Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01

Humko Humise Chura Lo by Sadia Yaqoob Episode01

ایک تو میں اس لڑکی سے تنگ ہوں جب سے اسکے پیپر ختم ہوئے ہیں ہر وقت سوتی رہتی ہے ابھی بھی دوپھر کے بارہ بجھ گئے ہیں ِاسے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ نور۔۔۔۔
نور کدھرہو ادھر آو اس شہزادی کو بھی اٹھا دو گدھے گھوڑے بیچ کے سوئی ہے اسے کسی کام کی ہے ہی نہیں۔
ماما جی آپ خود ہی اس کواٹھا لیں میں نہیں جا رہی
اس کواٹھنا دونیا کا سب سے مشکل کام ہے
میری پیاری بیٹی جاؤ اٹھاؤ اس کو آج اسکو میں سیدھا کرتی ہوں
اچھا امی جاتی ہوں نور منہ بناتی ہوئی کمرے میں گئی۔
نور جب کمرے میں داخل ہوئی تو وہ منہ تک سفید کمبل جس پر گلابی رنگ کے پھول بنے ہوئے تھے اوڑے بڑے مزے سے سو رہی تھی
کمرے میں زیرو پاور بلب اون تھا اور اے سی چلنے کی وجہ سے کمرے میں خنکی میں اضافہ ہو گیا تھا
حور کا کمرہ اوپر والی منزل پر تھا اُس کا کمرہ کسی شہزادی سے کم نہیں تھا
دیوار پر اُسکی مسکراتی ہوئی کی خوبصورت سی تصویر تھی جو نور نے اُس کے برتھ ڈے پر اُسے گفٹ کی تھی
سفید رنگ کا سارا فرنیچر تھا کمرے کے درمیان میں بڑا سا بیڈ تھا
جس پر حور کا بڑا سا پنک کلر کا پنک کلر کا ٹیڈی بیئر پڑا تھا بیڈ پر ڈھیر سارے سفید رنگ کے کُشن جن پر گلابی رنگ کے پھول تھے
اُس کے اردگرد بیکھرے ہوئے تھے
کھڑکیوں پر سفید ہی رنگ کے پردے گرے ہوئے تھے
کمرے کے ایک طرف ڈریسنگ روم تھا اور ڈریسنگ روم سے کچھ فاصلے پر ڈریسنگ ٹیبل تھا- اور کمرے کے دوسری طرف واشروم تھا
ایک دیوار پر شیلف بنے ہوئے تھے جس پر اُس کے سرٹفیکیٹ ، ٹرافز ، تصویریں اور ڈیکوریشن پیس پڑئے تھے
شیلف سے کچھ فاصلے پر بڑے سائز لی ایل سی ڈی لگی ہوئی تھی
نور نے جاتے ہی اے سی بند کیا اور اس کے اوپر سے کمبل اتارا کیونکہ وہ اتنے آرام سے کبھی نھیں اٹھتی تھی
حور اٹھ جاؤ آج ماما بہت غصے میں ہیں اگر تم ابھی نا اٹھی تو تمھاری خیر نہیں
اوہیلو بی بی اٹھ جا ۔۔۔۔۔
دعا نے اسے جنجھوڑا
ٹھیک ہے نا اٹھو میں ابھی ماما کو بھجتی ہوں وہ خود ہی تمھیں آکر اٹھاتی ہیں
نور نے اسے دھمکی دی جو کام کر گئی اور وہ ایک دم بیڈ سے اچھل کے اتری
یار۔۔۔۔۔۔مائی سویٹ سیسٹر۔۔۔۔ اٹھ تو گئی ہوں حور نے دعا کے گلے میں پیار سے اپنے بازو ڈالے
میرے ساتھ یہ چونچلے کرنے کی ضرورت نہیں نور نے مصنوئی غصے کا اظہار کیا
جلدی سے نیچے چلو ماما بلا رہی ہیں تمھیں
اچھا یار آ رہی ہوں
جلدی آنا ورنہ ماما نے خود آ جانا ہے وہ آج بہت غصے میں ہیں
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آتی ہوں حور منہ بناتی واشروم میں گھس گئ اور دعا نیچے چلی گئی
علی صاحب کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا ان کا اپنا بزنس تھا
ان کے گھرانے میں ان کی بیوی فاطمہ بیگم، بڑی بیٹی حورم جس کو سب پیار سے حور کہتے تھے، حور سے چھوٹی بیٹی نور، نور سے چھوٹا بیٹا شایان، اور شایان سےچھوٹا بیٹا آیان تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کافی دیر کے بعد نیچے آئی اور فاطمہ بیگم فل غصے میں کچن میں کام کر رہی تھیں وہ دل میں ڈھیروں دعائیں پڑھ کر کچن میں داخل ہوئی
ماشا اللہ ، سبحان اللہ اٹھ گئی شہزادی صاحبہ ہو گئی آپ کی صبح فاطمہ بیگم نے
طنز کیا
میری پیاری ماما جانی زیادہ غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا نا کیا کریں اتنا غصہ ۔۔۔۔
اس نے بڑے لاڈ سے ماما کے گلے میں اپنی باہیں ڈالیں
فاطمہ بیگم نے اسے پرے کیا اور غصے سے گھورا میری پیاری ماما اچھا سوری نا۔۔۔۔۔
میں فجر کی نماز پڑھ کے کچھ دیر کے لئے لیٹی تھی پر پتا ہی نہیں چلا کب نیند آ گئی
کبھی کوئ کام بھی کر لیا کرو پیپر ہو گے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر وقت آرام ہی کرتی رہو
ماما ابھی ایک ہفتہ ہی تو ہوا ہے پیپرز ختم ہوئے ہیں تھوڑا سا تو ریسٹ میرا حق بنتا ہے
اچھا چلیں میں آپ کی آج ہیلپ کرواتی ہوں کھانا بنانے میں کیا یاد کریں گی آپ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن پہلے مجھے کھا نے کو کچھ دیں بہت بھوک لگی ہے
حور ایک ادا سے بولی جیسے اُن پے ہی احسان کرنا ہو کھانا بنانے میں مدد کر
کے ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم اپنا سر پیٹ کے رہ گئی
اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا اللہ ہی اسے ہدایت دے تو دے ورنہ اس کا تو اللہ ہی حافظ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما کے ساتھ کام کروانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی
جیسے ہی اس نے اپنا موبائیل چیک کیا تو دعا اور عائزہ کے ڈھیر سارے میسجیز آئے ہوئے تھے
دعا اور عائزہ اس کی کزنز اور بیسٹ فر ینڈ تھیں
حور نے دعا کو عائزہ کے گھر آنے کا میسج کیا اور خود ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد عائزہ کے گھر جانے کے لیے تیار ہونے لگی
تیار ہو کر وہ نیچے آئی ماما سے عائزہ کے گھر جانے کی اجازت لینے
ماما۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما کدھر ہیں آپ فاطمہ بیگم اپنے کمرے سے باہر آئیں
کیا ہو گیا ہے اب تمھیں جو سارے گھر کو سر پے اٹھا لیا ہے
ماما وہ میں عائزہ کے گھر چلی جاؤں پلیز۔۔۔۔۔۔۔
اچھا چلی جاؤ
وہ خوشی خوشی عائزہ کے گھر کی طرف روانہ ہو گئی دعا اور عائزہ کا گھر حور کے گھر کے سامنے ہی تھا
اپنے گھر سے نکل کر وہ عائزہ کے گھر کے گیٹ پر بیل دی چوکیدار نے اسے دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا
اس نے چوکیدار بابا کو سلام کیااورگھر کے اندر داخل ہوئی
جب وہ گھر کے اندر داخل ہوئی تو عائزہ کی ماما عائشہ بیگم کچن سے باہر
آتی دکھائی دیں
اس نے ان کو سلام کیا انہوں نے اسے پیار سے گلے لگایا اور اس کا ماتھا چوما-
کیسی ہیں آپ آنٹی ۔۔۔۔۔۔
میں تو ٹھیک ہوں میری گڑیا بہت دنوں بعد آئی ہے
بس آنٹی آرام کیا اتنے مشکل پیپر جو دئیے ہیں حورم نے معصوم سا منہ بنایا
اچھا میری گڑیا آپ عائزہ کے پاس جاؤ وہ اور دعا کمرے میں ہیں میں کچن کا کچھ کام دیکھ لوں
اچھا آنٹی ۔۔۔۔۔۔
آنٹی پلیز کھانے کے لیۓ بھی کچھ دیجۓ گا
اوکے میری جان آپ عائزہ کے کمرے میں جاؤ میں کھانے کو کچھ بھیجتی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائزہ کے پاپا احمد صاحب کا بھی اپنا بزنس تھا عائزہ کی ماما عائشہ بیگم ہاؤس وائف تھیں عائزہ کے دو بھائی تھے اُس سے بڑا رضا اور چھوٹا باسل
دعا کے پاپا مصطفی صاحب کا بھی اپنا بزنس تھا دعا کی ماما حنا بیگم بھی ہاؤس ہی تھیں دعا کا ایک بڑا بھائی حسن اور چھوٹی بہن ہانیہ تھی
علی ، احمد اور مصطفی صاحب بچپن کے دوست اور کزنز بھی تھے اُن میں بُہت گہری دوستی تھی
اس لیے وہ ساتھ رہتے تھے اور کاروبار میں بھی ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے
اُن کی دوستی کی وجہ سے اُن کی بیویوں اور بچوں میں بھی گہری دوست تھی
حسن اور رضا ایم بی اے کر رہے تھے حور ، دعا اور عائزہ نے F.S.C کے پیپرز دیئے تھے
نور اور باسل نے میڑک کے پیپرز دیۓ تھے شایان اور ہانیہth 9 کلاس میں تھے جبکہ آیان ابھی 7th کلاس میں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور جب کمرے میں داخل ہوئی تو وہ دونوں باتوں مگن تھیں
اس کو دیکھتے ہی دوڑ کے اس کے پاس آئیں اور دونوں ایک ساتھ اس
کے گلے لگ گئیں
ہاۓ مر جاواں گُڑ کھا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔
(حور نے پنجابی میں کہا)
میرے آنے پے لوگ اتنے خوش ہوں گے مجھے پتا ہوتا تو پہلے ہی آجاتی۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہے یار ایک تو ہفتے بعد مل رہی ہو اور اوپر سے باتیں بھی ہمیں کر رہی ہو۔۔۔۔۔
دعا نے اس سے الگ ہوتے ہوۓ بولی
وہ کیا ہے نہ کہ تم لوگوں کی بور شکلیں دیکھ دیکھ کے تھک گئی تھی تھوڑا آرام کرنا چاہتی تھی اس لیے نہیں آئی حور ایک ادا سے بولی
تم حور کی بچی ہم بور ہیں تو تم کیا ہو یہ بھی بتا دو عائزہ نے غصے سے اسے گھورا
میں تو ہر وقت فریش رہتی ہوں تم لوگوں کی طرح ہر وقت سڑی ہوئی نہیں رہتی اس نے ان کے غصے کو ہوا دی
تمھاری تو ایسی کی تیسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ایک ساتھ بولی تھیں اور دونوں نے اسے گھیر لیا حور بھاگنے لگی لیکن اس کا پاؤں بیڈ کی سائیڈ سے اٹک گیا اور وہ بیڈ پر گر گئی
اب حور نیچے تھی اور وہ دونوں اس کے اوپر
اب بتاؤ ہم کیا ہیں۔۔۔۔۔دعا نے اسے گھورا
وہ دونوں اسے گھور رہی تھیں
اچھا یار سوری غلطی ہو گئی جو تم بور لڑکیوں کو بور کہہ دیا حور پھر بھی باز نا آئ اُنہیں تنگ کرنے سے
عائزہ نے اس کا گلا دبایا اور دعا نے اس کے بال کھینچے
آہ۔۔۔۔۔۔۔
اللہ بچا لیں مجھے ان چڑیلوں سے ۔۔۔۔۔۔حور نے دہائی دی
آہ ۔۔۔۔۔۔۔
بس کرو یار مار دینا ہے کیا آج مجھے تم چڑیلوں نے
تم کون سا باز آگئی ہو ۔۔۔۔۔۔کبھی ہمیں بور تو کبھی چڑیلیں کہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔
دعا نے خفگی کا اظہار کیا
اچھا سوری یار معاف کر دو اب نہیں کہتی اب تو چھوڑ دو حور نے معصوم سی شکل بنائی
آخر اُن کو اس پر ترس آ ہی گیا اور اسے چھوڑ دیا
حور نے شکر کا کلمہ پڑھا کہ چڑیلوں سے بال بال بچی
اچھا یار غصہ چھوڑو تم دونوں اور مجھے یہ بتاؤ مجھے کیوں یاد کیا تھا حور ان دونوں سے بولی
ویسے حور تم نا کتنی کمینی ، ڈرامے باز اور مطلبی ہو عائزہ بولی
اس سے پہلے حور کچھ کہتی ہاجرہ بی سینڈوچ اور کوک لے کے کمرے میں داخل ہوئیں
ارے ہاجرہ بی اسلام علیکم کیسی ہیں آپ حور نے ان کو سلام کیا
ٹھیک ہوں بیٹا آپ کیسی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت خوبصورت حور نے مزاق سے بولی
ہاجرہ بی اس کی بات سن کر ہسنے لگیں
دعا اور عائزہ سوچ رہی تھیں کہ اس کے ڈرامے کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔۔
ہاجرہ بی ان کی خاندانی ملازمہ تھیں ان کے سامنےبچے بڑے ہوۓ تھے اس لیے سب ان سے کافی فری تھے خاص طور پر حور لیکن سب ان کی بہت عزت کرتے تھے
وہ چیزیں بیڈ پر رکھ کر چلی گئیں
اچھا کیا کہ رہی تھیں تم لوگ حور ان سے بولی لیکن اس کا سارا دھیان سینڈوچز کی طرف تھا
ندیدی کہیں پہلے سینڈوچ ٹھوس لو پھر ہم سے پوچھ لینا کے ہم کیا کہ رہی ہیں اور ان کا بھی تم ہی کہہ کے آئی ہو گی ماما کو میں سچ کہہ رہی ہوں نا عائزہ نے اسے گھورا
ہاں تمھیں کیسے پتا چلا حور نے معصوم سی صورت بنائی اور اس سے پوچھا
تم جیسی ڈ رامے باز کا ہمیں نہیں پتا ہو گا تو کسے پتا ہو گا دعا نےبھی اسے گھورا
کیا ہے یار جب سے میں آئی ہوں تم لوگ مجھے گھور کیوں رہی ہو حور باری باری دونوں کو دیکھتے ہوئے بولی
تم بھی تو جب سے آئی ہو ہمیں کبھی کچھ کہہ رہی ہو تو کبھی کچھ ۔۔۔۔
دعا بولی
اور نا ہی ہمارا حال چال پوچھا اب کے عائزہ نے کہتے ہوئے منہ بنا لیا
اچھا یار کیسی ہیں آپ لوگ ، طبیعت ٹھیک ہے آپ کی ، میرے بغیر کیسے گزرے آپ کے دن اور راتیں ، مجھے یاد کیا بھی کے نہیں ، کیا کیا آپ لوگوں نے اتنے دن ، کوئی پروبلم تو نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا اورعائزہ ایک ساتھ چیخ پڑیں
میں نے تم سے اتنی تفصیل میں جانے کو نہیں کہا تھا عائزہ نے اسے گھورا
میں نے سوچا لگے ہاتھ پچھلے ہفتے کا حال چال پوچھ ہی لوں تا کہ تم لوگوں کی تسلی ہو جائے حور نے مسکراتے ہوئے بولی
یار حور کبھی تو سریس ہو جایا کرو دعا نے خفگی کا اظہار کیا
نا کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔ پے زور دیتے ہوئے بولی
ان دونوں نے منہ بنا لیا
اچھا یار ہو گئی سیریس اب تم لوگ بھی اپنے ڈرامے ختم کرو پھر مجھے تم لوگوں سے ایک بات بھی کرنی ہے
حور نے ان سے کہا لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئیں
اچھا یار سوری نا اب بس کرو حور نے ان دونوں کے گلے میں اپنا ایک ایک بازو ڈال کر اپنے ساتھ لگایا
مان جاؤ یار نہیں تو میں جا رہی ہوں اب
اس کا اتنا ہی کہنا تھا کہ وہ دونوں فورا مان گئیں اچھا معاف کیا کیا یاد کرو گی دونوں ایک ساتھ بولیں
چلو آؤ پھر سینڈوچ کھاؤ ہمارے ڈراموں میں وہ بھی ٹھنڈے ہو گئے
حور کے بولنے پر تینوں ایک ساتھ بیٹھی سینڈوچز کے ساتھ انصاف کر رہی تھیں
تینوں ایسی ہی تھیں ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ مستی کرتی رہتی تھیں خاص طور پر حور
تینوں میں بہت گہری دوستی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا اب میری بات سنو ۔۔۔۔۔
سینڈوچ کھانے کے بعد حور نے ان کو اپنی طرف متوجہ کیا
میرے پاس ایک آئیڈیا ہے کیوں نا ہم کوکیئنگ کورس کر لیں ہم تین مہینے فری ہیں ضائع کیوں کریں
اور ماما لوگ بھی خوش ہو جائیں گئیں کہ ہمیں کھانا بنانا آ گیا ہے
ان کے طعنوں سے بھی جان چھوٹےگی کہ ہمیں کچھ نہیں آتا تم لوگوں کو کیا بتاوں اب کہ آج بھی میری بہت ہوئی ماما سے
پھر کیا خیال ہے تم لوگوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔
یار بہت اچھا آئیڈیا ہے میری طرف سے تو ہاں ہے عائزہ نے حامی بھری
اوئے بھٹکی ہوئی آتما تو کدھر پہنچ گئی ہے حور نے دعا کو ہلایا جو پتا نہیں کیا سوچھ رہی تھی
ہائے حور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو ہی ہے نا یا تجھ میں کوئی بھوت آگیا ہے دعا نے حیران ہونے کی ایکٹنگ کی
یار عائزہ تو چیک تو کر اس نے کوئی نشہ تو نہیں کر لیا میں اس سے پوچھ کچھ رہی ہوں یہ جواب کچھ اور رہی ہے
واہ شہزادی۔۔۔۔۔۔آج تو نے خوش کر دیا دعا نے حور کے گال کو چومے
دعا اب تو سریس نا ہوئی نا تو میں نے تجھے گولی مار دینی ہے حور نے اسے گھورا
ویسے مجھے تم سے اتنی عقلمندی کی امید نہیں تھی دعا حیرانگی سے بولی
دعا کی بچی سیدھی طرح ہاں میں جواب دے دو کیوں میرا میڑ گھما رہی ہو حور نے اسے گھورا
ہاں ٹھیک ہے مجھے تو کوئی اعتراض نہیں دعا نے آخر کار حامی بھر ہی لی
اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے یہ لڑکی منہ مان گئی حور نے باقاعدہ اوپر کی طرف ہاتھ اور منہ اٹھاتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا
ورنہ میں تو سمجھ رہی تھی کے اسکا کوئی پرزہ ڈھیلا ہو گیا ہے جو مجھے ہی
ٹائٹ کرنا پڑے گا
چلو مان تو گئی کیا یاد کرو گی تم دعا نے اسے چڑایا
بس کرو اب تم دونوں عائزہ چیخ پڑی
اچھا اچھا کر دی بس اب یہ بتاؤ گھر والوں سے بات کون کرے گا دعا نے ان دونوں سے پوچھا
سب سے بات میں کروں گی ویسے بھی کل Saturday night ہے سب دعا کے گھر جمع ہوں گے تب میں سب سے بات کر لوں گی اور آج پاپا سے بات کر لیتی ہوں کیا خیال ہے تم لوگوں کا حور نے دونوں سے پوچھا
ٹھیک ہے پھر اب تم ہی بات کرنا سب سے عائزہ بولی
اور تم کیا کہتی ہو حور نے دعا سے پوچھا
میری طرف سے بھی ڈن ڈنا ڈن ہے لاک کیا جائے
دعا کی بات سن کر تینوں ہنسنے لگیں
اوکے اب میں ہی بات کروں گی حور بولی
پھر وہ کافی دیر تک ِادھر اُدھر کی باتیں کرتی رہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آ کر اس نے عصر کی نماز ادا کی وہ باقاعدگی سے پانچ وقت کی نماز پڑھتی تھی
جب وہ نیچے آئی تب تک شایان اور آیان سکول کا ہوم ورک کر رہے تھے اور نور بھی ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی
وہ ان کے پاس جا کر بیٹھ گئئ اور ہوم ورک کرنے میں ہیلپ کروانے لگی
کچھ دیر بعد اس کے پاپا گھر آگئے وہ دوڑ کر ان کے پاس گئ اور ان کے گلے گئی
حور کو دیکھا دیکھی وہ تینوں بھی پاپا کے پاس آ گئے
علی صاحب نے ان سب کو باری باری گلے لگایا
کیسے ہیں میرے بچے انہوں نے ان سب سے پوچھا
ہم ٹھیک ہیں پاپا جواب حور کی طرف سے آیا
اچھا آپ سب کا آج کا دن کیسا گزرا علی صاحب نے ان چاروں سے پوچھا
بہت اچھا گزارا اب کی بار جواب آیان کی طرف سے آیا
اچھا پاپا آپ جا کے فریش ہو جائیں تھک گئے ہوں گے نور بولی
اوکے بیٹا ۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے کمرے کی طرف چلے گئے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *