Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40

حورم بیٹا آج ابھی تک سو رہی ہو خیر تو ہے نا ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم نے اس سے
استفسار کیا
جی ماما ٹھیک ہوں آج ویسے ہی دل کر رہا ہے کچھ دیر اور لیٹنے کو اور میرے سر میں درد بھی ہو رہا ہے حورم نے بیڈ کراون سے ٹیک لگاتے ہوئے
ان کو جواب دیا
میڈیسن کھا لو بیٹا پھر لیکن اس سے پہلے کچھ کھا لو پھر میڈیسن کھانا
وہ پریشانی سے بولیں
نہیں ماما میڈیسن کی ضرورت نہیں ہے کچھ دیر سو جاو گی تو ٹھیک ہو جائے
گا سر درد بھی ۔۔۔۔ اس نے ان کی بات کو رد کر دیا
ٹھیک ہے تم آرام کرو پھر ۔۔۔۔۔ وہ اس سے کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں
فاطمہ بیگم اسکو بتاتے بتاتے چپ ہو گئیں
پھر کیا ہوا آنٹی روحان بے چینی سے بولا اسکا دل کر رہا تھا کہ اڑ کر حورم
کے پاس پہنچ جائے
دوبارہ میں اسکے روم میں گئی تو وہ سو رہی تھی اس لئے میں نے اسکو
ڈسڑب نہیں کیا اور اسکے روم سے آ گئی
لیکن دوپہر کے بارہ بجے بھی وہ نا اٹھی تو میں پھر اسکے روم میں گئی
اور میں نے اسے بخار میں تپتا ہوا بے ہوش حالت میں پایا
ڈاکڑ نے چیک اپ کے بعد بتایا کہ وہ کسی ٹینشن میں ہے جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئی ہے اور ڈاکڑ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اگر اسکو ہر طرح کی ٹینشن سے دور نا رکھا گیا تو اسکو نروس بریک ڈاون بھی ہو سکتا
ہے
اب تم بتاو کہ اسے کون سی ٹینشن ہے اور اب مجھ سے یہ نا کہنا کہ تمھیں
نہیں پتا کہ تمھیں نہیں پتا کہ اسے کون سے ٹینشن ہے کیونکہ میں جانتی ہوں کہ تم دونوں کے درمیان ہی کوئی بات ہوئی ہے
جس کی اس نے ٹینشن لی ہے اب سب سچ سچ بتا دو مجھے کیا بات ہے
فاطمہ بیگم نے اسے ساری بات بتانے کے بعد اس سے پوچھا
میں اس سے ناراض ہوں ۔۔۔۔۔ روحان نے ان کی طرف دیکھا جو کہ پہلے
ہی اسکو دیکھ رہی تھیں
کیوں ۔۔۔۔۔ انہوں نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
کیونکہ وہ مجھ سے جو مانگ رہی ہے وہ میرے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔۔
روحان ان سے گویا ہوا
روحان صاف بتاو بتاو کیا بات ہوئی ہے کیوں مجھے پریشان کر رہے ہو
وہ چاہتی ہے کہ میں دوسری شادی کر لوں
روحان نے ان کے سر پے بم پھوڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاہتی ہے کہ میں دوسری شادی کر لوں
روحان نے ان کے سر پے بم پھوڑا
کیا ۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔وہ ایسا کیوں چاہتی ہے وہ شاک کی کیفیت میں بولیں
بچوں کی وجہ سے وہ چاہتی ہے کہ میں دوسری شادی کر لوں
کیوں کیا مطلب حورم کیا ماں بن نہیں بن سکتی کیا جو وہ تمھیں دوسری شادی کا بول رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ دکھ سے بولیں کہ شاید ان کی بیٹی کو اللہ نے اس نعمت سے محروم رکھا ہے
نہیں ایسی بات نہیں ہے ہنی ماں بن سکتی ہے ۔۔۔۔۔ روحان بولا
پھر وہ ایسا کیوں چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے حیرانگی سے دریافت کیا
روحان اٹھ کر ان کے پاس بیٹھ گیا اور ان کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے
کیونکہ جو بات وہ ان کو بتانے والا تھا وہ ان کے لیے تکلیف کا باعث تھی
کیونکہ میرے اور اسکے درمیان آج تک میاں بیوی والا تعلق قائم نہیں ہو سکا
نا ہنی نے مجھے وہ حق دیا اور ناہی میں نے کبھی اس سے اپنا وہ حق مانگا
کیونکہ اس نے شادی سے پہلے ہی مجھ سے یہ بات کی تھی کہ وہ میرا یہ حق ادا نہیں کر پائے گی اور مجھے بھی اس بات سے کوئی اعتراض نہیں
جس میں اسکی خوشی ہے میں بھی اس میں خوش ہوں
لیکن کچھ عرصہ پہلے ماما اور ہادیہ نے ہنی سے پوچھا تھا کہ وہ کب ہمیں پھوپھو اور دادی بنا رہی ہے تب سے وہ کئی بار مجھ سے میری دوسری شادی
کرنے کا بول رہی ہے پر اس بار میں نے بھی سوچ لیا ہے کہ
یا تو اسے اسکی ضد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دوں گا یا اپنی جان دے دوں
گا پر دوسری شادی نہیں کروں گا
میں جانتا ہوں جو حورم کے ساتھ بچپن میں ہوا تھا اس میں اسکا کوئی قصور
نہیں تھا اور نا ہی مجھے اس بات سے کوئی مسلہ ہے مجھے تو بس اسکا ساتھ چاہیئے ساری عمر کے لیے
چاہے مجھے وہ میرا حق دے نا دے
ہمارے بچے ہو نا ہو مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا
پر اب جو وہ
مجھ سے ضد کر رہی ہے وہ سراسر غلط ہے
روحان نے ان کو ساری بات بتائی جو رو رہی تھیں
روحان کے لہجے سے اسکا دکھ عیاں ہو رہا تھا
تم جانتے ہو حورم کے ساتھ جو ہوا تھا انہوں نے روحان اپنے ہاتھ روحان کے ہاتھوں سے چھوڑوائے اور اپنے آنسو صاف کیے
ہاں انکل نے مجھے اور پاپا کو تب ہی بتا دیا تھا جب میرا بچپن میں حورم سے
نکاح ہوا تھا اور ہمارے نکاح میری مرضی سے ہوا تھا مجھے اس واقعے سے کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے تو بس اپنی ہنی چاہیئے ہے اور کچھ نہیں
روحان کے لہجے سے حورم کے لیے پیار جھلک رہا تھا
فاطمہ بیگم نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھیں جو ان کی بیٹی کو اپنی جان سے بھی چاہتا تھا انہوں نے اپنے اللہ کا شکر ادا کیا
کہ اللہ نے حورم کو اتنا اچھا پیار کرنے والا شوہر دیا
وہ تو ہے ہی پاگل ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم بولیں
ہاں جانتا ہوں اس لیے اسکو ٹھیک کرنے کے لیے میں نے اس بار اس سے کہہ دیا ہے میں دوسری شادی کرنے کے لیے تیار ہوں
اسی لیے آج کل میں مشعل کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہا ہوں تاکہ ہنی مجھے
اسکے ساتھ دیکھے اور تڑپے اور جیلس ہو اور نا میں اس سے بات کر رہا
ہوں
میرا یہ پلین کام کرے گا دیکھ لیجئے گا آپ اور اب آپ نے بھی ہنی کے سامنے یہ شو نہیں کرنا کہ آپ کو سب پتا ہے
آپ بس ہماری ویڈئینگ اینورسری کی پارٹی کی تیاری کریں جو کہ پرسوں ہے میں نے ہوٹل بھی بک کروا لیا ہے سب کو اینوائیٹ بھی کر لیا ہے
اور سب سے میں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ کوئی بھی ہنی سے پارٹی کے بارے میں بات نا کرے کیونکہ پارٹی ہنی کے لیے سرپراز ہے
کیسا ہے پھر میرا پلین ۔۔۔۔۔۔ روحان پر جوش اور خوشی سے بھر پور لہجے
میں ان سے مخاطب ہوا
بہت اچھا ہے پیلن تمھارا ویسے تم دونوں ایک جسے ہی ہو جھلے
وہ مسکراتی ہوئی بولیں
اچھا اب آپ دیکھیں ہنی جاگ رہی ہے یا سو گئی ہے اگر سو گئی ہے تو میں تب ہی جاؤں گا اس کے روم میں کیونکہ اگر میں نے خود کو اس کے سامنے
تھوڑا سا بھی نرم شو کیا تو میرا پلین کامیاب نہیں ہو گا
وہ بے چینی سے بولا
اچھا جاتی ہوں ۔۔۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئیں حورم کے روم میں چلی گئیں
وہ سو رہی ہے اس نے نیند کی گولی کھائی ہے اب صبح ہی اٹھے گی اس لیے اسے پتا نہیں چلے گا تم جاو اس کے روم میں ۔۔۔۔۔
حورم کے کمرے سے آنے کے بعد فاطمہ بیگم نے روحان کو آگاہ کیا
آنٹی آج رات میں ہنی کے پاس ہی رہوں گا اور اس کے جاگنے سے پہلے ہی چلا جاوں گا پلیز آپ دھیان رکھے گا کہ اسے پتا نا چلے کہ میں رات اس
کے ساتھ ہی رہا ہوں روحان ان سے بولا
اچھا ایسا ہی ہو گا ۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولیں
وہ مسکراتا ہوا حورم کے روم کی طرف چل دیا
روحان کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ لوک کرتے ہوئے بیڈ پر آ کر اس کے پاس بیٹھ گیا
حورم کمبل اوڑھے سو رہی تھی اسکا چہرہ کمبل سے باہر تھا
روحان نے اسکا ہاتھ کمبل سے نکالا اور اسکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسکے ہاتھ کو چوما
میری ہنی ۔۔۔۔۔ روحان نے اسکے گال پر موجود تل کو چھوا جس سے وہ ہلکا سا کسمسائی
حورم کو ابھی بھی ہلکا ہلکا بخار تھا
پتا ہے تم کو کتنا مس کر رہا ہوں میں ۔۔۔۔ روحان نے اسکے ناک میں نوز پن کو چھوا
روحان اسکے پاس ہی لیٹ گیا اور اس پر موجود کمبل اپنے اوپر بھی اوڑھ لیا
پھر وہ دیوانوں کی طرح اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چومنے لگا
حورم نے اسکے پیار کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے نیند میں ہی ہلکی سی آنکھیں کھولیں لیکن اسے کچھ سمجھ نا آئی کیونکہ وہ نیند کی گولی کے زیر اثر تھی پھر وہ دوبارہ سے سو گئی
پھر روحان نے اسے زور سے خود میں بھینچ لیا روحان کی آنکھوں سے کب آنسو رواں ہوئے اسے خبر ہی نا ہو سکی
حورم نیند میں ہی زور سے اسکی شرٹ پکڑ لی
کچھ دیر کے بعد روحان نے اپنی گرفت اسے کے گرد ڈھیلی کر دی پر اسے اپنی گرفت سے آزاد نہیں کیا
کب نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوئی اسے پتا ہی نہیں چلا وہ آج تین راتوں کے بعد سویا تھا
صبح فجر کی اذان کے وقت ہی روحان کی آنکھ کھل گئی
اس نے حورم کو خود سے الگ کرنا چاہا تو حورم نے نیند میں ہی اسکی شرٹ جو کہ اسکے ہاتھ میں تھی
اس پر اپنی گرفت اور مضبوط کر لی اور نفی میں
سر ہلانے لگی
روحان نے بڑی مشکل سے اپنی شرٹ کو اسکی گرفت سے آزاد کروایا
اور بیڈ سے اٹھ گیا
روحان کا دل اسے مجبور کر رہا تھا کہ وہ نا جائے پر اسے اپنے پلین کو پایا تقمیل تک پہچانے کے لئے ایسا کرنا پڑا
اور اسکی پیشانی چومتا ہوا اپنے گھر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ حانی ساری رات میرے ساتھ رہا ہے
میں نے سوتے ہوئے اسکا لمس محسوس کیا تھا ۔۔۔۔۔
صبح اٹھتے ہی حورم نے سوچا
بس بہت ہو گیا ہے اب میں اور حانی کے بغیر نہیں رہ سکتی میں ابھی جاتی ہوں اسکے پاس اور اس سے معافی مانگ لوں گی اسے منا لوں گی مجھے پتا ہے میرا حانی مجھے معاف کر دے گا
حورم خود سے عہد کرتی ہوئی اٹھی اور واشروم میں چلی گئی
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔ حورم نے سب کو سلام کیا
آیان ،شایان ، فاطمہ بیگم اور علی صاحب ناشتا کر رہے تھے جب حورم ان
کے پاس آئی
وعلیکم اسلام ۔۔۔۔۔ کیسی ہے میری بیٹی اب علی صاحب نے اسکی طبیعت دریافت کی
ٹھیک ہوں پاپا حورم مسکراتے ہوئے بولی وہ اس وقت خوش تھی کیونکہ کہ وہ روحان کے پاس جانے والی تھی
فاطمہ بیگم اسے خوش دیکھ اللہ کا شکر ادا کر رہی تھیں
جیسے ہی سب کو پتا چلا کہ حورم بیمار ہے سب حورم کی طبیعت کا پوچھنے اور اس سے ملنے اسکے پاپا کے گھر موجود تھے
سب نے اسکی طبیعت دریافت کی وہ سب کو مسکرا مسکرا کے جواب دے رہی تھی کہ وہ اب بلکل ٹھیک ہے بس بخار ہی ہوا تھا
سب اس سے مل کر اپنے اپنے کام پر روانہ ہو گئے
ماما میں گھر جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔ حورم فاطمہ بیگم سے بولی
ٹھیک ہے بیٹا جاو خوش رہو ۔۔۔۔ فاطمہ بیگم نے اسے گلے لگاتے ہوئے دعا
دی
وہ مسکراتی ہوئی روحان کے گھر آ گئی
جیسے ہی وہ اپنے اور روحان کے روم میں داخل ہوئی مشعل کو وہاں دیکھ اسکا
غصہ سوا نیزے پر آ گیا
وہ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی اور روحان بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا وہ دونوں باتیں کر رہے تھے اسکو دیکھ کر خاموش ہو گئے
اے تم بے حیا چھپکلی تم میرے روم میں کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔۔ حورم بنا روحان کی طرف دیکھے اور بنا اسکی پروا کیے مشعل کے پاس جا کر
غصے سے بولی
یہ تمھارا کمرہ نہیں روحان کا ہے سمجھی تم ۔۔۔۔۔ مشعل صوفے سے اٹھتے
ہوئے غصے سے بولی اور حورم کے مقابل کھڑی ہو گئی
یہ کمرہ روحان کا ہوا کرتا تھا اب یہ میرا کمرا ہے اور اس کمرے میں تم میری اجازت کے بغیر پیر نہیں رکھ سکتی اس لئے اچھا ہوگا کہ چلی جاو یہاں
سے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا
حورم نے اسے دھمکایا
نہیں جاؤں گی کیا کر لو گی تم مشعل اس کے سامنے تن کے کھڑی ہو
گئی
روحان حورم کو مشعل سے لڑتا دیکھ دل میں بہت خوش ہو رہا تھا لیکن باہر سے وہ اپنی خوشی کو شو نہیں ہونے دے رہا تھا
وہ چپ کر کے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا
حورم نے کھینچ کر تھپڑ اسکے منہ پر مارا جس سے وہ صوفے پر گر گئی اور اسکا ہونٹ پھٹ گیا اور اس سے خون نکلنے لگا
مشعل اپنے منہ پر ہاتھ رکھے غصے سے حورم کو گھور رہی تھی
اب پتا چلا میں کیا کر سکتی ہوں ۔۔۔۔۔ حورم کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھتے ہوئے غصے سے بولی
مشعل نے حورم کے تھپڑ مارنا چاہا پر حورم نے اسکا ہاتھ راستے میں ہی پکڑ
لیا
نا نا ۔۔۔۔ مجھ پر ہاتھ اٹھانے کا سوچنا بھی مت ورنہ میں تمھارا وہ حال کروں گی کہ تم خود کو ہی نہیں پہچان پاو گی اور ہاں اب مجھے تم حانی کے آس
پاس بھٹکتی ہوئی نظر نا آو
بہت دنوں سے میں تمھیں برداشت کر رہی ہوں اور نہیں کروں گی اگر تم نے ایسا کیا
تا اپنے انجام کی ذمہ دار تم خود ہی
ہو گی
حورم نے اسکا ہاتھ مڑوتے ہوئے اسکو دھمکی دی
مشعل روتے ہوئے اپنا چھوڑوانے کی کوشش کر رہی تھی
چلو جاو اب اور ہاں ہادیہ سے پوچھ لینا میں کیا چیز ہوں وہ تمھیں تفصیل سے
بتائے گی میرے بارے میں آئی ہوپ میرے بارے میں جاننے کے بعد تم باز آ جاو گی
اور اگر نا بھی آئی
تو مجھے اسکا بھی حل آتا ہے میں نے تو بڑے بڑے سیدھے کر دیئے
تم تو پھر ایک نازک سی لڑکی ہو اور ایک اور بات آج سے تم مجھے اس طرح
کی ڈریسنگ میں بھی نظر نا آوں
حورم نے اسکی سلیو لیس شرٹ کی طرف اشارہ کیا
حورم کا غصہ اور رعب مشعل پر کام کر گیا وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی
وہاں سے چلی گئی
اسکے جانے کے بعد حورم روحان کی طرف مڑی
حانی ۔۔۔۔۔ حورم نے پیار سے اسے پکارا
روحان کا دل کر رہا تھا کہ بولے کہ ہاں میری جان بولو
پر اس نے کچھ نا کہا اور روم سے جانے لگا لیکن حورم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر
اسے روک لیا
کیا ہے ۔۔۔۔۔ روحان بے رخی سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھڑواتے ہوئے
بولا
مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔ حورم کو اسکے ہاتھ جھٹکنے پر دکھ تو ہوا تھا
پر غلطی بھی تو اسکی ہی تھی اس لیے وہ دوبارہ روحان سے مخاطب ہوئی
پر مجھے تم سے بات نہیں کرنی ہے ۔۔۔۔۔ روحان کہتا ہوا روم سے جانے
لگا لیکن حورم اسکے آگے آ کر کھڑی ہو گئی
روحان نے غصے سے اسکی طرف دیکھا حلانکہ اسکے دل اس وقت خوشی سے ناچنے کو کر رہا تھا
کیونکہ اسکی ہنی جو واپس آ گئی تھی
سوری مجھے تم سے دوسری شادی کی بات نہیں کہنی چاہیئے تھی میں غلط
تھی پلیز معاف کر دو نا ۔۔۔۔۔ حورم نے اسکی منت کی اور اس سے
معافی مانگی
اب کیوں معافی مانگ رہی اور اب بچے نہیں چاہیں کیا ۔۔۔۔ روحان نے
غصے سے اس سے پوچھا
بچے چاہیں ہیں میں نے کون سا ایسی بات کہی ہے کہ مجھے بچے نہیں چاہیں ۔۔۔۔۔ حورم بولی
لیکن مجھے نہیں چاہیں کوئی بھی بچے وچے ۔۔۔۔ روحان غصے سے کہتے ہوئے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا
ہم دونوں کے بھی نہیں ۔۔۔۔۔ حورم بولی تو روحان ایک جھٹکے سے اسکی طرف مڑا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *