Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09
تم لوگ بھی اچھی لگ رہی ہو مشال نے ان تینوں کی تعریف کی
دعا ، عائزہ اور مشال نے میک اپ کیا ہوا تھا
پر حور نےچہرے پر صرف فئیر اینڈ لولی کریم، نیچرل پنک لیپسٹک ، اور آنکھوں
پر مسکارا اور کاجل لگایا ہوا تھا وہ بنا کسی میک اپ کے ہی پیاری لگ رہی تھی وہ تھی ہی اتنی پیاری کہ اس کو کسی بناؤ سنگار کی ضرورت ہی نہیں تھی
مشال تم ایسا کرو آج ہماری طرح ہی حجاب کر لو ۔۔۔۔۔ عائزہ نے اسے
مشورہ دیا مشال ہمیشہ سر پر ڈوپٹا لے کر رکھتی تھی
حور لوگوں نے بھی اپنے کپڑوں کا ہم رنگ حجاب لیا ہوا تھا
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مشال نے بھی حجاب لے لیا
پھر وہ چاروں یونی کی طرف روانہ ہو گئیں
شیری کافی دیر سے ان چاروں کا انتظار کر رہا تھا پر وہ آنے کا نام ہی نہیں
لے رہیں تھیں
وہ گراونڈ میں َادھر سے اُدھر ٹہل رہا تھا
کچھ دیر کے بعد وہ چاروں شیری کے پاس آئیں تو شیری کو بت بنا پایا
کیا ہوا شیری ۔۔۔۔۔ عائزہ نے اس سے پوچھا
کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔ شیری نے خود کو سنھبالتے ہوئے جواب دیا حالانکہ اس کا دل بہت بری طرح سے دھڑک رہا تھا
چلو پھر ہال میں چلتے ہیں دعا بولی کیونکہ ہال میں ہی پارٹی کی ارینجمیٹ کی گئی تھی وہ سارے ہال کی طرف چل پڑے
تم لوگ ادھر باقی سٹودینٹس کے ساتھ بیٹھو ہمیں قاسم سر نے بلایا ہے
میں اور شیری ان کی بات سن کر آتے ہیں حور ان تینوں سے بولی
ٹھیک ہے جاؤ ۔۔۔۔۔ دعا بولی
اب بتاؤ کیا ہو اہے تمھیں ۔۔۔۔۔۔ مجھ سے جھوٹ مت بولنا کہ کچھ نہیں
ہوا تم مجھ سے کچھ نہیں چھپا سکتے اس لئے آرام سے بتا دو
ہال سے باہر آنے کے بعد حور نے شیری سے پوچھا
حور مجھے محبت ہو گئی ہے کسی سے۔۔۔۔ شیری نے اسکے سر پر بم پھوڑا
کون ہے وہ ۔۔۔۔ حور نے اپنی پوری آنکھیں پھیلائیں
مشال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیری کی طرف سے جواب آیا
ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی مشال کی بات کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا
حور پیٹ پر ہاتھ رکھ کے ہنس رہی تھی
ہاں اپنے والی ہی مشال پر تم اتنا ہنس کیوں رہی ہو ۔۔۔۔شیری نے حیرانگی سے اس سےاستفسار کیا
ہنس تو میں اس لئے رہی ہوں کی آنے سے پہلے ہی میں اس سے کہہ رہی تھی کہ آج کس کو قتل کرنے کا ارادہ ہے مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ تم ہو گے جو آج اس کو دیکھ کر اس پر فدا ہو جاو گے حور نے اسے اپنے ہنسنے کی وجہ بتائی
مجھے خود کچھ پتا نہیں چلا یہ سب کیسے ہو گیا آج اسے دیکھ کہ ایسا لگا جیسے میری تلاش ختم ہو گئی ہے اب تم نے ہی میری مشال کو میرا بنانے میں میری ہیلپ کرنی ہےشیری بولا
یو ڈونٹ وری تم اب بے فکر ہو جاؤ آ گے کا کام میرا ہے حور نے اسے تسلی دی
ویسے شیری مشال بہت اچھی لڑکی ہے تم اس کے ساتھ بہت خوش رہو گے
چلو اب سر کے پاس چلتے ہیں حور اس بولی
کیا ہوا کیا کہا سر نے ۔۔۔۔۔ مشال نے ان دونوں سے پوچھا
کچھ نہیں سر نے کہا کہ ہم کلاس کے جی آر اور سی آر ہیں تو ہمیں بھی کچھ پرفام کرنا پرے گا آج شیری نے جواب دیا
تو اب تم لوگ کیا کرو گے دعا نے پوچھا
میں تو وائلن پلے کروں گی حور فورا بولی
اور شیری تم عائزہ نے اس سے پوچھا
میں آپ سب کی نظر کچھ اشعار پیش کردوں گا شیری بولا
ٹھیک ہے عائزہ بولی
کچھ دیر کے بعد پارٹی شروع ہو گئی نیو کمرز کو بہت اچھے سے سینئرز کی طرف سے ویلکم کیا گیا اور کچھ پلے ، سونگز وغیرہ پرفام کیے گئے
اب ہم فرسٹ سیمسٹر کے سی آر کو سٹیج پر اینواٹ کرتے ہیں پلیز شہر یار حسن سٹیج پر آئیے گا کمپئر نے اسے سٹیج پر آنے کی دعوت دی
شیری اٹھ کر سٹیج پر چلا گیا
کیسا لگ رہا ہے آپ کو اس یونی میں آ کر ۔۔۔۔۔ کمپئر نے اس سے پوچھا
بہت اچھا ۔۔۔۔۔ شیری بولا
اچھا آپ کو ہم سب کے لئے کچھ پرفام کرنا پڑے گا کیا آپ کریں گے
کمپئر نے پوچھا
جی کیوں نہیں ۔۔۔۔۔ شیری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
میں آپ کی نظر کچھ اشعار پیش کرتا ہوں
ارشاد ارشاد ۔۔۔۔۔ کمپئر کے ساتھ ساتھ ہال میں موجود سب سٹوڈینٹس
بولے
” میرا سوچنا تیری ذات تک
میری گفتگو تیری بات تک
نہ تم ملو جوکبھی مجھے
میرا ڈھونڈ نا تجھے پار تک
کبھی جو فرصتیں ملیں تو آ
میری زندگی کے حصار تک
میں نے جانا کہ میں تو کچھ نہیں
تیرے پہلے سے تیرے بعد تک”
ویری نائس کمپئر بولا اور سب نے اسے تالیاں بجا کر داد دی
تھینکس ۔۔۔۔ شیری نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا
بہت بہت شکریہ آپ کے آنے کا ۔۔۔۔ کمپئر شیری سے مخاطب تھا
شیری سر ہلاتا ہوا سٹیج سے نیچے آ گیا
یہ تو تھے فرسٹ سمیسٹر کے سی آر اب ہم فرسٹ سیمسٹر کی جی آر کو بلاتے ہیں ۔۔۔۔حور علی پلیز آپ سٹیج پر آئیے گا
تو آپ کو کیسا لگا آپ کو یہاں اڈمیشن لے کر ۔۔۔۔۔۔ حور کے سٹیج پر
آنے کے بعد کمپئر نے اس سے پوچھا
بہت اچھا ۔۔۔۔۔۔۔ حور نے جواب دیا
________
آپ سب کو میں بتاتا چلوں کہ مس حور اس سال کی بورڈ کی ٹاپر ہیں کمپئر نے سب کو بتایا
ہال میں موجود سب نے حور کے لئے تالیاں بجائیں
تھینکس ۔۔۔۔۔۔۔۔ حور نے سب کا شکریہ ادا کیا
تو مس حور آپ کیا پرفام کریں گی
وائلن پر ایک سونگ پلے کروں گی
اوکے ۔۔۔۔۔۔ کمپئر بولا
حور نے دھن بجانی شروع کی
سنوار دے خدایا ۔۔۔۔ خدایا۔۔۔۔۔
جو اپنے ہی ہاتھوں۔۔۔۔۔ گنوایا ۔۔۔۔۔۔
وہ لمحہ پھر سے سنوار دے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لمحہ پھر سے سنوار دے ۔۔۔۔۔۔۔
پلے پڑی جدائی ۔۔۔۔ روٹھی لگے خدائی ۔۔۔۔۔
عشق جب روگ لگ جاوئے ۔۔۔۔۔۔
پلے پڑے جدائی ۔۔۔۔۔ روٹھی لگے خدائی ۔۔۔۔۔
عشق جدوں روگ لگ جاوئے ۔۔۔۔۔۔۔
پلے پڑی جدائی ۔۔۔ ٹوٹے نا تنہائی ۔۔۔۔
کوئی تو آ کے دل رنگ جاوے ۔۔۔۔
رنگ جاوئے رنگ جاوئے ۔۔۔۔ دل رنگ رنگ جاوئے ۔۔۔۔۔۔
رنگ جاوئے رنگ جاوئے ۔۔۔۔ دل رنگ رنگ جاوئے ۔۔۔۔۔
پرایا لیکن مجھے ۔۔۔۔۔ پھر بھی نا اجنبی لگے ۔۔۔۔۔۔۔
کہ اپنے آپ کو بھی ہم کھونے لگے ۔۔۔۔۔۔۔
سنوار دے خدایا ۔۔۔۔ خدایا ۔۔۔۔۔۔۔
جو اپنے ہی ہاتھوں ۔۔۔۔۔۔ گنوایا ۔۔۔۔۔۔
وہ لمحہ پھر سے سنوار دے ۔۔۔۔۔
وہ لمحہ پھر سے سنوار دے ۔۔۔۔۔
پلے پڑی جدائی ۔۔۔۔۔۔ روٹھی لگے خدائی۔۔۔۔۔
عشق جدوں روگ لگ جاوئے ۔۔۔۔۔۔۔
پلے پڑی جدائی ۔۔۔۔ ٹوٹے نا تنہائی ۔۔۔۔۔۔
کوئی تو دل رنگ جاوئے ۔۔۔۔۔۔۔
رنگ جاوئے رنگ جاوئے ۔۔۔۔۔ دل رنگ رنگ جاوئے ۔۔۔۔۔
بہت بہت اچھا پلے کیا ہے آپ نے ۔۔۔۔۔ حور کے وائلن پلے کرنے
کے بعد کمپئر نے تالیاں بجاتے ہوئے اسکی تعریف کی
ہال میں موجود سب نے کھڑے ہو کر اور تالیاں بجا کر حور کو داد دی
حور نے سر کو جھکاتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا
ویری ویری نائس مس حور آپ نے تو آج کی محفل لوٹ لی ہے کمپئر نے حور کی تعر یف کی
تھینکس آ لاٹ آل آف یو ۔۔۔۔۔۔ حور مسکراتے ہوئے بولی
یہ کہہ کہ حور سے سٹیج سے نیچے آ گئی
واہ حور تم نے تو واقعی ہی آج کی محفل لوٹ لی ہے مشال بولی
مشال صحیح کہہ رہی ہے جب تم وائلن پلے کر رہیں تھیں تو سارا ہال
خاموش سے تمھاری دھن کو ہی سن رہا تھا دعا مسکراتے ہوئے بولی
بہت اچھا پلے کیا تم نے حور ۔۔۔۔۔ شیری اور عائزہ نے بھی اسکو داد دی
تھینکس یار آپ سب کی حوصلہ افزائی کا ۔۔۔۔ حور نے مسکراتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا
اچھا شیری تم نے اشعار کس کے لئے پڑھے تھے ۔۔۔۔۔۔ دعا نے پوچھا
ہے کوئی ۔۔۔۔۔۔ شیری مسکراتے ہوئے بولا
کون ہے وہ ہمیں بھی تو پتا چلے ۔۔۔۔۔۔ عائزہ بولی
وقت آنے پر سب کو پتا چل جائے گا ابھی نہیں بتا سکتا ۔۔۔۔ شیری نے جواب دیا
ٹھیک ہے کر لیتے ہیں انتظار کبھی نا کبھی تو ہمیں بھی پتا چل ہی جائے
گا دعا بولی
چلو اب گھر چلتے ہیں کافی دیر ہو گئی ہے حور بولی تو سب گھر روانہ ہو گئے
ا گلے دن وہ سب اپنا لیکچر لے کر گراونڈ میں آکر ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کی کلاس کی ایک لڑکی بھاگتی ہوئی حور کے پاس آئی
حور کچھ لڑکے ایک لڑکی کو تنگ کر رہے ہیں جلدی چلو
چلو چلتے ہیں حور بولی
حور کے ساتھ مشال لوگ بھی اس جگہ پہنچ گئے
کیا ہو رہا ہے یہاں حور ان لڑکوں کے سر پر پہنچ کر دھاڑی
وہ لڑکے اس کی طرف متوجہ ہو گئے
اوئے یہ تو وہی لڑکی ہے جس نے اس دن ان لڑکوں کو مارا تھا ایک لڑکا
اپنے ساتھیوں سے بولا
ہاں یار یہ تو وہی لڑکی ہے اپنی جان چھوڑاو اس سے بھاگو یہاں سے ایک اور
بولا اپنے ساتھیوں سے
ان سب نےاس دن حور کو ان لڑکوں کو مارتے ہوئے دیکھا تھا
اس کو چھوڑو اور مجھے چھیڑ کر دیکھاؤ ذ را حور ان سے بولی
سوری سسڑ آئیندہ نہیں کریں گے ان میں سے ایک لڑکا بولا
پہلے سب لائن میں کھڑے ہو جاؤ پھر کرتی ہوں معاف کرتی ہوں تم لوگوں کو حور بولی
نہیں ہوں گے ہم لائن میں کھڑے کیا کر لو گی ایک لڑکا بولا
حور نے رکھ کے ایک گھونسا اس کے منہ پر مارا وہ لڑکا اپنے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے نیچے بیٹھ گیا
اب تم لوگ بتاؤ لائن بناؤ گے کہ نہیں حور باقی سب سے بولی
وہ سب بنا کچھ بولے ایک لائن میں کھڑے ہو گئے
اور تم بھی کھڑے ہو لائن میں حور اس لڑکے سے بولی جس کو ابھی اس نے مارا تھا اب کی بار وہ بھی چپ چاپ لائن میں کھڑا ہو گیا
حور نے باری باری سب کو ایک تھپڑ لگایا
اب تم لوگ مجھے ایسا کچھ کرتے نظر آئے تو تم لوگوں کی خیر نہیں حور نے ان سب لڑکوں کو وان کیا
وہ جی کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئے
اور باقی سب بھی کان کھول کر سب لو کہ اگر مجھے کوئی کسی لڑکی کو تنگ کرتا نظر آیا تو اس کی خیر نہیں حور وہاں پر موجود سب لڑکوں سے بولی
اس دن کہ بعد حور پوری یونی میں مشہور ہو گئی تھی سارے لڑکے اس سے ڈ رتے تھے اس دن کے بعد کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ کسی لڑکی کو تنگ کرے
ان کا پہلا سمیسڑ ختم ہو گیا تھا اب ان کو ایک ہفتے کی چھٹیاں تھیں
ماما چلیں خالہ کی طرف چلتے ہیں مجھے ان سے کچھ کام ہے حور فاطمہ بیگم
سے مخاطب ہوئی
اس وقت حور اور اس کی ماما ہی گھر پر تھیں
ٹھیک ہے چلو ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم بولیں
جب وہ دونوں شیری کے گھر پہنچی تو شیری اور اس کی ماما اور پاپا لاونچ میں موجود تھے
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔ حور نے سب کو سلام کیا
وعلیکم اسلام ۔۔۔۔۔شکر ہے میری بیٹی کو یاد تو آیا کہ اس کی ایک خالہ بھی ہے
ندا بیگم نے حور کو گلے لگاتے ہوئے اس سے شکوہ کیا
سوری خالہ سٹڈیز میں اتنا مصروف تھی کہ پتا آپ کی طرف آ ہی نہیں سکی
کوئی بات نہیں بچے ۔۔۔۔۔ ندا بیگم پیار سے بولیں
خالہ اور انکل مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے حور ان سے بولی
ہاں بولو بیٹا شیری کے پاپا بولے
وہ انکل شیری کسی کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے
حور نے ان کو اپنی بات سے آگاہ کیا
کیا یہ سچ ہے شیری ندا بیگم نے سنجیدہ ہوتے ہوئے شیری سے پوچھا
جی ماما ۔۔۔۔۔ شیری نے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا
کون ہے وہ ۔۔۔۔۔۔ شیری کے پاپا نے پوچھا
مشال نام ہے اسکا انکل ۔۔۔۔۔۔ جواب حور کی طرف سے آیا
تم لوگوں کی دوست مشال ۔۔۔۔۔؟ اس کی بات کر رہی ہو
فاطمہ بیگم نے اس سے پوچھا
جی ماما ۔۔۔۔۔ وہی مشال ۔۔۔۔
اس کو پتا ہے کہ شیری اسے پسند کرتا ہے ندا بیگم نے حور سے سوال کیا
نہیں خالہ اسے نہیں پتا ۔۔۔۔۔۔۔
پہلے اس سے تو بات کر لیتے تم لوگ اگر وہ نا مانی تو کیا کرو گے تم لوگ
ندا بیگم نے ان دونوں سے پوچھا
اس کو تو میں منا لوں گی اس کی آپ فکر نا کریں میری بات وہ نہیں
ٹالے گی آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں حور نے ان سے پوچھا
مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہےکیونکہ یہ میرے بیٹا خوشی ہے مجھے بھلا
کیوں اس بات سے اعتراض ہو گا ندا بیگم مسکراتے ہوئے بولیں
اور آپ کیا کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ ندا بیگم نےا پنے شوہر سے پوچھا
میں تو اپنے بیٹے کی خوش میں خوش ہوں ۔۔۔۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
تھینکس پاپا اور ماما شیری نے ان دونوں کو اپنے ساتھ لگایا
خالہ میں چاہتی ہوں کہ ہم ابھی مشال کے گھر والوں سے اس رشتے
کی بات کر لیں اور شیری اور مشال کا ابھی نکاح بھی کر دیں
وہ نا ہو ہم رشتہ لے جانے میں دیر کر دیں اور میرے بھائی کی خواہش ہی پوری نا ہو سکے حور ان سے بولی
ٹھیک ہے جیسے میرے بیٹی کی مرضی ہم ویسا ہی کریں گے انہوں نے حامی بھری
تو پھر ٹھیک ہے خالہ ۔۔۔۔ میں ، ماما آپ اور انکل کل ہی ان کے گھر چلتے ہیں اور میں مشال کو فون کر کے اپنے آنے کا بتا دوں گی
اور ابھی ہم کسی کو ابھی کچھ بھی نہیں بتائیں گے کل کو زاوی بھائی کے گھر ہم سب نے ڈنر پر جانا ہے نا وہاں سب کو خوشخبری دیں گے
اور ایک اور بات خالہ نکاح ہمارے اگلا سمیسڑ شروع ہونے سے پہلے ہی
ہو گا آپ نے مشال کے گھر والوں سے یہ بات بھی کرنی ہے
ٹھیک مجھے تمھاری ہر بات منظور ہے ندا بیگم نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا
تھینکس خالہ ۔۔۔۔۔
بہت بہت شکریہ تمھارا حور ۔۔۔۔۔ شیری کے چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی
صرف شکریے سے کام نہیں چلے گا تم نکاح کے بعد ہم سن کو ٹریٹ دو گے سمجھے
جو حکم آپ کا ملکہ عالیہ ۔۔۔۔۔ شیری مسکراتے ہوئے اسکی بات مان لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ا گلے دن حور لوگ مشال کے گھر پہنچ گئے اور مشال کے امی ، بابا اور بھائی
کے سامنے اپنی مدعا بیان کی
پلیز انکل ، آنٹی اور بھائی انکار مت کیجئے گا شیری میرا بھائی ہے اس کی
گارنٹی میں دیتی ہوں حور منت بھرے لہجے میں بولی
ٹھیک ہے بیٹا ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن ہم مشال سے پوچھ کر ہی جواب دے گئے مشال کے بابا بولے
اس سے ابھی میں اور آنٹی ( مشال کی امی ) اسکی مرضی پوچھ آتی ہیں
حور تیار بیٹھی تھی
وہ مشال کی امی کے ساتھ مشال کے کمرے میں آ گئی
بیٹا شیری کے ماما، پاپا اور حور اس کا تمھارے لئے رشتہ لے کو آئے ہیں
اگر تمھیں اعتراض نا ہو تو کیا ہم اس رشتے کے لئے ہاں کر دیں
مشال کی امی نے اس سے اسکی مرضی پوچھی
مشال سب کو چائے دے کر اپنے کمرے میں آ گئی تھی تب سے وہ اپنے روم میں ہی تھی
جیسے آپ لوگوں کی مرضی امی مجھے کوئی اعتراض نہیں مشال نے سارا فیصلہ ان پر چھوڑ دیا
جیتی رہو میری بیٹی ۔۔۔۔۔ اسکی امی اس کو پیار کرتی ہوئیں وہاں سے چلیں گئیں
میں بھی ابھی آتی ہوں تمھارے پاس تھوڑی دیر کے بعد پہلے میں ایک خوشخبری اور میٹھائی لے آؤں حور مشال سے کہتی ہوئی سب بڑوں کے پاس آ گئی
کچھ دیر کے بعد حور ہاتھ میں میٹھائی لئے اسکے کمرے میں آئی
بہت بہت مبارک ہو تمھیں اب تم میری بھابھی بننے والی ہو اور وہ بھی بہت جلد کیوں کہ دو دن بعد تمھارا نکاح ہے شیری کے ساتھ اور بی ایس ختم ہونے کے بعد رخصتی حور نے اسے گلے لگا کر اسے خوش خبری دی
اچھا اب منہ میٹھا کرو حور نے اس کو میٹھائی کھلائی جو منہ نیچے کیے شرمانے میں مصروف تھی
تمھیں پتا ہے شیری تم سے بہت محبت کرتا ہے جب اسے تم سے محبت ہوئی اس نے سب سے پہلے مجھے بتایا اور میں نے تم دونوں کو ملوا دیا
تم خوش تو ہو نا ۔۔۔۔ حور نے اس سے پوچھا
ہاں ۔۔۔۔۔ مشال کے لبوں پر شرمیلی سی مسکان تھی
تمھیں یاد ہے مشال پارٹی والے دن میں نے تم سے کہا تھا کہ آج کس کو
قتل کرنے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔۔
ہاں یاد ہے مشال بولی.
جاری ہے
