Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 02)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

امی ی ی… کہاں ہیں جلدی آئیں۔۔ دادو۔ ۔۔ یار آپ لوگ کہاں ہیں۔ ۔

صہیب گھر میں داخل ہوتے ہی زور زور سے بولنے لگا

کیا ہو گیا ہے صہیب آرام سے آتے ساتھ ہی شور مچار رہے ہو۔ ۔۔

آنسہ صہیب کوڈانٹتی ہیں

ارے میری پیاری سی امی بات ہی ایسی ہے۔ ۔۔ آپ بھی سنیں گی تو خوش ہو جائیں گی۔ ۔

وہ آنسہ کو کندھوں سے پکڑ کر بیٹھاتا ہے

اففف ہو یہ دادو کہاں ہیں لگتا ہے انکو بہت زیادہ اونچا سننے لگا ہے۔ ۔

ہاں اب تو یہ ہی کہو گے بوڑھے جو ہو گئے ہیں ہم۔ ۔۔

عشرت بی بی اپنے گُھٹنوں پر ہاتھ رکھے کمرے سے باہر آئیں۔

میری دادی جان۔ ۔۔ اس عمر میں انسان بوڑھا ہی ہوتا ہے اور کیا آپ نے ساری عمر جوان رہنا ہے ۔ ۔۔

صہیب نے عشرت بی بی کو سہارا دے کر صوفے پر بیٹھایا

آئے ہائے اتنی بھی کوئی عمر نہیں ہوئی میری۔ ۔ ہمارے زمانے میں شادی جلدی ہو جاتی تھی ہنہ ابھی بھی اپنے سارے کام خود کرتی ہوں کسی کی محتاج تھوڑی ہوں۔ ۔

وہ برا مان کر بولیں

او ہوو۔ ۔ دادو آپ تو برا ہی مان گئی۔ ۔ اچھا اب پوچھ بھی لیں آپ لوگ کے میں شور کیوں مچا رہا تھا۔ ۔

تم پہلے اپنی دادو کو تو تنگ کر لو۔ ۔ کتنی دفع کہا ہے مت چھیڑا کرو انہیں۔ ۔ اچھا اب بتاو کیا بات ہے؟

آنسہ نے ڈانٹتے ہوئے کہا

بات یہ ہے کے جو میں نے پچھلے ہفتے انٹرویو دیا تھا وہاں سے سلیکشن کی کال آگئی ہے کل بلایا ہے انہوں نے فائنل انٹرویو کے لیئے۔ ۔۔

اس نے خوشی سے بتایا

واقعی۔ ۔ شکر اللہ کا ۔۔۔ میں نے بہت دعا کی تھی تمہارے لیئے ۔۔

آنسہ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا۔

یہ تو بہت اچھی خبر بتائی ہے مگر خالی ہاتھ کیوں بتانے آ گئے جاو میٹھائی بھی لے کر آو اور اپنی پھوپو کے ہاں بھی بتا دینا تھا۔ ۔۔

جی دادو انکے گھر میٹھائی لے کر جاوں گا پہلے آپ لوگوں کے لیئے لے کر آتا ہو۔ ۔۔

جیتا رہہ اللہ برکت ڈالے تمہاری رزق میں۔ ۔

عشرت بی بی نے صہیب کا ماتھا چومتے ہوئے دعا دی۔

آمین اچھا میں تمہارے ابو کو فون کر کے بتاتی ہوں تم میٹھائی لے آو۔ ۔

آنسہ نے صہیب سے کہا

ٹھیک ہے امی میں ابھی آیا میٹھائی لے کر!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان دونوں کے سر کے بیچ میں نشانہ لگنا چاہیئے ضوریز۔ ۔

ٹائیگر نے اپنے ماتھے پہ انگلی رکھ کر سمجھایا۔

اوکے!

ضوریز نے مختصر سا جواب دے کر اپنی ایک آنکھ بند کی اور گن سامنے کر کے نشانے پر فوکس کیا۔۔۔ دو بار فائیر کیئے اور سامنے بیٹھے دونوں شخص موت کی وادی میں چلے گئے۔ ۔۔۔

Amazing wonderful … you are such a Gem man I am impressed!

(زبردست بہت اچھے ۔۔ تم کمال کے آدمی ہو میں بہت متاثر ہوا ہوں)

ٹائیگر نے کھلے دل سے ضوریر کی تعریف کی۔

تھینکس!

ضوریز گن اپنے گارڈ کو پکڑا کر اندر کی طرف چلا گیا۔

Jack what do you think is he ready for field ?

(جیک تمہارا کیا خیال ہے کیا یہ فیلڈ کے لیئے تیار ہے؟ )

ٹائیگر ضوریز کے ٹرینر سے پوچھتا ہے

Yes absolutely.. Now he is perfect for our work…

(ہاں بلکل یہ ہمارے کام کے لیئے بہترین ہے۔۔)

جیک نے اپنے انگریزی اسٹایل میں جواب دیا۔

Hmm Okay I will meet u later !

(ٹھیک ہے میں تم سے بعد میں ملو گا)

ٹائیگر جیک کو ہاتھ ہلا کرضوریز کے پاس چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت مبارک ہو صہیب اتنی خوشی ہو رہی ہے یقین مانو۔ ۔

ماروخ صہیب کے ہاتھ سے میٹھائی کھاتے ہوئے بولیں۔

بس پھوپو آپکی دعاوں کا اثر ہے ۔۔ یہ آپ کی لاڈلی نظر نہیں آرہی۔ ۔۔

اس نے اپنی نظر گُھما کر پوچھا ۔

اس نے کہاں جانا ہے اپنے کمرے میں ہے کہہ رہی تھی میں نیا ناول خرید کر لائی ہوں کوئی تنگ نہ کرے۔۔ آدھے گھنٹے سے اندر بند ہو کر ناول پڑ رہی ہے۔ ۔۔

اچھا تو میڈم اتنی گم ہے ناول میں کے میرے آنے کی بھی خبر نہیں ہوئی ۔۔۔ پھوپو میں زرا اس کے روم میں چلا جاوں؟

وہ میٹھائی کا ڈبا پکڑے کھڑا ہوا۔

ہاں چلے جاو مگر پہلے یہ بتاو چائے پیو گے یا کھانا ہی کھاو گے۔ ۔۔

نہیں پھوپو بھوک نہیں ہے بس چائے بنا دیں ۔۔ میں زرا آپکی لاڈلی سے مل لوں۔ ۔

اس نے مٹھائی کا ڈبہ ہاتھ میں لیا اور جنت کے کمرے میں کا دروازہ بجایا۔ ۔۔

اوہ ہووو۔۔ امی آپکو کہا تھا نہ مجھے دو گھنٹے تک تنگ نہ کریئے گا ۔۔ پلیز مجھے ناول پڑھنے دیں۔ ۔۔

کمرے کے اندر سے جنت کی آواز آئی۔

محترمہ یہ میں ہوں فوراً دروازہ کھولو۔ ۔

اوہ ہووو۔ ۔۔ تم کہاں سے آ گئے ۔۔۔

جنت نے دروزہ کھول دیا۔

تمہیں تو اب ہمارے آنے جانے کی خبر بھی نہیں ہوتی حد ہے ایک میں ہوں جو تم سے ملنے کے لیئے مرتا رہتا ہوں۔ ۔۔

اس نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔ ۔۔

اچھا اب زیادہ اموشنل مت ہو۔ ۔۔ یہ میٹھائی کس خوشی میں۔ ۔۔ ؟؟

جنت نے میٹھائی کی طرف اشارا کر کے کہا

پہلے میٹھائی کھاو پھر بتاوں گا چلو منہ کھولو۔ ۔۔

صہیب نے چم چم اپنے ہاتھ میں پکڑا۔

اممم اب بتاو جلدی سے کس لیئے ہے یہ میٹھائی۔ ۔۔؟

اس نے تھوڑا سا چم چم کھا کر پوچھا

میری جوب ہو گئی ہے ملٹی نیشنل کمپنی میں۔ ۔۔۔

کیا۔ ۔۔ واقعی ی ی۔ ۔۔ شکرررر مبارک ہو ۔۔ یہ لو تم بھی کھاو میرے ہاتھ سے میٹھائی۔ ۔

جنت نے صہیب کے ہاتھ سے بچا ہوا چم چم لے کر صہیب کو کھلایا

آج میں بہت خوش ہوں جنت۔ ۔ اب تو تمہارے ابا یہ نہیں کہیں گے کے لڑکا ابھی تک کچھ کمانے نہیں لگا۔ ۔۔

صہیب نے جنت کے والد کی نکل اتارتے ہوئے کہا

میرے ابو کا مزاق اڑا رہے۔ ۔ بدتمیز۔ ۔

جنت نے مسکراتے ہوئے کہا

ہاں تو کیا کروں کب سے کہہ رہا ہوں کے ہماری شادی کر دیں۔ ۔۔ رزق تو ویسے بھی لڑکی کے نصیب کا ہوتا ہے مگر وہ مانتے ہی نہیں۔ ۔۔ بس جنت اب میں اور انتظار نہیں کروں گا۔ ۔ بتاو جنت کیا تم اس دنیا میں ہی میری جنت بن جاو گی؟ ؟

صہیب نے میٹھائی کا ڈبہ رکھ کر جنت کا ہاتھ تھاما۔ ۔

ہاں صہیب میں اس دنیا میں اور دوسری دنیا میں بھی تمہاری ہی ہوں۔ ۔

ان شاءاللہ میری جان۔ ۔۔ چلو باہر پھوپو نے چائے بنائی ہے مل کر پیتے ہیں۔ ۔

تم جاو نا میں ناول پڑھ رہی ہوں۔ ۔

حد ہو گئی ناول مجھ سے زیادہ ضروری ہے چلو آو۔

وہ اسکا ہاتھ کھینچ کر باہر لے گیا۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز یہاں بیٹھو میرے پاس

I wanna discuss something

(تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں)

ٹائیگر نے ضوریز کو اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارا کیا

Yes!

ضوریز نے ہمیشہ کی طرح مختصر سا جواب دیا۔ ۔

ایکچولی جیک تمہاری بہت تعریف کرتا ہے۔ ۔ وہ مجھے بتا رہا تھا تمہاری ٹرینگ مکمل ہو گئی ہے۔ ۔ تو اب میں چاہتا ہوں تمہیں فیلڈ میں بھیج دوں۔ ۔۔

Now tell me r u ready for this ?

(اب بتاو کیا تم تیار ہو اس کے لیئے؟ )

Yes I am ! (جی ہاں میں تیار ہوں)

ضوریز نے مضبوط لہجے میں کہا۔ ۔

Hmm that’s good ! (ہمم بہت اچھا)

ٹھیک ہے تمہارا پہلا فیلڈ ورک بتاتا ہوں۔ ۔۔ ایک پارٹی نے اس بندے کا مرڈر کرنے کو کہا ہے۔ ۔ یہ ایک بزنس مین ہے۔ ۔ Carnaby streetمیں جو ال لیگل بار بنا ہوا ہے یہ وہاں آتا ہے روز شام میں۔ ۔ اب تم دیکھ لو اسے کس طرح مارو گے۔۔۔

ٹائیگر نے ایک تصویر اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔

اوکے میں کر لونگا ڈونٹ وری۔ ۔!

وہ تصویر اُٹھا کر کھڑا ہوا۔

گُڈ یہ ہی امید تھی مجھے ۔۔۔ کسی چیز کی ضرورت ہو جسٹ ٹیل می!

ٹائیگر نے اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے کہا

نہیں مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہو گی۔ ۔

وہ تصویر اٹھائے وہاں سے چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امی دیکھیں کیسا لگ رہا ہوں۔ ۔۔

صہیب نے آنسہ کے سامنے کھڑے ہوکر پوچھا

ماشاءاللہ نظر نہ لگے اتنے اچھے لگ رہے ہو۔ ۔

آنسہ نے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھ کر کہا

بس امی آپکا بیٹا ہے ہی اتنا ہنڈسم۔ ۔۔ آپ ناشتا رکھیں میں دادو سے مل لوں۔ ۔

وہ عشرت بی بی کے کمرے کی طرف چلا گیا

اسلام و علیکم دادو۔ ۔۔ دیکھیں اپنے پوتے کو۔ ۔

اُس نے عشرت بی بی کے سامنے بیٹھ کر کہا

ماشاءاللہ پورا بابو لگ رہا ہے اللہ نظرِ بد سے بچائے۔ ۔

عشرت بی بی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا

اوہ ہو دادو آپ نے تو میرے سارے بال ہی خراب کر دیئے۔ ۔۔

صہیب نے اپنے بال ٹھیک کیئے۔

ہاں تو کیوں بنائے ہیں اتنے اچھے ایسے ہی رہنے دے نظر نہیں لگے گی۔ ۔

جب تک آپ کی دعائیں ہیں نا میرے ساتھ مجھے کسی کی نظر نہیں لگے گی۔ ۔اچھا آئیں ناشتہ کریں مجھے دیر ہو رہی ہے۔ ۔

اس نے عشرت بی بی کو سہارا دے کر اٹھایا اور ٹیبل پر لے آیا

بشیر نے اخبار سامنے سے ہٹا کر صہیب کو دیکھا

بیٹا جی اتنا تیار کیوں ہو گئے ہو آپکا ولیمہ نہیں ہے۔۔ آج اوفس جانا ہے آپ نے۔ ۔

بشیر نے اپنے بیٹے کو دیکھ کر دل ہی دل میں ماشاءاللہ بھی کہا

بابا جی میں صرف بال بھی بنا لوں تو بھی آپ یہ ہی کہتے ہیں اور آج اوفس کا پہلا دن ہے اچھا امپریشن ڈالنا ہے۔۔۔۔

صہیب نے پراٹھا اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھا

اچھا اب خاموشی سے ناشتہ کرو دیر نہ ہو جائے تمہیں۔ ۔ اور آپ زرا اس کا صدقہ دے دیجئے گا یاد سے۔ ۔۔

آنسہ صہیب کے سامنے چائے رکھی اور سب ناشتہ کرنے لگے۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز کا آج فیلڈ ورک میں پہلا دن تھا۔ ۔۔

وہ ڈانس بار میں داخل ہوا ایک نظر تصویر پر ڈالی اور اپنی سر پر پہنی کیپ کو تھوڑا آگے کیا۔ ۔

اس کے ساتھ مائیکل بھی تھا ۔۔ اس نے مائیکل کو اشارا کیا مائیکل ایک طرف ڈانس کرتی لڑکیوں میں چلا گیا۔ ۔۔

تیز میوزک لگا ہوا تھا سب ہی ناچنے میں مصروف تھے۔ ۔ ضوریز نےکاونٹر پر پہنچ کر ایک گلاس وائن بنانے کو کہا۔ ۔ اپنی کیپ کو تھوڑا پیچھے کیا سامنے ہی وہ آدمی ہاتھ میں وائن کا گلاس پکڑے ناچ رہا تھا۔ ۔

ضوریز نے اپنا گلاس پکڑا اور پیسے دیئے۔۔۔ ونہی بیٹھ کر اُس آدمی کے آنے کا نتظار کرنے لگا۔ ۔۔

Hey handsome come let’s dance with us??

کچھ انگریز لڑکیاں ڈانس کرتی ہوئی ضوریز کے پاس آئیں

ضوریز نے سر نہ میں ہلا کر انہیں خود سے دور رہنے کا کہا۔ ۔

اپنی جیب سے پوئزن نکالی اور بہت احتیاط سے اپنے گلاس میں ڈالی۔ ۔

وہ آدمی چار پانچ لڑکیوں کے بیچ میں کھڑا مست ہو کر ڈانس کر رہا تھا

اس آدمی نے اپنے گلاس سے آخری گھونٹ بھرا اور دوبارا وائن لینے کاونٹر پر آ گیا

Hey give me some more…

اس آدمی نے نشے میں کہا

ضوریز نے اپنا گلاس کاونٹر پر رکھا۔ ۔۔ وہ آدمی جُھومتے ہوئے اپنا گلاس اٹھانے لگا تو ضوریز نے فوراً اپنا گلاس اس کے گلاس سے بدل دیا۔ ۔۔ آدمی نے وائن کا گلاس اٹھایا اور پھر سے جھومتا ہوا واپس لڑکیوں میں چلا گیا ۔۔ ایک ایک گھونٹ بھرتا وہ اپنا گلاس خالی کرنے لگا تھوڑی ہی دیر میں اس کے کھانسنے کی آوازیں آنے لگیں وہ آدمی اپنا گلاس پھینک کر بری طرح کھانسنے لگا۔ ۔ ۔ ضوریز نے اسکی حالت دیکھ کر مائیکل کو کام ہو جانے کا اشارا کیا ۔۔

میوزک بھی بند ہو گیا سب اس آدمی کے ارد گرد جمع ہو کر اسے مرتا ہوا دیکھنے لگے ایمبولنس کی آوازیں آنے لگیں۔ ۔۔

ضوریز نے خاموشی سے اپنا گلاس ونہیں چھوڑا اور ایک نظر اس آدمی کو دیکھا ۔۔۔ اپنی کیپ اور اٙپر اتار کر پھینکا اور باہر چلا گیا۔ ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسا رہا اوفس کا پہلا دن؟ ؟

جنت نے صہیب سے پوچھا

ہاں بہت اچھا سب لڑکیاں مجھے ہی دیکھے جارہی تھیں جیسے کبھی کوئی خوبصورت لڑکا نا دیکھا ہو۔۔!

اُس نے جنت کو چھیڑتے ہوئے کہا

ایک تو تمہیں خوش فہمی بہت ہے کے تم جیسا حسین لڑکا اور کوئی نہیں ہے اس دنیا میں۔ ۔

جنت نے مزاق اڑایا

جناب حقیقت ہے یہ ۔۔۔ دیکھو خوبصورت شہد رنگ آنکھیں ہیں گھنی زلفیں لمبا قد اور اتنا اسمارٹ ہوں۔ ۔۔

جنت نے سامنے کھڑے صہیب کو دیکھا اور دل ہی دل میں اس کی خوبصورتی کا اقرار کیا

اچھا بس۔ ۔ اب پھر سے شروع مت ہو جانا۔ ۔۔ یہ بتاو ٹریٹ کب دوگے مجھے۔ ۔

جنت نے بات بدلتے ہوئے کہا

جب تم کہو میں حاضر ہوں جناب۔۔!

صہیب نے تھوڑا جُھک کر کہا

چلو ٹھیک ہے سنڈے کو چلتے ہیں کہیں ۔۔۔ اچھی سی جگہ ڈنر کروانا سستی جگہ نہیں جاوگی میں۔ ۔۔

تم جہاں کہو گی وہاں چلیں گے کبھی انکار کیا تمہاری بات سے۔ ۔۔

صہیب نے نظر بھر کر جنت کو دیکھا

نہیں کبھی کرنا بھی مت۔ ۔ اچھا چلو امی ویٹ کر رہی ہونگی۔۔۔

جنت مُڑ کر باہر جانے لگی

جنت آئی لو یو سو مچ ۔۔۔!

صہیب نے جنت کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا

مجھے پتا ہے صہیب ہاتھ چھوڑو یار۔ ۔۔

جنت نے اہنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا

کیوں کیا میں ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔۔ اتنا حق نہیں میرا تم پر؟

صہیب نے جنت کے ہاتھ کو اور زور سے پکڑا

سب حق تمہارے ہی ہیں۔ ۔ جنت پوری تمہاری ہے مگر ابھی صبر کرو اور اب اچھے بچوں کی طرح میرا ہاتھ چھوڑ دو۔ ۔۔

جنت نے ہمیشہ کی طرح صہیب کو سمجھایا

اوکے بہت ظالم ہو تم ۔۔ ٹھیک ہے یاد رکھنا گن گن کر بدلہ لونگا

صہیب نے دھکی دیتے ہوئے ہاتھ چھوڑ دیا

جنت ہنستے ہوئے کمرے سے چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زبردست ضوریز وہ آدمی تو ہوسپٹل جانے سے پہلے ہی مر گیا … You did a great job (تم نے کمال کام کیا)

ٹائیگر نے ضوریز کے کندھے کو تھپتھپا کر تعریف کی

تھینکس۔ ۔

ضوریز نے اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کہا

جب میں سب سے پہلے فیلڈ پر گیا تھا میں تمہاری طرح کونفیڈینٹ نہیں تھا اور میرے ساتھ برا ہوا تھا۔۔۔ جسے مارنا تھا اسے مار نہیں پایا اور اسکے آدمی میرے پیچھے لگ گئے۔ ۔۔ میں بہت مشکل سے بچ کر ایک جگہ چھپ گیا پھر بوس کو کال کی پھر انہوں نے مجھے بچایا۔ ۔۔ مگر تم نے بہت ہی اچھی طرح اپنا کام کیا ہے ۔۔۔!

ٹائیگر نے اپنی کہانی سنائی

جی میں اپنا کام مکمل کرتا ہوں۔۔!

ضوریز نے جیب سے سگریٹ نکال کر جلائی

آئی نو۔ ۔۔ میں نے بوس کو بتایا تمہاری کامیابی کا ۔۔۔۔ وہ تم سے خود مل کر تمہیں appreciate کرنا چاہتا ہے۔۔!

ٹھیک ہے وہ جب کہیں میں آ جاوں گا ان سے ملنے۔۔!

سگریٹ پیتے ہوئے جواب دیا

اوکے کل شام چلے جائیں گے ملنے۔ ۔۔ تم آرام کرو گُڈ نائیٹ!

گُڈ نائیٹ۔ ۔۔!

ضوریز نے سگریٹ کو بجھاتے ہوئے کہا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *