Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob NovelR50750 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02
No Download Link
455.5K
47
Rate this Novel
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02 (Watching)Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode03 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode04 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode05 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode06 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode07 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode08 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode09 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode10 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode11 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode12 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode13 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode14 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode15 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode16 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode17 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode18 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode19 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode20 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode21 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode22 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode23 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode24 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode25 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode26 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode27 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode28 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode29 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode30 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode31 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode32 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode33 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode34 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode35 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode36 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode37 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode38 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode39 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode40 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode41 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode42 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode43 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode44 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode45 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode46 Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Last Episode
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02
Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode02
حور ماما کے ساتھ مل کر ٹیبل پر کھانا لگوا رہی تھی اس کے گھر میں کھانا اس کی ماما ہی بناتی تھیں حالانکہ اس کے گھر میں بہت سارے ملازم تھے پر اس کی ماما کا کہنا تھا کہ کھانا خود ہی بنانا چاہیئے نا کہ ملازموں سے بنوانا چاہیئے
حور جاؤ سب کو ڈنر کے لئے بلا لاو
وہ اچھا ماما کہتی ہوئے سب کو کھانے کا کہنے چلی گئئ تھوڑی دیر بعد سب ٹیبل پر موجود تھے
بابا مجھے آپ سے بات کرنی ہے کچھ دیر کے بعد حور علی صاحب سے مخاطب ہوئی
ہاں بولو بچے کیا کہنا ہے
بابا وہ میں تین ماہ تک فارغ ہوں میں سوچ رہی تھی کہ میں کوکینگ کورس کرلوں اگر آپ کی اجازت ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بیٹی کو میری طرف سے اجازت ہے علی صاحب حور کو پیار سے دیکھتے ہوۓ بولے
تھینک یو پاپا اور ماما آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حور نے اپنی ماما سے پوچھا جو کھانا چھوڑ کے اسے دیکھ رہی تھیں
میں تو اب تک شاک میں ہوں کہ یہ الفاظ تمھارے منہ سے ہی نکلے ہیں
فاطمہ بیگم حیرانگی سے بولیں
فاطمہ بیگم کی بات سب کی ہنسی نکل گئی جبکہ حور کا منہ بن گیا
ماما میں آپ سے نہیں بول رہی آپ تو مجھے ہمیشہ بیوقوف اور لاپرواہ ہی سمجھتی ہیں
ارے میری جان میں تو مزاق کر رہی تھی فاطمہ بیگم حور کے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ کر بولیں
میں تو بہت خوش ہوں تمھاری اس بات سے اور میری طرف سے بھی تمھیں اجازت ہے فاطمہ بیگم نے حور کو پیار سے گلے لگایا
ڈ رامے باز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور ، شایان اور آیان حور کو دیکھتے ہوۓ ایک ساتھ بولے
ماما پاپا دیکھ لیں ان سب کو کیا کہہ رہے ہیں مجھے حور نے احتجاج کرتے کیا
چپ کرو سب میری بیٹی کو کوئی کچھ نہیں کہے گا علی صاحب بولے
اور حور نے ان تینوں کو منہ چڑایا
پاپا ہم بھی آپ کے بچے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اٹس نوٹ فیئر۔۔۔۔ نور ، شایان اور آیان ایک ساتھ بولے
اچھا بچو میں سب کا پاپا ہوں اب خوش علی صاحب اپنے سب بچوں سے بولے
کھانا کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ماما پاپا کے کمرے میں نوک کرنے کے بعد داخل ہوئی
پاپا آفس کا کام کر رہے تھے اور ماما کتاب پڑھ رہی تھیں
ارے حور بچے آؤ کیا بات ہے ابھی تک سوئی نہیں تم ماما اسے دیکھتے ہوۓ بولیں
ماما مجھے آپ سے اور پاپا سے بات کرنی تھی
ہاں بولو بیٹا کیا بات ہے علی صاحب اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولے
وہ پاپا میں نے کوکینگ کورس کی کلاسسز کا پتا کیا ہے کلاسسز کی ٹائمینگ مورنگ کی ہے
اور میں فائٹینگ کورس بھی کرنا چاہتی ہوں اس کی ٹائمینگ ایونئیگ کی ہے اگر آپ کی اور ماما کی اجازت ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور ماما اور پاپا کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا
کچھ دیر تک کمرے میں خاموشی کا راج رہا پھر اس خاموشی کو علی صاحب کی آواز نے توڑا ٹھیک ہے بیٹا میری طرف سے اجازت ہے
لیکن علی ۔۔۔۔۔ کچھ مت کہیں میں اپنی بیٹی کا ہر شوق پورا کروں گا علی صاحب فاطمہ بیگم کی بات کو کاٹتے ہوئے بولے
تھینک یو سومچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور نے اپنے پاپا کے گلے لگتے ہوۓ کہا –
اچھا بچے اب آپ جاؤ اور جا کر آرام کرو علی صاحب حور کی پیشانی چومتے ہوئے بولی
وہ ماما کے پاس گئی ماما آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں حور نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
نہیں بیٹا میں آپ سے ناراض نہیں ہوں فاطمہ بیگم نے اسے گلے لگایا
اچھا ماما پاپا آپ آرام کریں وہ انہیں گوڈ نائٹ ۔۔۔۔۔ کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی
اللہ میری بیٹی کو ہمیشہ خوشیاں دے اور ہر دکھ سے دور رکھے فاطمہ بیگم حور کو جاتا دیکھ کر بولیں
آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی صاحب نے آمین کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حور کی آنکھ حسب مامول فجر کے ٹائم کھل گئی نماز ادا کر کے لان میں آ کر نگے پاؤں واک کرنے لگی
کچھ دیر کے بعد اسے پاپا اور بھائی گیٹ سے اندر آتے نظر آئے اس نے سب کو مشترکہ سلام کیا اور Good morning بولا
دونوں بھائی اسے Good morning کہتے ہوئے اندر چلے گئے کیونکہ ان کو اپنے سکول کی بھی تیاری کرنی تھی
پاپا اس کے پاس آئے اور اسے گلے لگا کے پیار کیا اور اس کے ساتھ واک کرنے لگے
کیسی ہے میری بیٹی انہوں نے حور سے پوچھا
میں بلکل ٹھیک پاپا ۔۔
انہوں نےحور کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی خوشی اور سکھ کی اپنے رب سے دعا مانگی تھی
کچھ دیر تک وہ اور پاپا واک کرتے رہے
پھرعلی صاحب اپنے کمرے میں چلے گئے اور حور کچن کی طرف چلی گئی جہاں اس کی ماما پہلے ہی موجود تھیں اور ناشتہ بنا رہی تھیں
وہ اپنی ماما کی ناشتہ بنانے میں مدد کروانے لگی
پھر کچھ دیر بعد نور نھی کچن میں آ گئی
نور اور حور مل کر ناشتہ لگاؤ ٹیبل پر فاطمہ بیگم نے ان دونوں سے کہا وہ دونوں جی ماما کہتی ناشتہ ٹیبل پر لگانے لگیں
ناشتہ کرنے کے بعد شایان اور آیان اپنے سکول اور علی صاحب اپنے دفتر چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کدھر ہو۔۔۔۔۔۔۔
جی ماما ۔۔۔۔۔ حور فاطمہ بیگم کے بلانے پر کچن میں آئی جو دوپہر کا کھانا بنا رہی تھیں
میں نے کھانا بنا دیا ہے اب حنا کی طرف جا رہی ہوں رات کا ڈنر بنانے میں اس کی ہیلپ کرنے ٹھیک ہے میرے پیچھے کوئی الٹا سیدھا کام نا کرنا آئی سمجھ
جی ماما ٹھیک ہے ماما آپ جائیں کچھ نہیں کرتی میں
اچھا میں جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم اسے کہتی ہوئی دعا کے گھر چلی گئیں
ماما کے جانے کے بعد وہ لان میں آ گئی جہاں اس کے پسندیدہ پھول تھے جو اس نے پاپا سے منگوا کے خود اپنے ہاتھوں سے لگائے تھے
ان کا خیال وہ خود ہی رکھتی تھی
وہ ابھی لان میں ہی تھی کہ صبا آنٹی آگئیں
صبا بیگم ۔۔۔۔۔علی ، مصطفی ، احمد صاحب کے Common friend
عامر صاحب کی وائف تھیں
وہ کام چھوڑ کر ان کے پاس گئی اور ملازمہ کو چائے لانے کا بولا
اسلام علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ ۔۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں بیٹا آپ کیسی ہو انہوں نے حور کو گلے لگایا
میں بھی ٹھیک ہوں آنٹی ۔۔۔۔۔اور آنٹی انکل اور زاوی بھائی کیسے ہیں ؟
سب ٹھیک ٹھاک ہیں میں زاوی کی شادی کا کارڈ لے کر آئی تھی
سچی آنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زاوی بھائی کی شادی ہو رہی ہے ؟
ہاں بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنے میں ملازمہ چائے لے کر آ گئی اس نے آنٹی کو چائے سرو کی
باقی سب کدھر ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاپا آفس ، بھائی دونوں سکول ، نور لینگوئچ کورس سینٹر ، ماما حنا آنٹی کی طرف گئیں ہیں
اچھا اب میں حنا کی طرف چلی جاتی ہوں ان کو بھی اینوائٹ کرنا ہے اور آپ سب نے ضرورو آنا ہے
جی آنٹی ہم سب آئیں گے زاوی بھائی کی شادی ہو اور میں نا آؤں ہو ہی نہیں سکتا
اچھا بیٹا اللہ حافظ ۔۔۔۔
اللہ حافظ آنٹی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے جانے کے بعد وہ کمرے میں آ گئی اور زاوی بھائی کو فون کرنے لگی کچھ دیر کے بعد کال پک کر لی گئی
ہیلو کیسی ہے میری پیاری سی گڑیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آپ سے بہت ناراض ہوں زاوی بھائی ۔۔۔۔۔
کیوں میں نے کیا کر دیا اب جو میری گڑیا مجھ سے ناراض ہو گئی ۔۔۔۔
آپ کو تو جیسے پتا ہی نہیں ہے نا کل ہی تو آپ نے فیڈر پینا چھوڑا ہے نا آئے بڑے چونے کاکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔
چونا کاکا ۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا ۔۔۔
زاوی بھائی کی اس کی بات پر ہنسی نہیں رک رہی تھی
زاوی بھائی۔۔۔
میں پہلے ہی آپ سے ناراض ہوں اوپر سے آپ کے دانت اندر ہی نہیں ہو رہے
اوئے ہوئے میری پیاری سی بہنا اتنا غصہ نا کرو کالی ہو جاؤ گی زاوی اب بھی اس کو تنگ کرنے سے باز نہیں نا آیا
زاوی بھائی اب میں نے آپ سے پکے والا ناراض ہو جانا ہے اور پھر آپ کی شادی میں بھی آنا
تو یہ بات ہے جس کی وجہ سے تم مجھ سے ناراض ہو ہے نا میں نے صیح بولا ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
جی بلکل یہی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حور نے خفگی کا اظہار کیا
میں تو خود تمھیں سرپرائز دینا چاہتا تھا لیکن تمھیں کس نے بتا دیا۔۔۔۔۔۔۔؟
ابھی صبا آنٹی آئیں تھیں وہ بتا کر گئیں ہیں
اچھا سوری میری بہنا اپنے بھائی کو معاف کر دو اور شادی میں ضرور آنا
آپ کی شادی میں نا آؤں ہو ہی نہیں سکتا چلیں اب آپ اپنا کام کریں
میں آپ کی ہونے والی مسسز کی خبر لے لوں انہیں نے بھی مجھے نہیں بتایا
نا یار اسے کچھ نا کہنا اسے میں نے ہی منا کیا تھا تمھیں بتانے سے
توبہ توبہ کتنا خیال نا آپ کو زویا بھابھی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کیا ہے نا بہنا میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں اس کا خیال تو کروں گا ہی
اچھا مجنوں صاحب کچھ نہیں کہتی آپ کی لیلہ کو۔۔۔اچھا اب اپنا کام کریں
اللہ حافظ بھائی ۔۔۔
اللہ حافظ بہنا ۔۔۔۔۔۔۔
پھر وہ زویا بھابھی کو کال کرنے لگی
زویا اور زاوی کزنز تھے اور ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے
زاوی نے اپنے ماما پاپا سے بات کی اور وہ مان گئے اب ان کی شادی تھی
حور کی زاوی اور زویا سے بہت بنتی تھی وہ دونوں اسے اپنی چھوٹی بہن مانتے تھے اس لیے اس کو ان کی ہر بات کا پتا ہوتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبا بیگم جب حنا بیگم کے گھر گئیں تو وہاں عائشہ بیگم بھی موجود تھیں
اسلام علیکم صبا بیگم نے ان تینوں کو سلام کیا
ارے صبا کیسی ہو فاطمہ بیگم نے ان سے پوچھا
میں ٹھیک تم سب کیسی ہو
ہم بھی ٹھیک ہیں وہ سب باری باری صبا بیگم سے گلے ملیں
میں تمھارے گھر گئی تھی تو وہاں حور اکیلی تھی اس نے بتایا تم حنا کی طرف ہو صبا بیگم فاطمہ بیگم سے بولیں
اس نے کوئی شرارت تو نہیں کی نا تم سے فاطمہ بیگم نے پوچھا
نہیں وہ تو بہت ہی اچھی بچی ہے صبا بیگم نے کہا –
میں اس کی شرارتوں سے بہت تنگ ہوں جہاں بھی جاتی ہے کچھ نا کچھ الٹا کر کے آتی ہے –
فاطمہ نا کچھ کہا کرو اسے اس کی وجہ سے ہی تو ہم سب کے گھر میں رونق ہے عائشہ بیگم بولیں
ہاں فاطمہ عائشہ صحیح کہ رہی ہے اتنی مشکل سے تو وہ زندگی کی طرف واپس آئی ہے کچھ سال پہلے کیا حال ہو گیا تھا بچی کا اللہ اسے ہمیشہ خوش رکھے حنا بیگم بولیں
سب نے آمین کہا
اس نے ہم سب کی خوشی کے لئے اپنے اوپر ایک خول چڑھا لیا ہے جو باہر سے تو بہت مضبوط نظر آتا ہے پر اندر سے بہت کمزور ہے ہم سب کے سامنے تو وہ شرارتی ہنستی مسکراتی رہتی ہے لیکن اس کی آنکھیں ویران ہی رہتی ہیں
میں تو اسے اس لئے کہتی ہوں کہ وہ اپنا خول تھوڑ دے نہیں تو وہ اندر ہی اندر ختم ہو جائے گی
فاطمہ بیگم نم لہجے میں بولیں
اچھا سب اب دکھی نا ہو اللہ ہماری حور کو خوشیاں اور زندگی دے میرے پاس تم سب کے لئے خوش خبری ہے
صبا بیگم ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے بولیں
کون سی خوشخبری ۔۔۔۔ حنا بیگم نے استفسار کیا
زاوی کی شادی کی تاریخ پکی کر دی ہے ہم نے تم سب نے آنا ہے
کیوں نہیں ہم سب آئیں گے عائشہ بیگم نے خوشی کا اظہار کیا
ان سب نے صبا بیگم کو مبارک باد دی
ویسے بھی آج میرے گھر پے ڈنر ہے مل کر اس خوشی کو سلیبریٹ کریں گے حنا بیگم ان سب سے بولیں
ان کے ہاں یہ راوج تھا کہ ہر Saturday night کوان چاروں گھرانوں میں سے کسی نا کسی کے گھر ڈنر کیا جاتا تھا اس سے ان سب کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع ملتا رہتا تھا
کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ سب اپنے گھر چلیں گئیں
رات کو سب دعا کے گھر ڈنر کے لئے اکٹھےہو گئے تھے
سب ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں مصروف تھے
علی ، مصطفی ، احمد اور عامر صاحب ایک طرف بیٹھے بزنس کی باتیں کر رہے تھے
بچے سب ایک جگہ بیٹھے اپنی اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے جبکہ فاطمہ ،
حنا ، صبا اور عائشہ بیگم کچن میں تھیں
کھانا ریڈی ہے سب لوگ آجائیں ڈائنیگ ٹیبل پرحنا بیگم نے سب سے کو مطلع کیا سب لوگ ٹیبل پر آ گئے
سب نے خاموشی سے کھانا کھایا
کھانا کھانے کے بعد سب ڈرائنگ روم میں آگئے
احمد انکل ، مصطفی انکل ، حنا آنٹی اور عائشہ آنٹی مجھے آپ سب سے ایک بات کرنی ہے حور نے ان سب کو اپنی طرف متوجہ کیا
وہ سب اس کی طرف متوجہ ہو گئے
جی بیٹا کیا بات کرنی ہے احمد صاحب نے اس سے پوچھا
وہ انکل میں ، دعا اور عائزہ کوکیئنگ کورس کرنا چاہتی ہیں اگر آپ کی اجازت ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچے میری طرف سے اجازت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سب کا کیا خیال ہے مصطفی صاحب نے عائشہ بیگم ، حنا بیگم اور احمد صاحب سے پوچھا
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان تینوں نے کو بھی کوئی اعتراص نہیں تھا
Thanks to all of you حور نے ان کا شکریہ ادا
اچھا اب آپ سب اپنی اپنی تیاری کر لیں زاوی شادی اگلے مہینے کی 25 کو ہے عامر صاحب نے سب کو خوشخبری سے آگاہ کیا
بہت بہت مبارک ہو زاوی سب نے اسے مبارک باد دی
اور ینگ پارٹی نے زاوی کو گھیر کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
زاوی بھائی آپ تو بڑے چپھے رستم نکلے شادی کی ڈیٹ فکس کر بھی لی ہمیں اب بتایا جا رہا ہے
اٹس ناٹ فیئر۔۔۔۔۔۔ رضا نے زاوی نے خفگی کا اظہار کیا
ہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یار اب کیا میں ٹی وی پر یہ نیوز چلوا دوں کہ مسٹر زاوی شادی کر رہے ہیں پوری پاکستانی عوام کو مدعو کیا جاتا ہے
شادی پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زاوی مزاق کے موڈ میں تھا
سب ان کی بات سن کے ہنسنے لگے
دعا تم نے کچھ نوٹ کیا ۔۔۔۔۔۔۔حور نے آہستہ سے دعا کے کان میں سرگوشی کی جو کہ عائزہ نے بھی سن لیا تھا کیونکہ وہ تینوں ایک دوسرے کے قریب بیٹھی تھیں
کیا۔۔۔۔۔۔دعا نے حور کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
یہی کہ حسن بھائی کب سے عائزہ کو دیکھ رہے ہیں میرے خیال سے There is something ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائزہ نے حور کی بات سن کر اپنا سر جھکا لیا کیونکہ وہ بھی اس بات کو نوٹ کر چکی تھی
سچی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعا اونچی آواز میں بولی
اے لڑکی آہستہ ۔۔۔۔۔۔حور نے اسےگھورا کیونکہ سب ان کی طرف متوجہ ہو گئے تھے
اچھا اچھا سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا فورا بولی
اور عائزہ تم نے بھی کچھ نوٹ کیا ۔۔۔۔۔حور نے اب کی بار عائزہ کو مخاطب کیا
کیا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ عائزہ نے سوالیہ نظروں سے حور کو دیکھا
ایک تو تم دونوں اندھی ہو کیا جو کچھ نظر نہیں آتا حور مصنوئی غصے سے
بولی
اچھا اب بتا دے اور کیا بات ہے دعا نے پوچھا
اس کو دیکھ کتنی جلدی ہے حور دعا کی طرف دیکھتے ہوئے عائزہ سے مخاطب ہوئی
اچھا اب بتا دے ۔۔۔۔۔۔
بات یہ ہے کہ رضا بھائی بھی کب سے دعا کو دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔ عائزہ کے پوچھنے پر حور نے اسے بات سے آگاہ کیا
سچ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عائزہ نے اونچی آواز میں حور سے پوچھا
کیا ہوا عائزہ بیٹا۔۔۔۔۔۔۔عائشہ بیگم نے اس سے پوچھا
مارے گئے ۔۔۔۔ دے اب جواب آنٹی کو حور نے عائزہ کو گھورا
کچھ نہیں ماما ہم ویسے ہی لگی ہوئی ہیں
اوکے بیٹا۔۔۔۔۔۔ عائشہ بیگم اس سے کہتی ہوئی فاطمہ بیگم کی طرف متوجہ ہو گئیں
اب بتاؤ تم دونوں تم دونوں نے بھی نوٹ کیا کہ نہیں ۔۔۔
کیا ہے میں نے ۔۔۔۔ دعا بولی
اور تم نے حور نے عائزہ سے پوچھا
ہاں میں نے بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ عائزہ کا جواب بھی ہاں میں ہی تھا
اچھا تم نے کس کو نوٹس کیا حور نے عائزہ سے پوچھا
وہ میں نے۔۔۔۔ میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا میں نے میں نے لگا رکھی ہے آگے بھی بکو کہ آگے الفاظ ختم ہو گئے تمارے پاس حور نے مصنوئی غصے سے عائزہ سے کو گھورا
وہ میں نے حسن بھائی کو دیکھا تھا اپنی طرف دیکھتے ہوئے
اور اب تم نے رضا بھائی کو نوٹ کیا ہو گا اپنی طرف دیکھتے ہوئے ہے نا میں صحیح کہہ رہی ہوں حور غصے سے دعا کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔ دعا نے اسے جواب دیتے ساتھ ہی اپنا سر جھکا لیا
کمیناں سارے جہان کی نا ہو تو اگر میں نوٹ نا کرتی تو تم لوگوں نے مجھے نہیں بتانا تھا ہے نا ۔۔۔۔۔۔؟
حور اس وقت فل غصے میں تھی کہ ان دونوں نے اسے نہیں بتایا
اچھا سوری نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دونوں بولی تھیں
اچھا ٹھیک ہے ابھی تو میں تم دونوں کو چھوڑ رہی ہوں کیونکہ ابھی یہاں سب موجود ہیں لیکن بعد میں تم دونوں کی خیر نہیں ہے حور نے ان کو آگاہ کیا
پھر وہ تینوں ہانیہ ، نور ، باسل ، شایان اور آیان کی طرف متوجہ ہو گئیں جو کارڈز کھیل رہے تھے
ایک باری ان کے ساتھ لگانے کے بعد وہ سب اٹھ کر رضا ، حسن اور زاوی بھائی کے پاس جا کر بیٹھ گئیں
زاوی بھائی ہم سب نے آپ سے شادی کی ٹریٹ لینی ہے اور آپ کو دینی ہی پڑے گی ہم کوئی انکار نہیں سنیں گے حور نے زاوی کو اپنا فیصلہ سنایا
میں نے تو کنگلا ہو جانا ہے اگر تم سب کو ٹریٹ دی تو ۔۔۔۔۔
زاوی بھائی ۔۔۔۔۔۔۔سب ایک ساتھ چیخے
اچھا یار دے دوں گا کیوں شادی سے پہلے مجھے بہرا کرنا ہے تم سب نے اور مجھ غریب کو اس کی ہونے والی بیوی چھوڑ کر بھاگ جائے اگر میری اب شادی نا ہوئی تو کسی نے مجھے اپنی بیٹی نہیں دینی میں تو پھر کنوارہ ہی مر جاؤں گا زاوی نے دکھی ہونے کی ایکٹینگ کی
اس کے انداز پر اور اسکی بات سن کر سب ہنسنے لگے
اوئے ہوئے اتنا شوق ہے آپ کو شادی کا حور نے اسکو چھیڑا
ہاں تو کیا نہیں ہونا چاہئیے زاوی فورا بولا
اچھا حور۔۔۔۔۔ آج میری شادی کی خوشی میں کچھ اچھا سا وائلن پر پلے ہی کر دو زاوی نے اس سے فرمائش کی.
جاری ہے
