Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39

ہائے اللہ چڑیلوں چھوڑو مجھے مارنا ہے کیا آج مجھے تم تینوں نے ۔۔۔۔۔
حورم نے ان تینوں کو آنکھوں میں شرارت لیے خود سے دور کیا
حورم ۔۔۔۔۔ عائزہ منہ بناتی ہوئی منہ موڑ گئی
باقی دونوں نے بھی منہ بنا لیا
اچھا اپنا اپنا موڈ ٹھیک کرو میرے ساتھ یہ ڈرامے نا کرو ۔۔۔۔۔۔ حورم مسکراتے ہوئے ان تینوں سے گویا ہوئی
حورم تم بھی نا آج اتنے دنوں بعد ملی ہو اور اوپر سے ہمیں چڑیل کہہ رہی
ہو اٹس ناٹ فیئر ۔۔۔۔۔ مشال نے احتجاج کیا
اچھا سوری ۔۔۔۔۔ تم لوگ بتاو کیسی ہو ۔۔۔۔ حورم نے مسکراتے ہوئے
ان سے ان کا حال چال پوچھا
ہم ٹھیک ٹھاک ہیں ۔۔۔۔۔ جواب دعا کی طرف سے آیا
بس کرو تم تینوں مجھے بھی اپنی بہن سے ملنے دو ۔۔۔۔۔ نور ان سب کے
پاس آتے ہوئے بولی
ان تینوں نے حورم کو سڑھیوں سے اترتے ہی گھیر لیا تھا
کیسی ہو نور اور تمھارا بے بی کیسا ہے ۔۔۔۔ حورم اسے دیکھ کر مسکرائی
میں ٹھیک ہوں اور میرا بے بی بھی ٹھیک ہے تم کیسی ہو ۔۔۔۔۔ نور کہتے ہوئے اسکے گلے لگ گئی
میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔۔
اچھا اب میں سب سے مل لوں ۔۔۔۔۔ حورم ان چاروں کے ساتھ سب
کے پاس آ گئی
حورم باری باری سے ملی اور ان سب کو سلام کیا
سب گرم جوشی سے اس سے ملے
اتنے میں علی صاحب بھی آفس سے آگئے حورم بھاگتی ہوئی ان کے پاس
گئی اور گرم جوشی سے ان کے گلے لگ گئی
اسلام علیکم پاپا کیسے ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔ حورم ان سے الگ ہوتے ہوئی بولی
وعلیکم اسلام میں ٹھیک ہوں بیٹا تم کیسی ہو ۔۔۔۔۔ وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں پیار سموئے اس سے مخاطب ہوئے
میں بھی ٹھیک ہوں پاپا پر آپ آج اتنا لیٹ کیوں آئے ہیں ۔۔۔۔۔ حورم منہ بناتی ہوئی بولی
بیٹا میٹنگ تھی اس لئے دیر ہوگئی ۔۔۔۔ انہوں نے اسکی پیشانی چومی
چلیں معاف کیا آپ کو ۔۔۔۔۔ حورم مسکراتے ہوئے ایک ادا سے بولی
بہت بہت شکریہ بیٹا ۔۔۔۔۔ وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولے
وہ دونوں ہنستے ہوئے سب کے پاس آ گئے
مشعل بیزاری سے سب کو حورم پر پیار لٹاتا دیکھ رہی تھی اور اس سے جیلس بھی ہو رہی تھی کہ سب اس سے اتنی محبت کرتے ہیں
وہ روحان کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی
سب سے ملنے کے دوران حورم نے آنکھ اٹھا کر بھی روحان کی طرف نہیں دیکھا اگر وہ اسکی طرف دیکھ لیتی تو پھر سب کے سامنے خود کو اتنا خوش ظاہر نا کر پاتی
سب سے ملنے کے بعد وہ ہادیہ ، ہانیہ ، دعا ، مشال ، نور ، عائزہ اور زویا
کے ساتھ ایک سائیڈ پر بیٹھ گئی اور ان سے باتیں کرنے لگی
اسے دیکھ کر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس کے اس ہنستے ہوئے چہرے کے پیچھے کتنا دکھ اور درد چھپا ہوا ہے
روحان کی نظریں بار بار اس کی طرف اٹھ رہی تھیں وہ خود کو اسے دیکھنے سے
روک نہیں پا رہا تھا
اچھا دعا ، مشال اور عائزہ میرے ساتھ آو اور مل کر کھانا لگاتے ہیں ٹیبل پر
حورم ان تینوں کو ساتھ لے کر کچن میں چلی گئی
ڈنر ریڈی ہے سب آ جائیں ڈنر کے لیے ٹیبل پر ۔۔۔۔۔ دعا لوگوں کے ساتھ
ٹیبل پر کھانا لگانے کے بعد اس نے سب کو ڈائینگ ٹیبل پر آنے کو بولا
کھانا بہت اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔ فیضان صاحب نے تعر یف کی
بھائی صاحب کھانا حورم نے بنایا ہے ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم آنکھوں اور لہجے میں
پیار سموئے حورم کو دیکھتے ہوئے بولیں
بہت مزے کا کھانا ہے گڑیا ۔۔۔۔۔ زاوی نے بھی حورم کی اچھا کھانا بنانے پر اس کی تعر یف کی
تھینکس بھائی ۔۔۔۔۔ حورم نے مسکراتے ہوئے اسکا شکریہ ادا کیا
سب نے اسکی تعر یف کی سوائے روحان اور مشعل کے روحان اس سے ناراض تھا اس لئے اس نے اس سے کوئی بات نا کی جبکہ دوسری طرف
مشعل بری طرف حورم سے جل رہی تھی کہ وہ سب کی آنکھوں کا تارا
ہے اور ہر فن مولا بھی ہے
کھانا کھانے کے بعد سب لوگ رات گئے تک ان کی طرف رہے اور ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے
حورم ، روحان نے ایک دوسرے سے ایک بھی بات نہیں کی
مشعل سارا وقت روحان کے ساتھ ہی بیٹھی رہی اور دل میں خوش بھی ہو رہی تھی کہ
روحان اور حورم آپس میں بات نہیں کر رہے اور اسے اندازہ ہو گیا
تھا کہ روحان حورم سے ناراض ہے اور اسے اسی ناراضگی کا فائدہ اٹھانا تھا
اور ان دونوں کو الگ کرنا تھا
پھر سب اپنے اپنے گھر چلے گئے اور حورم اپنے ماما پاپا کے گھر ہی رک گئی
____________________
ہنی تم بہت ظالم ہو مجھے نہیں پتا تھا کہ تم ایسا بھی کرو گی میرے ساتھ
میں دوسری شادی کبھی نہیں کروں گا تمھاری ضد تو میں نے صرف تمھیں
راہ راست پر لانے کے لیے مانی ہے کہ تم خود ہی ہٹ جاو اپنی ضد سے
میں نے اسی لئے مشعل کے ساتھ آج کا سارا دن گزارا ہے کہ تم جیلس ہو اسے میرے ساتھ دیکھ کر ورنہ مجھے تو وہ ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی
اور جبکہ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ وہ اب بھی میرے پیچھے ہی آئی ہے وہ ہم دونوں کو الگ کرنا چاہتی تھی اس کے لہجے سے تمھارے لئے اسکی
نفرت صاف پتا چلتی ہے
جب وہ تمھارے خلاف وہ میرے سامنے کچھ بولتی ہے تو میرا دل کرتا ہے
اسکا منہ ہی توڑ دوں پر مجھے اپنے پلین کو پایا تقمیل تک پہچانے کے لئے
ابھی اسکی ضرورت ہے
””’ وہ خود آئیں گے میرے راستے میں ۔۔۔۔۔
میں زندگی کو ایسا موڑوں گا ۔۔۔۔۔ ”
روحان اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھا بہتی آنکھوں کے ساتھ اسکی تصویر سے
مخاطب تھا
روحان نے اسکی تصویر پر اپنے لب رکھ دیئے
دوسری طرف حورم کی روتے روتے ہچکیاں بند گئی تھیں وہ روحان کی تصویر
سینے لگائے رو رہی تھی
کیسی سزا ہے جو میں نے خود ہی اپنے لئے منتخب کر لی ہے اللہ میاں مجھے
یا تو صبر عطا کر دیں یا پھر موت ۔۔۔۔۔
مجھ سے حانی کی دوری ان اور برداشت نہیں ہو رہی ایسا لگ رہا ہے جیسے
جسم سے جان قطرا قطرا کر کے نکل رہی ہے اللہ میاں میں بہت تکلیف
میں ہوں میری تکلیف ختم کر دیں پلیز۔۔۔۔۔
حورم کا سر درد سے پھٹ رہا تھا
حورم کو وہ وقت یاد آیا جب بھی حورم کے سر میں درد ہوا کرتا تھا روحان اسے
اپنے ہاتھوں سے دوائی کھلایا کرتا تھا اور اسکی پیشانی چوما کرتا تھا اسکا سر درد
منٹوں میں رفو چکر ہو جایا کرتا تھا
پر آج روحان نہیں تھا اس کے پاس ۔۔۔۔
”” اسے کہو آئے اور چومے ماتھا ۔۔۔۔۔
ایسے تو میرا درد سر نہیں جاتا ۔۔۔۔۔ ”
یہ رات بھی ان دونوں جاگتے ہوئے ہی گزاری تھی
۞۞۞۞۞۞
حورم ۔۔۔۔۔ حورم ۔۔۔۔۔
فاطمہ بیگم تیسری بار اس کے کمرے میں آئی تھی اور اسے آوازیں دے رہی تھیں لیکن حورم کی طرف سے کوئی جواب نہیں آ رہا تھا
حورم ۔۔۔۔۔ انہوں نے پریشانی سے حورم کے چہرے سے کمبل ہٹایا اور
اسکا ماتھا چھوا تو وہ بخار سے تپ رہی تھی
حورم ۔۔۔۔۔ آنکھیں کھولو انہوں نے اسکا چہرو تھپتھپایا لیکن اس نے آنکھیں
نا کھولیں وہ ہوش وخرد سے بیگانہ بے ہوش پڑی تھی
فاطمہ بیگم نے فورا ڈاکڑ کو فون کیا اور علی صاحب ، آیان اور شایان کو بھی
حورم کے بارے میں بتایا
ڈاکڑ نے اسکا چیک اپ کیا
آیان ، شایان ، فاطمہ بیگم اور علی صاحب حورم کے کمرے میں موجود تھے
کیا ہوا ڈاکڑ صاحب علی صاحب نے پریشانی سے استفسار کیا
ان کو بہت تیز بخار ہے اس لئے بے ہوش ہو گئیں ہیں اوپر سے انہوں
نے کچھ کھایا بھی نہیں اور یہ اس وقت کسی ٹینشن میں مبتلا ہیں
ہو سکے تو ان کو ہر قسم سے ٹینشن سے دور رکھیں نہیں تو ان کو نروس بریک
بھی ہوسکتا ہے
میں نے میڈیسن لکھ دی ہے اور ان کو انجیکشن بھی لگا دیا ہے جس سے
یہ کچھ دیر تک ہوش میں آ جائیں گی
ان کو کچھ کھلا کہ میڈیسن دے دیجئے گا اور ہاں جو میڈیسن میں نے لکھ کر دی ہے اس میں نیند کی گولی بھی شامل ہے جس سے ان کو نیند آ جائے گی اس لئے پریشان نا ہوئے گا
ڈاکڑ ان کو ہدایت دیتا ہوا چلا گیا
فاطمہ بیگم نے ڈ رائیور سے میڈیسن مگوائی کچھ دیر کے بعد حورم ہوش میں آگئی
کیسی ہو بیٹا ۔۔۔۔۔ علی صاحب نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا
مجھے کیا ہوا ہے پاپا اور آپ سب میرے روم میں کیوں ہیں اور اتنے پریشان کیوں ہیں حورم نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی لیکن کمزوری کی وجہ سے
اس سے اٹھا نہیں گیا
لیٹی رہو بیٹا اٹھنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم اسکو اٹھتا دیکھ کر
بولیں
تمھیں بخار تھا اور بے ہوش ہو گئی تھی ۔۔۔۔ شایان نے اسے بتایا
حورم نے سر ہلایا
کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی حورم جلدی سے ٹھیک ہو جاو پھر تم نے
مجرموں کو پھینٹی بھی لگانی ہے وہ بچارے بھی تمھارا انتظار کر رہیں ہوں
گے مار کھانے کے لئے ۔۔۔۔۔۔ آیان مسکراتے ہوئے بولا
اسکی بات پر حورم سمیت سب مسکرا دیئے
فاطمہ بیگم نے اسے سوپ پلا کر اسے میڈیسن کھلا دی جس سے وہ دوبارہ سو گئی
چلو ہم لوگ باہر چلتے ہیں حورم کو آرام کرنے دو ۔۔۔۔ علی صاحب آیان اور شایان کو ساتھ لیے اسکے روم سے چلے گئے
پتا نہیں کیا ہو گیا ہے میری بیٹی کو ۔۔۔۔ انہوں نے روتے ہوئے حورم کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے سوچا
کہیں روحان اور اسکی لڑائی تو نہیں ہوگئی میں روحان سے بات کرتی ہوں
انہوں نے اپنے کمرے میں آ کر اسکا نمبر ملایا اور اسے گھر آنے کا بولا
حورم اٹھی کہ نہیں ابھی ۔۔۔۔۔ علی صاحب نے فاطمہ بیگم سے دریافت
کیا
آیان ، شایان ، فاطمہ بیگم اور علی صاحب اس وقت ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے
ڈنر کر رہے تھے
نہیں میں دیکھ کر آئی ہوں وہ ابھی نہیں اٹھی ۔۔۔۔۔ انہوں نے جواب
دیا
اچھا ۔۔۔۔ علی صاحب بولے
کھانا کھانے کے بعد وہ سب حورم کے کمرے میں موجود تھے
حورم جاگ رہی تھی
کیسی ہے اب میری بیٹی علی صاحب نے اسے اپنے ساتھ لگایا اور اسکا ماتھا
چھو کر اسکا بخار چک کیا
اسے ابھی بھی بخار تھا لیکن پہلے سے کم تھا
ٹھیک ہوں پاپا آپ فکر نا کریں ۔۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے ان کو تسلی دلائی
اوکے بیٹا ہمیشہ خوش رہو ۔۔۔۔۔ انہوں نے اسے دعا دی
فاطمہ بیگم اسکے لیے کھانا لینے چلی گئیں اور وہ آیان ، شایان اور علی صاحب
سے باتیں کرنے لگی
چلو اب کھانا کھاو پھر تم میڈیسن بھی لینی ہے فاطمہ بیگم نے کھانا اس کے سامنے رکھا
ماما کھانا کھانے کو دل نہیں کر رہا ہے اور میں نے نہیں کھانی کڑوی میڈیسن حورم نے مظلوم سا منہ بنایا
چپ کر کے کھاو ۔۔۔۔ فاطمہ بیگم نے اسے مصنوئی غصے سے گھورا
حورم برے برے منہ بناتی ہوئی کھانا کھانے لگی اور بڑی مشکل سے اس نے میڈیسن کھائی
سب اسکے چہرے کے بدلتے زاویوں کو دیکھ دیکھ کر مسکرا رہے تھے
چلو اب تم آرام کرو ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم اس سے کہتی ہوئیں سب کے ساتھ
اس کے روم سے چلی گئیں
حورم کے روم سے نکلنے کے بعد سب اپنے اپنے روم میں چلے گئے سوائے
فاطمہ بیگم کے جو ڈرائینگ روم میں بیٹھی روحان کا انتظار کر رہی تھیں
اسلام علیکم آنٹی۔۔۔۔۔۔ روحان نے حورم کے گھر آتے ہی فاطمہ بیگم کو
ڈرائینگ روم میں بیٹھا دیکھ ان کو سلام کیا
وعلیکم اسلام بیٹا کیسے ہو ۔۔۔۔۔ انہوں اسکے سلام کا جواب دیا
میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں خیریت آپ نے مجھے بلایا تھا روحان نے ان سے استفسار کیا
بیٹھو پھر بتاتی ہوں انہوں نے اسے بیٹھنے کا بولا
جی اب بتائیں کیا بات ہے روحان نے بیٹھتے ہی ان سے پریشانی سے پوچھا
کیوں کہ صبح سے اسکا دل بھی گھبرا رہا تھا
تمھارے اور حورم کے درمیان کوئی بات ہوئی ہے کیا ۔۔۔۔۔ انہوں نے اس سے پوچھنے کے بعد سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
کیا مطلب آنٹی ۔۔۔۔۔ روحان نے نا سمجھی سے ان کی طرف دیکھا
میرا مطلب ہے کہ کیا تم دونوں کی لڑائی ہوئی ہے جو حورم کا یہ حال ہو گیا
اور تم بھی اسکی کوئی خبر لینے نہیں آئے پہلے تو تم اسے کبھی بھی اکیلا
ہماری طرف نہیں آنے دیتے تھے ہمیشہ اسکے ساتھ آتے تھے
اس بار کیا ہو اہے ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے پریشان کن لہجے میں دریافت کیا
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔ اور حورم کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔
روحان کے لہجے سے پریشانی اور بے چینی جھلک رہی تھی
صبح کافی دیر تک حورم اپنے روم سے باہر نہیں آئی تو میں اس کے روم
میں گئی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *