Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 15)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 15)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
دن ہفتوں میں بدلنے لگے۔ ۔ نئے سال کے آغاز میں چند دن ہی باقی رہ گئے تھے مارک نے سب کو نئے سال کی تیاریوں میں لگا دیا۔ ۔
ضوریز کی پریشانی دن با دن بڑھ رہی تھی وہ کیسے مارک سے بات کرے اسے ڈر تھا اگر اس نے مارک سے بات کی تو وہ غصے میں اس کی فیملی کو نقصان نہ پہنچا دے۔ ۔۔ ضوریز مارک سے بچنے کے لیئے دوسرا راستہ سوچنے لگا۔ ۔
بس اب ایک ہی راستہ تھا کے وہ مارک کو بتائے بغیر خاموشی سے یہ ملک چھوڑ جائے ۔ ضوریز کو یہ سب اتنا آسان تو نہیں لگا مگر یہ نا ممکن بھی نہیں تھا ۔۔۔ وہ خاموشی سے اپنا پلان بنانے لگا مگر بظاہر مارک کے ساتھ ہر کام میں آگے آگے تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سوچ رہی تھی جنت کی عدت ختم ہو گئی ہے کیوں نا اسے بازار لے جاوں نیا سال آنے والا ہے اپنے لیئے کوئی کپڑے وغیرہ بنوا لے۔ ۔
آنسہ نے بشیر سے کہا
ہمم بچاری کس کے لیئے کپڑے بنائے گی ۔۔۔ اس کی زندگی میں اب نیا سال کونسا کوئی خوشی لانے والا ہے۔ ۔۔
بشیر فسرداہ ہوا
ہاں بس اللہ اسے آنے والی زندگی میں صبر دے۔ ۔ میں تو اس لیئے کہہ رہی تھی ماروخ بھی اتنی بار بول چکی ہے کے جنت کو گھر بھیج دو رہنے کے لیئے وہ دونوں بھی اداس ہیں ۔۔ میں نے سوچا کچھ دن ونہیں رہ لے اس کا بھی دل بہل جائے گا۔ ۔
آنسہ نے مشوارہ دیا
ہاں بیگم صہیح کہ رہی ہو بھیج دو اسے۔۔ ویسے بھی اُس سے جھوٹ بول بول کر میں نظریں نہیں ملا پاتا۔ ۔۔ تم نے آگے کا کچھ سوچا ہے اب کیا کرنا ہے جنت کو کیسے اور کب اس حقیقت کا بتانا ہے۔۔؟
بشیر نے پریشانی سے پوچھا
کیا بتاوں صہیب کے ابو۔ ۔ میرا تو اپنا دل اس حقیقت کو نہیں مانتا۔ ۔ خیر میں نے سوچا ہے ضوریز آ جائے وہ ہی بتائے گا جنت کو۔ ۔
بیگم ضوریز کیسے سنبھالے گا جنت کو آپ خود سوچیں۔ ۔۔ بے شک ضوریز بے قصور ہے مگر صہیب کی موت کی وجہ کہیں نہ کہیں ضوریز بھی ہے۔ ۔۔ میں تو کہتا ہوں اس حقیقت کو اب اور مت چھپاو تم خود جنت کو بتا دو وہ ضوریز سے زیادہ تمہاری بات سنے گی۔ ۔ اُسے پیار سے سمجھاو صہیب تو اب واپس نہیں آسکتا۔ ۔مگر ضوریز بھی صہیب سے کم نہیں ٹھیک ہے عادتیں مختلف ہیں دونوں کی مگر خون ایک ہے۔ ۔۔ اور مجھے لگتا ہے ضوریز بھی جنت کو پسند کرنے لگا ہے۔۔
بشیر نے آنسہ کو سمجھایا
نہیں بشیر مجھے لگتا ہے ضوریز جنت کے قابل نہیں ہے پتا نہیں کیوں مجھے اس پر شک سا ہونے لگا ہے۔ ۔ وہ بہت غلط کاموں میں ملوث ہے۔ ۔ اس کا تعلق خطرناک لوگوں سے ہے اگر اسکی وجہ سے جنت کو کوئی نقصان ہوا تو ۔۔۔ نہیں میرا دل ضوریز کے لیئے نہیں مانتا میں تو ماں ہوں میں نے جنم دیا ہے اسے وہ جیسا بھی ہو میں سینے سے لگا لونگی اُسے مگر جنت کو کس بات کی سزا دوں۔ ۔
آنسہ نے انکار کیا
میری بات کو سمجھو آنسہ ۔۔۔ ضوریز کا تعلق بے شک خطرناک لوگوں سے ہو مگر اس پر اعتبار کرو ۔۔۔ ہمیں اسے اس دنیا سے نکالنا ہے۔ ۔۔ اور مجھے یقین ہے ضوریز ایک بہادر بچہ ہے وہ ضرور سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے گا ہمارے پاس اور ہمارا سہارا بنے گا۔۔۔
بشیر نے ایک امید سے بولا
اللہ کرے بشیر ایسا ہی ہو۔ ۔۔مگر فل حل میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی اگر جنت مانی تو ہی یہ سب ہو گا ورنہ میں جنت سے کوئی زبردستی نہیں کرونگی۔ ۔
آنسہ نے دو ٹوک لہجے میں کہا
ٹھیک ہے جنت پر ہی یہ فیصلہ چھوڑ دو ۔۔۔ خیر تم کہ رہی تھی شوپنگ پر جانے کا تو چلتے ہیں اس اتوار کو اور پھر اسے ماروخ کے چھوڑ آئیں گے۔۔
ہممم ٹھیک ہے اچھا میں آپ کے لیئے چائے لاتی ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز اپنا ایک نیا مشن مکمل کر کے اپنے روم میں آیا۔ ۔۔ دو دن سے مسلسل وہ ایک آدمی کو مارنے کے لیئے اسکا پیچھا کر رہا تھا اور آج اسکا کام ختم کر دیا۔ ۔
تھک کر اُسنے اپنے گلوز اور ہُڈ اتاری گن اور چاقو نکال کر ٹیبل پر رکھے۔ ۔۔
اپنا لوکر کھول کر صہیب کا موبائل نکالا اور چیک کرنے لگا ۔۔۔ جنت کے بے شمار میسج آئے ہوئے تھے زیادہ تر اس میں رومینٹک مسیج تھے اور کچھ اداسی بھرے میسج تھے۔ ۔ اب تک ضوریز نے جنت سے صرف میسج پر رابطہ کیا تھا اسکا دل کیا وہ جنت کی آواز سن کر اپنی تھکن اتارے۔ ۔ خود بخود اس کے ہاتھ جنت کے نمبر پر کال ملانے لگے۔ ۔۔
دوسری ہی بیل پر جنت نے فون اٹھا لیا۔ ۔۔
جی فرمائے کس سے بات کرنی ہے آپکو۔ ۔۔
جنت نے سنجیدہ آواز میں کہا
میری ایک جنت ہے بہت پیاری اور معصوم سی بلکل ایک پھول کی طرح ۔۔۔ مجھے اس سے بات کرنی ہے۔ ۔
ضوریز کو جنت کی آواز سن کر سکون ملا اس نے لیٹتے ہوئے آنکھیں بند کیں۔ ۔
ہنہ یہاں کوئی پیاری اور معصوم جنت نہیں رہتی شاید آپ نے غلطی سے نمبر ملا دیا ہے۔ ۔
خوشی تو جنت کو ہوئی تھی کے آخر اتنے دن بعد وہ اسکی آواز سن رہی تھی مگر وہ ناراض بھی تھی
غلطی سے نہیں ملایا جنت صاحبہ۔ ۔ یہ نمبر تو میرے دل میں نقش ہو گیا ہے۔ ۔۔ اور جو یہ نمبر والی ہے نا وہ تو میرے خون میں دوڑنے لگی ہے۔ ۔
ضوریز تصور میں جنت کا چہرہ لایا
ہنہ پتا نہیں یہ سب ڈئیلاگز کہاں سے سیکھ کے آئے ہیں ۔ پہلے اچھا بھلا میرے پاس ہوتے تھے یو ں ڈیلاگز نہیں مارتے تھے آپ ۔۔ مگر اب بس دو تین رمینٹک جملے بول کر سمجھتے ہیں آپ نے اپنا حق ادا کر دیا۔ ۔
جنت نے منہ بنایا
کیا کروں ڈئیر۔ ۔۔ ابھی بس میں اتنا ہی حق رکھتا ہوں تم پر جس دن تمارے سب حقوق اپنے نام کروا لونگا اس دن دیکھنا میرا رومینس صرف جملوں میں نہیں بلکے عملی طور پر بھی ہوگا ۔ ۔۔۔
ضوریز نے جزبات میں آکر کہا
ہیں ں ں۔ ۔۔ اب کونسے حقوق اپنے نام کروانے ہیں۔ ۔ سب کچھ تو کر دیا آپ کے نام۔۔
ضوریز کی بات جنت کے سر سے بات گزر گئی
اوہ وہ مم میرا مطلب تھا کے۔ ۔۔ اممم جیسے ابھی میں پاس نہیں ہوں نا جس دن واپس آگیا اس دن بتاونگا ۔۔ خیر چھوڑو بتاو کیسی ہو۔۔
ضوریز کو اندازہ ہوا وہ کچھ غلط ہی بول گیا اس نے فوراً بات بنائی
ہمم ٹھیک ہوں۔ ۔ پتا ہے مامی مجھے شوپنگ پر لے کر گئی تھیں کل اور پھر امی کی طرف چھوڑ گئیں کچھ دن یہی رہونگی ۔۔ افف اتنے دنوں بعد میں گھر سے نکلی ۔۔۔۔ اور آپ اتنا یاد آئے وہ سب شوپس جہاں ہم گئے تھے وہ دیکھتے ہوئے تو مجھے رونا آگیا۔۔
جنت کی آواز بھیگنے لگی۔ ۔
تم روئی تھی؟ تم نے وعدہ کیا تھا جنت کے تم نہیں رو گی۔ ۔ اور تم کیا ابھی بھی رو رہی ہو۔ ۔؟
ضوریز پریشانی سے اٹھ کر بیٹھا
ہاں کیا کروں مجھے رونا آرہا ہے صہیب آپ کے بغیر مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا۔ ۔
جنت رونے لگی
پلیز جنت۔ ۔ اففف for God sakeرو مت ۔۔ میں پریشان رہوں گا جنت۔ ۔ پلیززز دیکھو چپ ہو جاو ۔۔۔
ضوریز بہت پیار سے اسے چپ کروانے لگا۔ ۔۔ کہیں سے نہیں
لگ رہا تھا یہ شخص ابھی کسی کا اتنی بے دردی سے قتل کر کے آیا ہے
اچھا پھر وعدہ کریں یہ نیا سال میرے ساتھ مناو گے۔ ۔؟
جنت نے آنسو صاف کیئے
ویسے تم اتنی بھی معصوم نہیں ہو۔ ۔ بہت چلاکی سے اپنے آنسو دیکھا کر مجھ سے ہر بات منوا لیتی ہو۔ ۔۔
ضوریز مسکرایا
ہاں پہلے تو کبھی آپ نے میرے آنسو نکلنے نہیں دیئے آنسو نکلنے سے پہلے ہی ہر بات مان جاتے تھے۔ ۔
جنت نے شکواہ کیا
بس یہ دوریاں ختم ہو جائیں پھر دیکھنا ہر ایک خواب پورا کرونگا تمہارا۔۔
فل حال یہ ایک خواب پورا کر دیں بس نیا سال میرے ساتھ منائیں۔ ۔
آممم آیم سوری جنت میں اتنی جلدی نہیں آسکوں گا۔ ۔ ایکچولی نیو یئر پارٹی ہے اوفس میں اور پھر بہت سے کام ہوتے ہیں ۔۔ مگر میں وعدہ کرتا ہوں نیا سال شروع ہونے دو بہت جلد تمہارے پاس آجاونگا۔۔۔
ضوریز نے پیار سے سمجھایا
ایسے بھی کیا کام ہیں آپ کے اوفس میں کے آپ کے بغیر ہو ہی نہیں سکتے۔ ۔۔
جنت نے اکتا کر کہا
بس تمہیں بتا دیا نہ کے میں کیا کام کرتا ہوں تو تم ڈرنے لگو گی مجھ سے۔۔۔
ضوریز نے اپنا چاقو اٹھا کر دیکھا جس پر خون لگا تھا
جی میں کبھی نہیں ڈروں گی آپ سے۔ ۔ ہاں آپ ڈرتے ہیں مجھ سے۔۔
ہممم یہ تو ہے میں واقعی ڈرتا ہوں تم سے۔ ۔خیر یہ بتاو کب تک رہو گی تم یہاں پر؟
زیادہ دن نہیں بس پرسو نیویئر ہے ساری فرینڈز پلان بنا رہی ہیں کہیں باہر لنچ کا۔ ۔۔ میرا بھی دل کر رہاہے جانے کا مگر پتا نہیں مامی جانے دیں یا نہیں۔ ۔ اب وہ مجھے باہر جانے نہیں دیتیں کہتی ہیں جب آپ آئیں گے تب چلی جانا۔ ۔
جنت اداس ہوئی
کوئی مسئلہ نہیں ہے تم جانا چاہتی ہو تو چلی جاو میں بات کر لوں گا ماں سے۔ ۔۔ ان کی فکر تم مت کرو ۔۔
سچ۔ ۔ ٹھیک ہے پھر میں اپنی دوستوں کو بتاتی ہوں۔ ۔
جنت بچوں کی طرح خوش ہوئی
بعد میں بتا دینا انہیں پہلے مجھ سے باتیں کر لو۔ ۔
ضوریز کا دل کیا وہ پوری رات اسی طرح باتیں کرتا رہے
کوئی بات رہ گئی ہے کیا جلدی سے کریں پھر بات ۔ ۔
جنت نے ضوریز کو تنگ کیا
ہاں ابھی تو بہت سی باتیں رہ گئی ہیں ۔۔مجھے بتاو جنت تمہاری کیا کیا وشیز ہیں ؟
اتنی بار تو سب بتا چکی ہوں ایک بار بھی تو پوری نہیں کی میں نہیں بتا رہی اب۔۔۔
جنت نے منہ بنایا
آخری بار بتا دو جنت وعدہ کرتا ہوں سب خواہشیں پوری کرونگا۔۔۔
ضوریز نے وعدہ کیا
بس اب لاسٹ ٹائم بتا رہی ہوں۔ ۔ اممم ارے ہاں یاد آیا ہم صرف مری سے ہو کر آ گئے تھے آپ نے وعدہ کیا تھا مجھے ناران کاغان بھی لے کر جائیں گے مگر آپ اپنے کاموں میں یہ بھول ہی گئے۔ ۔ اور یہ بھی وعدہ کیا تھا کے ہم لوگ پی سی میں رہیں گے آپ نے وہ بھی وش پوری نہیں کی۔ ۔۔ بس میرا دل کرتا ہے میں آپ کے ساتھ پاکستان کا ہر خوبصورت حصہ دیکھوں۔۔
یہ تو بہت چھوٹی سی وش ہیں بہت جلد پوری کرونگا بس تم ایک وعدہ کرو مجھ سے۔۔۔
ضوریز بولا
کیسا وعدہ؟؟
تم کبھی مجھ سے نفرت نہیں کرو گی میری بن کر رہو گی ہمیشہ۔ ۔
ضوریز نے امید سے پوچھا
یہ کیسا سوال ہے صہیب ظاہر یے میں اب بھی آپکی ہوں اور ہمشہ آپکی رہوں گی۔ ۔۔ اور جہاں تک محبت کا سوال ہے ہوش سنبھالتے ہی صرف آپکو چاہا ہے۔ ۔ مر سکتی ہوں نفرت نہیں کر سکتی۔۔۔
جنت جزباتی ہو گئی
ہممم یاد رکھنا اپنا وعدہ جنت۔ ۔
ضوریز کی بات مکمل ہونے سے پہلے دروازہ بجا
ایک منٹ جنت ہولڈ کرو
ضوریز نے فون کے اسپیکر پر ہاتھ رکھا
یس کم ان
سر ۔۔
ضوریز کا خاص نوکر اندر آیا
سر وہ مارک آپکو بلا رہے ہیں جیک لینے آیا ہے آپکو۔۔
نوکر نے سر جھکا کر کہا
اوہ واٹ دا۔۔۔
ضوریز کا دل کیا مارک کو شوٹ کر دے ۔۔ اسکا دل تھا وہ جنت سے ساری رات بات کرے۔ ۔۔
اچھا آرہا ہوں۔۔just 5 mint
ضوریز غصے پر قابو پا کر بولا
جنت۔ ۔ میں تم سے بعد میں بات کرونگا اپنا خیال رکھنا ٹھیک ہے۔۔
ضوریز نے جلدی سے کہا
کیوں اب کیا ہوا بھلا اس وقت کیا کام ہے آپکو اب تو اوفس کی چھٹی ہو جاتی ہے۔۔۔
جنت نے منہ بنایا
پلیز جنت سمجھنے کی کوشیش کرو میں کل دوبارا کرونگا فون ہممم اب آرام کرو تم ٹیک کئیر۔۔۔
ضوریز نے جلدی سے فون اوف کیا اور باہر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Now what’s wrong with Mark.. I mean is everything okay?
(اب کیا مسئلہ ہوا ہے مارک کے ساتھ میرا مطلب ہے سب ٹھیک ہے؟ )
ضوریز نے اپنے لہجے کو نرم رکھنے کی کوشیش کی اسے اس وقت سخت کوفت ہو رہی تھی
Yes everything is fine.. He just wanted to have a meeting with all the group leaders.
(ہاں سب ٹھیک ہے۔ ۔ بس وہ سب گروپ لیڈر سے ایک میٹنگ کرناچاہتا ہے۔ ۔)
جیک نے بتایا
okay…any news about trigger??
اچھا۔ ۔ ٹائیگر کی کوئی خبر آئی؟ )
ضوریز نے پوچھا
Yes.. They still kept him… He tried to run away but he couldn’t… I asked Mark to release him but mark said let him serve his sentence !
(ہاں وہ اب تک انکے پاس ہے۔ ۔۔ اس نے کوشیش کی تھی بھاگنے کی مگر بھاگ نہیں سکا۔ ۔ میں نے کہا تھا مارک سے اس چھوڑوا لے مگر مارک نے کہا اسے اپنی سزا کاٹنے دو)
جیک نے بتایا
ہمم اچھا ہے وہ ونہی رہے ورنہ میرے ہاتھ سے نہیں پچے گا۔ ۔
ضوریز منہ ہی منہ میں بولا
What .. What are you saying ?
(کیا۔ ۔ کیا کہ رہے وہ)
جیک نے پوچھا
oh nothing just forget it!
(کچھ نہیں بس چھوڑو)
ضوریز نے بات ختم کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز میٹنگ سے فارغ ہوا اور اپنے روم میں آگیا۔ ۔ آرام سے بیٹھ کر آنسہ کو کال کی
کیسی ہیں ماں؟
ضوریز نے پوچھا
میں ٹھیک ہوں بیٹا تم کیسے ہو؟
میں بھی بس ٹھیک ہوں۔۔ اور باقی سب بھی ٹھیک ہیں؟
ضوریز نے پوچھا
تمہیں پتا بھی ہے باقی سب میں کون کون ہے؟
آنسہ نے پوچھا
اممم جی پتا ہے۔ ۔ بابا ہیں اور۔۔۔ وہ دا دادو ہیں نا۔۔۔۔
ضوریز نے پہلی بار آنسہ کے سامنے عشرت بی بی کا زکر کیا
شکر تمہیں اتنا اندازہ ہے۔ ۔ وہ صہیب کو روز یاد کرتی ہیں جب سے جنت گئی ہے وہ اور اداس ہو گئی ہیں انکی طبیعت بھی آج کل ٹھیک نہیں ہے سمجھ نہیں آتی سب کو کیسے سنبھالوں۔۔۔
آنسہ پریشان ہوئیں
ماں پریشان نہ ہوں بس جلد ہی میں آجاونگا میں نے ساری تیاری کر لی ہے۔ ۔۔ بس چند دن اور ۔۔ اگر دادو جنت کے لیئے اداس ہیں تو انہیں وہاں بھیج دیں۔ ۔
ضوریز نے مشورہ دیا
ہمم یہ ہی سوچ رہی تھی میں۔ ۔کل جاوں گی میں جنت بھی بلا رہی تھی۔ ۔
آنسہ نے ہامی بھری
ہمم ماں وہ جنت نے اپنی دوستوں کے ساتھ باہر لنچ کا پلان بنایا ہے میرے خیال سے اسے روکیئے گا مت اسکا بہت دل ہے جانے کا۔ ۔۔
ضوریز مطلب کی بات پر آیا
میں اسے کیوں روکوں گی بیٹا بس ڈر سا لگتا ہے۔ ۔ چلی جائے مگر اس دن نہیں اگلے دن چلی جائے نئے سال والے دن تو بہت رش ہوگا ہے روڈز پر عجیب قسم کی ساری عوام باہر ہوتی ہے۔ ۔ میں اسے سمجھا دونگی وہ اگلے دن کا پلان بنا لے۔ ۔
آنسہ کو اندازہ تھا اس دن نکلنا صہیح نہیں
ہمم ٹھیک ہے ماں آپکی بات سمجھ جائے گی وہ۔ ۔ خیر آپ سب اپنا خیال رکھیں کوئی بھی مسئلہ یا پریشانی ہو مجھے بتائیے گا۔ ۔۔ گڈُ بائے۔ ۔!
ضوریز نے بات ختم کر کے فون رکھا اور صہیب کے فون میں موجود جنت اور صہیب کی تصویریں دیکھنے لگا۔ ۔
