Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19

جی جی کمال بھائی جیسا میں نے آپ سے کہا تھا آپ ویسا ہی کریں میں ابھی تو تین دن کی چھٹی پر ہوں
اتنے میں د روازے پر نوک ہوا
کمال بھائی ہولڈ کریں ذ را میں ابھی آپ سے بات کرتی ہوں
جی کون ہے آ جائیں اندر ۔۔۔۔۔
آیان اندر آیا ۔۔۔۔ ہاں بولو کیا بات ہے آیان
وہ رضا بھائی تمھیں نیچے بلا رہے ہیں اور تمھارا وائلن لانے کو کہا
کیوں وائلن کا کیا کرنا ہے بھائی نے ۔۔۔۔۔ حور نے پوچھا
خود ہی نیچے آ کر دیکھ لینا
اوکے تم وائلن لے جاؤ میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں
وہ وائلن لے کر چلا گیا
جی کمال بھائی میں کہہ رہی تھی کہ ابھی تو میں تین دن کی چھٹی پر ہوں
میرے واپس آنے کے بعد ہم آگے کا کام کریں گے اور آپ نے اور جمال بھائی نے ضرور آنا ہے میری بہن کی شادی پر اپنی فیملی کے ساتھ
حور اپنے ماتحت سے کیس کے بارے میں بات کر رہی تھی
کمال اور جمال اس کے ماتحت تھے وہ دوںوں بھائی تھے اور لاہور میں ہی رہتے تھے
اوکے ٹھیک ہے میڈم ہم ضرور آئیں گے
ٹھیک ہے آپ سے پھر بات ہو گی
حور نے اللہ حافظ کہتے ہوئے فون بند کر دیا
کچھ دیر کے بعد وہ وائلن لے آیا
حور نہیں آئی ۔۔۔ شیری نے پوچھا
حور نے کہا ہے وہ تھوڑی دیر میں آتی ہے وہ فون پر کسی سے بات کر رہی ہے
چلو روحان اب آ گیا وائلن اپنی پسند کی دھن ہی سنا دو ہمیں بھی تو پتا چلے تم کیسا وائلن پلے کرتے ہو حسن نے اس کے ہاتھ میں وائلن دیا
روحان نے اس سے وائلن لے کر ”” ہم کو ہمی سے چرا لو ”” گانے کی دھن بجانی شروع کی
حور ابھی کال سن کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ اسے اپنی پسندیدہ دھن بجتی ہوئی سنائی دی جو وہ اکثر بجاتی رہتی تھی
شاید کسی نے میری ہی بجائی ہوئی دھن کی ڈی وی ڈی پلے کی ہو گی اس نے دھن سننے کے بعد سوچا
اور وہ نیچے آ گئی جہاں سب موجود تھے
جب وہ نیچے آئی تو اس نے کبیر کو دھن بجاتے ہوئے پایا
ارے یہ تو کبیر سر ہیں کمال ہے ان کو بھی وائلن پلے کرنا آتا ہے اس نے سوچا
دعا سر کبیر یہاں کیسے اور ان کو وائلن بھی پلے کرنا آتا ہے مجھے نہیں پتا تھا وہ دعا کے پاس کھڑی ہو گئی جو سٹیج کے پاس رکھی کرسیوں پر بیٹھی تھی
باقی سب بھی وہاں ہی بیٹھے تھے
سٹیج پر نور ، باسل اور روحان موجود تھے
کبیر سر رضا اور حسن بھائی کے دوست ہیں اور ہمیں بھی نہیں پتا تھاکہ وہ وائلن بھی بجا لیتے ہیں وہ تو رضا نے ہمیں بتایا اور ان سے اپنی پسند کی دھن بجانے کی کی فرمائش بھی کی ہے
اور دیکھو تو ذرا حور ان کی اور تمھاری پسندیدہ دھن ایک ہی ہے
تو اس میں کون سا بڑی بات ہے اب اگر مجھے یہ دھن پسند ہے تو اسکا ہر غرض یہ مطلب نہیں ہے کہ وہی دھن کسی اور کو پسند نہیں ہو سکتی
حور نے اسکی عقل پر ماتم کیا
اور تمھیں ایک اور بات بتاوں کیبر سر کا پورا نام روحان کبیر ہے وہ ہمارے کزن ہیں لندن والے فیضان انکل کے بیٹے
روحان کبیر ۔۔۔۔؟ حور نے تصدیق چاہی
ہاں روحان کیبر ہی نام ہے ان کا ۔۔۔۔ دعا بولی
اور حور کا تو یہ حال تھا جیسے اسے کسی نے پتھر کا بت بنا دیا ہو وہ یک ٹک روحان کو دیکھے گئی
حور نے روحان کو اب غور سے دیکھا تھا
چھے فٹ سے قد ،چوڑے چھانے، کھلتا ہوا گندمی رنگ ، گرے آنکھیں ، دائیں گال میں پڑتا ڈمپل ، ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو وہ مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا
دعا نے حور کی طرف دھیان نہیں دیا اور روحان کی طرف متوجہ ہو گئی
روحان آنکھیں بند کیے دھن بجا رہا تھا کچھ دیر بعد اسے اپنی ہنی کی موجودگی کا احساس ہوا اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو حور کو اپنی طرف ہی
دیکھتے پایا
ہنی ۔۔۔۔ وہ زیر لب بولا
________
ہنی ۔۔۔۔ وہ زیر لب بولا
اس نے اسی وقت دھن بجانا بند کر دی سب نے تالیاں بجا کر اسے داد دی لیکن اسکا سارا دھیان حور کی طرف تھا جو اب اسکی طرف نہیں دیکھ رہی تھی
جو شاکینگ پنک کلر کی کرتی یلو لہنگا جس پر گرین اور پرپل کلر کا کام کیا گیا تھا ، پرپل ڈوپٹا سر پر اوڑھے کانوں میں پھولوں کی بالیاں ، ہاتھوں میں گجرے ، ماتھے پر پھولوں کا ٹھیکہ لگائے اور نیچرل پنک لیپسٹک لگائے واقعی حور لگ رہی تھی
اسے دیکھ کر روحان نے دل میں ماشا اللہ بولا
وہ سٹیج سے اتر کر ساری ینگ پارٹی کے پاس آگیا
بہت اچھا پلے کیا ہے تم نے حور بھی بلکل تمھاری طرح ہی یہ دھن پلے کرتی ہے ایسا لگ رہا تھا جیسے حور ہی دھن پلے کر رہی ہو رضا مسکراتے ہوئے بولا
روحان نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا بس مسکرانے پر ہی اکتفا کیا
اسکا سارا دھیان ابھی بھی حور کی ہی طرف تھا
ایک منٹ میں تمھیں حور سے ملواتا ہوں رضا اس سے کہتا حور کو لینے چلا گیا
جو ان سے کچھ دور بیٹھیں زاوی کی ماما پاس موجود تھی
روحان کے دعا لوگوں کے پاس آتے ہی حور زاوی کی ماما کے پاس چلی گئی تھی
حور ۔۔۔۔ رضا نے اسے پکارا
جی بھائی ۔۔۔۔ حور نے جواب دیا
حور میرے ساتھ چلو تمھیں کسی سے ملوانا ہے
چلیں وہ رضا سے کہتی اس کے ساتھ چل پڑی
حور تم انہیں پہلے ہی جانتی ہو لیکن ایک بات تمھیں نہیں پتا کہ یہ ہمارے
لندن والے فیضان انکل کا بیٹا روحان ہے
رضا نے سب کے پاس آنے کے بعد اسکا روحان سے تعارف کروایا جس کی نظریں حور کے چہرے پر ہی جم گئیں تھیں
ہیلو ۔۔۔۔ روحان نے یہ کہتے ہوئے اپنا دایاں ہاتھ حور کی طرف بڑھایا
ہیلو ۔۔۔۔ اینڈ سوری میں کسی سے ہاتھ نہیں ملاتی حور نے اپنے لہجے کو عام رکھنے کی کوشش کی لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی
حور کے تلخ لہجے کو سب نے محسوس کیا لیکن بولا کوئی نہیں
اوکے ایز یو ویش ۔۔۔۔ روحان نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا
سوری اگر آپ کو برا لگا ہو تو ۔۔۔۔۔ اور آپ سے مل کر اچھا لگا یہ کہتے ہوئے حور وہاں سے چلی گئی
اور روحان اسکو جاتا دیکھتا رہا
پھر مہندی کی رسمیں ادا کی گئیں اور رات گئے تک فنگشن چلتا رہا
اس سارے عرصے کے دوران حور روحان کی نظروں کے حصار میں رہیں
وہ جہاں بھی جاتی روحان کی نظریں اسکا پیچھا کرتیں
فنگشن ختم ہونے کے بعد وہ اپنے گھر آ گیا جو کہ حور کے ساتھ والا ہی بنگلہ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھا حور کی تصویر دیکھ رہا تھا جو اس نے رضا کے موبائیل سے لی تھی
جب وہ نور کی مہندی پر پکس بنا رہے تھے تو رضا نے اسے اپنا موبائیل دیا تھا کہ تم نور لوگوں کی کچھ تصویریں میرے موبائیل میں بنا دو میں تم سے موبائیل آ کر لیتا ہوں اور خود رضا اپنے پاپا کے پاس چلا گیا جو رضا کو بلا رہے تھے
جب اس نے نور لوگوں کی تصویریں بنائیں تو اس وقت سٹیج پر نور اور باسل کے ساتھ حور اور ہانیہ بھی موجود تھیں
نور نے حور اور ہانیہ کو بھی اپنے ساتھ کھڑا کر لیا تصویر بنانے کے لئے
تب روحان نے زوم آوٹ کر کے صرف حور کی ہی تصویر لی تھی اور پھر وہ تصویر اس نے نمبر پر واٹس اپ کر کے رضا کے موبائیل سے ڈلیٹ کر دی
ہنی میں آج بہت بہت خوش ہوں کہ میری ہنی زندہ ہے میرا دل پہلے ہی کہتا تھا کہ تم میرے آس پاس ہو مجھے کیا پتا تھا کہ تم تو میرے ساتھ والے بنگلے میں ہی رہتی ہو
ہنی تم آج بہت پیاری لگ رہی تھی بلکہ جنت کی حور کی طرح
لیکن تم بہت بدل گئی ہو جیسی میں تمھیں چھوڑ کر گیا تھا اب تم ویسی نہیں ہو
وہ اسکی تصویر سے باتیں کر رہا تھا
لگتا ہے تم مجھ سے ناراض ہو کوئی نہیں میں تمھیں منا لوں گا اور تمھیں
ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے پاس لے آوں گا پھر ہمیں دنیا کی کوئی بھی طاقت دور نہیں کر پائے گی اب میں تمھیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا
اب میں اس قابل ہو گیا ہوں کہ تمھیں دینا کی ہر خوشی دے سکوں
اس سے باتیں کرتے کرتے وہ نیند کی وادی میں اتر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ میاں کیوں وہ پھر سے آگیا ہے میری زندگی میں کتنی دعائیں کی تھیں میں نے آپ سے کہ اب اسے میری زندگی میں واپس نا بھجیے گا
کاش میری ایک ہی دعا قبول ہو گئی ہوتی میں کیسے اسکا سامنا کروں
آج میں نے اسکی آنکھوں میں اپنے لئے وہی محبت دیکھی جو بچپن میں دیکھی تھی وہ آج بھی مجھ سے محبت کرتا ہے لیکن میں اسکی محبت کے بدلے
میں کچھ نہیں دے پاؤں گی
میرا دامن تو بلکل خالی ہے
حور آج اللہ سے شکوہ کر رہی تھی کہ اللہ نے اسکی ایک دعا بھی قبول نہیں کی
لیکن اسے نہیں پتا تھا کہ اللہ نے اسکی دعائیں اس لئے قبول نہیں
کی تھیں کہ اللہ نے اس کے لئے کچھ اور پلین کیا ہوا تھا
روتے روتے ہی وہ سو گئی
کبھی کبھی کوئی جو باہر سے جیسا نظر آتا ہے وہ اندر سے بلکل بھی ویسا نہیں ہوتا
کیونکہ اس کے ساتھ کچھ ایسا ہو جاتا ہے جو اسے اندر سے ختم کر دیتا ہے
اس میں جینے تک کی تمنا بھی نہیں بچتی ہے
پر وہ اپنے پیاروں کی وجہ سے زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے
پر وہ ایک عام انسان کی طرح زندگی نہیں گزار پاتا
بظاہر تو وہ سب کو دنیا کا سب سے خوش اور مطمئن
شخص نظر آتا ہے پر اندر سے وہ کیا ہے کوئی نہیں جانتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ا گلے روز نور کی بارات کا دن تھا نور پارلر گئی ہوئی تھی تیار ہونے کے لئے
حور نے سب کو منع کر دیا تھا کہ وہ نور کو لینے کوئی نہیں جائے گا
اسے پارلر سے لینے کے لئے میں خود جاوں گی
ماما میں نور کو لے کر ہال میں ہی آجاوں گی آپ سب ہم دونوں کے آنے سے پہلے ہال پہنچ جائیے گا
وہ تیار ہو کر سٹرھیاں اتر رہی تھی
فاطمہ بیگم نے اس کی طرف دیکھا جو سی گرین کرتی جس پر بیبی پنک اور سی گرین کلر کا خوبصورت کام کیا گیا تھا ، بیبی پنک کلر کا لہنگا جس پر سی گرین اور سلور کلر کا کام کیا گیا تھا سر پر سی گرین ڈوپٹا سیٹ کیے
ہمشہ کی طرح چہرے پر کریم ، آنکھوں پر مسکارا اور کاجل لگائے اور ہونٹوں پر نیچرل پنک لیپسٹک لگائے بہت خوبصورت لگ رہی تھی
فاطمہ بیگم نے اسے دیکھ کر ماشااللہ کہا اور اسکی نظر اتاری
ٹھیک ہے بیٹا تم جاو ہم بھی نکلتے ہیں ہال کے لئے وہ حور سے کہتی ہوئیں
سب کو لینے چلیں گئیں اور حور پارلر چلی گئی
جب حور پارلر پہنچی تو نور ڈوپٹا سیٹ کروا رہی تھی
میری بہن بہت پیاری لگ رہی ہے اللہ اس کو ہر بری نظر سے بچائے حور نے نور کی نظر اتارئی
ریڈ کلر کی کرتی جس پر سلور کلر کا اتنا ہیوی کام تھا کہ کرتی کا ریڈ کلر تھوڑا تھوڑا ہی نظر آ رہا تھا اور ریڈ لہنگا جس پر سلور کلر کا کام کیا گیا تھا اور ریڈ ہی ڈوپٹا لیے ، جولیری پہنے ،خوبصورت سے میک اپ میں خوبصورت
لگ رہی تھی
تھینکس حور تم بھی بہت اچھی لگ رہی ہو
جب نور مکمل طور پر تیار ہو گئی تو حور اسے لے کر ہال کی طرف روانہ ہوگئی
جب وہ نور کو لے کر ہال پہنچی تو اسکے ماما پاپا ، بھائی اور باقی سب پہلے سے ہی ہال میں موجود تھے
زاوی کے ماما پاپا ، شیری کے ماما اور پاپا اور ساری لڑکیاں نور کی طرف سے شرکت کر رہیں تھیں
جبکہ دعا کے ماما پاپا اور باقی لڑکے باسل کے ساتھ بارات لے کر آنے والے تھے
وہ نور کو لے کر ڈ ریسنگ روم میں آ گئی
ڈ ر تو نہیں لگ رہا نا میری بہن کو حور نے نور کو اپنے ساتھ لگایا
تھوڑا تھوڑا سا لگ رہا ہے نور نے جواب دیا
ڈرنے کی کوئی بات نہیں وہی باسل ہے جس کے ساتھ تم نے اتنے سال گزارے ہیں اور ایسی فیلنگز کا ہونا نارمل سی بات ہے تم ریلیکس ہو کر بیٹھو
ٹھیک ہے حور نے اسے سمجھایا
نور نے ہاں میں سر ہلایا
اچھا شور ہو رہا ہے باہر لگتا ہے بارات آ گئی ہے میں دیکھتی ہوں حور اس سے کہتی وہاں سے چلی گئی
بارات آ چکی تھی حورنے جاتی ہی باسل کا راستہ روکا
چلو چھوٹے پیسے نکالو نہیں تو پنجاب پولیس تمھیں اندر نہیں جانے دے گی
حور نے مسکراتے ہوئے اسے دھمکی دی
حور کی بات سن کر باسل سمیت سب ہنسنے لگے
اور روحان وہ آج بھی دیوانوں کی طرح بس حور کو ہی دیکھے جا رہا تھا
کتنے پیسے چاہیں پنجاب پولیس کو ۔۔۔۔ باسل نے مسکراتے ہوئے پوچھا
ابھی تو تم 20 ہزار ۔۔۔۔ دے دو باقی کے بعد میں لیتی ہوں حور نے جیسے اس پر احسان کیا
باسل نے اسے 20 ہزار نکال کر دے دئیے
اب تم اندر آ سکتے ہو لیکن پنجاب پولیس کی نظر تم پر ہی رہے گی حور نے اسے چھیڑا
پلیز مجھے اریسٹ مت کیجئے گا آج میری شادی ہے باسل نے ڈرنے کی ایکٹینگ کی
ان کی باتیں سن کر سب ہنس رہے تھے
پھر باسل کا اور باقی سب کا بہت اچھے سے اسقبال کیا گیا اور سب ہال کے اندر داخل ہوئے
کچھ دیر کے بعد نور کو باسل کے ساتھ لا کر بیٹھایا گیا
فاطمہ بیگم اور عائشہ بیگم نے نور اور باسل کی نظر اتاری وہ دونوں ایک ساتھ بہت پیارے لگ رہے تھے
ہنی ۔۔۔۔ روحان نے حور کو بلایا جو دعا ، مشال اور عائزہ کے ساتھ ایک کونے میں کھڑی ہنس رہی تھی
حور نے کوئی ریسپانس نہیں دیا
ارے روحان بھائی کس کو ہنی کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔ دعا نے پوچھا
جس کو کہا ہے اسے پتا چل گیا ہو گا ۔۔۔۔ وہ بات دعا سے کر رہا تھا لیکن اسکا دھیان حور کی طرف تھا
آپ حور کی بات کر رہیں ہیں نا بھائی دعا نے روحان کا دھیان حور کی طرف دیکھ کر اندازہ لگایا
ہاں حورم کی بات کر رہا ہوں میں ۔۔۔۔
مسٹر روحان کبیر میرا نام حور ہے نا حورم اور نا ہی نہیں ہنی سمجھے آپ آئیندہ مجھے حور ہی کہیے گا حور غصے سے بولی
مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔ روحان نے بنا اس کی بات کا برا منائے اپنی مدعا بیان کی
لیکن مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ناؤ پلیز ایکسکوز میں ۔۔۔۔۔ حور کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
اور دعا لوگ منہ کھولے حور کو جاتا دیکھ رہیں تھیں وہ شاک میں تھیں کہ حور کسی سے اتنی بد تمیزی سے بات کر سکتی ہے وہ حور جس نے آج تک کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی
سوری بھائی حور ایسی نہیں ہے پتا نہیں آج اسے کیا ہو گیا ہے آپ پلیز اسے معاف کر دیں اسکی بات کا برا نا مانیں گا پلیز
عائزہ نے حور کی طرف سے معافی مانگی
روحان اس سے اوکے کہتا وہاں سے چلا گیا
پھر حور نے دودھ پلائی کی رسم ادا کی
چلو اب پچاس ہزار نکالو نہیں تو ہم تمھیں دلہن نہیں لے جانے دیں گے
حور نے باسل کو مسکراتے ہوئے ڈرایا
یہ لیں 50 ہزار پر ورنہ پنجاب پولیس کا کیا اعتبار کہ وہ
”دل والے کو دلہنیا لے جانے ہی نا دے ” پھر اس دل والے کا کیا ہو گا
باسل نے اسے 50 ہزرا دیتے ہوئے نور کا ہاتھ پکڑ لیا
جس پر سب نے ہوٹینگ کی
پھر سب نے اپنی دعاوں کے سائے میں نور کو باسل کے ساتھ رخصت کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کو روحان بھائی کہ ساتھ ایسا بی ہیو نہیں کرنا چاہئیے تھا عائزہ نے افسوس
کا اظہار کیا
اس وقت دعا ، عائزہ اور مشال باسل کے گھر ہی موجود تھیں
شاید حور کو ان کا ہنی کہنا برا لگا ہو اس لئے حور نے ان کے ساتھ ایسا بی ہیو کیا اور تم لوگوں کو پتا تو ہے کہ حور لڑکوں کے معاملے میں کتنی بری ہے مشال نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا
اگر ایسی بات ہے جیسا تم کہہ رہی ہو تو پھر نور کی مہندی والے دن حور کا لہجہ روحان بھائی کے ساتھ اتنا سخت کیوں تھا دعا نے ان کی توجہ ایک اور بات کی طرف دلوائی
یہ بھی تم ٹھیک کہہ رہی ہو دعا اس دن بھی حور نے ان سے اچھے سے بات نہیں کی تھی اور آج بھی عائزہ نے اسکی بات کی تصدیق کی
اور تم دونوں نے غور کیا جب حور روحان بھائی کے سامنے ہوتی ہے تو وہ حور کو ہی دیکھتے رہتے ہیں اور حور کو دیکھتے ہی ان کی آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی ہے
مشال نے ان کے سامنے ایک اور نقطہ پیش کیا
ہاں میں نے بھی غور کیا ہے اور ایک اور بات وہ یہ کہہ روحان بھائی اور حور دونوں وائلن بجاتے ہیں اور ان دونوں کی پسندیدہ دھن بھی سیم ہے
عائزہ نے ایک اور نقطے پر روشنی ڈالی
مجھے تو لگتا ہے کہ روحان بھائی ہی سے حور کا نکاح ہوا ہے وہ بھی تو بچپن میں آئے تھے پاکستان اور حور نے ہمیں بتایا تھا کہ اسکا نکاح بچپن میں ہی ہو گیا تھا دعا نے اندازہ لگایا
اور کیا پتا یہ یہی سچ ہو تم لوگوں کو یاد ہے حور نے ہم سے کہا تھا کہ اللہ کرے وہ واپس نا آئے اور اب اگر وہ روحان بھائی ہیں اور واپس آ گئے ہیں تو اسی لئے حور ان کے ساتھ اتنی بری طرح سے پیش آ رہی ہے مشال نے
بھی اپنے خیالات پیش کیے
پر جب روحان بھائی ہمیں پڑھاتے تھے تو انہوں نے ہم سے کہا تھا کہ ان کی بیوی کی ڈیتھ ہو گئی ہے کہیں بھائی نے اور شادی تو نہیں کی ہوئی
عائزہ بولی
مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ اس دن حور کہ ہی بات کر رہے تھے اور کل بھائی نے بتایا تو تھا کہ کسی نے ان سے کہا تھا کہ حور مر گئی ہے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *