ان سب کے پیچھے کھڑی تھی مشال نے اسے سب کے پیچھے کھڑا کیا
تھا
واوووو ۔۔۔۔۔روحان بھائی آپ نے کمال کر دیا مشال مسکراتے ہوئے
بولی
روحان حورم کا ہاتھاپنے ہاتھ میں لیے مسکرا رہا تھا
کیا کیمسڑی ہے آپ دونوں کی اور کیا کمال کی محبت ہے آپ دونوں کی اللہ
آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے ۔۔۔۔۔ نور مسکراتے ہوئے بولی
آمین ۔۔۔۔ روحان اور حورم نے دل میں آمین بولا
تھینکس تم سب کا حورم نے سب کو شکریہ ادا کیا
سب نے خوب انجوائے کیا حورم اور روحان کو گفٹ دیے
رات گئے سب اپنے اپنے گھر روانہ ہوگئے
__________
چلو ہنی پہلے تم اندر داخل ہو روم میں روحان نے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر پہلے اسے اندر داخل ہونے کو بولا
حورم نے جیسے ہی دروازہ کھول کر اندر پاوں رکھا اس پر گلاب کے پھولوں کی بارش ہونے لگی
حورم نے جیسے ہی کمرے میں نظر دوڑائی تو خوشی سے اسکا چہرہ تمتمانے لگا
روم میں کونوں پر سرخ گلاب کے بکے پڑے تھے اور کینڈل سٹینڈ میں کینڈلز جل رہی تھیں جو پورے کمرے میں روشنی کر رہی تھیں
کمرے میں صرف کینڈلز کی ہی روشنی تھی
پھولوں کی خوشبو اور کینڈلز کی روشنی کمرے کے ماحول کو خواب ناک بنا رہی
تھی
حورم روحان کی طرف مڑی جو دروازے سے ٹیک لگائے آنکھوں میں محبت سموئے اسے ہی دیکھ رہا تھا
سب کچھ بہت اچھا ہے حانی تھینکس ۔۔۔۔ حورم اس کے گلے لگ گئی
نو تھینکس ہنی یہ سب تمھارے لیے ہی ہے ۔۔۔ روحان اسکی طرف دیکھتے
ہوئے مسکراتے ہوئے بولا
اچھا اب میرا گفٹ ۔۔۔۔۔ حورم نے اسکے سامنے ہاتھ پھیلایا
روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکی ہتھیلی چوم لی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ تک لے آیا اسے بیڈ پر بیٹھا کر اسکا گفٹ لینے ڈریسنگ روم میں چلا گیا
یہ لو تمھارا ویڈینگ اینورسری اور برتھ ڈے کا گفٹ روحان نے دو گفٹ
اسکی طرف بڑھائے
تھینکس ۔۔۔۔ حورم نے اسکے ہاتھ سے گفٹ لیے اور کھولنے شروع کیے
ایک میں سے اسکا فیورٹ پرفیوم اور دوسرے میں بے بی پنک کلر کا ڈریس
جس پر وائٹ کلر کا کام تھا نکلا
بہت پیارے ہیں دونوں ۔۔۔۔ حورم خوشی سے بولی
اور میرا گفٹ ۔۔۔۔۔ روحان مسکراتے ہوئے بولا
ابھی آئی حورم اس سے کہتی ہوئی روحان کے دیئے ہوئے گفٹ اٹھائے
ڈریسنگ روم میں چل گئی
کچھ دیر کے بعد وہ روم میں آئی تو اس نے ٹی پنک کلر کی چولی پہنی ہوئی
تھی اور ڈوپٹے سے خود کو کور کیا ہوا تھا کیونکہ چولی بہت چھوٹی تھی اور سلیو
لیس بھی تھی حورم کو شرم تو بہت آ رہی تھی اس حالت میں روحان
کے سامنے جاتے ہوئے پر اسے اسکی خواہش بھی تو پوری کرنی تھی
روحان مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا
یہ لو تمھارے دونوں گفٹ ۔۔۔۔۔ حورم نے اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے گفٹ
اسکی طرف بڑھائے
روحان نے گفٹ کھولے تو ایک میں سے سیم پرفیوم اور بے بی پنک کلر کی شرٹ اور وائٹ نیرو پینٹ نکلی ۔۔۔۔ بہت اچھی ہے دونوں چیزیں
روحان مسکراتے ہوئے بولا
اور تھینکس ہنی میری بات ماننے کے لیے ۔۔۔۔۔۔روحان لو دیتے لہجے میں بولا
حورم نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا حالانکہ وہ اسکا اشارہ سمجھ گئی تھی کہ وہ اسکے چولی پہننے پر اسکا تھینکس کہہ رہا ہے
روحان نے اسکے بالوں کو کو کھول دیا جو کہ جوڑے میں مقید تھے
روحان نے گانا پلے کیا اپنے موبائیل پے
ڈانس کرو گی ہنی میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ روحان نے اپنا ہاتھ اسکے سامنے پھیلایا حورم نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیا
روحان نے اسکا ڈوپٹا اتار کر بیڈ پر رکھ دیا حورم کو ٹوٹ کر اس سے شرم آئی
اس نے اپنا چہرہ جھکا لیا اور روحان کا دل آج پہلی دفعہ اسکا ہوش ربا حسن دیکھ بے ایمان ہو رہا تھا اور اوپر سے حورم کا بلش کرنا اسکا شرمانا
اس نےروحان کے ہوش اڑا دیئے تھے
روحان خود کو روک نا پایا اور ایک پیار بھری گستاخی کر بیٹھا
روحان نے اسکی طرف دیکھا جو سرخ چہرہ لیے اپنی سانس بحال کر رہی تھی
روحان نے اسکا ایک ہاتھ اپنے کندھے پر رکھا اور اسکا دوسرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنا دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر رکھ کر اسے اپنے قریب کیا
اور ڈانس کرنے لگا
حورم نے آنکھ اٹھا کر اسکی طرف نہیں دیکھا اسے آج اسکی طرف دیکھنا دنیا کا مشکل ترین کام لگ رہا تھا
ہنی میرے طرف دیکھو ۔۔۔۔ روحان کے کہنے پر حورم نے بڑی مشکل سے
اسکی طرف دیکھا جو آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کیے اسے ہی
دیکھ رہا تھا حورم زیادہ دیر اسکی آنکھوں میں نا دیکھ سکی اور اپنی پلکوں کی باڑ
پھر سے گرا لی
روحان نے اسے گھمایا اور اپنے طرف کھینچا وہ کٹی پتنگ کی طرح اسکے سینے سے آ لگی روحان نے زور سے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا
ہنی کیا میں آج اپنا وہ حق استعمال کر سکتا ہوں ۔۔۔۔ روحان نے کافی دیر کے بعد اسے خود سے الگ کیا اور اسکا جھکا ہوا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اونچا کیا
حورم نے ہاں میں سر ہلایا
روحان اسے اپنی بانہوں میں بھرے بیڈ تک لیے آیا اسے لیٹا کر روحان نے ساری کینڈلز بجھا دیں
آج ان کے ملن کی رات تھی جس پر آج کی رات اور چاند بھی خوش.
جاری ہے
