Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26

کیا ہے یار میں کب سے یہاں بیٹھا ہنی کی راہ دیکھ رہا ہوں اور وہ ہے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔۔۔۔
روحان کیوں بے صبرے ہو رہے ہو آ جائے گی تھوڑا سا تو صبر رکھو ۔۔۔
رضا نے مسکراتے ہوئے اسے سمجھایا
میں دعا کو فون کر کے پتا کرتا ہوں وہ ہنی کو لے کر کیوں نہیں آ رہیں
روحان پر اسکی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ دعا کو فون کرنے لگا جبکہ رضا اس کی بے تابی کو دیکھ کر ہنس رہا تھا اور دل میں اپنے
اپنے اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ اسکی بہن کو اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا
مہندی کا فنگشن حورم کے گھر کے لان میں ارینج کیا گیا تھا
پورے لان میں رنگ برنگی لائٹس جگمگا رہی تھیں لان میں سٹیج بنایا گیا تھا
جس پر ایک جھولا رکھا گیا تھا اور جھولے کو پھولوں سے بہت ہی
خوبصورتی سے سجایا گیا تھا
ساتھ میں ہلکی ہلکی آواز میں گانے چل رہے تھے
روحان اور اسکی فیملی کب سے آ چکے تھے حورم کی طرف اور روحان کب سے سٹیج پر بیٹھا حورم کا انتظار کر رہا تھا اس کے ساتھ رضا بھی سٹیج پر موجود
تھا
_____
دعا اگر پانچ منٹ کے اندر تم لوگ ہنی کو لے کر نا آئے تو میں نے خود اسے لینے پہنچ جانا ہے دعا کے کال اٹینڈ کرتے ہی روحان نے اسے دھمکی دی اور بنا اسکی سنے فون بند کر دیا
جبکہ رضا اسے دیکھ دیکھ کر ہنس رہا تھا
یار میرے بیٹھ جا آ جائے گی ۔۔۔ رضا نے مسکراتے ہوئے اسکو بیٹھایا
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
چلو چلو حورم کو نیچے لے کر چلتے ہیں کیونکہ حورم کے مسڑ نے مجھے فون
کر کے دھمکی دی ہے کہ اگر پانچ منٹ میں انکی ہنی نا آئی تو
انہوں نے خود آ جانا ہے اپنی ہنی کو لینے کے لئے ۔۔۔۔
دعا نے”’ اپنی ہنی”’ پر زور دے کر کہا
اسکی بات سن کر وہاں موجود سب لڑکیاں ہنسنے لگیں
اس بے شرم کو تو دیکھو مجال ہے جو اب بھی یہ شرما جائے تو ۔۔۔۔
عائزہ نے حورم کو گھورا جو ڈھیٹوں کی طرح سب کے ساتھ مل کر ہنس رہی
تھی
دعا ، عائزہ اور مشال کو تو یہ غم ہی کھائے جا رہا تھا کہ وہ حورم کو روحان کا نام لے کر تنگ نہیں کر سکیں گی
باتیں نا کرو مجھے لے کر چلو نہیں تو میں نے خود ہی چلے جانا ہے حورم آئینے کے سامنے سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی وہ تیار ہو چکی تھی
حورم نے مسکراتے ان کو دھمکی دی
توبہ توبہ ۔۔۔۔ کتنی جلدی ہے اسکو ۔۔۔۔ مشال نے کانوں کو ہاتھ لگائے
سب ان کی نوک جھونک سن کر ہنس رہی تھیں
پھر وہ سب حورم کو ڈوپٹے کے سائے میں سٹیج تک لے کر آئیں
روحان نے جب اسے آتے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا
وہ اسکے لائے ہوئے ڈ ریس اور کانوں میں پھولوں کی بالیاں ، ہاتھوں میں پھولوں کی گجرے اور پھولوں کو ہی ٹیکہ لگائے جنت کی حور لگ رہی تھی اور اسکا دل دھڑکا رہی تھی
بس کر میرے بھائی اس نے تیرے ہی پاس آنا ہے صبر کر لے ۔۔۔۔
رضا نے اسے ہلایا جو حورم کو دیکھے جا رہا تھا
اسکے ہلانے پر وہ ہوش میں آیا
اتنے میں حورم بھی سٹیج تک آ گئی تھی روحان نے اپنا ہاتھ اسکے آگے کیا
حورم نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے دیا
روحان اسکا ہاتھ پکڑے اسے جھولے تک لایا اور اسکے بیٹھنے کے بعد بھی اسکا
ہاتھ نہیں چھوڑا
روحان بھائی اب تو حورم کا ہاتھ چھوڑ دیں ۔۔۔۔ ہادیہ مسکراتے ہوئے بولی
میں نے تو نہیں چھوڑنا ہنی کا ہاتھ روحان نے اسکا ہاتھ اور مضبوطی سے پکڑ لیا
وہاں پر موجود ساری ینگ پارٹی اسکی اس حرکت پر ہنسنے لگے لیکن وہاں پرواہ کسے تھی
اب تم سب نیچے جاو ہمیں بھی کچھ پرائیوسی دے دو ۔۔۔ روحان نے سب
کو سٹیج سے نیچے جانے کا بولا
ویسے بہت ہی بے شرم ہو تم ۔۔۔۔ حسن نے مسکراتے ہوئے اسے شرم
دلانے کی کوشش کی لیکن روحان پر کوئی اثر نا ہوا
تو یہ میسنی کون سا کم بے شرم ہے ۔۔۔ عائزہ نے حورم کی طرف اشارہ کیا
جو سب کی باتیں سن کر ہنس رہی تھی
آپ دونوں ہیں ہی ایک جیسے بے شرم اس لئے اللہ نے آپ کی جوڑی بنائی ہے
مشال مسکراتے ہوئے ان کو چھیڑا
ہم تو پھر ایسے ہی ہیں ۔۔۔۔ حورم ایک ادا سے بولی
چلو چلتے ہیں سب اسے سے پہلے کہ یہ دونوں ہمیں سٹیج سے نیچے دھکا ہی دے دیں زوای نے مسکراتے ہوئے سب کو جانے کا بولا
پھر سب وہاں سے چلے گئے
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
بہت خوبصورت لگ رہی ہو ہنی اتنی کہ دل کر رہا ہے تمھیں اپنے دل میں چھپا لوں تاکہ تمھیں کسی کی نظر نا لگ جائے
اور میرے لیے مہندی لگوانے کے لئے شکریہ روحان اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے لو دیتے لہجے میں بولا
تم بھی بہت اچھے لگ رہے ہو حانی ۔۔۔۔ حورم نے اسکی
تعریف کی
روحان نے سفید شلوار قمیض اور پیلا ڈوپٹا گلے میں ڈالا ہوا تھا
ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو اسکی مردانہ وجاہت میں اور اضافہ کر رہی تھی
اسی اثنا میں روحان اور ہنی دوںوں کی ماما آ گئی اور ان دونوں نے روحان اور حور کی نظر اتاری
ماشا اللہ بہت پیارے لگ رہے ہیں میرے بچے اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے فاطمہ بیگم اور حرا بیگم نے اللہ سے ان کی خوشیوں کی دعا کی
حرا بیگم نے حورم کے سر پر پیلا ڈوپٹا ڈالا پھر انہوں نے ان دونوں کو مہندی لگا کر اور مٹھائی کھلا کر رسم کا آغاز کیا
پھر سب نے باری باری ان کو مہندی لگائی اور مٹھائی کھلائی
رسموں کے بعد شیری مائیک لے کر سٹیج پر آگیا
اٹینشن پلیز ۔۔۔۔ حورم کی مہندی کے لئے میں نے رضا بھائی ، حسن بھائی ،
زاوی بھائی اور باسل کو ٹاسک دیا تھا کہ وہ سب اپنی اپنی وائف کے ساتھ
مل کر کوئی گانا گائیں گے اور وہ ہر جوڑی جو بھی گانا گائے گی
وہ اپنے اپنے پاٹنر کو ڈیڈ یکیٹ کرے گی ۔۔۔۔ تو دیکھتے ہیں کس نے کون سا گانا تیار کیا ہے
تو اب میں سب سے پہلے زاوی بھائی اور زویا بھابھی کو بلاتا ہوں کہ وہ آئیں اور ہمیں کوئی گانا سنائیں
شیری نے ان دونوں کو سٹیج پر بلایا یہ سب آئیڈیا بھی شیری کا ہی تھا
وہ دوںوں سٹیج کے ایک کونے پر مائک پکڑ کر کھڑے ہو گئے روحان اور حورم
جھولے پر ہی بیٹھے ہوئے تھے
زاوی نے گانا گانا شروع کیا
سنھبالو گے جو تم نا تو میں جاوں گا کہاں۔۔۔۔
تمھیں بھی پتا ہو گا تمھارا ہوں میں نا۔۔۔۔
یہ تیرا میرا رشتہ خدا نے بنایا ہے نا۔۔۔۔۔
تبھی تو ملایا زمین پے ہے نا ۔۔۔۔
مجھے تجھ میں پناہ دے نا ۔۔۔۔
تیرے جیسا بنا دے نا۔۔۔۔
کھو جاوں کہیں جو میں مجھے ڈھونڈ تو لا دینا ۔۔۔۔
زوای نے زویا کو آگے گانے کا اشارہ کیا
میں نے تجھے پایا تو ہے قسمتوں سے ابھی۔۔۔۔
دو قسمتیں ملتی ہوئی کھو جا جائیں کہیں ۔۔۔۔
یہ تیرا میرا رشتہ خدا نے بنایا ہے نا۔۔۔۔
تبھی تو زمین پےملایا ہے نا ۔۔۔۔
ان دونوں کے گانا ختم کرتے ہی حورم اور روحان نے کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر ان کو داد دی
سب نے بھی تالیاں بجائیں اور ان کو داد دی
بہت اچھا گایا بھائی اور بھابھی آپ نے ۔۔۔۔ شیری نے ان دونوں کی تعر یف کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ذ را ہم عائزہ کو بولاتے ہیں ان کے مسڑ کے ساتھ
شیری نے عائزہ اور حسن کو آنے کا اشارہ کیا
حسن نے گانا گانا سٹارٹ کیا
خواب ہے تو نیند ہوں میں۔۔۔۔ دونوں ملیں رات بنے ۔۔۔۔
روز یہی مانگوں دعا تیری میری بات بنے ۔۔۔۔
بات بنے ۔۔۔۔۔
میں رنگ شربتوں کا تو میٹھے گاٹھ کا پانی ۔۔۔۔
میں رنگ شربتوں کا تو میٹھے گاٹھ کا پانی۔۔۔۔۔
مجھے خود میں گھول دے تو میرے یار بات بن جانی ۔۔۔۔
میں رنگ شربتوں کا تو میٹھے گاٹھ کا پانی ۔۔۔۔
حسن نے مسکراتے ہوئے عائزہ کو آگے گانے کو کہا ۔۔۔۔
تیرے خیالوں سے تیرے خیالوں تک میرا تو ہے آنا جانا۔۔۔۔
میرا تو جو بھی ہے تو ہی تھا تو ہی ہے باقی جہاں بیگانا
عائزہ نے بہت ہمت سے دو لائینں گائیں اسکا شرم سے برا حال ہو رہا
بہت اچھا گیا آپ دونوں نے حورم نے تالیاں بجاتے ہوئے ان کی تعر یف کی
باقی سب نے بھی تالیاں بجائیں
وہ دونوں مسکراتے ہوئے سٹیج سے نیچے چلے گئے
پھر شیری نے دعا اور رضا کو سٹیج پر بھیجا
پہلے رضا نے ہی گانا سٹارٹ کیا
نا جیا زندگی ایک پل بھی
تجھ سے ہو کہ جدا سن ذ را ۔۔۔
دعا نے گانا سٹاٹ کیا
بن تیرے مجھ سے ناراض تھا دل
تو ملا ہے تو کہہ رہا
رضا :۔۔۔۔۔۔
میں تو تیرے رنگ میں رنگ چکا ہوں بس تیرا بن چکا ہوں
میرا مجھ میں کچھ نہیں سب تیرا
دعا :۔۔۔۔۔۔
میں تو تیرے ڈھنگ میں ڈھل چکی ہوں ۔۔۔۔بس تیری بن چکی ہوں۔۔۔
میرا مجھ میں کچھ نہیں سب تیرا ۔۔۔ سب تیرا ۔۔۔
دعا کے بس کرتے ہی حورم بھاگتی ہوئی دعا کے پاس آئی
لگتا ہے میرے بھائی سے زیادہ ہی محبت ہو گئی ہے چڑیل کو ۔۔۔
حورم نے دعا سے کہا تھا جو رضا نے بھی سب لیا تھا وہ اسکی بات سن کر مسکرانے لگا اور دعا شرم سے لال ہوتی ہوئی حورم کو گھور ہوئی
سٹیج سے چلی گئی اسکے پیچھے پیچھے رضا بھی سٹیج سے
نیچے چلا گیا
پھر باسل اور نور سٹیج پر آئے گانا گانے کے لئے
سب کی طرح رضا نے ہی پہلے گانا گایا
تیرے بن تیرے بن جینا تیرے بن تیرے بن مرنا ۔۔۔
یہ مناسب لگے نا مجھے ۔۔۔
مجھے اب رہنا ہے رہنا ہے ساتھ تیرے۔۔۔
بس یہی کہنا ہے کہنا ہے دلبر میرے ۔۔
تیرےبن تیرے بن جینا تیرے بن تیرے بن مرنا۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔یہ مناسب لگے نامجھے ۔۔
باسل کے اشارا کرنے پر نور نے گانا شروع کیا
تیرے خواب دیکھے تھے تو ہی ملا ہے رب کا بھی شاید یہی فیصلہ ہے۔۔۔۔
تیرے ہاتھ میں یہ میرا ہاتھ ہو ۔۔۔۔۔
تیرے سنگ ہنسا ہے بسنا ہے ساتھ تیرے ۔۔۔۔
بس یہی کہنا ہے کہنا ہے دلبر میرے ۔۔۔
تیرے بن تیرے بن جینا تیرے بن تیرے بن مرنا ۔۔۔۔۔
یہ مناسب لگے نا مجھے ۔۔۔۔
حورم اور روحان سمیت سب نے ان کے لئے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں
وہ دونوں سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سٹیج سے اتر گئے
تو اب باقی بچے ہیں مسڑ شیری تو آ جاو تم سٹیج پر اپنی مسسز کے ساتھ
حورم نے اسکو آنے کی دعوت دی
اجازت ہے ایس پی صاحبہ شیری نے مسکراتے ہوئے حورم سے اجازت
مانگی
حورم نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا
شیری نے گانا شروع کیا
جو تیرے سنگ لاگی پریت موہے۔۔۔۔۔
روح بار بار تیرا نام لے ۔۔۔۔۔۔
کہ رب سے مانگی۔۔۔۔۔ یہی دعا ۔۔۔۔۔
تو ہاتھوں کی لکیریں تھام لے ۔۔۔۔۔
مشال نے ہمت کی اور گانا گانا شروع کیا اسکی تو آواز بھی نہیں نکل رہی تھی
چپ ہے باتیں دل کیسے بیان میں کروں۔۔۔۔
تو ہی کہہ دے وہ جو بات میں نا کہہ سکوں ۔۔۔۔
مشال کے دو لائینں گانے کے بعد باقی کا گانا شیری نے گایا
کہ تیرے سنگ پانیوں سا پانیوں سا بہتا رہوں۔۔۔۔۔
تو سنتی رہے میں کہانیاں سی کہتا رہوں۔۔۔۔۔
کہ سنگ تیرے بادلوں سا بادلوں سا اٹرتا رہوں۔۔۔۔۔
تیرے ایک اشارے پر تیری اور مڑ تا رہوں۔۔۔۔
باقی سب کی طرح مشال اور شیری کو بھی سب نے تالیاں بجا کر داد دی
_________
اب میں حورم اور روحان بھائی سے بھی کہوں گا کہ وہ دونوں بھی کوئی
گانا گائیں
شیری نے ان دونوں سے فرمائش کی
لو بھلا یہ کیا بات ہوئی ہمیں بھی پہلے بتا دیتے ہم بھی کوئی گانا ہی
سوچ لیتے ۔۔۔۔۔ حورم نے احتجاج کیا
کوئی بات نہیں ہنی اسکی یہ خواہش پوری کر دیتے ہیں
یہ کہتے ہی روحان نے حورم کے کان میں کچھ کہا اور سر ہلاتی ہوئی روحان کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی
پہلے میں گانا میں سٹارٹ کروں گا اور تھوڑا سا ہنی گائے گی منظور ہے
روحان نے شیری سے پوچھا
ٹھیک ہے بس وہ گانا آپ نے حورم کے لئے گانا ہے شیری بولا
اوکے کہتے ہوئے روحان نے گانا سٹارٹ کیا
میں بارش ہو جاوں گا تم بادل ہو جاو گی ۔۔۔۔دیکھ لینا۔۔۔۔
دیکھ لینا۔۔۔۔۔
اتنا تم کو چاہوں گا تم پاگل ہو جاو گی۔۔۔۔۔ دیکھ لینا ۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ لینا۔۔۔۔۔۔
کہتا ہے سن یہ دھوپ کنارہ تیرا ہوا میں سارا کا سارا۔۔۔۔
دیکھ لینا
تیرے ہونٹوں پے ہمیشہ میں ہنستا ہی رہوں گا ۔۔۔۔۔دیکھ لینا۔۔۔۔
دیکھ لینا ۔۔۔۔۔
بھیگی جو تیری آنکھیں آنکھوں سے میں بہنوں گا۔۔۔۔۔ دیکھ لینا۔
ناؤ یو ہنی ۔۔۔۔ روحان نے دلفر یب مسکراہٹ کے ساتھ اسے گانے کو کہا
دل تو ہر سینے میں ہے پیار لیکن مجھ میں سب سے زیادہ۔۔۔ دیکھ لینا۔۔۔
اپنی لکیروں میں لکھ لوں گی خود ہی تم کو ہے میرا وعدہ۔۔۔دیکھ لینا ۔۔۔
روحان نے باقی کا گانا گایا
کہتا ہے سن یہ دھوپ کنارہ تیرا ہوا میں سارا کا سارا۔۔۔ دیکھ لینا ۔۔۔
دیکھ لینا ۔۔
تیرے ہونٹوں پے ہمیشہ میں ہنستا ہی رہوں گا۔۔۔۔ دیکھ لینا ۔۔۔۔۔
دیکھ لینا ۔۔۔۔۔
بھیگی جو تیری آنکھیں آنکھوں سے میں بہنوں گا۔۔۔۔ دیکھ لینا۔۔۔
روحان نے اسے دیکھتے ہوئے باقی کا گانا گایا تھا
سب نے اپنی اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر ان کو تالیاں بجا کر داد دی
کچھ دیر کے بعد روحان اور حورم ، مشال اور شیری ، رضا اور دعا ،
عائزہ اور حسن ، باسل اور نور ، زاوی اور زویا ، آیان اور ہادیہ ، شایان اور ہانیہ.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *