Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 21,22)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 21,22)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
سر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو جسٹ کال آس۔ ۔
ہوٹل کے اسٹاف کا ایک بندہ ان دونوں کو روم تک چھوڑنے آیا
یس شور تھینک یو۔ ۔۔
ضوریز نے اسے مسکرا کر جواب دیا وہ آدمی سر ہلاتا ہوا باہر چلا گیا
جنت نے نظر گھوما کر کمرا دیکھا بہت بڑا جہازی سائز کا بیڈ درمیان میں موجود تھا سائیڈ ٹیبل پر خوبصورت سے لیمپ پڑے ہوئے تھے بیڈ کے سامنے ڈریسنگ ٹیبل تھا بیڈ کے ایک طرف خوبصورت سا صوفہ پڑا تھا سامنے ہی ایک بڑی سی کھڑکی تھی جس کے پردے کو سائیڈ پر نفاست سے باندھا ہوا تھا۔۔۔۔۔ جنت نے کھڑکی کی طرف دیکھا اندھیرا ہونے کی وجہ کچھ خاص نظر نہیں آرہا تھا مگر وقفے وقفے سے ایسا لگتا درخت ہوا کی وجہ سے ہل رہے ہیں جنت کو ایک دم اُس سے خوف آیا اور اس نے اپنی نظروں کو وہاں سے ہٹایا اور بیڈ کو دیکھنے لگی۔ ۔۔ ضوریز بہت دیر سے جنت کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
بھوک تو نہیں لگی۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا
نہیں۔ ۔
جنت نے جواب دیا اور تھکے ہوئے انداز سے بیڈ پر بیٹھ کر جوتے اتارنے لگی۔ ۔
آممم یہ ڈریسنگ روم ہے اور اسی کے ساتھ واشروم بھی ہے اگر فریش ہونا ہے تو۔ ۔۔
کیا ہم دونوں ایک ہی روم میں رہیں گے؟
جنت نے ضوریز کی بات مکمل ہونے سے پہلے ٹوکا
میں سمجھا نہیں کیا مطلب اس بات کا؟
ضوریز جو واشروم دیکھا رہا تھا ایک دم پلٹ کر بولا
سیدھا اور صاف مطلب ہے کیا آپ میرے ساتھ اسی روم میں رہیں گے۔ ۔
جنت نے ٹہر ٹہر کر بولا
ظاہر سی بات ہے ایک ساتھ ہی رہیں گے ایک ہی روم میں یہ کیسا سوال ہوا۔ ۔۔
نہیں میں آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔ ۔
جنت نے سر کو دائیں بائیں ہلا کر کہا
جنت ہمارا نکاح اسی لیئے ہوا ہے تاکے ایٹ لیسٹ ہم لوگ ایک کمرے میں ایک ساتھ رہ سکیں میں تمہیں روم میں بھی اکیلے چھوڑنے کا رزک نہیں لے سکتا۔ ۔
ضوریز نے دوٹوک میں انداز میں کہا
جنت کوفت سے بیڈ کو دیکھنے لگی۔ ۔ ضوریز نے گہرا سانس لیا اور آگے آکر جنت کی طرف جھکا
میرے پاس مت آئیں۔ ۔
جنت ایک دم پیچھے ہوئی
ضوریز نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور اس کے پیچھے پڑا تکیا اٹھا لیا
میں تکیا لے رہا ہوں مس جنت۔ ۔۔۔
ضوریز نے دانت پیس کر کہا
جنت نے شرمندہ ہو کر نظریں جُھکا لیں۔ ۔ ضوریز نے تکیا صوفے پر رکھا اور اپنی گھڑی اتارنے لگا
ویسے مجھے اسی طرح تمہارے پاس آنا ہوتا تو اب تک تم میری بانہوں میں ہوتی اس لیئے اس بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں میں صوفے پر سو جایا کرونگا اور تم بھی سکون سے بیڈ پر سو جاو۔ ۔۔
ضوریز نے یہ صرف جنت کو تسلی دینے کے لیئے کہا تھا ورنہ اسکا دل اس وقت یہ ہی کر رہا تھا۔ ۔۔
جنت نے کوئی جواب نہ دیا ضوریز نے گھڑی اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ۔۔ جنت نے کن آنکھیوں سے ضوریز کو دیکھا اور اٹھ کر اپنا بیگ کھولنے لگی اپنے لیئے آرام دہ سا ڈریس نکالا اور بیگ بند کر کے واپس مُڑی تو اپنے سامنے ضوریز کو شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔ جنت نے ایک دم گھبرا کر اپنی نظریں پھیریں اور تیزی سے واشروم چلی گئی۔ ۔۔ ضوریز نے اپنی شرٹ اتار کر ٹی شرٹ پہنی اور جنت کا انتظار کرنے لگا ۔۔ تھوڑی دیر میں جنت باہر آئی اور بیڈ پر دوسری طرف منہ کیئے لیٹ گئی ضوریز نے ساری لائٹس بند کیں اور ایک لیمپ جلا کر خود بھی لیٹ گیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز کی آنکھ کھولی تو کھڑکی سے آتی روشنی نے اس کی آنکھوں کو دوبارا بند کر دیا۔۔ ضوریز نے اپنی آنکھیں رگڑیں اور اٹھ کر کھڑکی کے پردے ٹھیک کیئے۔ ۔ ایک نظر سوتی ہوئی جنت پر ڈالی ۔۔۔۔ جو ایک ہاتھ اپنی گال کے نیچے رکھے سکون سے سو رہی تھی۔ ۔۔
واہ کیا کہنے ہیں میری نیند اُڑا کر خود مزے سے سو رہی ہیں۔ ۔
ضوریز نے دل میں سوچا اور مسکراتا ہوا واشروم چلا گیا۔ ۔۔
جب وہ واشروم سے باہر آیا جنت اُٹھ چکی تھی اور اپنے ہاتھوں سے سر کو دبا رہی تھی
کیا بات ہے سر میں درد ہے؟
ضوریز فکر مندی سے اس کے پاس آیا
نہیں کچھ نہیں آپکو بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ۔
جنت نے سختی سے کہا
لاو میں سر دبا دوں؟
جنت کے انداز کو وہ اگنور کرتا ہوا اس کے پاس آکر بیٹھا
میں نے کہا نا میرے لیئے پریشان مت ہوں ویسے بھی یہ سر درد بلکے میری زندگی میں جتنے بھی درد ہیں سب آپکی وجہ سے ہی ہیں۔ ۔۔
جنت بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور اپنا جوتا پہننے لگی۔ ۔
میری وجہ سے ہیں یہ درد ۔۔ اور جو ساری زندگی میں محروم رہا ہوں ۔۔۔ اور جو درد تکلیف تم مجھے دے رہی ہو اسکے بارے میں کیا خیال ہے آپکا۔ ۔
ضوریز کو جنت کی بدتمیزی اچھی نہیں لگی اس نے جنت کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا
چھوڑیں مجھے آپ ہیں ہی اسی لائک بلکے آپ کے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا ہونا چاہیئے ہنہ۔ ۔
جنت اپنا بازو چھوڑواتے ہوئے کہنے لگی
اسٹاپ اٹ جنت میری نرمی کا ناجائیز فائدہ مت اٹھاو مانتا ہوں کے میرے آنے سے تمہاری زندگی ویران ہو گئی ہے مگر یہ سب میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔ میں اپنی خوشی سے تمہاری زندگی میں شامل نہیں ہوا ہوں ۔۔۔ یہ صہیب کی آخری خواہش تھی کے میں تمہارا خیال رکھوں۔ ۔
ضوریز کا ضبط کواب دے گیا اور اور وہ پھٹ پڑا
صہیب کا نام مت لو۔ ۔۔ تم اس جیسے کبھی نہیں بن سکتے اور نہ ہی اسکی جگہ لے سکتے ہو وہ تمہیں یہ کبھی نہیں کہ سکتا وہ سب جانتا تھا کے اس کے علاوہ میں کسی کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی یہ سب تمہاری چال ہے اپنی جگہ بنانے کے لیئے تم نے صہیب کو مار ر ر۔ ۔۔
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔ ۔۔
ضوریز نے اپنے ہاتھ کا مُکا بنا کر جنت کے پیچھے دیوار پر مارا ۔۔ اس سے تو جنت کا روڈ انداز ہی برداشت نہیں ہو رہا تھا اور اب جنت کا یہ الزام۔۔۔ اُسکا تو جیسے دماغ ہی گھوم گیا اسے کہاں عادت تھی ایسے لہجوں کی۔۔
جنت نے ڈر کر آنکھیں بند کیں اس کی بند آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ ۔۔ ضوریز نے اسے چھوڑ کر گہرا سانس لیا اور اپنا غصہ کنٹرول کیا۔ ۔
اوہ جنت میں تم پر غصہ بھی نہیں نکال سکتا۔ ۔۔ آیم سوری پلیززز رو مت۔ ۔۔ تمہیں جو کہنا ہے مجھ سے کہو بس الزام مت لگاو۔ ۔ میں اپنے بھائی کو کیسے مار سکتا ہوں۔ ۔۔ خیر تم ابھی غصے میں ہو شاباش فریش ہو جاو میں ناشتا منگواتا ہوں ۔۔
جنت کو روتا دیکھ کر ضوریز نے نرمی سے کہا اور پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔ پھر خود روم سے باہر نکل گیا۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو کتنا اچھا موسم ہے باہر چلو تھوڑا گھوم کر آتے ہیں۔ ۔
ناشتے سے فارغ ہو کر ضوریز نے کھڑکی کے پردے ہٹا کر کہا
جنت خاموش رہی
جنت میں تم سے کہ رہا ہوں پلیز آو باہر چلتے ہیں۔ ۔ تمہاری تو یہ وش تھی نا کے تم پی سی میں رہو مری گھومو ناران کاغا۔ ۔۔۔۔ ۔
صرف صہیب کے ساتھ تھی اب یہ سب خواہشیں مرگئی ہیں صہیب کی طرح۔ ۔۔۔
جنت نے ضوریز کی بات کاٹی۔۔
ناجانے کیوں ضوریز کو صہیب سے ہلکی سی جلن محسوس ہوئی
آممم وہ دادو کہہ رہی تھیں تم سے بات کرنی ہے اور یہاں روم میں سگنل نہیں آتے اس لیئے میں نے سوچا بات بھی ہو جائے گی خیر میں انہیں بتا دونگا میں آتا ہوں کل کر کے۔ ۔
ضوریز نے بہانا بنایا
جیسے ہی ضوریز جانے لگا جنت نے اسے روکا
روکو میں بھی چلتی ہوں میرا بھی نانو سے بات کرنے کا دل کر رہا ہے۔۔۔
جنت نے کہا اور اٹھ کر جوتے پہنے ۔۔ ۔ اپنی شال لی اور ضوریز کے پیچھے چلنے لگی۔ ۔۔
دونوں خوبصورت سے راستوں پر چلتے ہوئے باہر کی طرف آگئے ہر چیز برف سے سفید ہو رہی تھی۔ ۔ جنت کا دل کیا وہ پوچھے کے اب برف کب پڑے گی اسے بہت شوق تھا برف باری دیکھنے کا مگر وہ چپ رہی ضوریز سے بات کرنا اسے سخت نا پسند تھا۔ ۔
وہ دیکھو کتنا خوبصورت راستہ ہے وہاں چلتے ہیں۔ ۔
ضوریز نے رک کر ایک طرف اشارا کر کے جنت کو بولا
ہم گھومنے نہیں آئے میری نانو سے بات کروائیں…
جنت نے اکتا کر کہا
وہ ہی کروانے جا رہا ہوں یہاں ابھی تک سگنل نہیں آئے چولو اس طرف جا کر دیکھتے ہیں شاید وہاں آ جائیں۔ ۔۔
ضوریز نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا اسے اب تک یہ معلوم ہو گیا تھا کے جنت کو باتوں میں لگانا بہت آسان ہے
جنت خاموشی سے ضوریز کے پیچھے چلنے لگی۔ ۔
سیدھی اور صاف روڈ کے سائیڈ پر لمبے لمبے درخت تھے جو کے برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔۔۔ ضوریز اپنی ہُڈ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بار بار مڑ کر جنت کو دیکھ رہا تھا۔ ۔۔ جو سردی کی وجہ سے بار بار اپنے ہاتھ رگڑتی اور کبھی اپنی شال کے اند ہاتھ چھپا لیتی۔ ۔۔ ضوریز مڑ کر جنت کے پاس آیا اور اپنی ہُڈ اتار کر جنت کی طرف بڑھائی۔۔۔
لو پہن لو یہ کافی گرم ہے اسکی پوکٹ میں ہاتھ ڈال لو گرم ہو جائیں گے۔ ۔
نو تھینکس۔ ۔
جنت نے منع کیا اور ضوریز کی طرف دیکھے بغیر چلنے لگی۔ ۔۔
اففف اتنے نخرے ہیں میڈم کے۔ ۔۔
ضوریز نے دل میں سوچا اور اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا جنت کے پاس آیا۔ ۔
پلیزز جنت یہ پہن لو بہت ٹھنڈ ہے۔ ۔۔
ضوریز نے پیار سے کہا
جنت نے کوئی جواب نہ دیا اور چلتی رہی ضوریز کو غصہ آیا اُس نے جنت کو پکڑ کر روکا اور اُسکے کندھوں پر جیکٹ ڈالی۔ ۔۔
یہ آپ خود پہن رہی ہیں یا میں زبردستی پہناوں۔ ۔۔
ضوریز نے سختی سے کہا
مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ اتنا ہیرو بننے کی ضرورت نہیں۔ ۔۔ میں بیمار پڑوں یا مر جاوں آپکو اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیئے۔ ۔
جنت نے ضوریز کی ہُڈ کو اتار کر غصے سے پھینکا
بس زیادہ بکواس نہیں اگر یہ نہیں پہنی تو میں تمہاری کسی سے بات نہیں کروانگا۔۔۔ ۔
ضوریز نے ہاتھ اٹھا کر جنت کو چپ کروایا ۔۔۔ جنت کے منہ سے مرنے والی بات سن کر ضوریز کو غصہ تو بہت آیا مگر خود پر قابو پا کر اس نے اپنی ہُڈ اٹھائی اور جھاڑ کر جنت کو خود پہنانے لگا۔ ۔۔
جنت نے اب کوئی احتجاج نہیں کیا گویا کسی سے بات نہ کروانے والی دھمکی اثر کر گئی۔ ۔۔
جنت کو ہُڈ پہنائی جب کے خود ایک شرٹ پہنے ہوئے تھا۔ ۔ اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسایا اور خاموشی سے چلنے لگا۔ ۔ تھوڑی دیر بعد روڈ کی ایک سائیڈ پر بیٹھ کر موبائل نکالا اور نمبر ملانے لگا۔ ۔۔
ہیلو ماں کیسی ہیں۔ ۔
ضوریز فون پر بات کرنے لگا
جی ماں ٹھیک ہوں اور وہ بھی ٹھیک ہے بس ناراض رہتی ہے مجھ سے اتنی خوبصورت جگہ بھی اسکی تلخی کو کم نہیں کر سکی۔ ۔
ضوریز نے جنت کو دیکھ کر کہا جبکے جنت نے غصے سے منہ دوسری طرف کر لیا
جی ماں ہم خیال رکھ رہیں اپنا۔۔ اچھا دادو سے بات کروائیں ۔۔
ضوریز نے جنت کے لال ہوتے چہرے کو پیار سے دیکھا
جی دادو بس یاد آگئی آپکی۔ ۔ مگر فل حال جنت سے بات کریں اسکو آپکی بہت یاد آرہی ہے۔ ۔۔
ضوریز نے ہنستے ہوئے جنت کو فون دیا ۔۔
کیسی ہیں دادو میں بہت یاد کر رہی ہوں آپ سب کو۔ ۔
جنت نے فون پکڑتے ہی کہا
نہیں دادو میرا دل آپ لوگوں کے بغیر نہیں لگ رہا بہت تنہا محسوس کر رہی ہوں۔ ۔
جنت یہ بولتے ہوئے رونے والی ہو گئی۔۔۔ ضوریز نے جنت کی بات سنی تو دکھ سے سر ہلایا
نہیں دادو میں سب کچھ کھا رہی بس آپ سب جلدی سے آ جائیں۔ ۔
جنت نے پھر سے کہا
امی کہاں ہیں دادو۔ ۔
جنت نے پوچھا
اچھا چلیں انہیں نماز پڑھنے دیں میں دوبارا فون کر لونگی۔ ۔
جنت نے اداسی سے کہا اور پھر اللہ حافظ کر کے فون بند کردیا
آگے چلیں۔ ۔۔
ضوریز اپنا موبائل لے کر جنت سے کہا
نہیں مجھے واپس روم میں جانا ہے۔ ۔۔
جنت نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا
اوکے آو چلتے ہیں۔ ۔
ضوریز اٹھ کر چلنے لگا۔ ۔۔
لگتا ہے تھوڑی دیر تک برف باری شروع ہو جائے گی۔۔
ضوریز نے جنت کو دیکھ کر کہا۔۔ ضوریز نے اُس کے جواب کا انتظار کیا مگر جنت خاموش رہی۔ ۔ ضوریز نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور پھر سر جھکا کر چلنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں زرا کسی کام سے جا رہا ہوں تم اندر سے لوک کر لو اور ہاں کوئی بھی آئے کھولنا مت اور نہ ہی خود باہر جانا میں بس آدھے گھنٹے میں آرہا ہوں کوئی بات ہو تو اس فون سے کال کرلینا۔۔۔
ضوریز نے اپنے جوتے پہنتے ہوئے کہا
جنت کو ضوریز کی بات پر غصہ آیا کے وہ اُس پر اتنی پابندی کیوں لگا رہا ہے۔ ۔
جنت تم سن رہی ہو نا؟
ضوریز کھڑا ہوا
ہمممم۔۔۔
جنت نے بس سر ہلایا
اوکے خیال رکھنا ڈرنا مت بس میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔۔
ضوریز نے پیار سے کہا اور باہر چلا گیا
جنت نے اٹھ کر کھڑکی سے دیکھا باہر بنے لان میں کچھ کپل چہل قدمی کر رہے تھے ۔۔۔۔۔ چند منٹ بعد اسے ضوریز بھی باہر نکلتا ہوا نظر آیا ضوریز نے رک کر اوپر دیکھا اور مسکرایا پھر اپنا ہاتھ ہلایا۔ ۔ جنت فوراً وہاں سے ہٹ گئی۔ ۔۔ چند منٹ بعد وہ دوبارا کھڑکی پر کھڑے ہو کر لوگوں کو دیکھنےلگی۔ ۔
سب ہی خوش تھے اور موسم سے لطف اندوز ہو رہے تھے جنت کو ایک دم صہیب یاد آیا۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے وہ سب آنے لگا جو اس نے صہیب کے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔ کیسے وہ پاگلوں کی طرح پہاڑوں پر چڑھتی تھی اور صہیب اسے منع کرتا تھا کہیں گر نہ جائے۔ ۔۔
جنت کے آنسو بہنے لگے اس نے اپنی شال پہنی اور روم کھول کر باہر نکل گئی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کے اسے کہاں جانا ہے وہ بس باہر کی طرف آئی اور خاموشی سے ایک سمت پر چلنے لگی وہ صہیب کے خیالوں میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کے اسے نہ ارد گرد کا ہوش تھا اور نہ اس خطرناک راستے کا جس پر وہ چل رہی تھی۔
Episode 22
جنت ۔۔۔۔
ضووریز نے روم میں آتے ہی جنت کو پکارا
جنت۔ ۔۔ کہاں ہو۔ ۔۔
اس نے ڈریسنگ روم چیک کیا۔ ۔ واشروم کا دروازہ بھی کھلا تھا۔ ۔
ضوریز نے کھڑکی سے باہر جھانکا
کہاں چلی گئی۔ ۔۔ اممم شاید کیفے گئی ہو۔ ۔
ضوریز نے خود سے بولا اور نیچے چلا گیا
ہر طرف دیکھ لینے کے بعد اسے جنت نظر نہیں آئی وہ گھبرا گیا
اوہ کہاں چلی گئی کہیں اسے مارک کے آدمیوں نے۔ ۔۔
نن نہیں ابھی تو کسی کو کچھ نہیں پتا۔ ۔ افففف جنت کہاں چلی گئی ہو۔ ۔
ایکسوزمی میرے روم سے میری وائف کوئی میسج دے کر گئی ہیں آپکو۔ ۔؟
ضوریز نے ریسپشن پر کھڑے لڑکے سے پوچھا
سر آپکا روم نمبر پلیزز؟
اُس لڑکے نے پوچھا
اوہ ہاں آممم کیا تھا روم نمبر ایک منٹ ۔۔
ضوریز اتنا پریشان ہو گیا کے اسے اپنا روم نمبر ہی بھول گیا اس نے اپنی جیب سے روم کارڈ نکال کر لڑکے کو دیا
جی نہیں سر اس روم سے تو کسی نے ہمیں کوئی میسج نہیں دیا۔ ۔
لڑکے نے کارڈ واپس کیا
اوہ آ اچھا کوئی اس روم کی طرف گیا تو نہیں تھا۔ ۔۔
ضوریز نے اپنے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا
جی نہیں سر کوئی نہیں گیا۔ ۔ کیا سب ٹھیک ہے۔ ۔؟
یس۔ ۔ فائن ۔۔ تھینک یو۔ ۔
ضوریز نے جواب دیا اور باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔
اففف جنت کہاں گئی ہو تم ۔۔۔
ضوریز کو لگا جیسے اسکے دل کی دھڑکن رک رہی ہو۔ ۔۔
وہ بھاگتا ہوا جنت کو ڈھونڈ رہا تھا۔۔ بھاگتے بھاگتے اس نے کافی راستہ طے کر لیا تھا مگر جنت کہیں نہ ملی۔۔۔
جنت۔ ۔۔۔
ضوریز تھک کر گھٹنوں کے بل بیٹھا اور جنت کو زور سے پکارا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت اپنی ہی سوچ میں گم نہ جانے کتنا دور نکل آئی تھی اب تو اسکی ٹانگوں نے بھی چلنے سے جواب دے دیا تھا۔ ۔
جنت تھک کر کھڑی ہوئی تو پہلی بار نظر اٹھا کر اپنے ارد گرد دیکھا۔۔۔
وہاں جنت کے علاوہ کوئی نہیں تھا آس پاس بہت لمبے درخت تھے جنت کو ایک دم احساس ہوا کے وہ کافی آگے آگئی ہے وہ واپس جانے کے لیئے پلٹی تو گھبرا گئی کیونکے وہاں دو راستے تھے اور وہ بھی بہت سنسان تھے جنت نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا اور ایک راستے پر جانے کا فیصلہ کیا اور جلدی جلدی چلنے لگی۔ ۔ وہ جیسے جیسے چل رہی تھی اسے لگ رہا تھا جیسے اندھیرا ہو رہا ہو۔ ۔۔
جنت نے گھبرا کر آسمان کی طرف دیکھا تو اسے آسمان نظر نہیں آیا کیونکے لمبے لمبے درخت آپس میں جوڑے ہوئے تھے جسکی وجہ سے وہاں شام جیسا اندھیرا تھا جنت ایک دم کانپنے لگی کچھ سردی بھی زیادہ تھی اور کچھ خوف بھی۔۔
آتے وقت وہ اپنے خیالوں میں اتنا کھوئی ہوئی تھی کے اسے اب یاد نہیں آرہا تھا کہ وہ کس راست سے آئی تھی۔۔۔ خوف کے مارے جنت سے چلا بھی نہیں گیا اس رک کر گہرے گہرے سانس لیئے۔ ۔
یا اللہ یہ میں کہاں آگئی مجھے بچا لیں۔ ۔ اففف بہت ڈر لگ مجھے۔۔۔ صہیب کہاں ہو تم۔ ۔۔
ڈر کے مارے جنت رونے لگی۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا کوئی کھو گیا ہے تمہارا؟
ضوریز کو اسطرح بیٹھے دیکھ کر وہاں کا ایک مقامی شخص نے ضوریز سے پوچھا
جج جی میری جنت میری بیوی وہ نہیں مل رہی مم میں نے سارا راستہ دیکھ لیا مگر۔۔ کک کیا آپ نے اسے دیکھا ہے؟
ضوریز نے کانپتے ہوئے کہا
پریشان نہ ہو دکھنے میں کیسی ہے وہ۔ ۔
اس آدمی نے ضوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی
وہ آمممم بہت پیاری ہے معصوم سی اتنی لمبی نہیں ہے چھوٹی سی لگتی ہے افف کیسے بتاوں آپکو۔ ۔
ضوریز نے اپنا سر تھاما
پریشان نہ ہو میں یہاں کا ہر راستہ جانتا ہوں مل کر ڈھونڈ لیں گے راستے سے اٹھو آو مل کر دیکھتے ہیں۔ ۔
اس آدمی نے ضوریز کو پکڑ کر اٹھایا۔ ۔
ضوریز کو جنت کی وہ بات یاد آنے لگی جب اس نے ایک بار کہا تھا کے قتل کرنے والے کا جب کسی اپنے کا قتل ہو گا تب اسے پتا لگے۔ ۔۔
ضوریز نے یہ سوچ کر قرب سے آنکھیں بند کیں۔
نن نہیں جنت میں تمہیں کھو نہیں سکتا آپ پلیز بتائیں اس راستے کے علاوہ اور کونسے راستے ہیں۔۔۔
ضوریز اس آدمی سے پوچھنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اب دوسرے راستے کی طرف چلنے لگی ۔۔ اسے ایک دم کسی کے چلنے کی آواز آئی جنت نے ڈر کر اپنے چاروں طرف دیکھا مگر وہاں صرف درخت تھے۔ ۔
وہ اپنی سانسیں بہال کرکے تیزی سے چلنے لگی مگر اسے لگا جیسے کوئی اسکا پیچھا کر رہا ہے ۔۔ خوف کے مارے جنت اب بھاگنے لگی۔۔ مگر اسے پتا لگ گیا تھا جیسے کوئی جانور اسکا چھپ کر پیچھا کر رہا ہے۔ ۔
ڈر کر بھاگتے ہوئے اسکی شال پاوں میں پھسی اور وہ زمین بوس ہو گئی
آوچ اوہ میرا پاوں۔ ۔ یا اللہ مجھے ایسی موت نہیں چاہیئے ۔۔
جنت نے روتے ہوئے اپنا پاوں پکڑا اسکی چپل ٹوٹ چکی تھی اسے شدت سے صہیب یاد آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہیں وہ اُس جنگل کی طرف تو نہیں چلی گئیں۔۔۔ مگر وہاں تو لکھا ہوا ہے کے اندر جانا منع ہے اس جنگل میں جانور ہیں۔۔۔مگر وہ تو یہاں سے بھی بہت دور ہے بس وہ ہی ایک جگہ رہ گئی ہے دیکھنے کے لیئے۔ ۔
وہ آدمی ایسے بولا جیسے خود کو بتا رہا ہو
میں جاونگا وہاں بھی بتائیں کس طرف ہے۔ ۔۔
ضوریز جلدی سے اٹھا
آرام سے بیٹا وہاں جانا خطرے سے کم نہیں اور ویسے بھی وہ آپ کے ہوٹل سے بہت دور ہے آپکی بیوی وہاں تک پیدل چل کر نہیں جا سکتی۔ ۔
میں نے کہا نا مجھے وہاں جانا میں نہیں ڈرتا کسی جانور سے بس یہ بتا دیں کس طرف ہے۔ ۔
ضوریز نے جلدی سے کہا
یہ پیچھے والا راستہ ہے سیدھا جا کر لیفٹ وہ گلی اُسی طرف جاتا ہے مگر۔ ۔
ابھی آدمی کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کے ضوریز اس راستے کی طرف بھاگنے لگا
ارے بیٹا سن تو لو اگر تمہاری بیوی وہیں گئی ہے تو اب تک زندہ نہیں ہو گی کیوں اپنی جان بھی خطرے میں ڈال رہے ہو۔ ۔
اس آدمی نے ضوریز کو روکنے کی کوشیش کی مگر ضوریز اسکی سنے بغیر تیزی سے بھاگتا رہا
اوہو دیوانہ لگتا ہے بنا کسی ہتھیار کے چلا گیا مجھے خان جی کو بتانا چاہیئے وہ اپنی بندوق لے کر دیکھیں گے۔ ۔
اس آدمی نے خود سے کہا اور تیزی سے ایک طرف مُڑ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت بہت ہمت کر کے دوبارا کھڑی ہوئی اس نے اپنی چپل اتار کر پھینکی اور ایک پاوں سے لنگڑاتی ہوئی چلنے لگی۔ ۔۔
آہ یا اللہ مجھ سے تو چلا بھی نہیں جا رہا۔۔۔امی۔ ۔۔ ابو۔ ۔
جنت دوبارا وہیں بیٹھ گئی اور رونے لگی
روتے ہوئے اسے ایک دم دوبارا وہ آواز آئی جیسے کوئی جانور زبان نکال کر گہرے سانس لے رہا ہو
جنت نے خوف سے اُس آواز کی سمت دیکھا اسے دو چھوٹی آنکھیں نظر آئیں ۔۔ ڈر کر کے مارے اسکا حلق خشک ہونے لگا جنت نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور سر کو ادھر ادھر کر کے دیکھنے لگی جیسے ہی اسے وہ جانور دیکھا جنت کی ایک بھر زوردار چیخ منہ سے نکلی۔ ۔۔
جنت۔ ۔۔ اوہ جنت کہاں ہو تم۔ ۔۔
ضوریز جو کب سے بھاگتا ہوا اسی راستے پر آرہا تھا جنت کی آواز سن کر زور سے بولا۔ ۔۔
جنت نے اپنی شال ونہیں چھوڑی اور درد کی پروا کیئے بغیر بھاگنے لگی۔ ۔۔
جنت کہاں ہو تم جنت پلیززز بتاو۔ ۔۔
ضوریز پہلے سے زیادہ چیخ کر بولا
جنت کو ضوریز کی آواز آئی تو اس نے بھی چیخ کر ضوریز کا نام لیا
ضوریز اسکی آواز کی طرف بھاگا
جنت نے ڈر کر پیچھے دیکھا تو وہ کوئی کالے رنگ کا بڑا سا جانور تھا اسکی شکل تو کُتے سے ملتی تھی مگر وہ سائز میں بہت بڑا تھا اب وہ اپنی زبان باہر نکلے جنت کی طرف بڑھ رہا تھا جنت نے آنکھیں بند کر کے ایک بار پھر ضوریز کو آواز دی ۔۔
جنت کو ایک فائیر کی آواز آئی جنت نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ضوریز نے بہت سے فائیر اس جانور پر کر دیئے۔ ۔
ضوریز تیزی سے جنت کے پاس آیا اور اسے اپنے گلے لگا لیا
اوہ جنت تم نے میری جان نکال دی تھی ۔۔۔
جنت بھی ضوریز کے گلے لگے ابھی تک خوف سے کانپ رہی تھی
ضوریز نے جنت کو خود سے الگ کیا اور اسکا چہرہ ہاتھوں میں لے کر چومنے لگا۔۔۔
جنت میں بہت ڈر گیا تھا آج محسوس ہو رہا ہے کسی اپنے کے کھونے کی سوچ ہی انسان کو ختم کر دیتی ہے۔ ۔
ضوریز نے دوبارا جنت کو زور سے گلے لگایا
اب ایسا کبھی مت کرنا جنت میں مر جاونگا ۔۔۔
ضوریز کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ ۔
چلو واپس روم میں چلیں۔ ۔ ضوریز نے جنت کا ہاتھ پکڑا
صہیب مجھے پتا تھا تم مجھے بچانے آو گے۔ ۔
جنت نے ضوریز کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر کہا
مم میں صہیب نہیں ہوں جنت۔ ۔
ضوریز نے دکھ سےکہا
میں بہت ڈر گئی تھی مجھے لگا یہ جانور میری بوٹیاں نوچ لے گا ۔۔
جنت نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا
بس میری جان اب کوئی تمہارے پاس نہیں آسکتا میں ہوں نا چلو۔ ۔
ضوریز نے جھک کر جنت کی شال اٹھائی تو اسکی نظر جنت کے زخمی پاوں پر پڑی
تمہارے جوتے اور یہ چوٹ اففف درد ہو رہا ہوگا تمہیں۔۔
ضوریز نے جھک کر جنت کے پاوں پر لگی برف صاف کی اسکے پاوں بہت ٹھنڈے ہو رہے تھے ضوریز نے اپنے جوتے اتار کر جنت کو پہنائے جنت ایک روبوٹ کی طرح ضوریز کی ہر بات مان رہی تھی
ضوریز نےجوتے پہنا کر جنت کو اپنے بازوں میں اٹھا لیا اور چلنے لگا ۔۔ ضوریز اپنے قدم آگے بڑھا رہا تھا پر اسکی نظریں جنت کی بند آنکھوں کو دیکھ رہی تھیں۔ ضوریز کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر جنت کی گال پر گرا ۔۔ جنت نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھول کر ضوریز کو دیکھا۔ ۔
آئی لو یو سو مچ جنت میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر۔۔۔
ضوریز نے رک کر جنت کے سر پر اپنا سر رکھ دیا
وہ رہے وہ دونوں خان بھائی آو مل گئے وہ لوگ۔ ۔
ضوریز کو اسی آدمی کی آواز آئی وہ ایک دم ہوش میں آیا
جنت نے بھی چونک کر دیکھا تو سامنے دو آدمی آرہے تھے ایک کے ہاتھ میں بڑی سی بندوق تھی
آپ ٹھیک ہو جی۔۔
اس آدمی نے دونوں کے پاس آکر پوچھا ضوریز نے سر ہلا کر جنت کو گود سے اتارا اور اپنے آنسو صاف کیئے
کوئی جانور تھا۔۔۔ شاید جنگلی کتا تھا۔۔۔
ضوریز نے بتایا
اوہ اللہ نے بچا لیا اب جلدی جلدی چلو یہاں شام ہوتے ہی بہت زیادہ جانور آجاتے ہیں اور بی بی وہاں لکھا بھی ہوا ہے اس جنگل میں نہ آئیں۔ ۔ خیر اب چلو
اس آدمی نے دونوں کو چلنے کا اشارا کیا ضوریز جنت کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا
ضوریز کے پاوں میں صرف جرابیں تھیں مگر اسے اس بات کی پروا نہیں تھی وہ جنت کو پکڑے جلدی جلدی وہاں سے نکلنا چاہتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں پہنچ کر ضوریز نے جنت کو بیڈ پر لیٹایا .. جنت ابھی تک خوف سے کانپ رہی تھی ۔۔ ضوریز نے اسکے پاوں سے اپنا جوتا اتارا اور اسکے پاوں دیکھنے لگا۔ ۔
انگھوٹے سے نیچے ہلکا سا زخم تھا ضوریز نے نرمی سے اسکے زخم کو سہلایا اور پھر اس کے زخم پر اپنے لب رکھے ۔۔۔
ضوریز کو محسوس ہوا کے جنت کے پاوں بہت ٹھنڈے ہیں اس نے فوراً ہیٹر اون کیا اور پھر جنت کو کمبل میں چھپا لیا۔۔۔ پھر خود اسکے ساتھ بیٹھ کر اسکے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا جنت کی پلکیں لرز رہی تھیں جیسے وہ اب تک ڈر رہی ہو ۔۔۔ ضوریز جنت کے چہرے پر جھکا
جنت میری جان آنکھیں کھولو دیکھو سب ٹھیک ہے۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کے گال کو چھو کر کہا
جنت نے کوئی حرکت نہیں کی۔۔۔
جنت اٹھو کچھ کھا لو پلیزز مجھے فکر ہو رہی ہےتمہاری ۔۔
ضوریز نے اس بار جنت کے گال کو تھپتپایا
جنت نے ایک دم آنکھیں کھولیں
وو وہ۔ ۔۔ اتنا بڑا خخ خطرناک مم مجھے کھانے آیا تت تھا۔ ۔۔ مم مجھے ڈر لگ رہا ہے بب بہت مم مجھے یہاں نن نہیں رہنا ۔۔۔
جنت نے ڈر کر ضوریز کے ہاتھ تھامے
کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا میں ہو ں نہ۔ ۔ اب ایک پل کے لیئے بھی تمہیں اپنی نظروں سے دور نہیں کرونگا میری جان بس چپ ہو جاو دیکھو یہاں کچھ بھی نہیں ہے سب ٹھیک ہے شاباش ریلکس۔ ۔
ضوریز نے جنت کا سر اپنے کندھے پر رکھا
بس جنت میں ہوں نا تمہارے پاس ریکلس پلیززز ۔۔
جنت ابھی تک کانپ رہی تھی ضوریز نے اسے اپنے سینے میں چھپا لیا اور اسکے بال سہلانے لگا تھوڑی ہی دیر میں ضوریز کو محسوس ہوا کے جنت سو گئی ہے اس نے جنت کو خود سے الگ کیا اور دیکھنے لگا۔
