Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36
کچھ دیر کے بعد حورم کھانا ٹیبل پر لگانے کے لئے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی
روحان کی نظروں نے اس وقت تک اسکا پیچھا کیا جب تک وہ اسکی نظروں
سے اوجھل نہیں ہو گئی
کھانا لگانے کے بعد حورم نے سب کو ڈائینگ ٹیبل پر کھانے کے لئے بلایا
ویسے روحان بھائی حورم نے کھانے کے معاملے میں آپ کو بھی اپنے
جیسا بنا ہی لیا دعا نے روحان کی طرف دیکھ کر کہا جو حورم کی طرح زیادہ کھانا کھا رہا تھا
کیا مطلب روحان نے پلیٹ سے منہ اوپر اٹھا کر اس سے پوچھا
مطلب یہ کی آپ بھی حورم کی طرح زیادہ کھانا کھانے لگے ہیں دعا نے جواب دیا
دعا کی بات پر سب مسکرا دئیے
ہاں یہ تو ہے حورم نے مجھے بھی زیادہ کھانے کی عادت ڈال ہی دی ہے
روحان نے مسکراتے ہوئے اعتراف کیا
سب اسکی بات پر بھی مسکرا رہے تھے
سب نے حورم کی اتنا اچھا کھانا بنانے پر تعر یف کی
حورم نے سب کا شکریہ ادا کیا
کھانا کھانے کے کچھ دیر کے بعد سب اپنے اپنے گھر چلے گئے
جبکہ دعا ، شیری ، مشال ، عائزہ، حسن اور رضا ، روحان اور حورم کے ساتھ
مل کر مووی دیکھنے کے لئے رکھ گئے
مووی دیکنھے کے دوران روحان نے حورم کی طرف دیکھا جو بار بار جمائیاں لے
رہی تھی روحان سمجھ گیا تھا کہ اسے نیند آئی ہے
روحان صوفے سے اتر کر صوفے کے پاس کشن رکھ کر صوفے سے ٹیک
لگا کر کشن پر بیٹھ گیا
اور اپنی ٹانگوں کے د رمیان کشن رکھ کر حورم کو اپنے پاس آنے کا اشارہ
کیا
حورم اسکے پاس آئی تو روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی ٹانگوں کے
د رمیان رکھے کشن پر بیٹھا لیا
حورم نے اپنا سر اسکے سینے پر ٹکا دیا اور روحان نے اپنے گرد پھیلائی گرم شال اسکے گرد بھی پھیلا دی اور اپنے بازوں کا حصار اسکے گرد بنا لیا
وہاں موجود سب منہ کھولے حیرانی سے فلم چھوڑ کر ان دونوں کو دیکھ رہے تھے
اوئے مجنوں کی اولاد کچھ تو شرم کر لو ہم بھی یہاں موجود ہیں حسن نے
اسے شرم دلائی
شرم کی کیا بات ہے ہم میاں بیوی ہیں اور ویسے بھی ہنی کو نیند آئی تھی
اور مجھے ابھی مووی دیکھنی تھی اس لئے میں نے ایسا کیا ہے
اور تم لوگوں سے کیسی شرم تم لوگ اپنے ہی تو ہو اور تم لوگ بھی جیسے چاہوں بیٹھو ہمیں کوئی اعتراض نہیں روحان مسکراتے ہوئے بولا
روحان کی بات پر سب مسکرانے لگے
ویسے نا تم بڑے ہی بے شرم ہو ہماری بہن کو بھی اپنے جیسا کر لیا ہے تم نے ۔۔۔۔۔ رضا مسکراتے ہوئے گویا ہوا
روحان کچھ نا بولا اس نے اسکی بات پر بس مسکرانے پر اکتفا کیا
پھر سب دوبارہ سے مووی کی طرف متوجہ ہوگئے
حورم تو روحان کے سینے پر سر رکھتے ہی سو گئی تھی
کچھ دیر کے بعد روحان بھی اسکے سر پر اپنا سر ٹکا کے سو گیا
لو اسے دیکھو پہلے تو کہہ رہا تھا کہ میں نے مووی دیکنھی ہے اب خود بھی سو گیا ہے رضا روحان کو سوتا دیکھ مسکراتے ہوئے بولا
سونے دو جاتے ہوئے اٹھا دیں گے ان دونوں کو ۔۔۔۔۔ حسن ان دونوں
کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولl
کتنے اچھے لگ رہے ہیں نا دونوں ایسے ۔۔۔۔۔ دعا ان دونوں کو دیکھتے ہوئے
بولی
ہاں واقعی میں بہت اچھے لگ رہے ہیں دونوں ساتھ میں ۔۔۔۔۔۔ مشال
نے بھی اسکی بات کی تائید کی
اللہ ان دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے اور ہر دکھ کو ان سے دور رکھے آمین
عائزہ ان کو دیکھتے ہوئے بولی
آمین ۔۔۔۔۔ دعا اور مشال نے بھی آمین کہا
وہ تینوں ایک ہی صوفے پر بیٹھی تھیں اور اتنی آہستہ آواز میں باتیں کر رہی
تھیں کہ ان کی باتیں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں سن سکتا تھا
سب نے ان دونوں کی خوشیوں کی دعا کی
اور دوبارہ سے فلم کی طرف متوجہ ہوگئے
روحان ۔۔۔۔۔ حسن نے مووی ختم ہونے کے بعد اسکا کندھا ہلایا
ہممم۔۔۔۔۔ روحان نے اپنی آنکھیں کھول کر حسن کو دیکھا
مووی ختم ہو گئی ہے ہم اپنے گھر جا رہے ہیں تم بھی حورم کو لے کر اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو ۔۔۔۔۔ حسن اس سے کہتا ہوا باقی سب
کے ساتھ وہاں سے چلا گیا
ان سب کے جانے کے بعد روحان حورم کو اپنی بانہوں میں بھر کے اپنے
کمرے میں لے آیا
اسے بیڈ پر لیٹانے کے بعد اسے اپنی بانہوں میں لئے سو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما کیسی ہے نور ۔۔۔۔۔ حورم نے فاطمہ بیگم سے پوچھا
ابھی تو وہ لیبر روم میں ہی ہے بس تم دعا کرو ۔۔۔۔ انہوں نے اسے بتایا
نور اس وقت ہوسپٹل میں تھی وہ پریگنٹ تھی اور اس وقت وہ لیبر روم میں تھی حورم کو جیسے ہی پتا چلا وہ پولیس اسٹیشن سے سیدھا ہوسپٹل
آ گئی تھی
جہاں اس وقت باسل اور اسکی ماما اور فاطمہ بیگم اور روحان موجود تھے
______
حورم ادھر سے ُادھر ٹہل رہی تھی جب کچھ دیر کے بعد ڈاکڑ نے ان سب کو بیٹا ہونے کی مبارک باد دی اور نور کیسی ہے باسل اور حورم نے ڈاکڑ
سے ایک ساتھ ہی پوچھا
وہ بھی بلکل ٹھیک ہیں ہم انہیں کمرے میں شیفٹ کر رہے ہیں پھر آپ
سب ان سے مل سکتے ہیں ڈاکڑ ان سے کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
سب سے پہلے حورم نے باسل کو نور کے پاس بھیجا تاکہ وہ نور سے اکیلے میں
مل سکے اور اپنے بچے کو بھی دیکھ سکے
بہت بہت مبارک ہو نور اللہ نے ہمیں پیارا سا بیٹا دیا ہے باسل نے اسکی پیشانی چومی اور اسے مبارک باد دی
تمھیں بھی بہت بہت مبارک ہو باسل نور مسکراتے ہوئے بولی
باسل بے بی کو اٹھا کر نور کے پاس لایا
یہ دیکھو نور ہمارا پیارا سا بے بی باسل نے بچہ اس کی گود میں ڈالا
نور نے مسکراتے ہوئے بچے کی پیشانی چومی اور اسے اپنے سینے سے لگایا
بہت پیارا ہے ماشااللہ ۔۔۔۔ نور ممتا سے چور لہجے میں بولی
ہاں ماشااللہ بہت پیارا ہے ۔۔۔۔۔ باسل نے بھی بچے کی پیشانی چومی
اب ہم آ جائیں اندر حورم نے د روازے سے اندر جھانکتے ہوئے ان دونوں سے
پوچھا
کیوں نہیں باسل مسکراتے ہوئے بولا
پھر روحان ، حورم ، فاطمہ بیگم اور عائشہ بیگم اندر داخل ہوئے
بہت بہت مبارک ہو نور اور باسل تم دونوں کو اور بہت پیارا ہے بے بی بھی حورم بچے کو دیکھتے ہوئے بولی
تھینکس حورم اور تمھیں بھی مبارک ہو تم خالہ بن گئی ہو نور مسکراتے ہوئے
بولی
ہاں وہ تو ہے ۔۔۔۔۔ حورم مسکراتے ہوئے بولی
فاطمہ بیگم، روحان اور عائشہ بیگم نے بھی ان دونوں کو مبارک باد دی اور
بے بی کو پیار کیا
پھر وہ نور اور بچے کو لے کر گھر آگئے جہاں سب بےصبری سے ان کا
انتظار کر رہے تھے
سب نے ان دونوں کو مبارک باد دی
اور حورم بیٹا کیسا چل رہا ہے آپ کا کام ۔۔۔۔ فیضان صاحب نے اس
سے پوچھا
بہت اچھا جا رہا ہے انکل ۔۔۔۔ اس نے جواب دیا
اچھی بات ہے بیٹا۔۔
وہ سب اس وقت رات کا کھانا کھا رہے تھے
اور ہادیہ تمھاری سڈیز کیسی جا رہی ہیں انہوں نے ہادیہ سے پوچھا
پاپا بہت اچھی جا رہی ہیں میری سڈیز ہادیہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
ہادیہ نے آیان کے ساتھ اسکی کلاس اور کالج میں اڈمیشن لے لیا تھا
اور اب وہ دونوں سیکنڈ ائیر میں تھے
بھائی اور بھابھی آپ دونوں کب مجھے پھوپھو اور ماما پاپا کو دادا دادی بنا رہے
ہیں ہادیہ نے ان دونوں سے استفسار کیا
اسکے سوال پر حورم کے چہرے پر کرب کا سایہ گزرا
اسکا یہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا وہ بہت مشکل سے خود کو روکے بیٹھی ہوئی تھی
روحان سے اسکی یہ حالت پوشیدہ نہیں رہ پائی
جب اللہ کی مرضی ہوئی گڑیا ۔۔۔۔ روحان نے اسے جواب دیا
چلو اب سب کھانا کھاو چپ کر کے حرا بیگم نے سب کو کھانے کی طرف
متوجہ کیا
کھانا کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے
حانی تم میری بات مان کیوں نہیں جاتے آخر ۔۔۔۔۔ حورم اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس سے بولی
کون سی بات ہنی ۔۔۔۔روحان نے انجان بنتے ہوئے اس سے استفسار
کیا حلانکہ وہ جان گیا تھا کہ وہ کس با ت کا کہہ رہی ہے
دوسری شادی کر لو حانی ۔۔۔۔ حورم نے اس سے التجا کی
روحان نے اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور اسے چپ کروا دیا
حورم نے اپنا پورا زور لگا کر اسے خود سے دور کیا
آخر کب تک تم اسی طرح مجھے چپ کرواو گے تمھیں میری بات ماننا ہی پڑے گی ۔۔۔۔۔ حورم چیختے ہوئے بولی
روحان غصے سے اس کے پاس آیا اور اسے دونوں بازوں سے پکڑ کر اپنے
سامنے کھڑا کیا
بہت بار تمھاری یہ بکواس سن چکا ہوں ہر بار میرا جواب نا میں ہی ہوتا ہے
تو تم کیوں بار بار یہ بات کہہ کہ مجھے تکلیف دیتی ہو روحان نے اسے جنجھوڑا
حورم کئی بار اسے دوسری شادی کرنے کا کہہ چکی تھی اور ہر بار روحان نا میں جواب دیتا اور اپنے لب اسکے لبوں پر رکھ کے اسے چپ کروا دیتا
تمھیں میری بات ماننا ہی پڑے گی حانی ۔۔۔۔ وہ اسکی گرے آنکھوں میں
اپنی شہد رنگ آنکھیں گاڑھتے ہوئے بے لچک لہجے میں بولی
مجھے دیکھ لو گی کسی اور کا ہوتا ہوا ہنی۔۔۔۔۔ روحان نے خود کو نارمل کرتے
ہوئے اس سے پوچھا
ہاں دیکھ لوں گی ۔۔۔۔۔ اس کا لہجہ کسی بھی جذبے سے عاری تھا
میرے بغیر رہ لو گئی ہنی روحان نے بہت پیار سے اس سے اس امید سے
پوچھا کہ وہ ابھی کہہ دے گی کہ حانی میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی
لیکن اس نے وہ جواب دیا جو روحان نے سوچا نہیں تھا
ہاں رہ لوں گی تم بس میری بات مان لو ۔۔۔۔۔ حورم خود کو اس کے سامنے مضبوط ظاہر ثابت کرتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
حلانکہ وہ روحان کی آنکھوں میں د رد دیکھ چکی تھی
لیکن اندر سے اسکا دل خون کے آنسو رو رہا تھا اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ ابھی
اس کے گلے لگ جائے اور اس سے کہہ دے کہ وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتی وہ
اسے کسی اور کا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتی پر وہ ایسا
نہیں کر سکتی تھی
کیونکہ اسے روحان اور اس کے گھر والوں کے لئے یہ
قربانی دینی تھی اس لیے وہ چپ رہی اور خود کو سخت کر لیا
روحان نے اس کو اپنی ضد جو کہ ان دونوں کے لئے موت کے برابر تھی سے نا ہٹتا دیکھ کر دل میں ایک فیصلہ کیا
ٹھیک ہے میں تیار ہوں دوسری شادی کرنے کے لیے روحان اسے چھوڑتا
ہوا کمرے سے چلا گیا
اسکے جاتے ہی حورم واشروم میں بند ہو گئی اور جی بھر کے روئی
اس وقت بہت تکلیف میں تھی روحان کے سامنے تو اس نے خود کو رونے
سے روک لیا تھا لیکن اس کے جانے کے بعد وہ خود کو رونے سے روک نا پائی
دوسری طرف روحان کمرے سے نکلنے کے بعد پول کے پاس آ کر بیٹھ گیا
تھا
تم بہت بری ہو ہنی میرے ساتھ تم اچھا نہیں کر رہی ہو روحان روتے ہوئے دل ہی دل میں اس سے شکوے کر رہا تھا
لیکن اب میں وہ کروں گا جس سے تم اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر
خود میرے پاس آؤ گی اور مجھے شادی کے لئے منع کرو گی یہ وعدہ ہے میرا تم سے ہنی
روحان نے اپنی نم آنکھوں سے پول کے شفاف پانی میں دیکھتے ہوئے دل میں حورم کو مخاطب کیا
حورم کافی دیر کے بعد دل ہلکا کرنے کے بعد واشروم سے باہر آئی
پتا نہیں حانی کدھر ہو گا اس وقت ۔۔۔۔۔ وہ اس کے لیے پریشان ہو رہی تھی اور کمرے میں ٹہل رہی تھی
جب وہ کھڑکی کے پاس گئی تو روحان اسے پول کے پاس بیٹھا دکھائی
دیا
روحان اسکی طرف پشت کیے بیٹھا ہوا تھا
حورم نے اپنا ماتھا کھڑکی سے ٹکا دیا اور روحان کو دیکھنے لگی
میں جانتی ہوں حانی تم بھی اس وقت بہت تکلیف میں ہو پر جو میں کر رہی ہوں یہ ہم سب کے بہت ضروری ہے حورم روتے ہوئے دل میں اس
سے مخاطب ہوئی
رات گئے تک روحان پول کے پاس بیٹھا رہا وہ بنا اپنے کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھے بھی جانتا تھا کہ وہ کھڑکی سے اسکو دیکھ رہی ہو گی
دوسری طرف حورم واقعی کھڑکی سے سر ٹکائے بیٹھی اسکو دیکھ رہی تھی
کچھ دیر کے بعد روحان اٹھ کر کمرے کی طرف چل پڑا
جب حورم نے اسکو وہاں سے اٹھتے دیکھا تو کھڑکی کے پاس سے اٹھ کر
بیڈ پر اپنی جگہ پر آ کر آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی
وہ روحان کے سامنے خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی
روحان جب کمرے میں آیا تو اسے آنکھیں بند کیے لیٹے ہوئے پایا
روحان اسکے پاس کھڑا کافی دیر تک اسکو دیکھتا رہا وہ جانتا تھا کہ وہ جاگ رہی
ہے
پھر وہ اپنی جگہ پر آ کےحورم کی طرف کروٹ لیے لیٹ گیا حورم کی اسکی طرف پشت تھی
وہ اسکی پشت کو دیکھتا رہا اسکا دل اس وقت کر رہا تھا کہ وہ اسے اپنی طرف کھینچ کر اپنی بانہوں میں لے لے پر وہ چاہنے کے باوجود ایسا نا کر پایا
اسکی آنکھوں سے کب آنسو نکلے اسے پتا ہی نا چلا کچھ دیر کے بعد اس نے دوسری طرف کروٹ بدل لی
روحان کے کروٹ بدلتے ہی حورم نے اسکی طرف کروٹ بدل لی اور اسکی پشت کو دیکھنے لگی
وہ اسے خود سے اتنا دور دیکھ کر رو رہی تھی اسے اسکے بغیر نیند نہیں آتی تھی
اسے تو اسکی بانہوں کے حصار میں سونے کی عادت تھی
اور آج وہ اس کی طرف پشت کیے لیٹا تھا حورم کا دل کیا کہ وہ خود اسکے پاس چلی جائے اسکے سینے پر سر ٹکا کر سو جائے پر وہ چاہ کر بھی ایسا نا
کر پائی
حورم نے دوسری طرف کروٹ بدل لی
وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف پشت کیے رو رہے تھے تڑپ رہے تھے
پر اپنی اپنی جگہ بے بس تھے
ساری رات ان دونوں نے روتے ہوئے گزار دی.
جاری ہے
