Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24
روحان کے ماما ، پاپا اور اسکی بہن ہادیہ پاکستان آ چکے تھے جیسے ہی سب کو پتا چلا کہ روحان کے ماما اور پاپا واپس آگئے ہیں سب ان سے ملنے چلے آئے
اس وقت روحان کے گھر زاوی اور اسکی فیملی کے علاوہ سب موجود تھے
حور ابھی تک پولیس اسٹیشن سے نہیں آئی تھی
روحان تمھاری ایک بہن بھی ہے تم نے ہمیں بتایا ہی نہیں سب نے اس سے شکوہ کیا
میں تم سب کو سرپرائز دینا چاہتا تھا کہ تم سب لوگ ہادیہ کو دیکھ کر
کیسا ریسپانس دیتے ہو روحان نے مسکراتے ہوئے ان کے شکوے کا جواب دیا
بہت خوشی ہوئی ہمیں یہ جان کر کہ تمھاری ایک پیاری سی بہن بھی ہے
رضا نے خوشی کا اظہار کیا
ہادیہ بہت ہی پیاری ہے ہمیں ہادیہ سے مل کر بہت اچھا لگا دعا بھی بولی
تھینکس آپی ۔۔۔۔ مجھے بھی آپ سب بھی بہت اچھے لگے آپ سب سے مل کر مجھے بھی بڑی خوشی ہوئی ہادیہ خوشی سے بولی
اسی اثنا میں حور فل غصے میں روحان کے گھر داخل ہوئی اسے روحان کی رخصتی والی بات پر بہت غصہ تھا
مجھے تم سے بات کرنی ہے سائیڈ پر چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔ حور بنا کسی کی طرف دیکھے سیدھا روحان کے پاس آئی
حور کو دیکھ کر سب اسکی طرف متوجہ ہو گئے لیکن اس کا دھیان صرف روحان کی ہی طرف تھا اس نے غور نہیں کیا کہ وہاں کون کون موجود ہے اس وقت ۔۔۔۔
مجھے پتا ہے تم نے مجھ سے کیا بات کرنی ہے اس لئے جو بھی کہنا ہے سب کے سامنے ہی کہہ دو تاکہ سب کو پتا تو چلے کہ تمھارے دماغ میں کیا چل رہا ہے روحان نارمل لہجے میں اس سے مخاطب ہوا
مجھے نہیں کرنی تم سے شادی میں نے تم سے کتنی بار کہا ہے کہ میری جان چھوڑ دو تم الٹا میرے گلے ہی پڑھ گئے ہو ۔۔۔۔ حور نے اسے غصے سے گھورا اور بنا کسی کی بھی پرواہ کیے اپنی بات بیان کی
تم شاید بھول رہی ہو کہ ہمارا نکاح ہو چکا ہے بس رخصتی ہی رہتی ہے روحان نے اسے یاد دلایا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گیا
روحان کی بات سن کر شیری ، رضا ، آیان ، شایان ، باسل ،نور اور حسن کو ایسا لگا تھا جیسے ان کے پر آسمان آن گرا ہو
________
تم شاید بھول رہی ہو کہ ہمارا نکاح ہو چکا ہے بس رخصتی ہی رہتی ہے روحان نے اسے یاد دلایا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گیا
روحان کی بات سن کر شیری ، رضا ، آیان ، شایان ، باسل ،نور اور حسن کو ایسا لگا تھا جیسے ان کے پر آسمان آن گرا ہو
وہ سب منہ کھولے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے کہ حور اور روحان کا نکاح کب ہوا ہے
جبکہ دعا ، عائزہ اور مشال نے ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا کہ ہمارا اندازہ بلکل د رست تھا
اور ہادیہ حور کو دیکھ رہی تھی کہ اتنی غصے والی لڑکی اس کی بھابھی ہے
تو پھر مجھے طلاق دے دو مجھے نہیں رہنا تمھارے ساتھ ۔۔۔۔۔ غصے کی وجہ سے حور کا چہرہ لال ہو گیا اور اس نے روحان سے طلاق کا مطالبہ کیا
حور ۔۔۔۔ علی صاحب غصے سے بولتے ہوئے صوفے سے کھڑے ہو گئے
پلیز بابا مجھے بات کر لینے دیں حور نے انکی طرف دیکھا
فاطمہ بیگم نے علی صاحب کا بازو پکڑ کر دوبارہ ان کو صوفےپر بیٹھایا اور ان
کو ابھی کچھ بھی کہنے سے باز رکھا
حور علی صاحب سے بات کرنے کے بعد پھر سے روحان کے سامنے کھڑی ہو گئی
مجھے طلاق چاہیئے اگر تم نے مجھے طلاق نا دی نا تو میں تمھارے ساتھ بہت برا کروں گی حور نے اسے دھمکی دی
روحان نے اسے بازو سے پکڑ کر پوری طاقت سے اپنی طرف کھینچا اور حور کٹی پتنگ کی طرح اسکی طرف کھینچی چلی آئی
حور نے اپنے ہاتھ اسکے سینے
پر رکھ کر اپنے اور روحان کے د رمیان فاصلہ قائم کیا
ان کے د رمیان انچ بھر کا فاصلہ رہ گیا تھا
میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ میں ایسا ہر گز نہیں کروں گا
اور اب بھی کہہ رہا ہوں کہ میں تمھیں طلاق نہیں دوں گا یہ بات اپنے دماغ میں بیٹھا لو
اور تم کیا کر لو گی یہ بھی بتا دو
روحان ایک ایک لفظ پر زور دے کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غصے سے اور اونچی آواز میں بولا
حور نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا
اور اپنی گن اس پر تان دی
جان سے مار دوں گی تمھیں اگر تم نے میری بات نا مانی تو اس طرح ہی صحیح میری تم سے جان چھوٹ جائے گی
تم مجھے مارو گی۔۔۔۔۔ مارو گولی میں تمھارے سامنے کھڑا ہوں ۔۔۔۔۔ روحان نے اسے چیلنج کیا
سب کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا یہ سب دیکھ کر
حور ۔۔۔۔ کیا کر رہی ہو گن نیچے کرو گولی چل جائے گی پاگل ہو گئی ہو
حسن نے اسے باز ر کھنے کی کوشش کی
ہاں ہو گئی ہوں میں پاگل اگر یہ میری بات نہیں مانے گا تو میں وہی کروں گی جو میرا دل کرے گا
سب منہ کھولے حور کا دیوانہ پن دیکھ رہے تھے
حور کا دھیان حسن کی طرف ہو گیا جس کا موقع اٹھا کر روحان نے حور کے ہاتھ سے گن چھین لی
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ حور کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے
اب اگر تم نا مانی رخصتی کے لئے تو میں نے اسی گن سے خود کو چھوٹ کر لینا ہے
روحان نے اسکی گن اپنی کنپٹی پر رکھ کر اسے دھمکی دی
حور نے کیھنچ کر ایک تھپڑ اسکے گال پر رسید کیا اور اس سے گن لے لی
تم نے مرنے کو مذاق سمجھا ہوا ہے حور غصے سے بولی
اسکی بات سن کر روحان مسکرانے لگا
ابھی تو خود ہی مجھے مار رہی تھی تم۔۔۔۔۔
میں نے سوچا تم سے تو ہو گا نہیں میں ہی تمھارا کام آسان کر دوں اب کیوں لے لی میرے ہاتھ سے گن
تمھاری ہی تو خواہش پوری کر رہا تھا میں ۔۔۔
تم کیوں میری زندگی مشکل کر رہے ہو مان کیوں نہیں لیتے میری بات حور تھوڑا دھیما پڑ گئی
روحان اسکے قریب ہوا اور اسکے کان میں سرگوشی کی
”” بن کے میری زندگی تم آجاو میری بانہوں میں
سانسوں کو سانسوں کی حرارت چوم لینے دو ””
روحان کی گرم سانسیں حورم کے کان کو جھلسا رہی تھیں
اوپر سے اسکا اس طرح کا شعر لو دیتے لہجے میں پڑھنا اسکی کی دھڑکنوں کو تیز کر گیا تھا
اور وہ سرخ پڑ گئی روحان سمجھ نا سکا کہ حورم غصے سے لال ہوئی ہے یا
شرم سے
میں تمھاری قسم کھا کے سب کے سامنے کہہ رہا ہوں اگر کل صبح تک تم نے ہاں نا کی تو میں نے خود کو ختم کر لینا ہے ساری رات ہے تمھارے پاس فیصلہ کر لو تم کیا چاہتی ہو اور صبح مجھے اپنا فیصلہ سنا دینا
روحان نے اس سے دور ہوتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا اور اسے دھمکی بھی دی
حور جتنے غصے سے آئی تھی اس سے زیادہ غصے سے وہاں سے چلی گئی
سوری بیٹا میں تم سے حور کی طرف سے معافی مانگتی ہوں اسے تم سے ایسے بات نہیں کرنا چاہیئے تھی فاطمہ بیگم حور کے جانے کے بعد
روحان سے معذرعت خوانہ لہجے میں بولیں
آپ کو سوری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے حور مجھ پر ہر حق رکھتی ہے مجھے اسکی کوئی بھی بات بری نہیں لگی کیونکہ مجھے پتا تھا کہ رخصتی کی
بات سن کر ایسا ہی کرے گی اور مجھے پتا ہے اسے کس طرح قابو کرنا ہے
اب آپ دیکھے گا ہاں میں ہی جواب آئے گا اسکی طرف سے
آپ ٹینشن نالیں ۔۔۔۔ روحان ان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے مسکراتے ہوئے
پُر یقین لہجے میں گویا ہوا
ہممم ۔۔۔۔ فاطمہ بیگم بولیں
آپ سب پریشان نا ہوں آج جو ہوا ہے یہ ہونا بہت ضروری تھا اب حورم بلکل ٹھیک ہو جائے گی اور آج سے آپ سب اسے حورم ہی کہیں گے کوئی بھی اسے حور نہیں کہے گا
پلیز میری یہ ریکویسٹ ہے سب سے اگر حور آپ کو حورم کہنے سے منا کرے تو آپ نے پھر بھی اسے حورم ہی کہنا ہے
پلیز ۔۔۔۔۔
روحان نے سب سے د رخواست کی
سب نے ہاں میں سر ہلایا
پھر سب ان سے اجازت لے کر اپنے اپنے گھر چلے گئے
اور فیضان صاحب اور حرا بیگم اپنے کمرے میں چلے گئے آرام کرنے کے لئے ۔۔۔
اور ہادیہ روحان کے کمرے میں آ گئی اس سے باتیں کرنے کے لئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی بھابھی تو بہت ہی بڑی توپ ہے اور بہت ہی غصے والی بھی
اگر وہ آپ کو سچ میں مار دیتں تو ۔۔۔۔ ہادیہ نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی
ہاہاہاہا غصے والی تو وہ بہت ہے اور توپ چیز بھی ہے لیکن وہ مجھے کبھی نہیں مار سکتی ۔۔۔۔ روحان ہنستے ہوئے بولا
میں تو سچ میں انہیں اتنے غصے میں دیکھ کر ڈ ر گئی تھی پر ہیں وہ بہت پیاری بلکل جنت کی حور کی طرح ۔
وہ کیا سب کے ساتھ ایسے ہی بات کرتی ہیں جیسے آج آپ کے ساتھ کی تھی
نہیں گڑیا وہ تو آج غصے میں تھی اس لئے ایسے بات کر رہی تھی
ورنہ وہ سب کے ساتھ بہت اچھی ہے تم کل اس سے ملنا وہ تم سے
بہت اچھے سے ملے گی
اور دعا ، مشال اور عائزہ میں سے کسی سے ہنی کی یونی کی باتیں پوچھنا پھر تمھیں پتا چلے گا کہ تمھاری بھابھی کیا چیز ہے اور تمھیں ایک اور بات بتاوں
ہنی پولیس میں ایس پی لگی ہوئی ہے اور اسکی پورے شہر میں بہت
شہرت ہے روحان نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا
واقعی میں بھائی ۔۔۔۔ ہادیہ حیران ہوئی
ہاں یہ سچ ہے اب تم بھی سو جاو جا کر تھک گئی ہو گی
جی ٹھیک ہے بھائی گوڈ نائٹ ۔۔۔۔
گوڈ نائٹ گڑیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر روحان کی توقع کے عین مطابق حور نے ہاں کر ہی دی سب حور کے اس فیصلے سے بہت خوش تھے
فاطمہ بیگم روحان اور علی صاحب تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے
ان کی تو دلی مراد پوری ہو گئی تھی
ماما آپ حورم کے گھر کب جا رہی ہیں روحان نے حرا بیگم سے پوچھا
میں نے تمھیں پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہی کہ میں اسے اپنی
بہو نہیں بنانا چاہتی ہوں
روحان اس وقت ان کے ساتھ کچن میں موجود تھا اور وہ رات کے کھانے کی تیاری کر رہیں تھیں
ٹھیک ہے پھر میں بھی اپنی جان لے لوں گا اگر آپ نے میری بات نا مانی تو روحان نے پاس پڑی چھری اپنی سے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر کٹ لگایا
اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں کر کے دیکھاوں گا
اور ابھی بھی آپ نے میری بات نا مانی تو میں اپنی شہ رگ کاٹ لوں
گا اس نے چھری اپنی شہ رگ پر رکھ لی
روحان جنونی ہو رہا تھا
تھیک ہے بیٹا تم جیسا کہو گے میں ویسا ہی کروں گی پہلے تم پٹی کر لو خون بہہ رہا ہے
حرا بیگم اس کے آگے ہار مان گئیں
نہیں آپ ابھی پاپا کو لے کر ہنی کے گھر جائیں اور اس مہینے کی 22
کی شادی کی تاریخ فاعنل کر کے آئیں جب آپ مجھے خوشخبری سنائیں گی تب میں پٹی کروں گا
روحان ضدی لہجے میں بولا
ٹھیک ہے میں ابھی جاتی ہوں تمھارے پاپا کو لے کر اس کے گھر وہ روتے ہوئے بولیں اور اسکی بات پر عمل کرنے کی ہامی بھر لی
اب وہ فیضان صاحب کے ساتھ حور کے گھر موجود تھیں اور قسمت سے حور
اور اسکے پاپا بھی گھر پر موجود تھے
ہم آپ سے حورم کے رشتے کے سلسلے میں آئیں ہیں فیضان صاحب نے
اپنے آنے کی مدعا بیان کی
حورم آپ کی ہی امانت ہے جب چاہے آپ لے جا سکتے ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں علی صاحب بولے
روحان کے کہنے کے بعد سب حور کو حورم کہنے لگے تھے
جب حور کو پتا چلا کہ روحان نے سب سے اسے حورم کہنے کا کہا ہے تو اس نے کسی کو بھی نہیں ٹوکا حورم کہنے سے
ٹھیک ہے پھر اس مہینے کی 22 کو حورم کو آپ سے ہمیشہ کے لئے
اپنے گھر لے جانے آئیں گے آپ کوئی اعتراض تو نہیں ۔۔۔۔
فیضان صاحب نے ان سے پوچھا
نہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے جواب علی صاحب کی طرف سے آیا
میں روحان کو بتاتی ہوں جا کر حرا بیگم بولیں
اتنی بھی کیا جلدی ہے بھابھی تھوڑی دیر بیٹھ تو جائیں فاطمہ بیگم نے ان کو روکا
نہیں میرا جانا بہت ضروری ہے اگر میں نے اسے جا کر تاریخ پکی ہونے کی خبر نا دی وہ اس وقت تک پٹی نہیں کرے گا اب تک تو اسکا بہت خون بہہ گیا ہو گا وہ روتے ہوئے بولیں
کیوں کیا ہوا روحان کو ۔۔۔۔۔ حورم جو کب سے دروازے کے پاس کھڑی تھی سامنے آتے ہوئے ان سے پوچھا
وہ میں مان نہیں رہی تھی اس شادی کے لئے اس لئے اسنے اپنے ہاتھ پر کٹ لگا لیا تھا اور کہا کہ اگر میں نے اسکی بات نا مانی تو وہ اپنی شہ رگ کاٹ لے گا انہوں نے روتے ہوئے ساری بات بتائ
حورم یہ سنتے ہی بھاگتی ہوئی روحان کے گھر گئی
پلیز آپ لوگ مجھے معاف کر دیں میں نے ہمیشہ آپ سب کے لئے اپنے
دل میں نفرت پالے رکھی
پھر انہوں نے ان سب کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ہی حورم کو مردہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی
انہوں نے علی صاحب اور فاطمہ بیگم سے معافی مانگی اور ان دونوں نے کھلے
دل سے حرا بیگم کو معاف کر دیا
جب حورم روحان کے گھر کے اندر داخل ہوئی تو اسکا سامنا ایک لڑکی سے ہوا
جو آیان کی ہم عمر نظر آ رہی تھی
حورم کو دیکھتے ہی وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی
دوسری طرف ہادیہ حورم کو دیکھ کر ڈ ر گئی تھی کہ اب پتا نہیں وہ اتنے غصے میں کیوں آئی ہے
ہادیہ نے دعا لوگوں سے حور کے یونی کے قصے سنے تھے اور وہ وڈیوز بھی دیکھی تھیں جس میں حور لڑکوں کو مار رہی تھی
ان وڈیوز کو دیکھ کر ہادیہ پر اور بھی حور کی دہشت بیٹھ گئی تھی
ہادیہ نے فٹا فٹ حورم کو سلام کیا
وعلیکم اسلام گڑیا آپ کون ہو ۔۔۔۔۔؟ حورم نے اسے پہلی دفعہ دیکھا تھا
اس دن جب وہ روحان سے لڑ کر گئی تھی اس نے کسی پر غور نہیں کیا تھا کہ وہاں کون کون موجود ہے
اور نا ہی وہ یہ جانتی تھی کہ روحان کی کوئی بہن بھی ہے اس کے حساب
سے تو روحان اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا
میں روحان بھائی کی چھوٹی بہن ہادیہ ۔۔۔۔ ہادیہ نے اپنا تعارف کروایا اس کا کچھ ڈ ر کم ہو گیا تھا کیوں کہ حورم نے بہت پیار سے اسے مخاطب کیا تھا
روحان کی بہن بھی ہے مجھے کسی نے بتانا تک پسند نہیں کیا
حورم حیران ہوئی
تم سے مل کر اچھا لگا ہادیہ میں اس وقت جلدی میں ہوں آپ سے پھر بات
ہو گی مجھے روحان کا کمرہ بتاو کون سا ہے
اوپر رائٹ ہینڈ پر فرسٹ والا روم بھائی کا ہے
حورم تھینکس کہتے ہوئے روحان کے کمرے میں چلی گئی
پیچھے سے ہادیہ سوچ رہی تھی کہ میں ایسے ہی ڈ ر رہی تھی بھابھی تو بہت اچھی طرح پیش آئی ہے میرے ساتھ ۔۔..
جاری ہے
