Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37

فجر کی اذان ہوتے ہی ان دونوں نے اٹھ کر نماز ادا کی پر ایک دوسرے سے بات تو دور ایک دوسرے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھا
پھر وہ دونوں اپنے اوپر خوش نظر آنے کا خول چڑھا کر سب کے سامنے ناشتا کرنے کے لئے ڈائینگ ٹیبل پر موجود تھے
روحان بیٹا آج مشعل آرہی ہے شام کو اس لئے جلدی آ جانا تم نے اسے لینے جانا ہے ائیر پورٹ حرا بیگم نے اسے بتایا
اوکے ماما ٹھیک ہے جلدی آ جاؤں گا اب میں جا رہا ہوں آفس دیر ہو رہی
ہے
وہ ان سب سے اللہ حافظ کہتا ہوا گاڑی لے کر آفس چلا گیا
حورم بیٹا آپ بھی ہو سکے تو جلدی آ جانا حرا بیگم اس سے بولیں
اوکے آنٹی ٹرائے کروں گی جلدی آنے کی ۔۔۔۔ حورم بولی
ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔۔۔ انہوں نے جواب دیا
پھر وہ ان سب سے اللہ حافظ کہنے کے بعد اپنی گاڑی لے کر پولیس اسٹیشن
روانہ ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میم آج آپ لنچ کے لیے نہیں جائیں گی فضل حسین نے حورم سے پوچھا
نہیں آج نہیں جانا میں نے ۔۔۔۔۔ حورم بولی
اوکے میم ۔۔۔۔۔ وہ اسکے روم سے چلا گیا
پتا نہیں کمال بھائی آج میم کو کیا ہوا ہے صبح سے چپ چپ سی ہیں کسی پر غصہ نہیں کیا اور ابھی جب میں ان کے پاس گیا تھا تو وہ
کہیں کھوئی ہوئی تھیں وہ مجھے پریشان لگ رہی ہیں
فضل حسین نے حورم کے کمرے سے باہر آتے ہی کمال سے اپنے خیالات کا اظہار کیا
ہاں مجھے بھی ایسا لگا کہ وہ آج کچھ پریشان سی ہیں اللہ خیر کرے اور ان کو
ہر دکھ سے دور رکھے آمین ۔۔۔۔۔ کمال نے بھی اسکی بات سے اتفاق کیا
آمین۔۔۔۔۔ فضل حسین بولا
چلو اب اپنا کام کر لیں کمال کے کہنے پر وہ بھی اپنے کام کی طرف متوجہ
ہوگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو ایوری ون ۔۔۔۔ مشعل روحان کے ساتھ ڈ رائینگ روم میں داخل ہوتے
ہوئے سب سے بولی
ارے مشعل کیسی ہو تم ۔۔۔۔۔ حرا بیگم نے اسے گلے لگایا
میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں آنٹی ۔۔۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے ان
سے پوچھا
میں بھی ٹھیک ہوں تم بتاو سفر کیسا گزرا اور تمھارے ماما پاپا کیسے ہیں
حرا بیگم بولیں
ماما پاپا بھی ٹھیک ٹھاک تھے اور سفر بھی اچھا گزرا آنٹی
آپ کیسے ہیں انکل وہ فیضان صاحب کی طرف متوجہ ہوئی
میں ٹھیک ہوں بیٹا آپ کیسی ہو ۔۔۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں انکل ۔۔۔۔۔
ان سے ملنے کے بعد وہ ہادیہ کی طرف متوجہ ہوئی اور تم کیسی ہو ہادیہ
ہادیہ کو اپنی یہ کزن بلکل پسند نہیں تھی کیونکہ کہ مشعل بہت مغروری تھی اور ایسے کپڑے پہنتی تھی جس میں اسکا سارے خدوخال واضع ہوتے
تھے
اور سب سے بڑی بات جس کی وجہ سے ہادیہ اس سے چڑتی تھی وہ مشعل کا روحان کے آگے پیچھے گھومنا تھا وہ ہر وقت روحان سے
چمٹنے کی کوشش کرتی تھی
ہادیہ کو جب پتا چلا کہ روحان کی شادی مشعل سے نہیں ہو گی بلکہ حورم سے ہو گی تو اس نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ اس گمنڈی سے جان
چھوٹی
مشعل بھی لندن میں اپنے ماما پاپا کے ساتھ رہتی تھی
جی ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ہادیہ نے چہرے پر مصنوئی مسکراہٹ سجاتے ہوئے اسکو جواب دیا
اچھا اب تم بیٹھو میں تمھارے لئے کچھ لے کر آتی ہوں
نہیں نہیں آنٹی مجھے اس وقت کسی چیز کی ضرورت نہیں اب تو صرف ڈنر ہی کروں گی آپ سب کے ساتھ مشعل ان سے بولی
اوکے بیٹا میں ڈنر ریڈی کرتی ہوں پھر ۔۔۔۔ حرا بیگم اس سے کہتی ہوئیں کچن میں چلی گئیں اور فیضان صاحب کا فون آ گیا وہ ان سے
ایکسکوز کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے
اب وہاں صرف روحان ، ہادیہ اور مشعل ہی موجود تھے
روحان تمھاری بیوی نظر نہیں آرہی کدھر ہے وہ ۔۔۔۔ مشعل نے تنفر سے
حورم کا پوچھا
وہ پولیس اسٹیشن سے ابھی نہیں آئی اس لئے تمھیں نظر نہیں آ رہی
روحان بولا
وہ پولیس اسٹیشن میں کیوں ہے کیا اس نے کوئی جرم کر دیا ہے جو پولیس
اسے پکڑ کر لے گئی وہ تمسخرانہ انداز میں بولی
ہادیہ اور روحان کو اسکا یہ انداز بہت برا لگا اس سے پہلے کے روحان کچھ کہتا
ہادیہ بول پڑی
نہیں بھابھی نے کوئی جرم نہیں کیا وہ پولیس میں ایس پی ہیں اور اپنی ڈیوٹی سے ابھی واپس نہیں آئیں
واہ بھئی روحان تمھاری بیوی ایس پی ہے تم نے بتایا بھی نہیں
اس سے پہلے کہ روحان کوئی جواب دیتا حرا بیگم وہاں آگئیں
مشعل اگر بھوک لگی ہے تو کھانا لگا دوں ہم تو حورم کے آنے بعد ہی ڈنر
کریں گے حرا بیگم بولیں
نہیں آنٹی آپ سب کے ساتھ ہی کھاؤں گی وہ بولی
اوکے بیٹا جیسے تمھاری مرضی
فیضان صاحب بھی ان سب کے پاس آگئے
حرا بیگم اور فیضان صاحب مشعل سے باتیں کرنے لگے
جبکہ ہادیہ وہاں بیٹھی بور ہو رہی تھی اور روحان حورم کا انتظار کر رہا تھا کہ
اب تک وہ آئی کیوں نہیں روحان نے دل میں سوچا
وہ آج بہت دکھی تھی وہ روحان کو خود سے دور ہوتا دیکھ برداشت نہیں کر پا
رہی تھی
رات کو جب وہ گھر پہنچی تو ڈنر کا وقت ہو چکا تھا وہ جان بوجھ کے لیٹ آئی
تھی تاکہ وہ خود کو سنھبال سکے سب کے سامنے خود کو نارمل ظاہر کر
سکے
جب وہ ڈ رائینگ روم میں داخل ہوئی تو اس نے سب کے ساتھ ایک لڑکی
جس نے بلیک کلر کے ٹاٹس کر ساتھ جسم سے چپکی ہوئی سلیو لیس شرٹ
بال کھولے بیٹھے دیکھا
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔ اس نے سب کو سلام کیا
روحان کی پیاسی نظروں کو اسے دیکھتے ہی قرار آیا
آج وہ اس کے ساتھ لنچ کرنے بھی نہیں گیا تھا اس لئے وہ اسے دیکھ نہیں پایا تھا اس سے مل نہیں پایا تھا
جیسے ہی حورم نے اسکی طرف دیکھا روحان نے اپنی نظریں پھیر لیں حورم
کو یہ دیکھ کر دکھ تو بہت ہوا پر اب اسے یہ سب برداشت تو کرنا تھا
وہ جانتی تھی روحان صرف اسکے کہنے پر ہی راضی ہوا ہے دوسری شادی کے لئے اور اب اس سے ناراض ہے
وعلیکم اسلام بیٹا آج تم نے دیر نہیں کر دی آنے میں ۔۔۔۔۔ حرا بیگم نے
اسے اپنے ساتھ لگایا
سوری آنٹی ایک کیس آ گیا تھا اس لیے دیر ہوگئی ۔۔۔۔ حورم نے جھوٹ
کا اسرا لیا
کوئی بات نہیں بیٹا اس سے ملو یہ ہے مشعل میری بھانجی ہے اور مشعل
یہ میری بہو اور روحان کی بیوی حورم ۔۔۔۔۔ حرا بیگم نے ان دونوں کا
تعارف کروایا
اسلام علیکم حورم نے اسکی طرف سلام کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا
مشعل نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اسکا جائزہ لیا
دودھیا رنگت شہد رنگ آنکھیں ، کھڑا ستواں ناک جس میں ڈائمنڈ کی نوز پن تھی گلاب کی پنکھڑوں جیسے ہونٹ ،سر پر حجاب لیے اور پولیس یونیفارم میں بنا کسی میک اپ کے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
مشعل کو اس سے جیلسی ہوئی کہ اس نے روحان کو اس سے چھین لیا
اوکے بیٹا تم چینج کر کے آ جاو پھر سب مل کر ڈنر کرتے ہیں حرا بیگم
اس سے بولیں
اور وہ سر ہلاتی ہوئی وہاں سے اپنے روم میں آ گئی
_______
حورم چینج کر کے آئی تو سب کھانے کے ٹیبل پر موجود تھے اور اسکا انتظار کر رہے تھے
روحان کے ساتھ والی چیئر جس پر حورم ہمیشہ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتی تھی
آج اس چیئر پر مشعل بیٹھی ہوئی تھی
روحان کے ایک طرف ہادیہ اور دوسری طرف مشعل بیٹھی ہوئی تھی
حورم بے تاثر چہرا لیا ہادیہ کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گئی روحان نے اسے
دکھ سے دیکھا
کیوں کر رہی ہو ہنی خود بھی تکلیف میں ہو اور مجھے بھی تکلیف دے رہی ہو
روحان نے دل میں اسے مخاطب کیا
چلیں بسم اللہ کریں سب ۔۔۔۔۔۔ فیضان صاحب نے سب کو کھانا شروع
کرنے کا بولا
سب کھانا کھانے کے بعد اپنے اپنے روم میں چلے گئے سوائے حورم کے
جو کچن میں چلی گئی تھی اپنے لیے کافی بنانے
کافی تو ایک بہانا تھا وہ اس وقت روحان کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی
جب جب بھی اسے دیکھتی اسکا دل کرتا کہ اسکے گلے لگ جائے جا کر
اور اس سے کہے کہ میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی اور تم صرف میرے
ہو صرف میرے ۔۔۔۔
خود کو اس سب سے باز رکھنے کے لئے اسکا
خود کو مضبوط کرنا ضروری تھا اس کے لئے اسے تنہائی کی ضرورت تھی
حانی میں جانتی ہوں کہ تم مجھ سے ناراض ہو میرے ضد کی وجہ سے تم نے ہاں کی ہے تمھیں میں نے دوسری شادی کا بول تو دیا ہے پر۔۔۔۔۔۔
میں بہت تکلیف میں ہوں اس وقت
کہیں بھی سکون نہیں مل رہا
تمھا را مجھے اگنور کرنا مجھ سے دور رہنا مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا وہ کچن کے سنک پر جھکی آنسو بہا رہی تھی اور دل میں اس سے مخاطب تھی
جو اس وقت کمرے میں موجود تھا
پر میں خود کو سنھبال لوں گی اپنے آپ کو پھر سے ویسا ہی کر لوں گی
جیسی میں پہلے تھی ۔۔۔۔۔ خود سے عہد کرتے ہوئے اس نے
بے د ردی سے اپنے آنسو صاف کیے اور کافی بنانے لگی
کافی پینے کے بعد رات کے بارہ بجے وہ اپنے روم میں چلی گئی
روحان روم میں ادھر سے ُادھر ٹہلتے ہوئے حورم کا انتظار کر رہا تھا
ابھی تک آئی کیوں نہیں ہنی ۔۔۔۔ روحان خود سے ہی مخاطب ہوا
ہنی پلیز چھوڑ دو اپنی ضد ۔۔۔۔ میں بہت تکلیف میں ہوں کہیں بھی سکون
نہیں مل رہا تڑپ رہا ہوں تمھارے لئے میں
نا کرو نا ایسا پلیز ۔۔۔
روحان اپنے موبائیل میں موجود اسکی تصویر سے مخاطب تھا
روحان کی آنکھوں سے اشک بہہ رہے تھے
جیسے ہی روحان کو حورم کے قدموں کی آہٹ سنائی دی وہ فورا سے بیڈ پر اپنی جگہ پر آ کر لیٹ گیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں
حورم جب روم میں آئی تو روحان کو بیڈ پر لیٹے ہوئے پایا وہ بھی اپنی جگہ پر آ کے لیٹ گئی
روحان کی حورم کی طرف پشت تھی حورم اسکی پشت کو دیکھنے لگی
حانی نیند نہیں آ رہی مجھے اور مجھے یہ بھی پتا ہے کہ سوئے تم بھی نہیں ہو ابھی تک
کاش میں اتنی مجبور نا ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دل میں اس سے مخاطب تھی
اس نے خود کو رونے سے باز ر کھنے کی کافی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نا ہو سکی آنسو اسکی آنکھوں سے رواں ہو گئے تھے
کچھ دیر کے بعد اس نے دوسری طرف کروٹ بدل لی
ساری رات ان دونوں نے جاگتے ہی گزاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانی مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔
روحان جو ناشتے کے لئے نیچے جا رہا تھا حورم کی پکار نے اسے رکنے پر مجبور
کر دیا
کچھ باقی رہ گیا کیا کہنے کے لئے ۔۔۔۔۔ روحان اسکی طرف مڑتے ہوئے
بے تاثر اور بے لچک لہجے میں بولا
حورم کو دکھ تو بہت ہوا پر اس نے روحان پر ظاہر نہیں ہونے دیا
حلانکہ روحان اسکی حالت اچھے سے جانتا تھا
وہ دونوں ایسے ہی تھے دونوں ایک دوسرے کی رگ رگ سے واقف تھے
دونوں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ کر اندر کی حالت جان جاتے تھے
تو تم کس لڑکی سے شادی کرو گے ۔۔۔۔۔ حورم نے اپنی پوری ہمت جمع
کرتے ہوئے اس سے پوچھا
یہ بھی تم ہی بتا دو شادی کا فیصلہ تمھارا ہے تو دلہن بھی تمھاری مرضی
کی ہونی چاہیئے نا پھر ہی تو مزا آئے گا صحیح کہہ رہا ہوں نا میں ۔۔۔۔
روحان اسکی شہد رنگ آنکھوں میں اپنی گرے آنکھیں گاڑھتے ہوئے نہایت
سفاکی سے بولا
تم مشعل سے شادی کر لو اچھی لڑکی ہے وہ حورم نارمل سے لہجے میں بولی
حلانکہ حورم کا دل اسکا یہ روپ دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا تھا
ٹھیک ہے مجھے یہ بھی منظور ہے میں کرتا ہوں سب سے بات اس بارے میں ۔۔۔۔ میرا خیال ہے اب ہمیں ناشتے کے لئے چلنا چاہیئے سب
ہمارا ویٹ کر رہے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔ روحان نے یہ کہتے ہی اپنا رخ موڑ
لیا اور لمبا سانس لے کر خود کو نارمل کیا
چلو ۔۔۔۔ حورم کو کہتا ہوا وہ باہر کی طرف چل دیا
حورم بھی خود کو نارمل کرتی ہوئی اسکے پیچھے چل دی
روحان بیٹا آج آفس نہیں جاو گے ۔۔۔
ناشتے کے بعد روحان کو
ڈ رائینگ روم میں حورم اور مشعل کے ساتھ بیٹھا دیکھ انہوں نے پوچھا
نہیں ماما میں نے سوچا کیوں نا آج مشعل کو کچھ سیر ہی کروا دی جائے
اس لئے نہیں گیا روحان نے مسکراتے ہوئے ان کی بات کا جواب
دیا
اف ظالم کا ظالم ڈمپل ۔۔۔۔ حورم نے اسے آج دو دن بعد مسکراتے ہوئے دیکھا تھا
ٹھیک ہے بیٹا اچھی بات ہے ۔۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولیں.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *