Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Last Episode)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

ہم جانتے ہیں جنت صہیب اور ضوریز کی محبت میں بہت فرق ہے مگر دونوں کی محبت خالص ہے۔۔۔ بس یہ تو دو روپ ہیں محبت کے ۔۔۔ صہیب ہمیشہ تم سے نرمی سے بات کرتا تھا کیونکے اُسکی تربیت اسکی ماں نے کی تھی اور ضوریز کے لہجے میں سختی ہے اُسکی تربیت نہ جانے کس نے کی ہے۔۔۔۔ میں اُسکی تربیت پر شک کر سکتا ہوں مگر جو محبت وہ تم سے کرتا ہے میں اس پر شک نہیں کر سکتا۔ ۔۔

بشیر جنت کے پاس بیٹھ کر اس سمجھانے لگے

تمہارے ماموں ٹھیک کہہ رہے ہیں جنت۔۔۔ میں جانتی ہوں چندا تمہارے لیئے یہ سب آسان نہیں یقین کرو میرے لیئے بھی یہ سب بہت مشکل ہے مگر جہاں محبت مل رہی ہو نہ وہاں گزارا کر لینا چاہیئے ۔۔ تم اُسے ایک موقع دو وہ تمہارے سارے غم چن لے گا بیٹا۔ ۔

ماروخ نے بھی جنت کے پاس بیٹھ کر اُسے سمجھایا

امی۔ ۔۔ بات محبت کی نہیں ہے دل کی رضامندی کی ہے۔۔۔۔ جب میرا دل ہی راضی نہیں ہو رہا تو میں کیسے اسکی محبت کو قبول کر لوں۔ ۔۔ آپ سب مجھے سمجھ نہیں رہے۔ ۔ میں نے ہمیشہ صہیب سے وعدہ کیا ہے کے میں اُس کے علاوہ کسی کا نہیں سوچوں گی۔۔۔۔ کیا اب ضوریز کو اپنا کر میں اپنے وعدے سے مُکر جاوں۔ ۔۔؟؟

جنت نے ماروخ سے پوچھا

بیٹا ضوریز کی محبت قبول کرنے سے تم وعدے سے کیسے مُکرو گی۔۔ ہم تمہیں اس کی محبت قبول کرنے کا کہہ رہے ہیں نا کے اس سے محبت کرنے کا۔ ۔۔ اور پھر صہیب نے خود آخری سانسوں میں ضوریز سے وعدہ لیا تھا کے وہ تمہارا خیال رکھے۔۔ تو سوچو ضوریز اپنا وعدہ کیسے پورا کرے گا۔ ۔ تمہیں کیا لگتا ہے تمہیں اسطرح پریشان اور دکھی دیکھ کر صہیب کو تکلیف نہیں ہوتی ہوگی۔ ۔ میری جان اگر وہ بھی ضوریز کی محبت دیکھ لیتا تو یقینً وہ اسکی محبت پر ایمان لے آتا۔ ۔۔سمجھنے کی کوشیش کرو جنت ہم سب تمہارا بھلا چاہتے ہیں بس۔۔۔

ماروخ نے جنت کو اپنے گلے لگایا

امی میں دو ٹکڑوں میں کٹ جاوں گی۔۔۔ میرے لیئے یہ سب آسان نہیں ہے۔۔ ہر پل ہر لمحہ صرف صہیب کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دیکھے تھے اب کیسے میں اس حقیقت کو مان لوں۔ ۔۔

جنت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

بس ماروخ میری بیٹی کے ساتھ اب اور کوئی زبردستی نہیں ہو گی اگر وہ ضوریز کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اب ہمیں اس کے فیصلے کا احترام کرنا ہوگا جیسے اس نے ہمارے فیصلے کا کیا تھا۔ ۔۔

ماروخ کے بات کرنے سے پہلے ہی راشد نے انہیں ٹوک دیا

بس جنت اب خود کو اور ازیت مت دو میں بات کرونگا ضوریز سے وہ تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا تم پریشان مت ہو ہممم۔۔۔ بس چپ ہو جاو ریلکس۔ ۔۔

راشد نے پاس آکر جنت کے سر پر ہاتھ رکھا

مگر راشد ضوریز جنت کو طلاق نہیں دینا چاہتا۔ ۔۔

ماروخ نے حیران ہو کر راشد سے کہا

اب ہر بار اُس کی مرضی نہیں چلے گی۔ ۔ میں بات کرتا ہوں اُس سے تم جنت کو سلا دو تھوڑا ریسٹ کر لے۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ ۔۔

ضوریز خاموشی سے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا کے راشد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا

جی انکل کریں۔ ۔

ضوریز نے سگریٹ بُجھائی

جنت اس رشتے کے لیئے راضی نہیں ہے۔ ۔ میں نے ہمیشہ جنت کے فیصلے کو اہمیت دی ہے وہ میری اکلوتی بیٹی ہے جب اسکی شادی صہیب سے ہوئی تھی اس وقت بھی میں نے اپنے بہت سے سگے رشےداروں کو ناراض کیا تھا کیونکے وہ سب ہی جنت کو اپنی بہو بنانا چاہتے تھے مگر جنت صہیب سے محبت کرتی تھی اس لیئے میں نے اپنے رشتداروں کو منع کر کے جنت کا رشتہ صہیب سے طے کیا۔ ۔۔ اب جب وہ تمہارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو میں آج بھی اُس کے فیصلے کے ساتھ ہوں۔ ۔ تمہیں جنت کو طلاق دینی ہو گی۔ ۔

راشد نے ضوریز کے سر پر گویا بمب پھوڑا

یی یہ کک کیا کہہ رہے ہیں آپ انکل ۔۔ میں کہہ چکا ہوں میں ہرگز اسے طلاق نہیں دونگا۔ ۔۔

ضوریز نے سختی سے کہا

تم اس کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ضوریز یہ اُسکا حق ہے۔ ۔

راشد نے بھی سختی سے کہا

یہ اُسکا حق نہیں ہے۔ ۔۔ جب میں اسکی ہر بات مان رہا ہوں محبت کرتا ہوں۔۔۔ عزت کرتا ہوں۔۔ ہر چیز بنا کہے اسے لا کر دیتا ہوں۔۔ پھر یہ اسکا حق کیسے ہوا۔ ۔۔ ہرگز نہیں میں یہ کبھی نہیں کرونگا۔ ۔۔

ضوریز غصے سے کھڑا ہوا بات کرتے کرتے ضوریز کا سانس پھول گیا

آرام سے بات کرو ضوریز۔ ۔۔ بے شک تم جنت کی ہر خواہش پوری کر رہے ہو مگر جب اُسے تم سے محبت ہی نہیں ہے تو وہ کیسے تمہارے ساتھ رہے۔ ۔۔

تو میں اس سے کب محبت مانگ رہا ہوں۔ ۔۔ مت دے محبت اسی طرح پیاسا رکھے مجھے میں قسم کھا کر کہتا میں اسے ہاتھ بھی نہیں لگاونگا۔ ۔۔ بس مجھ سے طلاق نہ لے میں اسے خود سے الگ نہیں کر سکتا انکل پلیزززز ۔۔۔

ضوریز نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیا

بہت سمجھایا ہے اسے ہم سب نے مگر وہ نہیں مان رہی بتاو اب ہم کیا کریں یا تم سمجھ جاو یا اُسے سمجھا دو۔ ۔۔ اب یہ تم پر ہے ۔۔۔ مگر ہاں یاد رکھنا میں ہر حال میں جنت کا ساتھ دونگا۔ ۔۔

راشد نے ضوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا

مم میں بات کرتا ہوں اس سے ۔۔۔ مجھے ایک موقع دیں۔ ۔

ضوریز نےتھکے ہوئے لہجے میں کہا

ہمم ٹھیک ہے کر لو بات تمہارے پاس ایک دن ہے اگر وہ مان گئی تو ٹھیک ہے ورنہ تم جانتے ہو تمہیں کیا کرنا ہوگا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز روم میں آیا تو ماروخ جنت کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھیں۔ ۔

کیا ہوا سو گئی ہے ؟

ضوریز کے بہت آہستہ آواز میں کہا

ہاں بس ابھی ابھی سوئی ہے۔ ۔

ماروخ جنت کے پاس سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ ۔

ضوریز آج تم کہیں اور سو جاو۔ ۔

ماروخ نے ضوریز کے نزدیک آکر کہا

آں ہاں۔ ۔۔ نن نہیں پھوپو میں کہیں اور نہیں سو سکتا۔ ۔ آپ پریشان مت ہوں میں اسے تنگ نہیں کرونگا ۔۔۔

ضوریز نے اپنی نظریں جنت سے ہٹا کر کہا

ہمم ٹھیک ہے ضوریز مگر جنت تمہارے ساتھ۔۔۔

پلیزز پھوپو اس وقت میں تھوڑا آرام کرنا چاہتا ہوں اب اس معاملے میں صبح بات ہو گی۔ ۔

ضوریز نے اپنا سر دباتے ہوئے کہا

اچھا چلو ٹھیک ہے تم بھی آرام کرو۔ ۔۔

ماروخ نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور روم سے چلے گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز بنا کوئی آواز کیئے جنت کے ساتھ لیٹ گیا اور نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔ ۔۔۔ تھوڑی دیر تک جنت کو دیکھنے کے بعد وہ تھوڑا اٹھ کر جنت کے چہرے پر آئے بال اپنے ہاتھوں سے سمیٹنے لگا پھر انہں بالوں میں اپنا چہرے چھپا کر گہرا سانس لیا۔۔۔ جنت کی خوشبو اسے مدحوش کر رہی تھی وہ کتنی ہی دیر جنت کے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اتارتا رہا۔ ۔۔ پھر مسکرا کر جنت کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔

ہنہ کیا کوئی اپنی روح سے جدا ہو کر کے بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کے ہاتھ کو دیکھ کر سوچا اور پھر جنت کی ایک ایک انگلی کو اپنے لبوں سے چومنے لگا

اُسے ایک سکون سا محسوس ہوا جیسے بہت لمبے سفر کی تھکاوٹ اتر گئی ہو۔ ۔

میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتا جنت۔ ۔۔

جنت کے ہاتھ کو اپنے سینے پر رکھ کر جنت کے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔ ۔۔

مت جاو مجھ سے دور۔۔۔ مر جاونگا میں۔ ۔

اپنا چہرہ جنت کی گال سے لگا کر وہ بہت آہستہ آواز میں جنت سے باتیں کر رہا تھا

جنت مجھے اپنا لو۔۔ آئی نیڈ یو۔ ۔۔

ضوریز خود پر قابو نہ رکھ سکا وہ جو باہر جنت کو نہ چھونے کی قسم کھا کر آیا تھا جنت کو دیکھتے ہی اپنا آپ کھو بیٹھا

جنت کو محسوس ہوا کے کوئی اس کے اوپر ہے۔ ۔ جنت نے فوراً آنکھیں کھول کر دیکھا۔ ۔ ضوریز آدھی بند ہوتی آنکھوں سے جنت کے گال چوم رہا تھا۔ ۔۔۔

ضض ضوریز چھوڑیں مجھے۔۔

جنت نے اٹکتے ہوئے کہا

نہ ممکن ہے جنت۔۔۔۔ روح میں بستی ہو تم۔۔ تمہیں چھوڑ کر میں صرف قبر میں جا سکتا ہوں۔ ۔

ضوریز نے جنت کی ناک کو اپنے لبوں سے چھوا

یہ آپ کیا کر ریے ہیں میرح اوپر سے ہٹیں۔۔

جنت نے کمزور لہجے میں کہا

جنت ایسا مت کرو پلیززز مجھے تھوڑا سکون چاہیئے ۔۔۔

ضوریز کا سانس بھاری ہونے لگا۔۔ اُس نے جنت کے ہونٹوں کو اپنی انگیوں سے چھوا اور آنکھیں بند کر کے جنت کے لبوں پر جُھکا۔۔

نہیں ضوریز یہ کیا کر رہے ہیں آپ پیچھے ہٹیں۔ ۔

جنت نے اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا ضوریز نے گہرا سانس لے کر آنکھیں کھولیں اور اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتا ہوا جنت کے اوپر سے اٹھ گیا۔ ۔۔۔

خود پر قابو پانے کے لیئے اس نے اپنا سر تھام لیا۔ ۔۔

جنت بنا آواز کیئے رونے لگی

ضوریز نے سر اٹھا کر جنت کو دیکھا

پلیززز جنت رو مت۔ ۔

ضوریز نے تکلیف سے کہا

ضوریز تیزی سے اٹھا اور اپنی جیکٹ سے اپنا چاقو نکالا

یہ لو پکڑو اِسے۔ ۔۔

ضوریز نے اپنا چاقو جنت کی طرف بڑھایا

یی کک کیا ہے مم مجھے نہیں چاہیئے۔۔

جنت ضوریز سے خوفزدہ ہوئی

مجھے ایک ہی بار مار دو اپنے ہاتھوں سے جنت ۔۔ تمہارے بغیر جی نہیں سکتا مگر تمہارے ہاتھوں سے مر سکتا ہوں۔۔۔ لو پکڑو ختم کر دو مجھے اور اپنی اس ازیت کو بھی۔ ۔ ۔

ضوریز نے زبردستی جنت کے ہاتھ میں چاقو پکڑایا

یہ کیا رہے ہیں امی ی ۔۔ ابو۔ ۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ سے دور رہیں مجھ سے۔۔

جنت نے روتے ہوئے کہا

ششش۔ ۔۔ چپ ۔۔۔ خاموشی سے مجھے مار دو میں کسی کو کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔ کہنا میں نے خود کُشی کی ہے۔۔۔

ضوریز نے جنت چاقو والا ہاتھ تھاما اور اسے اپنی گردن پر رکھ دیا

لو جنت مجھ سے آزادی چاہتی ہو نا تو لے لو آزادی اسی طرح آزادی مل سکتی ہےتمہیں۔ ۔

وہ اب جنت کے ہاتھ پر دباو ڈال کر اپنی گردن میں چاقو مارنے کی کوشیش کر رہا تھا

چھوڑیں مجھے۔۔۔ لگتا ہے آپ اپنے ہوش میں نہیں ہیں۔ ۔۔

جنت نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھوڑوایا اور چاقو کو دور زمین پر پھینک دیا

پاگل ہو گئے ہیں آپ اپنی طرح قاتل بنانا چاہتے ہیں مجھے بھی۔۔

جنت نے اونچی آواز میں کہا

ہاں پاگل ہو گیا میں بلکل پاگل ۔۔۔

ضوریز اپنا سر ہاتھوں میں تھام کر گہرے سانس لینے لگا۔ ۔

جنت میں اور تم سے کچھ نہیں کہونگا بس مجھے خود سے دور مت کرو۔ ۔۔ میں مر جاونگا یار۔ ۔۔ میرے یہاں آنے کی وجہ تم ہو۔ ۔ مجھے خود سے دور کر کے دوبارہ اُس دنیا میں مت بھیجو۔ ۔۔ پلیززز جنت میں بھی جینا چاہتا ہوں وہ زندگی جو ہر انسان جیتا ہے میرا بھی حق ہے۔ ۔ پلیزززز ۔۔

ضوریز نے جنت کو پکڑ کر اپنے قریب کیا

دیکھو جنت میری آنکھوں میں سب کو نظر آتی ہے یہ محبت یہ بے چینی تم کیوں اتنی انجان بنتی ہو۔ ۔۔ ضوریز سمجھ کے نہ سہی صہیب کا جُڑواں بھائی سمجھ کر ہی رحم کھا لو۔ ۔۔ مجھے بچا لو جنت ۔۔

ضوریز نے تھک کر جنت کی گود میں سر رکھ دیا

میں مانتا ہوں میں صہیب جیسا نہیں صہیب مجھ سے بہت اچھا تھا۔ ۔ مگر ہم دونوں کو تم سے ہی محبت ہوئی۔ ۔۔ میری محبت کا روپ الگ ہے جنت۔۔۔ میری محبت کا انداز الگ ہے۔ ۔۔ مجھے سمجھنے کی کوشیش کرو۔ ۔ مم مجھے تکلیف مت دد۔ ۔۔

ضوریز کی آواز آہستہ آہستہ مدہم ہو گئی جنت نے جھک کر ضوریز کا چہرہ دیکھا تو ضوریز کی آنکھیں بند تھیں جیسے وہ گہری نیند میں ہو

ضوریز کے آنسو اسکی آنکھوں کے کونے پر اٹکے ہوئے تھے جیسے بہت ضبط کرنے کے بعد بھی آنسو باہر آجاتا ہے

جنت نے ضوریز کی آنکھ سے آنسو صاف کیا اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی

شاید اسے ضوریز کی حالت ہر رحم آگیا تھا۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز کی آنکھ کھلی تو وہ اب تک جنت کی گود میں تھا اور جنت بیڈ سے ٹیک لگائے سو رہی تھی

اوہ نو یہ میں نے کیا کیا جنت اٹھو ریکلس ہو کر لیٹ جاو۔ ۔

ضوریز نے احتیاط سے جنت کو سیدھا کیا جنت نے مشکل سے آنکھیں کھول کر دیکھا

نہیں میں ٹھیک ہوں۔ ۔

جنت نے ضوریز کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا اور اپنی آنکھیں مسلنے لگی

آپکو نیند آگئی تھی۔۔؟

جنت نے نرمی سے پوچھا

ہمم آگئی تھی بہت دنوں بعد اسطرح کی نیند آئی ہے اس لیئے شاید پتا نیں چلا۔۔۔ میں نے تمہیں تکلیف دی آیم سوری۔ ۔۔

ضوریز شرمندہ ہوا

اٹس اوکے۔ ۔۔

جنت نے مختصر جواب دیا اور اپنے ہونٹ کاٹنے لگی ضوریز نے اسکی بے چینی نوٹ کی

کیا ہوا۔۔؟ کچھ کہنا چاہتی ہو ۔۔؟

ضوریز نے نرمی سے اسے ہونٹوں کو الگ کیا اور اپنی انگلیوں سے سہلایا

کیوں تکلیف دے رہی ہو انہیں یہ اسطرح کاٹنے کا قابل نہیں ہیں بلکے یہ تو بہت پیار سے چومنے کے قابل ہیں۔ ۔

ضوریز نے جنت کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا

وہ مجھے بات کرنی تھی۔ ۔

جنت نے گھبرا کر ضوریز کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے ہٹایا

ہاں۔ ۔ کہو میں سن رہا ہوں۔۔

ضوریز چونک کر سیدھا ہوا اور شرافت سے سر جھکا کر جنت کے بولنے کا انتظار کرنے لگا

میں نے رات میں بہت سوچا ضوریز ۔۔۔ آپکی مجبت پر مجھے شک نہیں ہے۔۔۔ آپکی محبت کا روپ بھی بہت انوکھا ہے مجھے ایسی محبت کی عادت نہیں تھی شاید اسی لیئے۔ ۔۔ خیر مجھے یہ کہنا ہے کے میں صہیب کو اپنے دل سے نہیں نکال سکتی ۔۔۔

جنت نےگہرا سانس لیا جیسے وہ کسی فیصلے پر پنچ گئی ہو

تو میں نے کب کہا کے صہیب کو دل سے نکال دو۔ ۔ وہ میرا بھی بھائی تھا جنت۔۔۔ ٹھیک ہے جتنی تم محبت کرتی ہو اُس سے میں نہیں کرتا مگر میں اُسکی محبت کی قدر کرتا ہوں۔ ۔ جب وہ میرے ہاتھوں میں تھا نہ تب میں نے اسکی آنکھوں میں تم سے بچھڑنے کی تکلیف دیکھی تھی اس وقت میں نا سمجھ تھا آج جب اسکا وہ چہرہ یاد آتا ہے تو مجھے بھی بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ۔ یقین کرو اگر اسے قبر سے نکال کر مجھے خود قبر میں جانا پڑے تو میں یہ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ ۔۔ بس صہیب کی محبت کو میری محبت سے کمپیئر مت کرو۔۔ پتا نہیں عجیب بے سکونی ہوتی ہے مجھے۔ ۔۔ بیشک اسے یاد کرو بلکے مل کے یاد کریں گے مگر اپنی زندگی میں مجھے بھی جگہ دے دو۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کا ہاتھ پکڑا

ہممم۔۔۔ یہ ہی فیصلہ کیا ہے میں نے۔۔۔ ویسے بھی صہیب میرے خواب میں آئے تھے۔ ۔ بہت ناراض تھے مجھ سے کہہ رہا تھا جس بھائی سے میں اتنی محبت کرتا ہوں تم اُسے اتنا دکھ دے رہی ہو کافی ڈانٹا ہے اس نے مجھے آپکی وجہ سے۔۔ ہنہ آپکے جیسا غصہ کیا اس نے مجھ پر۔ ۔

جنت روتے ہوئے مسکرانے لگی

واقعی۔ ۔۔ اس نے تم سے یہ کہا۔ ۔۔ اوہ کاش ش ش۔ ۔۔ کاش میں تم لوگوں کی زندگی میں نہیں آتا۔۔۔۔ کاش ش ش ہم اسطرح نہ ملے ہوتے کاش وہ میرے ساتھ ہوتا۔ ۔

ضوریز کو شدت سے صہیب کی یاد آئی اور خوبخود اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے

اب روئیں مت ورنہ وہ پھر مجھے ڈانٹے گا۔ ۔

جنت نے ضوریز کے جھکے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرا

ضوریز نے جنت کو دیکھا اور وہ دونوں ایک ساتھ مسکرائے

خبردار جو کسی نے تمہیں ڈانٹا میرے علاوہ تمہیں کوئی نہیں ڈانٹ سکتا۔۔۔

ضوریز نے مسکرا کر جنت کی ناک دبائی

آوچ آرام سے۔۔۔

جنت نے اُس کے ہاتھ پر تھپڑ مارا

اب آرام سے کچھ نہیں ہوگا بہت آرام کر لیا آپ نے۔ ۔۔۔۔

ضوریز نے تیزی سے جنت کو بیڈ پر لٹیایا اور خود بھی لیٹ گیا

زیادہ پھیلیں مت صبح ہو گئی ہے ہٹیں۔ ۔

جنت نے ضوریز کو ہٹانا چایا

ششش بلکل نہیں آج سے تمہاری ہر بات مانو گا بس یہ والی باتیں نہیں مانو گا۔ ۔

ضوریز نے جھک کر جنت کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں کو رکھا اور جنت کی بات اسکے منہ میں ہی رہہ گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابو۔۔ امی۔۔ مجھے ضوریز کا ساتھ قبول ہے۔ ۔۔

ناشتے کے دوران جنت نے سب کو دیکھتے ہوئے بتایا

شکر اللہ تو نے اسکی کم عقل لڑکی کو عقل دی۔ ۔

سب سے پہلے عشرت بی بی نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا

ماروخ اور راشد نے ایک پرسکون سانس لیا

نانو۔ ۔۔ میں کم عقل نہیں ہوں۔ ۔۔

جنت کو غصہ آیا

تم کم عقل نہیں بلکے بلکل ہی عقل سے فارغ ہو۔ ۔

ضوریز کے ہلکا سا اُس کے سر پر ہاتھ مارا

اچھا۔ ۔ تو پھر میں ابھی اپنا فیصلہ بدل لیتی ہوں۔ ۔

جنت نے ضوریز کو دیکھ کر دھمکی دی

اووہوو۔ ۔ مزاق کر رہا تھا۔ ۔ ظاہر ہے عقل مند ہو جب ہی تو میرا ساتھ قبول کیا ۔۔

ضوریز نے آنسہ کی طرف دیکھ کر آنکھ ماری

ہممم اب آئے نہ لائن پر۔ ۔

جنت نے ایک ادا سے اپنے بالوں کو جھٹکا دے کر کہا

آئے ہائے ایسی ادائیں مت دکھاو کمزور دل ہے برداشت نہیں پائے گا۔۔ کوئی گستاخی کر بیٹھے گا سب کے سامنے۔ ۔

ضوریز نے جھک کر جنت کے کان میں کہا

پُتر۔ ۔۔ تیری دادی بوڑھی ضرور ہوئی ہے مگر ابھی بھی صاف سنائی دیتا ہے۔ ۔

۔

عشرت بی بی نے اپنا چہرہ آگے کر کے ضوریز سے کہا جنت نے اپنی ہنسنی روکی

اوہوو دادو اصولاً تو آپکو اونچا ہی سننا چاہیئے اب۔ ۔

ضوریز نے عشرت کو تنگ کیا

چل جنت اٹھ یہاں سے یہ لڑکا ٹھیک نہیں ہے۔ ۔۔

عشرت نے جنت کا ہاتھ پکڑ کر کہا

اوہ دادو مزاق کر رہا تھا یہ دیکھیں کان پکڑتا ہوں۔ ۔

ضوریز نے فوراً اپنے کان پکڑے وہاں بیٹھے سب افراد کھل کر ہنسنے لگے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سال بعد۔۔!

یہ لڑکا باولا ہو گیا ہے کیا ۔۔۔

عشرت نے آنسہ سے کہا

تمہارے اسطرح چلنے سے بچے جلدی پیدا نہیں ہو جائینگے۔ ۔۔

ضوریز کو کب سے بے چینی سے ٹہلتا دیکھ کر عشرت بی بی نے اکتا کر کہا

اوہو دادو اتنا وقت لگتا ہے بچے پیدا ہونے میں ۔۔

ضوریز نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلی

یہ لو اس کے باپ نے بھی یہ ہی پوچھا تھا جب تم اندر تھی۔ ۔

عشرت نے ہنس کر آنسہ سے کہا وہ بھی مسکرا دی

دادو کیا اتنا زیادہ درد ہوتا ہے۔ ۔۔

ضوریز گھٹنو کے بل بیٹھ کر عشرت سے پوچھنے لگا

تو اور کیا بچے مزے سے جھولے لیتے ہوئے آتے ہیں پاگل ظاہر ہے ماں کو تکلیف اٹھانی ہوتی ہے تم کیا جانو۔ ۔

نہیں دادو مجھے بھی بہت تکلیف ہو رہی ہے بس اب اور بچے نہیں چاہیئے مجھے۔ ۔

ضوریز نے سر جھکا کر آہستہ آواز میں کہا

وہ لے ڈاکٹر آگئی۔۔۔

عشرت نے سامنے کھڑی ڈاکٹر کی طرف اشارا کیا ۔۔ ضوریز بھاگتا ہوا ڈاکٹر کے پاس گیا

مم میری وائف تو ٹھیک ہیں نہ۔۔

ضوریز نے پھولے ہوئے سانس کے ساتھ سب سے پہلے جنت کا پوچھا

جی ہاں ماشاءاللہ وہ بلکل ٹھیک ہیں۔ ۔۔

ڈاکٹر ضوریز کی بے چینی دیکھ کر مسکرا دی

آپکے ہاں دو خوبصورت جُڑواں بیٹوں نے جنم لیا ہے مبارک ہو۔ ۔۔

ڈاکٹر نے ضوریز اور آنسہ کو باری باری دیکھ کر مبارک باد دی۔ ۔

اوہ میرے اللہ تیرا شکر۔۔۔ دیکھو ضوریز کیسے کیسے نوازتا ہے وہ۔ ۔۔

آنسہ نے ضوریز کو گلے لگا کر کہا

جی ماں بیشک۔ ۔۔ کیا میں مل سکتا ہوں۔ ۔؟

ضوریز نے ڈاکٹر سے پوچھا

جی ضرور بس ابھی نرس آپکو بتا دے گی آپ اندر جا کر مل لیجئے گا۔ ۔

ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا اور چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماشاءاللہ ایسا لگتا ہے ان دونوں کا بچپن ہو۔۔۔ ہے نا بھابی دیکھیں۔ ۔

ماروخ نے دونوں بچوں کو گود میں لے کر کہا

ہاں دیکھو جیسے ضوریز نے جلدی آنکھیں کھول لیں تھیں اس نے بھی کھولی ہوئی ہیں۔ ۔اور یہ سُست ہے اپنے صہیب کی طرح۔ ۔

آنسہ نے ہنس کر کہا

مبارک ہو میری جان۔ ۔۔ تمہیں اب تکلیف تو نہیں ہو رہی۔ ۔؟

ضوریز جنت کے پاس بیٹھ کر پوچھنے لگا

نہیں آج تو ایسا لگ رہا سب تکلیف اور درد دور ہو گئے ہوں دیکھیں کتنے پیارے بچے ہیں ہمارے۔ ۔۔

ہاں بہت پیارے ہیں بلکل تمہارے جیسے معصوم۔ ۔۔

ضوریز نے جھک کر جنت کے ماتھے پر بوسا دیا

افف کیا کر رہے سب سامنے ہی بیٹھیں ہیں۔ ۔

جنت نے ضوریز کو گُھورا

تو اب کیا سب کے جانے کا انتظار کروں۔ ۔۔

ضوریز نے کندھے اُچکا کر کہا

ارے بھابی اب ان دونوں کے ایک جیسے نام سوچنے پڑیں گے یاد ہے آپکو ضوریز اور صہیب کے نام بھی میں نے بتائے تھے۔ ۔

ماروخ اٹھ کر ضوریز کے پاس آئیں

ہاں بھئی بتاو کوئی نام سوچے ہیں تم لوگوں نے۔ ۔۔

ماروخ نے دونوں کی طرف دیکھ کر پوچھا

جی میں نے سوچ رکھیں ہیں ۔۔۔ اِسکا کا نام زوہیب اور اِسکا نام صہیب۔ ۔۔ اور اب یہ صہیب زوہیب سے نہیں بچھڑے گا۔ ۔۔

ضوریز نے دونوں کو گود میں لے کر پیار کیا

ماشاءاللہ بہت اچھا سوچا ہے تم نے اللہ ان دونوں کو ہمیشہ ایک ساتھ رکھے۔ ۔

آنسہ نے نم آنکھوں سے دعا کی۔ ۔ سب ہی خاموشی سے صہیب کو یاد کر کے آبدیدہ ہو گئے۔ ۔۔

چلو بھئی خوشی کا موقع ہے میں میٹھائی لاتا ہوں۔۔۔

بشیر کی آواز نے خاموشی کو توڑا اور سب مسکرا کر بچوں کو دیکھنے لگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *