Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30

ہاں ۔۔۔۔۔عائزہ اور مشال نے بھی اسکی بات کی تائید کی
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔ روحان اور حورم نے سب کو مشترکہ سلام کیا
سب نے ان کے سلام کا جواب دیا
ماشااللہ بہت پیارے لگ رہے ہیں میرے بچے ایک ساتھ اللہ تم دونوں کو
ہمیشہ خوش رکھے حرا بیگم نے دونوں کی پیشانی چومی اور انہیں لگے لگاتے
ہوئے ان کی نظر اتاری
تھینکس آنٹی ۔۔۔۔۔ حورم نے ان کا شکریہ ادا کیا
ان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد وہ دونوں سب کے ساتھ ہی ایک صوفے پر بیٹھ گئے
سب نے ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر ان کے سدا خوش رہنے کی دعا کی
کیسی ہے میری بیٹی ۔۔۔ علی صاحب نے حورم کو گلے لگایا
ٹھیک ہوں پاپا اور آپ کیسے ہیں
میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
آپ کیسی ہیں ماما حورم فاطمہ بیگم سے بھی گلے ملی
میں ٹھیک ہوں بیٹا تم خوش ہو نا ۔۔۔۔
جی ماما میں خوش ہوں
علی صاحب اور فاطمہ بیگم نے اس کی خوشیوں کے لئے دعا کی
حورم نور ، آیان ، شایان سے بھی ملی پھر وہ روحان کے ماما اور پاپا کے پاس
گئی ان کا حال چال پوچھا ان سے سر پے پیار لیا
اسکے بعد وہ سب بڑوں کے پاس گئی ان کو سلام کیا ان سے پیار لیا
شیری ، رضا ، زاوی ، زویا ، حسن کے پاس جا کر ان کو سلام کیا
پھر وہ دعا ، مشال ، ہانیہ ، ہادیہ ، عائزہ کے پاس آئی اور ان سے گلے ملی
ان سے مل کر روحان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی
آج تو میرا بیٹا بہت ہینڈسم لگ رہا ہے قمیض شلوار میں ۔۔۔۔ فیضان صاحب مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولے
روحان نے آج پہلی بار شلوار قمیض پہنی تھی
یہ تو آپ کی بہو کا کمال ہے جس نے مجھے یہ قمیض شلوار گفٹ کی ہے
ورنہ میرے پاس کہاں تھی کوئی شلوار قمیض ۔۔۔۔۔ روحان مسکراتے
ہوئے ان سے گویا ہوا
بہت اچھا کیا بیٹا اسکو یہ گفٹ کرنے کے لئے بہت اچھا لگ رہا ہے روحان
اس میں اور پاکستانی بھی ۔۔۔۔۔ فیضان صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے حورم کے سر پر ہاتھ پھیرا
چلیں اب ناشتہ کر لیتے ہیں ناشتہ ریڈی ہے حرا بیگم نے سب کو ناشتے
کا بولا
ناشتا کرنے کے بعد سب دوبارہ ڈ رائینگ روم میں آ گئے
اور اپنی اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے
عائزہ ، مشال ، نور ، ہادیہ ، ہانیہ اور زویا، حورم کو گھیر کر بیٹھ گئیں
بہت پیاری لگ رہی ہو حورم ۔۔۔۔ زویا نے اسکی تعر یف کی
تمھارا ڈ ریس بھی بہت پیارا ہے یہ ڈ ریس تمھارے سسرال کی طرف سے
ہے کیا کیونکہ ہم نے تو ایسا کوئی ڈ ریس نہیں لیا تھا نور نے پوچھا
ہم نے بھی ایسا کوئی ڈ ریس نہیں لیا بھابھی کے لئے ۔۔۔۔۔ ہادیہ بولی
تو پھر کیا روحان بھائی نے دیا ہے تمھیں ۔۔۔۔۔ مشال نے اس سے پوچھا
جو ان سب کی قیاس آرائیوں پر ہنس رہی تھی
ہاں روحان نے مجھے یہ ڈ ریس میری برتھ ڈے کا گفٹ دیا ہے
حورم نے مسکراتے ہوئے جوب دیا
ہاں کل تمھارا اور روحان بھائی کا برتھ ڈے بھی تھا تم نے روحان بھائی کو
کیا دیا عائزہ نے پوچھا
جو روحان نے شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے میں نےوہ ہی اسے گفٹ
کی ہے
اور منہ دکھائی میں کیا دیا بھائی نے مجھے تو انہوں نے پوچھنے کے باوجود
کچھ بھی نہیں بتایا ہادیہ نے پوچھا
حورم نے اپنا ڈائمنڈ کی انگوٹھی والا ہاتھ ان کے آگے کر دیا
بہت پیاری رنگ ہے بھابھی ۔۔۔۔ ہادیہ نے تعر یف کی
آپ دونوں نے کیا ایک دوسرے سے پوچھ کر ایک دوسرے کو سیم کلر
کے ڈ ریس گفٹ کیے ہیں ہانیہ نے پوچھا
نہیں یہ ایک اتفاق ہی ہے ہم نے ایک دوسرے سے نہیں پوچھا تھا کلر
کا۔۔۔۔۔ حورم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
اور کتنے گفٹ دئیے ہیں بھائی نے تم کو اور تم نے بھائی کو اور تمھارا میک اپ بہت اچھا کیا ہوا ہے کس نے کیا مجھے پتا ہے تمھیں تو میک اپ کرنا
نہیں آتا
دعا نے پوچھا جو کی تب سے خاموش ہی بیٹھی تھی اور سب کی باتیں سن
رہی تھی
ہاہاہاہاہا ۔۔۔ میں تب سے سوچ رہی تھی کہ تم نے کچھ نہیں پوچھا مجھ سے
اب پوچھا ہے تو کیا بات پوچھی ہے جو کسی کے دماغ میں نہیں آئی
حورم ہنستے ہوئے بولی
اچھا میری بات کا جواب تو دے دو ۔۔۔۔ دعا نے اس سے کہا جو اب تک
اسکی پوچھی ہوئی بات پر ہنس رہی تھی
اچھا اچھا بتاتی ہوں ۔۔۔۔
حانی اور میں نے ایک دوسرے کو ان ڈ ریسز کے علاوہ بارہ بارہ گفٹ
دیئے ہیں
بارہ ۔۔۔۔ وہ سب حیرت سے ایک ساتھ بولیں
ان کی آواز اتنی اونچی تھی کہ وہاں موجود سب لوگ ان کو دیکھنے لگے
کیا ہوا بیٹا آپ سب کو ۔۔۔۔۔ حرا بیگم نے ان سے پوچھا
کچھ نہیں ہوا آنٹی۔۔۔۔۔ زویا بولی
سب دوبارہ اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے
اور روحان مسکرا رہا تھا کیونکہ اسے پتا چل گیا تھا کہ کیا ہوا ہے
بارہ بارہ گفٹ کیوں ۔۔۔۔۔ مشال نے استفسار کیا
وہ اس لئے کہ وہ بارہ گفٹ ہم دونوں کی بارہ سالگرہ کے تھے جو ہم دونوں
ایک دوسرے کے لئے ہر سال لیتے تھے
یہ جو میں نے ٹوپس ، چوڑیاں ، بریسلیٹ ، نیکلس پہنا ہوا ہے یہ سب مجھے
حانی نے ہی گفٹ کیا ہے
حورم نے مسکراتے ہوئے ان کو وجہ بتائی
واوووو۔۔۔۔ سب نے رشک بھری نظروں سے اسے دیکھا
کیا پیار ہے تم دونوں کا تم دونوں نے تو ہم سب کو بھی اس معاملے
میں پیچھے چھوڑ دیا ہے نور ستائش سے بولی
اللہ تم دونوں کو ہمیشہ ایک ساتھ خوش رکھے زویا نے حورم اور روحان کو دعا دی
آمین سب ایک ساتھ بولیں
اور اتنے اچھے میک اپ کا کیا راز ہے اب یہ بھی بتادو ۔۔۔۔ دعا نے پوچھا
بتا تو میں دوں پر تم لوگ اب کی بار میرے بارے میں بتانے پر چیخو گی
نہیں ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ حورم نے باری باری سب کو دیکھا
ٹھیک ہے بتاؤ ۔۔۔۔۔ دعا بولی
میرا میک اپ حانی نے کیا ہے کیونکہ روحانی نے بیوٹی سیلون سے
میک اپ کرنا سیکھا تھا جب وہ لندن میں تھا
ہے حورم نے ان سب کے سر پر بم پھوڑا
کیا ۔۔۔۔ وہ سب ایک ساتھ چیخیں اور اپنی اپنی جگہ سے کھڑی
ہو گئیں
________
کیا ۔۔۔۔۔۔ وہ سب ایک ساتھ چیخیں اور اپنی اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئیں
حورم بھی ان کے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی
سب ان کے اتنی اونچی آواز میں چیخنے پر اپنی باتیں چھوڑ ان سب کو دیکھنے لگے تھے جو روحان کو گھور رہی تھیں
حورم نے روحان کو آنکھ سے اشارہ کیا کہ گئے کام سے تم اب ۔۔۔۔
کیا ہو ابیٹا آپ سب کو کیوں اس طرح چیخی ہو اور اب سب بت بن کر کھڑی ہو گئی ہو
فاطمہ بیگم نے ان سے پوچھا
کیا بتائیں آپ کو ہم ماما کہ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ نور شاک کی کیفیت میں بولی
کیا ہو بیٹا ایسی بھی کیا بات ہو گئی
حرا بیگم نے پوچھا
ہائے ماما ہمارے ساتھ دھوکا ہو گیا ہم بے خبری میں مارے گئے
میرے بھائی نے مجھے بھی کچھ نہیں بتایا ہادیہ نے دہائی دی
اور اپنے مصنوئی آنسو صاف کیے
کیا کر دیا روحان نے بیٹا ۔۔۔۔ اب کی بار فیضان صاحب نے ہادیہ سے پوچھا
سب بڑے پریشانی سے ان سب کو دیکھ رہے تھے جو بات کا جواب
سیدھے سے نہیں دے رہی تھیں
آپ سب بھابھی کو دیکھ رہے ہیں نا یہ اس وقت کتنی پیاری لگ رہی ہیں
ہادیہ نے حورم کو ہاتھ سے پکڑ کر سب بڑوں کے سامنے کیا
حورم پیاری لگ رہی ہے تو ۔۔۔۔ رضا نے پوچھا
تو یہ کہ بھائی یہ سب روحان بھائی کا کمال ہے جواب عائزہ کی طرف سے
آیا
کیا مطلب ۔۔۔۔ سب نے ناسمجھی سے ان سب کی طرف دیکھا
مطلب یہ کہہ روحان بھائی نے مجھ سے ، پاپا اور ماما سے چپ کر لندن سےمیں ایک سیلون سے میک اپ کرنا سیکھا تھا اور بھابھی کا میک اپ بھی انہوں نے ہی کیا
ہے ہادیہ نے سب کی معلومات میں اضافہ کیا
واقعی میں ۔۔۔۔۔۔ سب حیرت سے روحان سے پوچھا
جی ۔۔۔ میرا دل کیا اور میں نے کر لیا روحان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
لو تو اس میں کون سی بڑی بات ہے ان لڑکیوں نے تو ایسے چیخ ماری تھی کہ جیسے پتا نہیں کیا ہو گیا ہے ہم سب کی بھی ایک دم جان ہی نکال دی
تھی چیخ کے ۔۔۔
حرا بیگم مسکراتے ہوئے بولیں
بھائی آپ کو میک اپ کرنا آتا ہی ہے تو کیا آپ ہم سب کا بھی میک اپ کر دیا کریں گے جب بھی ہم آپ سے کہیں گی
ہادیہ نے پوچھا
نہیں میں صرف ہنی کا ہی میک اپ کیا کروں گا اور کسی کا نہیں
روحان نے مسکراتے ہوئے صاف انکار کیا
ہائے اللہ میرا بھائی میرا نا رہا ۔۔۔۔ ہادیہ نے یہ کہتے ہوئے اپنے مصنوئی آنسو صاف کیے
سب اسکے انداز اور بات پر مسکرا دئیے
یقینا بھائی آپ نے پارلر کا کام بھی حورم کے لئے ہی سیکھا ہو گا ہے نا
میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا دعا نے روحان سے پوچھا
ہاں ۔۔۔۔ روحان نے کان کھجاتے ہوئے مسکراتے ہوئے جواب دیا
سب روحان کی بات پر مسکرا دئیے
اور حورم اور روحان کی خوشیوں کی دعا کی
پھر سب بیٹھے کافی دیر تک باتیں کرتے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو ہنی ۔۔۔۔ روحان نے اسے آئینے کے سامنے کیا اور خود اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسکے پیچھے کھڑا ہو گیا
تم بھی بہت اچھے لگ رہے ہو حانی ۔۔۔۔
وہ دوںوں اس وقت اپنے روم میں ہی تھے باقی سب ہوٹل پہنچ چکے تھے
ان کے ولیمے کا فنگشن رات کا تھا
اور روحان نے ہی حورم کا میک اپ کیا تھا
حورم کا ڈ ریس گرے کلر کی میکسی اور نیوی بلو کلر کے ڈوپٹا تھا جن پر
کاپر کلر کا ہیوی خوبصورت سا کام کیا تھا
خوبصورتی سے کیے گئے میک اپ اور اس ڈ ریس میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
جبکہ روحان گرے شرٹ ، نیوی بلو کلر کا پینٹ اور کوٹ پہنے اور نیوی بلو ہی ٹائی لگائے کسی ریاست کے شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا
اسی اثنا میں روحان کا موبائیل بج اٹھا اس نے موبائیل دیکھا تو ماما کا تھا
جی ماما ہم بس آ رہے ہیں دس منٹ میں ہم ہوٹل میں ہوں گے
اوکے اللہ حافظ ۔۔
ان سے کہنے کے بعد وہ حورم کی طرف متوجہ ہوا
چلو ہنی چلتے ہیں سب ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے
روحان نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے گاڑی تک لے آیا اور اسے گاڑی میں بیٹھا
کر گاڑی سٹارٹ کر دی
جب وہ دونوں ہوٹل میں داخل ہوئے تو ساری لائٹس آف ہو گئیں
صرف ایک فوکس لائٹ ہی اون تھی جو ان دونوں پر پڑ رہی تھی
اور ساتھ ان پر پھولوں کی بارش ہو رہی تھی
اور بیک گروانڈ میں گانا بھی چل رہا تھا
ایسا لگتا ہے کیوں
تیری آنکھیں جیسے آنکھوں میں میری رہ گئیں۔۔۔۔۔
کبھی پہلےمیں نے نا سنی جو
ایسی باتیں کہہ گئیں۔۔۔۔۔۔
تو ہی تو ہے جو ہر طرف میرے
تو تجھ سے پرے میں جاوں کہاں۔۔۔۔
اے میرے دل مبارک ہو یہی تو پیار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے دل مبارک ہو یہی تو پیار ہے۔۔۔۔۔۔
اے میرے دل مبارک ہو یہی تو پیار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے دل مبارک ہو یہی تو پیار ہے۔۔۔۔۔
ان دونوں کے سٹیج پر پہنچتے ہی ساری لائٹس اون ہو گئیں
بہت پیارے لگ رہے ہیں آپ دونوں ۔۔۔۔۔ نور نے ان دونوں کی
تعر یف کی
سب نے ان کی جوڑی کو سہرایا وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت پیارے لگ رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ بیگم اور حرا بیگم نے ان دونوں کی نظر اتاری
پھر ان دونوں کا فوٹو سیشن ہوا
جس میں روحان نے بہت ہی بولڈ پوسچر بنوائے حورم نے روحان کو گھورا بھی کہ نہیں کرو یہاں سب موجود
ہیں پر وہ کہاں باز آنے والا تھا
اس نے اپنی ہی چلائی اور حورم کو اسکی ماننا پڑی
کمال ، جمال اور فضل حسین بھی آئے ہوئے تھے وہ بھی ان دونوں
سے ملے اور ان کو شادی کی مبارک باد دی
اور سناو فضل حسین حورم زیادہ غصہ تو نہیں کرتی تم لوگوں پر ۔۔۔۔ دعا نے اس سے پوچھا
اس سے یہ پوچھتے ہوئے اسکی آنکھوں میں شرارت نمایاں تھی
اس وقت دعا ، مشال ، ہادیہ ، نور ، عائزہ ، ہانیہ اور روحان ، کمال ،جمال اور فضل حسین کے ساتھ ایک جگہ پر کھڑے تھے
جبکہ حورم اپنے بھائیوں اور ماما پاپا کے ساتھ سٹیج پر موجود تھی
کیا بتائیے ہم آپ کو کہ میم کتنے غصے والی ہیں میں تو ویسے ہی ان سے بڑا
ڈ رتا ہوں جب میم غصے میں ہوتی ہیں تو ہماری تو جان سولی پر لٹک جاتی
ہے کہ پتا نہیں میم ہمارے ساتھ کیا کر دیں گی
فضل حسین بولا
دعا جانتی تھی کہ وہ حورم سے کتنا ڈ رتا ہے اس نے جان بوجھ کر اسے یہ بات پوچھی تھی
فضل حسین حورم کا ماتحت تھا اور اس سے عمر میں بھی چھوٹا تھا
حورم کو بھی پتا تھا کہ وہ اس سے کتنا ڈ رتا ہے حورم جان بوجھ کر اس پر مصنوئی
غصہ کرتی ایسا کرنے میں اسے بہت مزہ آتا تھا
سب نے فضل حسین کا بات کرنے کا انداز اور اسکی بات سن بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی
فضل حسین کی ساری بات حورم نے بھی سن لی تھی وہ کچھ دیر پہلے اسکے
پیچھے آ کر کھڑی ہوئی تھی
سب نے اسے دیکھ لیا تھا سوائے فضل حسین
کےکیوںکہ وہ سٹیج کی طرف پشت کیے کھڑا تھا
حورم نے اشارے سے سب کو چپ رہنے کا کہا کہ کوئی بھی اسکے آنے کا فضل حسین کو نا بتائے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *