Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10

اس دن شیری تمھیں دیکھتے ہی اپنا دل دے بیٹھا حور نے مسکراتے ہوئے اسے آگاہ کیا
یہ دیکھو شیری کب سے مجھے فون کر رہا ہے کوئی دس بار وہ مجھے کال
کر چکا ہے یہ پتا کرنے کے لئے کہ کیا فیصلہ ہوا
حور نےمسکراتے ہوئے اپنا موبائیل اسکے سامنے کیا
چلو بات کرتے ہیں اس سے ۔۔۔۔ حور نے شیری کی کال ریسو کی اور فون کا سپیکر آن کر دیا تاکہ مشال بھی اسکی بات سن سکے
ہاں بولو کیا بات ہے ۔۔۔۔۔ حور نے انجان بنتے ہوئے اس سے پوچھا
کیا بنا حور ۔۔۔۔۔ شیری نے بے صبری سے پوچھا
وہ شیری بہت بری خبر ہے ۔۔۔۔۔
کیا ہوا حور ۔۔۔۔۔۔۔
وہ نا ۔۔۔۔ وہ نا ۔۔۔۔
کیا وہ نا ۔۔۔۔ وہ نا لگا رکھی ہے حور ہوا کیا ہے جلدی سے بتاؤ نہیں تو مجھے
ہارٹ اٹیک ہو جانا ہے
بے صبر یاں چک کرو مجنوں کی ۔۔۔۔ حور نے موبائیل سائیڈ پر کر کے مشال کے کان میں سرگوشی کی
جس پر مشال نے نے شرما کہ اپنا چہرہ جھکا لیا
حور ۔۔۔۔ کچھ بولو بھی چپ کیوں کر گئی ۔۔۔۔ شیری بولا
وہ مشال کا نکاح بچپن میں ہی اس کے کزن سے کر دیا گیا تھا
اب اسکی کسی اور سے شادی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔ حور نے اپنی ہنسی کو
کو بڑی مشکل سے کنڑول کیا اس وقت شیری کی حالت سوچ سوچ کر حور
کا قہقہے لگانے کو دل کر رہا تھا
ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ صرف میری ہے کسی اور کی نہیں ہو سکتی میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں میں اسے کسی اور کا کبھی نہیں ہونے
دوں گا میں اسکے کے کزن کو جان سے ہی مار دوں گا
بتا دینا اس کے گھر والوں کو ۔۔۔۔۔۔ شیری طیش میں آتے ہوئے بولا
شیری کا اتنا کہنا تھا بس پھر کیا تھا حور فون کان سے لگائے
ہاتھ پیٹ پر رکھے ہنسنے لگی اور مشال شیری کی باتیں سن کر شرم سے لال ہو گئی تھی
یہاں میری جان پر بنی ہے اور تمھیں ہنسی آ رہی ہے ۔۔۔۔۔ شیری غصے
سے بولا
کتنے جزباتی ہو نا تم میں تو تم سے مزاق کر رہی تھی اور تم سیریس ہی ہو گئے
حور ہنسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
حور کی بچی تم نے میری جان ہی نکال دی تھی تم واپس آؤ پھر تم کو
بتاتا ہوں میں ۔۔۔۔ شیری نے خفگی کا اظہار کیا
ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا اب خوش خبری بھی سن لو
کیا بنا جلدی سے بتا دو اب اور صبر نہیں ہوتا ۔۔۔ شیری کا زیادہ ہی بے صبری تھی
دو دن بعد تمھارا اور مشال کا نکاح ہے اور پڑھائی ختم ہونے کے بعد رخصتی ہو گئی بہت بہت مبارک ہو تمھیں
تھینکس حور یہ سب تمھاری ہی وجہ سے ممکن ہوا ہے تم بہت اچھی ہو
شیری کے لہجے سے خوشی جھلک رہی تھی
اچھا اب ذیادہ مسکا نا لگاؤ سمجھے ۔۔۔۔۔ تم میرے بھائی ہو اور اپنوں کے
لئے تو میں کچھ بھی کر سکتی ہوں
اور تم نے جو کچھ بھی ابھی تک کہا ہے وہ سب مشال نے بھی سنا ہے
کیونکہ میں اس وقت اسکے کمرے میں ہوں اور میں نے سپیکر آن کیا ہوا
تھا حور نے اسے بتایا
یہ تو اچھی بات ہے اس نے بھی سن لیا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں
شیری بولا
سن لیا تم نے شیری کیا کہہ رہا ہے حور نے مشال کو چھیڑا
مشال نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا صرف اپنا جھکا ہوا چہرہ
اور جھکا لیا
یار مشال مجھ سے کیوں شرما رہی ہو میں کون سا شیری ہوں حور اسے تنگ
کیا
مشال نے حور کو گھورا
حور کی بات سن کر شیری نے قہقہہ بے ساختہ تھا
جو حور کے ساتھ مشال نے بھی سنا ۔۔۔۔۔
مشال بہت بہت مبارک ہو شیری اس سے بولا
مشال نے کوئی جواب نا دیا
جواب نہیں دو گی ۔۔۔۔ شیری نے مشال سے پوچھا
وہ جواب نہیں دے گی اسے تنگ نہیں کرو چلو فون بند کرو اب
حور اس سے بولی
اوکے اللہ حافظ ۔۔۔۔۔ شیری نے اللہ حافظ کہہ کے فون بند کر دیا
مچھے آپ سب کو ایک خوشخبری دینی ہے ندا بیگم سب سے بولیں
وہ سب زاوی کے گھر ڈنر کے لئے آئے ہوئے تھے زاوی اور زویا بھی واپس آ چکے تھے
کون سی خوشخبری ۔۔۔۔۔۔ حنا بیگم نے پوچھا
دو دن بعد شیری کا نکاح ہے
شیری کا نکاح ۔۔۔۔۔۔ دعا اور عائزہ ایک ساتھ بولیں
لڑکی کون ہے ۔۔۔۔۔ صبا بیگم نے پوچھا
مشال نام ہے اس کا ۔۔۔۔۔ حور لوگوں کی دوست ہے وہ ندا بیگم نے جواب دیا
مشال ۔۔۔۔۔۔۔ دعا اور عائزہ ایک ساتھ چیخیں اور اپنی جگہ سے کھڑی ہو
گئیں ان کا ری ایکشن دیکھ کر شیری اور حور دونوں ہنس رہے تھے
بہت مبارک ہو ۔۔۔۔ سب نے شیری کو مبارک باد دی
اتنا کچھ ہو گیا اور ہمیں کسی نے کچھ نہیں بتایا دعا نے ندا بیگم سے شکوہ
کیا
ہمیں حور نے منع کیا تھا اس لئے کسی کو نہیں بتایا وہ سب کو سرپرائز
دینا چاہتی تھی اس لئے ندا بیگم مسکراتے ہوئے بولیں
اس کا مطلب ہے حور کو بھی سب پتا تھا یہ شیری ایسا ہی کرتا ہے حور کو ہی سب کچھ بتا دیتا ہے اور ہمیں کچھ بھی نہیں بتانا پسند نہیں کرتا
عائزہ نے منہ بنا لیا
ایسی کوئی بات نہیں ہے ہم تو تم لوگوں کو سرپرائز دینا چاہتے تھے حور نے مسکراتے ہوئے صافی پیش کی
اچھا تو مشال ہی وہی لڑکی ہے جسکا تم نے کہا تھا کہ وقت آنے پر بتاؤں
گا دعا نے اس سے پوچھا
ہاں وہ مشال ہی ہے شیری بولا
اچھا بہت بہت مبارک ہو دعا اور عائزہ نے بھی اسے مبارک باد دی
تھینکس ۔۔۔۔ شیری بولا
واہ ۔۔۔۔ حور تم نے بہت کارنامے انجام دیئے ہیں میرے پیچھے زاوی اس سے بولا
کبھی غرور نہیں کیا میں نے حور نے ایک ادا سے جواب دیا
اچھی بات ہے ۔۔۔۔۔ زاوی ہنستے ہوئے بولا
آپ لوگوں کا ٹریپ کیسا رہا حور نے ان سے پوچھا
بہت اچھا ۔۔۔۔۔ زاوی نے جواب دیا
شیری کے نکاح سے ا گلے روز میرے ، حسن بھائی ، رضا بھائی ، شیری اور
آپ کے درمیان بائیک ریس ہو گی
اور ہارنے والے سب لوگوں کو مل کر جیتنے والے سمیت سب گھر والوں کو ڈنر کروانا ہو گا
آپ کو منظور ہے یہ ۔۔۔۔۔ حور نے زاوی سے پوچھا
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے
اوکے پھر ڈن ہو گیا ۔۔۔۔۔ حور بولی
سادگی سے شیری اور مشال کا نکاح کیا گیا نکاح کی تقر یب میں صرف گھر
کے ہی لوگ شامل تھے سب لوگ مشال کے گھر موجود تھے
شیری اور مشال ایک ساتھ بہت اچھے لگ رہے تھے
سب لوگ بہت خوش تھے شیری سب سے زیادہ خوش تھا اس کی تو دل
کی مراد پوری ہو گئی تھی
رضا بھائی اور حسن بھائی مجھے آپ دونوں سے بات کرنی ہے حور نے ان دونوں کو سب سے الگ کھڑا دیکھ کر کہا
کیا بات ہے گڑیا ۔۔۔۔۔ نے پوچھا
یہ آپ دونوں کو آجکل ہو کیا گیا ہے میں نے کافی دفعہ نوٹ کیا ہے اس بات کو ۔۔۔۔۔
کیا ہوا حور کس بارے میں بات کر رہی ہو ۔۔۔۔ حسن نے اس سے پوچھا
بات یہ ہے کہ جب دیکھو آپ دعا کو اور رضا بھائی عائزہ کو گھورتے رہتے ہیں
حور حسن سے بولی
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے رضا فورا بولا
_________
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے رضا فورا بولا
مجھ سے آپ لوگ کچھ نہیں چھپا سکتے سمجھے آپ لوگ مجھے سب پتا ہے
کیا پتا ہے تمھیں ۔۔۔۔ حسن نے حور سے استفسار کیا
یہی کہ آپ دعا کو اور رضا بھائی عائزہ کو پسند کرتے ہیں میں سچ کہہ
رہی ہوں نا ۔۔۔۔ حور نے ان دونوں سے پوچھا
ہاں۔۔۔۔۔ وہ دونوں بولے
واہ کیا بات میرے بھائیوں کی ۔۔۔۔ جیتے رہو میرے بھائیوں ۔۔۔۔
حور بڑے بوڑھوں کی طرح ان دونوں کو دعا دیتے ہوئےبولی
اب آپ کی یہ خواہش پوری کرنا میرا کام ہے آپ لوگ بے غم ہو جائیں
اس معاملے میں ۔۔۔۔۔ حور بولی
تھینکس گڑیا ۔۔۔۔۔ وہ دوںوں ایک ساتھ بولے
نو تھینکس بھائی ۔۔۔۔۔
اچھا چلو سب کے پاس چلتے ہیں سب ہمیں نوٹ کر رہے ہیں کہ پتا
نہیں ہم تینوں مل کر کون سی کھیچڑی پکا رہے ہیں خاص طور پر دعا اور
عائزہ دیکھو وہ دونوں ہماری ہی طرف دیکھ رہیں ہیں ۔۔۔۔ حسن بولا
چلیں بھائی ۔۔۔۔۔ چلتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ چڑیلیں ادھر ہی آ جائیں حور مسکراتے ہوئے بولی
ا گلے روز ان سب کے د رمیان بائیک ریس ہوئی اور حور نے ریس جیت
لی اور پھر رضا لوگوں نے شرط کے مطابق سب کو سب گھر والوں کو ڈنر کروایا
ان کی چھٹیاں ختم ہو گئیں اور انہوں نے پھر سے یونی جانا شروع کر دیا
اس وقت شیری ، دعا ، عائزہ ، مشال اور حور ہوٹل میں موجود تھے کیونکہ
شیری نے ان کو ٹریٹ جو دینی تھی
سب نے اپنی اپنی مرضی کا کھانا آوڈ ر کیا
چلو اب ہم لوگ چلتے ہیں یہاں سے ۔۔۔۔ اور کچھ ٹائم ان دونوں
کو ساتھ گزارنے دیتے ہیں حور دعا اور عائزہ سے بولی
اور شیری ہم تینوں اپنی اپنی آئس کریم لے کر اپنی گاڑی میں جا رہیں ہیں
تمھارے پاس بیس منٹ ہیں مشال کو لے کر پارکینگ میں آ جانا ٹھیک ہے کھانا کھانے کے بعد حور نے شیری کو مخاطب کیا
اوکے ۔۔۔۔۔ شیری بولا
مشال ۔۔۔۔ شیری نےا سکو پکارا جو کہ اپنا چہرہ جگائے بیٹھی تھی
میری طرف دیکھو مشال ۔۔۔۔
شیری کے کہنے پر مشال نے اس کی طرف دیکھا
تم خوش تو ہو نا اس رشتے سے ۔۔۔۔ شیری نے پوچھا
مشال نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا
تھینکس میری زندگی میں آنے کے لئے شیری نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
شیری پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دو کوئی دیکھ لے
دیکھتا ہے تو دیکھ لے تم بیوی ہو میری تمھارا ہاتھ پکڑنے سے مجھے کوئی
نہیں روک سکتا
تھوڑی دیر کے بعد شیری نے اسے رنگ پہنا کر اسکا ہاتھ چومتے ہوئے
چھوڑ دیا
اور مشال شرم میں لال ہو گئی
یار مشال بلش نہیں کرو نہیں تو میں کچھ کر بیٹھوں گا پھر مجھے کچھ نا کہنا
آئی لو یو سو مچ مشال ۔۔۔۔
جواب نہیں دو گی ۔۔۔۔شیری نے پوچھا
مشال نے کوئی جواب نا دیا اور اپنا چہرہ جھکا لیا
چلو کوئی نہیں کبھی نا کبھی تو تم بھی مجھے آ لو یو کہو گی ۔۔۔
چلو اب چلتے ہیں نہیں تو حور نے آ جانا ہے ۔۔۔۔ شیری اس سے بولا
پھر وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ گاڑی تک لے آیا
پھر وہ سب اپنے اپنے گھر روانہ ہوگئے
وقت کا کام ہوتا ہے گزرنا اور وقت پر لگا کر گزر گیا
رضا اور حسن کا ایم بی اے کمپلیٹ ہو گیا تھا اور اب ان دونوں نے اپنے
اپنے پاپا کا بزنس بھی جوائین کر لیا تھا
نور اور باسل کا ایف ایس کا رزلٹ آ گیا تھا انہوں حور لوگوں ہی کی یونی اڈمیشن لے لیا تھا
ہانیہ اور آیان نے میڑک کے بعد ایف ایس میں کالج میں اڈمیشن لے لیا تھا
اور شایان 9 کلاس میں ہو گیا تھا
حور ، دعا ، عائزہ ، شیری اور مشال کے چار سیمسٹر کمپلیٹ ہو گئے تھے اور
ابھی تک حور ہی کلاس کی ٹاپر تھی
ایک تو یہ حور بھی نا جب بھی بڑوں کے ساتھ میٹنگ کرتی ہے نا
تو کچھ نا کچھ بڑا ہی نتیجہ نکلتا اس کا ۔۔۔۔۔ دعا َادھر سے اُدھر ٹہل رہی تھی
اور ساتھ میں حور کو بھی کوس رہی تھی
اس وقت حور دعا ، عائزہ ، زاوی ، شیری اور اپنے ماما پاپا کے ساتھ روم میں بند تھی
اور باقی سب ینگ پارٹی ڈرائینگ روم میں ان سب کے باہر آنے کا انتظار کر رہے تھے آج Saturday night تھی اور آج کا ڈنر حور کے گھر تھا
مجھے آپ سب سے بہت ضروری بات کرنی تھی اس لئے میں نے آپ سب کو آنے کا یہاں آنے لے لئے بولا تھا حور ان سب سے مخاطب ہوئی
ہاں بولو بیٹا کیا بات ہے احمد صاحب نے اس سے پوچھا
وہ مجھے آپ سب سے رضا بھائی اور حسن بھائی کے بارے میں بات کرنی
تھی
کون سی بات ۔۔۔۔۔ مصطفی صاحب نے پوچھا
انکل رضا بھائی عائزہ اور حسن بھائی دعا سے شادی کرنا چاہتے ہیں
کیا کہا تم نے پھر سے کہنا ذ را ۔۔۔۔۔ حنا بیگم اس سے بولیں
وہ آنٹی رضا بھائی دعا اور حسن بھائی دعا سے شادی کرنا چاہتے ہیں
حور نے ڈ رتے ہوئے اپنی بات دہرائی
تو وہ دونوں الو کے پھٹے ہم سے خود بات نہیں کر سکتے تھے کیا ۔۔۔۔ عائشہ بیگم نے اس سے پوچھا
میں نے ہی ان کو منع کیا تھا آپ لوگوں سے بات کرنے سے
پلیز مان جائیں نا آپ سب میں نے اپنے بھائیوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں ان کی یہ خواہش ضرور پوری کروں گی
حور ان سب سے بولی
بیٹا ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے کیوں احمد تم کیا کہتے ہو مصطفی صاحب بولے
میں تو بہت خوش ہوں اس رشتے سے ۔۔۔۔پر ابھی ہم ان کا نکاح کر دیتے ہیں اور رخصتی عائزہ اور دعا کا بی ایس کمپلیٹ ہونے کے بعد کریں گے ٹھیک ہے نا ۔۔۔۔احمد صاحب ان سب سے پوچھا
ٹھیک ہے مصطفی صاحب نے ان کی بات سے اتفاق کیا
لیکن ہمیں دعا اور عائزہ سے بھی ایک دفعہ پوچھ لینا چاہیئے کہ ان دونوں کو تو کوئی اعتراض تو نہیں اس رشتے سے ۔۔۔۔ حنا بیگم بولیں
ان دونوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے میں نے ان سے پوچھ لیا تھا آنٹی
حور کی طرف سے جواب فورا حاضر تھا
پھر ٹھیک ہے دو دن بعد نکاح کی تقر یب رکھ لیتے ہیں صرف گھر کے لوگ
ہی شامل ہوں گے ۔۔۔۔۔ احمد صاحب بولے
ٹھیک ہے ۔۔۔۔ سب کو ان کی بات سے کوئی اعتراض نہیں تھا
عائشہ اور حنا بیگم بھی بہت خوش تھیں اس رشتے کے ہونے سے
ویسے حور ان لڑکوں نے تو تم کو رشتے کروانے والی ہی بنا دیا ہے جس
کو بھی شادی کرنی ہوتی ہے ہم لوگوں کے پاس آنے کی بجائے تمھارے پاس پہنچ جاتے ہیں
ندا بیگم مسکراتے ہوئے اس سے بولیں
ندا بیگم کی بات سن کر سب ہنسنے لگے
دیکھ لیں پھر خالہ میرے بھائی مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں اپنی ہر بات
مجھے ہی بتاتے ہیں اور میں اپنے بھائیوں کی ہر خواہش پوری کروں گی
چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے ان کی خواہش پوری کرنے کے لئے
حور کے لہجے میں ان کے لیے پیار جھلک رہا تھا
یہ تو ہے تم تو ہم سب کی جان ہو تم تو وہ طوطا ہو جس میں ہم
سب کی جان ہے ۔۔۔۔۔ کیوں میں نے ٹھیک کہا نا ۔۔۔۔ صبا بیگم ان سب سے پوچھا
تم نے بلک ٹھیک کہا صبا بیگم مسکراتے ہوئے بولیں باقی سب بھی ان کی بات سے متفق تھے
تھینکس آپ سب کا مجھے اتنی محبت دینے کے لئے ۔۔۔۔ حور نے مسکراتے
ہوئے ان سب کا اتنا پیار دینے پر ان سب کا شکریہ ادا کیا
علی صاحب اور فاطمہ بیگم کو اپنی بیٹی پر فخر محسوس ہو رہا تھا جس میں سب کی جان تھی جو سب کی خوشی کا باعث تھی
اللہ ہماری بیٹی کو دنیا کی ہر خوشی دے آمین ۔۔۔۔ فاطمہ بیگم حور کو دیکھتے
ہوئے اپنی آنکھوں کے نم کونے صاف کرتے ہوئے بولیں
آمین علی صاحب بھی بولے
چلیں اب سب نیچے چل کر بچوں کو بھی یہ خوش خبری دیتے ہیں
عائشہ بیگم ان سب سے بولیں
آپ سب کے لئے ایک خوش خبری ہے ہمارئے پاس ۔۔۔۔ احمد صاحب
ان سب کے پاس آ کر بولے
کیا خوش خبری ہے بابا ۔۔۔۔۔ عائزہ نے ان سے پوچھا
دو دن بعد دعا اور رضا اور حسن اور عائزہ کا نکاح ہے اور رخصتی عائزہ لوگوں
کی پڑھائی کمپلیٹ ہونے کے بعد ہو گی
احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے خوشخبری سے آگاہ کیا
ان کی بات سن کر دعا اور عائزہ شرما کر وہاں سے چکی تھی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *