Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34

اسلام علیکم ۔۔۔۔۔ روحان اور حورم نے سب کو پر جوش انداز میں اسلام کیا
وعلیکم اسلام ۔۔۔۔۔ سب نے جواب دیا
جیسے ہی سب کو پتا چلا کہ حورم اور روحان آج واپس آ رہے ہیں سب لوگ
روحان کے گھر جمع ہو گئے
حورم اور روحان سے ملنے کے لئے
وہ دونوں دو ہفتوں بعد آج مری سے لوٹ کر آئے تھے
وہ دونوں باری باری سب سے ملے اور ان کے ساتھ ڈرائینگ روم میں
ہی بیٹھ گئے
قسم سے حورم ہم سب نے تمھیں بہت مس کیا نور اس سے بولی
لیکن میں نے تو کسی کو مس نہیں کیا حورم نے جھوٹ سے کام لیا
حورم ۔۔۔۔۔ روحان بھائی کیا ملے تم ہمیں بھی بھول گئی شایان نے شکوہ
کیا
حورم اسکی بات پر مسکرا دی
میں تو مزاق کر رہی تھی بھلا میں تم سب کو بھول سکتی ہوں حورم مسکراتے ہوئے بولی
اچھا ہوا تم نے کلیر کر دیا کہ تم مزاق کر رہی تھی اگر تم کلیر نا کرتی تو
میں نے ناراض ہو جانا تھا تم سے اور پھر کبھی بھی تم سے بات نہیں کرنی
تھی آیان نے منہ پھیر لیا حورم سے
حورم نے اسکی آنکھوں میں شرارت دیکھ لی تھی
وہ اٹھ کر اسکے ساتھ بیٹھ گئی اور اسکے بال بگاڑھے
تو اب تم مجھ سے یعنی ایس پی حورم سے ناراض ہو گے چلو ہو جاو ناراض
لیکن پھر اپنے دل کی بات میرے پاس لے کر نا آنا کہ حورم پلیز مدد کر
دو میری ۔۔۔۔۔حورم اسکے کان میں بولی
کون سی دل کی بات آیان نے انجان بنتے ہوئے پوچھا
وہی جو تم میری نند کو چوری چھپے دیکھتے ہو اسکی ہی بات کر رہی ہوں
کچھ یاد آیا ۔۔۔۔
حورم کی اس بات پر آیان منہ کھولے اسے دیکھ رہاتھا کہ یہ چیز کیا ہے
ہر کسی کی خفیہ سے خفیہ بات کو جان جاتی ہے
ایسے حیرانی سے مجھے نا دیکھو مجھے سب پتا ہے ۔۔۔۔ حورم نے اسکا منہ اپنے
ہاتھ سے بند کیا
پلیز ابھی یہ بات کسی کو نا بتانا پلیز پلیز آیان نے اسکی منت کی
میں کیوں بتاوں گی بھلا بلکہ وقت آنے پر تمھاری مدد ضرور کروں گی وعدہ
ہے میرا اپنے بھائی سے ۔۔۔۔۔ حورم محبت بھرے لہجے میں بولی
تھینکس حورم ۔۔۔۔
نو تھینکس ۔۔۔۔ حورم نے اسے اپنے ساتھ لگایا
یہ تم دونوں بہن بھائی اتنی دیر سے کیا ایک دوسرے کے کان میں کھسر پھسر کر رہے ہو میں کب سے دیکھ رہی ہوں تم دونوں کو ایسے کرتے
ہوئے دعا نے ان دونوں سے پوچھا
ان دونوں نے اب تک جتنی بھی باتیں کیں تھی وہ سب باتیں انکے علاوہ
کوئی نہیں سن سکتا تھا
کچھ نہیں ویسے ہی آیان مجھے اپنے کالج کی باتیں بتا رہا تھا حورم نے اسے
ٹالا ورنہ وہ بھی دعا تھی ہر بات کا پتا کر کے ہی رہتی تھی اور حورم یہ بات
ابھی کسی کو نہیں بتانا چاہتی تھی
ڈنر ریڈی ہے پہلے ڈنر کر لیں سب لوگ باقی کی گپ شپ بعد میں کر
لیجئے گا کیا خیال ہے آپ سب کا ۔۔۔۔۔؟
حرا بیگم نے سب کو متوجہ کیا
چلیں ڈنر کر لیتے ہیں فیضان صاحب سب سے گویا ہوئے
سب نے مل کر ڈنر کیا پھر روحان اور حورم نے مل کر سب کے تحفے
ان کو دئیے
ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سا وقت گزارنے کے بعد سب اپنے اپنے گھر
آ گئے
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آنٹی کیسا لگا آپ کو ہمارا دیا ہوا گفٹ ۔۔۔۔۔ حورم نے حرا بیگم سے پوچھا
وہ ، حرا بیگم اور فیضان صاحب اس وقت ڈ رائینگ روم میں ہی موجود تھے
جبکہ روحان اور ہادیہ اپنے اپنے کمرے میں تھے
بہت اچھا ہے بیٹا مجھے سب کچھ بہت پسند آیا حرا بیگم نے اسے اپنے ساتھ
لگایا
میں خود اپنی پسند سے آپ کے لیے لیا تھا شکر ہے آپ کو پسند آیا حورم بولی
کیوں پسند نا آتا بھلا مجھے میری پیاری سی بیٹی نے اتنے پیار سے جو میرے
لئے لیا ہے سب کچھ وہ پیار بھرے لہجے میں بولیں
حرا بیگم نے دل سے اسے قبول کر لیا تھا اور اس سے بہت اچھے سے پیش
آتی تھیں حورم بھی ان کا بہت احترام اور عزت کرتی تھی
ان کی ہر بات مانتی تھی
اور انکل آپ کو کیسا لگا سب کچھ ۔۔۔۔۔؟
مجھے بھی بہت اچھا لگا سب کچھ ۔۔۔۔۔ انہوں نے پیار سے اسکے سر پر
ہاتھ پھیرا
اب تم اپنے کمرے میں جاؤ بیٹا تھک گئی ہو گی آرام کر لو جا کر حرا بیگم
نے اسے آرام کرنے کا بولا
وہ ان دونوں کو گوڈ نائٹ کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا فضل حسین میں جا رہی ہوں لنچ کرنے پیچھے سے کوئی مسلہ وغیرہ
ہو جائے تو مجھے فون کر لینا حورم روز کی طرح آج بھی اسے کہنا نہیں بھولی
تھی
اوکے میڈیم بتا دوں گا فضل حسین تابیداری سے بولا
اوکے ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ حورم اپنی چیزیں اٹھاتی ہو وہاں سے ہوٹل کی طرف
روانہ ہو گئی
شادی کے بعد جب سے حورم نے دوبارہ سے پولیس اسٹیشن آنا شروع کیا تھا
تب سے ہی وہ اور روحان ایک ساتھ پولیس اسٹیشن کے قر یب ایک ہوٹل
میں اکھٹے لنچ کیا کرتے تھے
جب وہ ہوٹل کے اندر انڑ ہوئی تو روحان اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھا اسکا انتظار
کر رہا تھا
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔ حورم نے اسکے پاس پہنچتے ہوئے اسے سلام کیا
وعلیکم اسلام ہنی آج لیٹ نہیں ہو گئی تم ۔۔۔۔ روحان بولا
ہاں وہ میں میٹنگ میں گئی ہوئی تھی ابھی ہی واپس آئی تھی پولیس اسٹیشن
اور ادھر سے یہاں آ گئی حورم نے اسے بتایا
اوکے ۔۔۔۔ روحان نے ویڑ کو آواز دی اور آورڈ ر دیا
لنچ کرنے کے بعد روحان اپنے آفس اور حورم پولیس اسٹیشن چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی ۔۔۔۔۔ روحان نے کمرے میں داخل ہوتے ہی حورم کو پکارا
جو کہ منہ تک کمفرٹر اوڑھے لیٹی ہوئی تھی
ہنی ۔۔۔۔ روحان جا کر اسکے پاس بیٹھ گیا وہ جانتا تھا کہ وہ اس سے ناراض
ہو گی کیونکہ روحان آج لنچ پر نہیں آ سکا تھا
لیکن حورم کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا
روحان نے اسکے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا تو وہ آنکھیں بند کر کے لیٹی ہوئی تھی
ہنی ۔۔۔۔۔ یار آنکھیں تو کھولو اچھا سوری نا معافی نہیں ملے گی کیا
میں جانتا ہوں کہ تم سو نہیں رہی کیونکہ مجھے پتا ہے تمھیں میرے بنا نیند نہیں آتی
پلیز آنکھیں کھولو نا پلیز ہنی ۔۔۔
روحان کے کہنے پر بھی حورم نے آنکھیں نہیں کھولیں
روحان اسکی پیشانی چومتے ہوئے وہاں سے اٹھ گیا اور چینج کرنے چلا گیا
حورم نے اسکے جاتے ہی آنکھیں کھول دیں اور ڈ ریسنگ روم کے بند
د روازے کو دیکھنے لگی
وہ ناراض تھی اس سے کہ وہ کیوں نہیں آیا آج لنچ پے حالانکہ حورم جانتی تھی اسکی میٹنگ تھی جس کی وجہ سے وہ نہیں آ سکا اور میٹنگ کی وجہ سے
لیٹ بھی آیا ہے
پر وہ بھی کیا کرتی اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ ہر وقت اسکے پاس رہے اسکی
نظروں کے سامنے رہے وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھی
کچھ دیر کے بعد روحان چینج کرنے کے بعد آیا تو حورم نے فورا سے اپنی آنکھیں بند کر لیں
روحان بیڈ پر اپنی جگہ پر آ کر لیٹ گیا حورم اسکی طرف پشت کیے لیٹی ہوئی تھی
روحان نے اسے پیچھے سے اپنی گرفت میں لے لیا اور اپنی تھوڑی اسکے کندھے پر ٹکا دی
ہنی معاف کر دو قسم سے اگر امپورٹنٹ میٹنگ نا ہوتی تو میں کبھی ایسا نا کرتا کچھ تو بولو لڑ لو مار لو پلیز کچھ تو کہو ہنی
پتا ہے میں آج کا دن کتنی مشکل سے گزارا ہے کیونکہ میں آج تم سے نہیں مل سکا تمھیں دیکھ نہیں پایا اور اب بھی تم کچھ نہیں بول رہی سوری ہنی پلیز اپنے حانی کو معاف نہیں کرو گی
یہ کہتے ہوئے روحان کی آواز رندھ گئی تھی جبکہ وہ بے آواز رو رہی تھی
پر بولی پھر بھی کچھ نہیں
روحان نے اسکا رخ اپنی طرف کیا تو اسے بند آنکھوں کے ساتھ روتا پایا
اسے روتا دیکھ وہ تڑپ اٹھا
ہنی رو تو نا پلیز تمھارے آنسو مجھے تکلیف دے رہے ہیں روحان نے اسکے آنسو
اپنے لبوں سے چن لیے
حورم نے اپنا سر اسکے سینے پر ٹکا دیا اور روحان نے اسے زور سے خود میں
بھینچ لیا
روحان نے اسے خود سے الگ کرنا چاہا تو حورم نے اسکی شرٹ پر اپنی گرفت اور مظبوط کر لی
روحان سمجھ گیا تھا کہ ابھی وہ اس سے دور نہیں ہونا چاہتی
اور اس نے
اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش نہیں کی
کچھ دیر کے بعد وہ خود اس سے الگ ہو کر اٹھ کر بیٹھ گئی روحان بھی اٹھ
کر اسکے سامنے بیٹھ گیا
سوری حانی ۔۔۔۔ مجھے تمھارے ساتھ ایسا بی ہیو نہیں کرنا چاہیئے تھا پر میں کیا کروں میں زیادہ دیر تم سے دور نہیں رہ سکتی حورم نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی
ہنی میری جان تمھیں ہر حق حاصل ہے مجھ پر تم مجھ سے سو بار ناراض ہو
جاو تب بھی میں تمھیں مناوں گا تمھاری ہر بات سر آنکھوں پر
اور میں بھی تم سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتا اسی لئے تو تم سے دوپہر کو ملنے کے لئے لنچ کا پلین بنایا تھا
ایک ساتھ لنچ کرنے کا آیڈیا روحان کا تھا تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے مل سکیں وہ بھی کہاں اس کے بغیر زیادہ دیر رہ سکتا تھا
روحان نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا
کھانا لاوں یقینا تم نے بھی میری طرح صبح کے ناشتے کے بعد کچھ نہیں کھایا
ہو گا
تمھارے بنا بھلا میں کچھ کھا سکتا ہوں روحان آنکھوں میں پیار سموئے اسے
تک رہا تھا
ٹھیک ہے میں ابھی لے کر آتی ہوں حورم اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی
ہی تھی کہ روحان کے پکارنے پر وہ رک گئی اور مڑ کر اسکی طرف دیکھا
حورم بھاگ کر اسکی بانہوں میں سما گئی
آئی لو یو سو مچ ہنی ۔۔۔۔ روحان نے زور سے اسے اپنے سینے میں بھینچا
آئی لو یو ٹو حانی ۔۔۔
۔
خود سے الگ کرنے کے بعد روحان نے اسکے ہونٹ چوم لئے
حورم نے اپنے آپ کو سنھبالنے کے بعد اسے گھورا تو روحان نے مسکراتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا
اسکو گھوری سے نوازتی ہوئی وہ کھانا لینے چلی گئی
آگیا کھانا چلو جلدی جلدی سٹارٹ کرو کھانا ۔۔۔۔ حورم نے کھانا لا کر کمرے میں موجود ٹیبل پر رکھا
اپنے ہاتھوں سے کھلاو گی تو کھانوں گا ورنہ نہیں روحان نے نئی فرمائش
اسکے سامنے پیش کی اور صوفے پر آ کر اسکے ساتھ بیٹھ گیا
میں تمھیں کھلاوں اور خود بھوکی رہ جاوں واہ کیا بات ہے کچھ پتا بھی ہے بھوک سے اس وقت میرا کیا حال ہو رہا ہے حورم نے اسے گھورا
ہنی بھوک مجھے بھی بہت لگی ہے اگر تم اپنے ہاتھوں سے نہیں کھلاو گی
تو میں نے بھوکا ہی سو جانا ہے ایسا کرتے ہیں تم مجھے کھلا دو
اور میں تمھیں کھلاتا ہوں
ٹھیک ہے ۔۔۔۔ حورم کا اس وقت بھوک سے برا حال تھا اس نے نوالہ بنا
کر روحان کی طرف بڑھایا جسے روحان نے شر یف بچوں کی طرح کھا لیا
اور حورم کو بھی ایک نوالہ بنا کر اپنے ہاتھ سے کھلایا
پھر وہ ایک دوسرے کو کھانا کھلانے لگے
حورم نے جب اسے آخری نوالہ کھلایا تو روحان نے نوالہ کھانے کے بعد اسکے
ہاتھ کی انگلیاں چاٹ لیں حورم نے اسے گھورا
پر وہ ڈھیٹوں کی طرح مسکرا رہا تھا روحان نے جب حورم کو آخری نوالہ کھلایا
تو حورم نے اسکی انگلیوں پر اپنے دانتوں سے کاٹا
اف ۔۔۔۔ ہنی تم تو کاٹتی بھی ہو روحان اپنی انگلیوں کو سہلاتے ہوئے بولا
اب کی بار حورم بھی اسکی طرح صرف مسکرائی تھی
منہ سے کچھ نہیں بولی
اور اسے منہ چڑاتی ہوئی برتن کچن میں رکھنے چلی گئی
جب وہ کمرے میں واپس آئی تو روحان اسے واشروم سے نکلتا دیکھائی دیا
وہ بھی واشروم میں چلی گئی اور واشروم سے باہر آ کر
روحان کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی اور روحان نے ہمیشہ کی طرح اسکے
گرد اپنی بازوں کا حصار بنا لیا
جلد ہی ان دونوں پر نیند کی دیوی مہربان ہو گئی
وہ دونوں اس سے بے خبر تھے قسمت ان کے ساتھ کیا کرنے والی
ہے
_________
روحان جب آفس سے واپس آیا تو لان میں فائیٹنگ کی پریکٹس کرتے پایا
وہ سیدھا اسکے پاس آگیا
کیا ہو رہا ہے ہنی ۔۔۔۔۔ روحان اسکے سامنے کھڑا ہو گیا
کچھ نہیں پریکٹس کر رہی تھی حورم پریکٹس چھوڑ اسکی طرف متوجہ ہوگئی
مجھ سے لڑو گی ہنی ۔۔۔۔
ٹھیک ہے پہلے چینج کر کے آو پھر تم سے بھی دو ہاتھ کر لیتے ہیں حورم مسکراتے ہوئے گویا ہوئی
ابھی آیا میں روحان اس سے کہتا ہوا روم کی طرف چل دیا
چلو ریڈی ہو جاو روحان چینج کرنے کے بعد اسکے پاس آ گیا
ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ فائیٹنگ شروع کی
روحان اس پر بھاری پڑ رہا تھا لیکن وہ پھر بھی ہار نہیں مان رہی تھی
آخر کار حورم نے ہار مان لی
ہار گئی نا ہنی ۔۔۔۔ روحان لمبے لمبے سانس لیتا ہوا اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولا
میں تم سے جیتنا بھی نہیں چاہتی حانی ۔۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی
پھر ان دونوں کو تالیوں کی آواز سنائی دی
ان دونوں نے آواز کی سمت میں دیکھا جہاں روحان کے ماما پاپا اور ہادیہ
کھڑے ان کے لئے تالیاں بجا رہے تھے
وہ دونوں ایک فائیٹنگ میں اتنے مگن تھے ان کو ان سب کے آنے کا پتا ہی نہیں چلا
روحان اور حورم ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیئے
واہ بھائی اور بھابھی آپ دونوں کیا کمال کی فائیٹنگ کرتے ہیں ہادیہ ان کے پاس آتے ہوئے بولی
جبکہ فیضان صاحب اور حرا بیگم اندر چلے گئے
تھینکس ہادیہ حورم نے اسکا شکریہ ادا کیا
چلو اب ہم بھی اندر چلتے ہیں روحان ان دونوں کو ساتھ لے کر گھر کے اندر
چلا گیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *