Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12

آپ آپ ۔۔۔۔ میری ہنی کی بات کر رہے ہیں بابا
ہاں بیٹا اسکی ہی بات کر رہا ہوں
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی وہ نا میں سر
ہلاتے ہوئےزمین پر بیٹھتا چلا گیا
بیٹا صبر کرو ہم اللہ کے کاموں میں کوئی دخل نہیں دے سکتے خان بابا
نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی
اگر تم کہو تو میں تمھیں اس کی قبر تک لے جاؤں خان بابا نے اس سے
پوچھا
ٹھیک ہے چلیں بابا
خان بابا اس کو اسکی ہنی کی قبر پے لے آئے
آپ اب جائیں بابا میں یہاں اکیلا رہنا چاہتا ہوں
وہ ٹھیک ہے بیٹا کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئے
قبر کی تختی پر اس کی ہنی کا نام د رج تھا اس نے اس کے نام پر ہاتھ
پھیرا
تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہو ہنی تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی
میں نے تم سے کہا تھا کہ میں آؤں گا تم میرا انتظار کرنا پر تم مجھے چھوڑ کر چلی گئی تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا کوئی کسی کے ساتھ ایسا بھی کرتا ہے بھلا ہنی
وہ روتے ہوئے اس کی قبر پر سر رکھے اس سے گلے شکوے کر رہا تھا
کہاں ہو تم ۔۔۔تم میری کال کیوں نہیں اٹینڈ کر رہے کل سے میں تمھیں کال کر رہیں ہوں اسکی ماما اس سے بولیں
ماما میری ہنی اس دنیا میں نہیں رہی وہ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے ماما
اس نے اپنی ماما کو اپنی ہنی کی موت سے آگاہ کیا
کیا ۔۔۔۔ اس کی ماما شاک کی کیفیت میں بولیں
تمھیں کیسے پتا چلا اس کی ماما نے اس سے پوچھا
اس نے ساری بات ان کو بتا دی
اب تم کہاں ہو بیٹا ۔۔۔۔۔
قبرستان میں ہوں ۔۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔ کہیں تم کل سے تو ادھر نہیں ہو اس کی ماما نے پوچھا
جی ماما میں کل سے ادھر ہوں
یعنی تم کل شام سے ادھر ہی ہو اور اب بھی پاکستان میں رات ہونے والی ہے
جی ۔۔۔۔ اس نے نم لہجے میں اعتراف کیا
خود کو سنھبالو اس کی روح تمھیں ایسی حالت میں دیکھ کر تڑپتی ہو گی اس کی مغفرعت کی دعا کرو مجھے تمھارے پاپا اور تمھاری بہن کو تمھاری ضرورت ہے ہمارے لئے ہی اس دکھ کو بھولنے کی کوشش کرو
تمھارے پاپا کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ان کو تمھاری اس حالت
کا پتا چلا تو ان کی طبیعت اور خراب ہو جائے گی اس کی ماما روتے ہوئے بولیں
ٹھیک ہے ماما آپ روئیں نا ۔۔۔۔ اس دکھ کو بھولنا بہت مشکل ہے لیکن
میں آپ لوگوں کے لئے خود کو سنھبال لوں گا
اللہ حافظ ماما ۔۔۔۔۔
اللہ حافظ بیٹا
وہ ایک ماہ کراچی میں رہا اور وہ سارا دن اسکی قبر پر ہی گزارتا تھا
پھر وہ لاہور آگیا کیونکہ وہ لاہور میں اپنا بزنس شفٹ کرنے آیا تھا اس کے پاپا کا لندن میں اپنا بزنس تھا اور اب وہ لوگ ہمیشہ کے لئے پاکستان
آنا چاہتے تھے اس لئے وہ لاہور میں اپنا بزنس ٹرانسفر کر رہے تھے
اس کے پاپا اسے کئی بار فون کر چکے تھے کہ وہ بزنس پر دھیان دے
ان کا مینیجر پہلے ہی کام کو دیکھ رہا تھا لیکن اس کا وہاں ہونا
ضروری تھا ۔۔۔۔ اپنے پاپا کے کہنے پر لاہور آ گیا وہ ان کو انکار نہیں کر سکتا
تھا اگر انکار کرتا تو اسے وجہ بھی بتانا پڑتی اور وہ پاپا کو وجہ نہیں بتانا
چاہتا تھا
اگر ان کو ہنی کی موت کا پتا چل جاتا تو ان کی طبیعت خراب ہو جاتی
کیوں کہ وہ دل کے مرض تھے اور وہ ہنی کے بعد اپنے پاپا کو نہیں کھونا
چاہتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیسی تیاری ہے سب کی ۔۔۔۔ حور نے سب سے پوچھا
آج ان کا میڈ ٹرم کا پہلا پیپر تھا
بس ٹھیک ہی ہے مشال نے دکھی سا منہ بنایا
اور تم لوگوں کی ۔۔۔ حور نے دعا ، عائزہ ، شیری سے بھی پوچھا
ٹھیک ہی ہے ۔۔۔۔ وہ تینوں بولے
تمھاری تو بہت اچھی ہو گی ہے نا ۔۔۔۔ دعا نے اس سے پوچھا
ہاں جی ۔۔۔۔ حور بولی
چلو اب چلتے ہیں پیپر سٹارٹ ہونے والا ہے شیری نے انہیں احساس دلایا
چلو چلو دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔عائزہ بولی
شکر خدا کا پیپر ختم ہوئے دعا نے آخری پیپر دینے کے بعد شکر ادا کیا
واقعی جان چھوٹی پیپروں سے بھی مشال نے بھی اسکی بات سے اتفاق کیا
اور چھٹیاں بھی ہو گئیں عائزہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا
اب ہم مل کر یہ چھٹیاں انجوائے کریں گے شیری خوشی سے بولا
چلو پھر اس خوشی میں آج کا لنچ کسی ہوٹل میں کرتے ہیں حور مسکراتے
ہوئے بولی
اس کو تو کھانے کی ہی پڑی رہتی ہے عائزہ نے اسے گھورا
کوئی نہیں چلتے ہیں مزہ آئے گا شیری بولا
ٹھیک ہے پھر نور اور باسل کو لے آو ان کا بھی پیپر ختم ہو گیا ہو گا
حور شیری سے بولی
ٹھیک ہے تم لوگ انتظار کرو ادھر ہی میں ان کو ابھی لے کر آیا
شیری ان سے کہتا ہوا ان دونوں کو لینے چلا گیا
حور ،دعا ، عائزہ ، مشال ، نور حور کی گاڑی پر یونی آتی تھیں اور باسل شیری
کے ساتھ یونی آتا تھا
نور اور باسل کو لے کر وہ سب ہوٹل چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت د ربار میں موجود تھا اور اپنی آنکھیں بند کیے مزار پر کھڑا دعا مانگ رہا تھا
دعا مانگنے کے بعد جب اس نے اپنی انکھیں کھولیں تو اس نے اپنے ساتھ ایک لڑکی کو کھڑا پایا
وہ لڑکی بہت خوبصورت تھی سفید رنگ کا حجاب سر پر لئے اور چاد ر
اپنے گرد پھیلائے وہ اپنی آنکھیں بند کیے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے کھڑی تھی اس کے لب ہل رہے تھے
وہ بے مقصد ہی اس لڑکی کو دیکھے گیا اس لڑکی کے دائیں ہاتھ کی کلائی میں کالے اور لال رنگ کا دھاگہ بندا ہو اتھا جو کہ یقنا اس لڑکی نے اس
د ربا ر سے لیا ہو گا
وہ لڑکی وہاں سے چلی گئی لیکن وہ اب بھی ویسے ہی کھڑا تھا جیسے پہلے کھڑا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج نیو ائیر نائٹ تھی ساری ینگ پارٹی اس وقت گھر سے روڈ پر موجود تھی
ہاں تو تیاری کیسی ہے آپ دونوں کی نور نے زاوی ،حور سے پوچھا
بہت اچھی ۔۔۔۔ زاوی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
میں تو بہت پرجوش ہوں میں ہی جیتوں گی حور پرجوش سی بولی
اگر تم ہار گئی تو تم ہم سب کو کل کا لنچ کرواؤ گی ٹھیک ہے دعا نے حور کے ساتھ شرط لگائی
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے حور نے حامی بھر لی
نیو ائیر شروع ہونے والا ہے کاونٹ ڈاون شروع ہونے لگا ہے
وہاں پر موجود ایک چینل کی ریپورٹر کی آواز آئی
ٹین ۔۔۔ نائن ۔۔۔ ایٹ ۔۔۔ سیون ۔۔۔ سکس ۔۔۔۔ فائیو ۔۔۔ فور ۔۔۔
تھری ۔۔۔ ٹو ۔۔۔ ون
ہیپی نیو ائیر ۔۔۔۔ حور لوگ بھی سب کے ساتھ بولے
اور آسمان پر ہر طرف آتش بازی شروع ہو گئی
واوووو۔۔۔۔ کتنا اچھا لگ رہا ہے زویا نے خوشی کا اظہار کیا
زویا بھی آئی ہوئی تھی زاوی کے ساتھ اور بے بی زاوی کے ماما اور پاپا
کے پاس چھوڑ آئی تھی
پھر ریس شروع ہوئی حور اور زاوی نے باقی سب ریسرز کے ساتھ اپنی اپنی
پوزیشن سنھبالی
ون ٹو تھری انیڈ سٹارٹ ۔۔۔۔ ریس شروع کی گئی
روڈ پر بڑی بڑی سکر ینز لگی ہوئیں تھی جس پر سب ریسرز کو دیکھا جا سکتا
تھا
جی ناظرین جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ریس شروع ہو گئی ہے تمام ریسرز
ایک دوسرے سے آگے جانے کی کوشش کر رہے ہیں
ہم آپ کو لائیو یہ ریس دیکھا رہے ہیں تاکہ جو لوگ یہاں موجود نہیں ہیں وہ بھی اس ریس کو دیکھ سکیں
یہ اس شہر کی سب سے بڑی ریس ہے جو نیو ائیر نائٹ پر رکھی جاتی ہے
اور ہم اپ کو بتاتے چلیں جیتنے والے کو ٹرافی کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ بھی دیا جائے گا
ایک چینل کے ریپورٹر نے سب کو آگاہ کیا
حور ، دعا ، عائزہ ، شیری ، مشال ، زاوی کے ماما اور پاپ گھر پر بیٹھے اس
ریس کو دیکھ رہے تھے
مشال بھی اپنے بھائی کے ساتھ آئی ہوئی تھی
آپ کو بتاتے چلیں ناظرین کہ اس وقت وائٹ بائیک اور بلیک جیکٹ میں
موجود ریسر سب سے آگے ہے
واوووو ۔۔۔۔ ناظرین اس ریسر نے کیا کمال کا ٹرن لیا ہے
کچھ وقت کے لئے میرے ساتھ ساتھ آپ کی بھی سانس رک گئی ہو گی
کیوں کہ اس ریسر نے بہت خطرناک طریقے سے ٹرن لیا تھا ایسا لگا جیسے
اس ریسر کا کچھ نہیں بچے گا لیکن انہوں نے بڑے کمال سے ٹرن لیا ہے اور اب بھی وہ ہی آگے ہیں
آپ کو بتا تے چلیں کہ یہاں سے ریس سٹارٹ ہوئی تھی وہاں پر ہی ختم
ہو گی دیکھتے ہیں وائٹ بائیک ہی آ گے رہتی ہے یا کوئی اور ان کو مات دے کر پہلے نمبر پر آ جائے گا ناظرین مقابلہ بہت سخت ہے چینل کا ریپورٹر اونچی آواز میں مائک میں بول رہا تھا
جیسا کہ آپ سب دیکھ سکتے ہیں کہ وائٹ بائیک والے ریسر نے یہ ریس
جیت لی
آئیں ان سے بات کرتے ہیں ان کو کیسا لگا چینل کا ریپورٹر جیتنے والے
کی طرف بڑھا اسکے ساتھ ساتھ کیمرا مین بھی تھا
واوووو۔۔۔۔۔ حور تم نے کمال کو دیا سب نے اسے مبارک باد دی
دعا اور عائزہ ، مشال ، نور ، ہانیہ اور زویا اس کو گھیر کر کھڑیں ہو گئیں
ایکسکیوز می مسڑ کیا میں آپ سے بات کر سکتا ہوں ریپورٹر نے حور کو مخاطب کیا حور اس کی طرف پشت کیے کھڑی تھی اور اسکے سر پر ابھی
بھی ہیلمٹ موجود تھا ابھی تک کسی کو بھی نہیں پتا چلا تھا
کہ ریس جیتنے والی ایک لڑکی ہے
ریپورٹر کےحور کو مسڑ کہنے پر حور کے ساتھ ساتھ دعا لوگوں کی بھی ہنسی نکل گئی
حور اس وقت ہر سکرین پر صرف تم ہی نظر آ رہی ہو دعا نے اسے آگاہ کیا
حور مسکراتے ہوئے ریپورٹر کی طرف مڑی
جی بلکل بات کر سکتے ہیں آپ حور نے اپنا ہیلمٹ اتارتے ہوئے اسے جواب دیا
آپ ۔۔۔آپ ایک لڑکی ہیں جس نے اس ریس کو جیتا ہے ہوسٹ شاک کی کیفیت میں بولا
جی بلکل ۔۔۔۔ حور نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
_________
آپ ۔۔۔آپ ایک لڑکی ہیں جس نے اس ریس کو جیتا ہے ہوسٹ شاک کی کیفیت میں بولا
جی بلکل ۔۔۔۔ حور نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
حور کو دیکھ کر سب شاک میں چلے گئے کہ ایک لڑکی نے اتنےلڑکوں
کو مات دے کر ریس جیت لی
ناظرین میرے ساتھ ساتھ آپ کو بھی شاک لگا ہو گا کہ ریس ایک لڑکی
نے جیتی ہے
آپ کا نام کیا ہےریپورٹر نے سے پوچھا
حور علی نام ہے میرا ۔۔۔۔
اوکے آپ کو بہت بہت مبارک ہو مس حور ۔۔۔۔
تھینکس ۔۔۔۔ حور نے اسکا شکریہ ادا کیا
آپ کو کیسا لگ رہا ہے ریس جیت کر کیا آپ اپنے جذبات سب سے شیئر کریں گی
مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے یہ ریس جیت کر میری یہ جیت میرے سب
اپنوں کے نام ۔۔۔۔ حور مسکراتے ہوئے بولی
آپ کو ایک دفعہ پھر مبارک ہو ۔۔۔۔۔ ریپورٹر اس سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
زاوی لوگوں نے بھی حور کو مبارک باد دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج پھر اس کو بنا کسی مقصد کے ہی دیکھتا رہا وہ بھی اس ریس میں شامل تھا وہ بہت اچھی بائیک چلاتا تھا اس نے اپنے اکلوتے دوست کے کہنے پر ریس میں حصہ لیا تھا
اسکے دوست کا نام بلال تھا بلال سے اس کی دوستی یونیورسٹی میں ہوئی
تھی بلال اپنی سٹیڈیز کے لئے لندن آیا تھا اور اس کی وہاں اس سے دوستی
ہو گئی ان کے ڈپارٹمینٹ الگ تھے لیکن پھر بھی وہ بہت اچھے دوست
تھے
وہ اس ریس میں سیکنڈ نمبر پر آیا تھا وہ بھی اس لڑکی کو دیکھ کر شاک میں تھا کہ وہ کتنی بہاد ر ہے اس نے ایک لڑکی ہو کر اتنی بڑی ریس جیت
لی وہ اسے آج بہت مختلف نظر آئی جب اس نے پہلی دفعہ اسے
دربار پر دیکھا تھا تو وہ کبھی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا کہ وہی لڑکی اسے ریس
کی ونر بن کر ملے گی
آج اس نے بلیک جینز ، بلیک شرٹ ، بلیک لمبا کوٹ اور سر پر بلیک ہی
حجاب لیا ہوا تھا
ارے تم یہاں کھڑے ہو میں نے تمھیں کافی جگہ تلاش کیا ہے اور تم یہاں ہو اس کا دوست بلال اس کے پاس آیا
تم یقینا حیران ہو گئے ایک لڑکی کو ونر کی صورت میں دیکھ کر ہے نا لیکن میں نہیں ہوں کیونکہ میں حور کو پہلے سے ہی جانتا ہوں وہ کچھ بھی کر سکتی ہے وہ بہت بہاد ر ہے
کیسے جانتے ہو تم اس لڑکی کو اس نے بلال سے پوچھا
میری سٹوڈینٹ ہے اپنی کلاس کی ٹاپر ہے پتا ہے کچھ لڑکوں نے اس
کے ساتھ بد تمیزی کی تو اس نےان کا وہ حال کیا کہ آئیندہ کسی
کی ہمت نہیں حور کو تو کیا کسی دوسری لڑکی کو بھی تنگ کر جائے
جب کوئی کسی لڑکی کو تنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ اس کا وہ حال
کرتی ہے مار مار کر کہ وہ پھر کبھی کسی بھی لڑکی کو آنکھ اٹھا کر نہیں
دیکھتا اب تو یونی میں اس کی اتنی دہشت ہے کہ اگر کوئی کسی لڑکی کو تنگ کرنے کی کوشش کرتا تو سب کہتے ہیں کہ نا کرو نہیں تو حور آجائیے گی
ہاہاہاہاہا لڑکیوں کے لئے ہیرو اور لڑکوں کے لئے ویلن ہے حور
بلال نے اسے ہنستے ہوئے اسے ساری تفصیل بتائی
جیسا تم کہہ رہے ہو اس سے تو لگتا ہے کہ یہ لڑکی واقعی میں بہت بہاد ر
ہے اس نے اپنی رائے بیان کی
وہ واقعی میں بہاد ر ہے اچھا تم بتاؤ تمھارا بزنس کیسا جا رہا ہے بلال نے اس
سے پوچھا
اچھا جا رہا ہے ۔۔۔ اس نے جواب دیا
چلو گھر چلتے ہیں اب بلال بولا
ہممممم چلو چلتے ہیں وہ سر ہلاتا بلال کے ساتھ چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر وہ اللہ کے حضور رو رو کر دعا کر رہی تھی
اللہ میاں پلیز اسے واپس میری زندگی میں نا بھیجیئےگا پلیز پلیز ۔۔۔۔
پلیز اب مجھے کسی اور مشکل میں مت ڈالیے گا
مجھے اسکی خوشبو اس شہر کی ہواؤں میں محسوس ہونے لگی ہے ایسا لگتا ہے جیسے وہ یہیں کہیں میرے آس پاس ہے
پلیز اللہ یہ سب میرا وہم ہی ہو سچ میں ایسا کچھ نا ہو
وہ روتے روتے ہی وہ نیند کی وادی میں اتر گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے سنا ہے کہ سر بلال کو کوئی کام تھا اس لئے وہ اپنی جگہ کسی
اور کو بھیج رہے ہیں ہمارا لیکچر لینے کے لئے مشال نے حور سے
پوچھا
ہاں قاسم سر نے کل مجھے اور شیری کو بتایا تھا جب ہم ان سے سر کے نا
آنے کا پوچھنے گئے تھے حور نے جواب دیا
اچھا ۔۔۔۔ مشال بولی
کلاس میں آپ سب کو آگاہ کر دوں کہ سر بلال کی جگہ اب کوئی اور سر ہماری کلاس لیا کریں گے آج نئے سر ہماری کلاس لینے آ رہے
ہیں شیری نے سب کو آگاہ کیا
ان لوگوں کو آخری سمیسڑ چل رہا تھا
کچھ دیر کے بعد نئے سر کلاس میں داخل ہوئے سب نے ان کو کھڑے
ہو کر سلام کیا
وعلیکم اسلام کلاس پلیز بیٹھ جائیں جیسا کہ آپ کو پتا چل ہی گیا ہو گا
کہ میں آج سے سر بلال کی جگہ آپ کا لیکچر لیا کروں گا
میرا نام کبیر ہے اور میں بلال کا دوست ہوں اسکو کسی پرسنل کام سے
چار ماہ کے لئے جانا تھا تو اس نے مجھ سے کہا کہ میں اس کی جگہ لیکچر لے
لیا کروں تو میں نے ہامی بھر لی اور اب میں آپ کے سامنے ہوں
ویسے تو میں نے ایم بی اے کیا ہوا ہے میں اپنی یونی کا ٹاپر رہا ہوں
اس لئے میرا خیال ہے میں آپ کو فزکس بھی پڑھا سکتا ہوں میں نے اپنا
ایم بی اے لندن سے کیا ہے کیونکہ میں لندن میں ہی رہتا تھا
اور اب ہمیشہ کے لئے پاکستان آگیا ہوں
اب میں نے تو آپ سب سے اپنا انٹرو کروا دیا ہے اب آپ سب کی باری
ہے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *